افریقہ (رپورٹس)

گنی بساؤ کی پہلی مرکزی مسجد کا سنگ بنیاد

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے گنی بساؤ کے دارالحکومت بساؤ میں جماعت احمدیہ کی پہلی مرکزی مسجد کا سنگ بنیاد مورخہ یکم ستمبر ۲۰۲۶ء کو رکھنے کی بابرکت تقریب منعقد ہوئی۔ یہ مسجد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے جماعت احمدیہ کی اپنی ملکیتی زمین پر تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس مسجد کا قیام گنی بساؤ میں جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار سنگ میل ہے۔

اس بابرکت تقریب میں ملک بھر سے جماعت کے ابتدائی دور کے بزرگ احمدی احباب، ریجنل صدران جماعت، مختلف علاقوں کے مشنری صاحبان، مقامی ائمہ، مرکزی عاملہ اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ بعدازاں صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے مہمانان کرام اور احباب جماعت کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور مسجد کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسجد محض ایک عمارت نہیں بلکہ عبادت، قرآن کریم کی تعلیم، نئی نسل کی تربیت اور تبلیغ اسلام کا مرکز ہوتی ہے۔

مبلغ انچارج گنی بساؤ مکرم محمد احسن میمن صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے گنی بساؤ میں جماعت احمدیہ کے ابتدائی دور کی مشکلات اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل اور مختلف مشکلات کے باوجود جماعت نے اپنا سفر جاری رکھا اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دارالحکومت میں جماعت کی اپنی زمین پر مرکزی مسجد کی تعمیر کا آغاز ہو رہا ہے۔ اجتماعی دعا کے بعد تمام شرکاء تعمیر کی جگہ پر تشریف لے گئے جہاں سنگ بنیاد رکھنے کی بابرکت کارروائی عمل میں آئی۔ سب سے پہلے مبلغ انچارج صاحب نے دعا کے ساتھ مسجد کی بنیاد کا پہلا بلاک رکھا۔ بعد ازاں نیشنل صدر جماعت مکرم گلاجے امبالو صاحب اور جماعت کے بزرگ احمدی احباب نے باری باری بلاکس رکھے۔ اس کے بعد مختلف علاقوں کے مشنری صاحبان، ائمہ، مرکزی عاملہ اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداران نے بھی دعا کے ساتھ مسجد کی بنیاد میں بلاکس رکھے اور دعا ہوئی۔ بعدازاں تمام مہمانان کرام اور احباب جماعت کی ظہرانے سے تواضع کی گئی۔

اللہ تعالیٰ اس مسجد کی تعمیر کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے، اسے ہمیشہ نمازیوں سے آباد رکھے اور اس کے ذریعہ گنی بساؤ اور پورے مغربی افریقہ میں اسلام احمدیت کا پیغام دُور دُور تک پہنچائے۔ آمین

(رپورٹ: زاہد احمد بھٹی۔ مبلغ سلسلہ گنی بساؤ)

مزید پڑھیں: سڈنی، آسٹریلیا میں جلسہ سیرت النبی کا بابرکت انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button