نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۷؍اگست ۲۰۲۶ء بروز سوموار بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ خالدہ نصیر صاحبہ اہلیہ مکرم نصیر احمد صاحب (مورڈن، یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ خالدہ نصیر صاحبہ اہلیہ مکرم نصیر احمد صاحب (مورڈن، یوکے)

۱۴؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۶۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو لجنہ اماءاللہ یوکے کی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کی ممبر ہونے کے علاوہ مختلف حیثیتوں میں خدمت کی توفیق ملتی رہی۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند،جماعت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی، نہایت مہمان نواز، ملنسار اور نیک، مخلص خاتون تھیں۔ آپ کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ نماز نہایت سکون، تحمل اور اطمینان سے ادا کرتی تھیں۔ آخری ایام میں ہسپتال میں ہونے کے باوجود، غنودگی کی حالت میں ہونے کے باوجود جب بھی ہوش آتا تو آپ نماز ادا کرتیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ پانچ بیٹیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ کے شوہر مکرم نصیر احمد صاحب گذشتہ ۲۱ سال سے بیت الفتوح سیکیورٹی میں جبکہ آپ کے داماد مکرم عمیر احمد صاحب شعبہ جائیداد (یوکے) اور مکرم عتیق احمد عابد صاحب وکالت مال اسلام آباد یوکے میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم تنویر احمد قریشی صاحب ابن مکرم ناصر احمد قریشی صاحب (سکھر شہر)

۲۳؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۶۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم قریشی عبدالرحمٰن صاحب شہید (سابق امیر ضلع سکھر )کے پوتے تھے۔ آپ کے والد صاحب نے اسیر راہِ مولیٰ ہونے کی سعادت پائی۔ مرحوم نے بطور زعیم انصاراللہ سکھر شہر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند، خدمت گزار ایک نیک اور مخلص احمدی تھے۔مرحوم جماعت کے حوالہ سے بہت غیرت رکھنے والے تھے۔مربیان کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

۲۔مکرم فاروق احمد صاحب ابن مکرم حکیم محمود احمد صاحب (دار العلوم غربی سلام ربوہ)

۲۵؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو ۶۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند، شریف النفس اور صلہ رحمی کرنے والے انسان تھے، جو کسی سےجھگڑے کی بجائے حق پر ہونے کے باوجود معافی مانگ کر بات ختم کرنے کا اعلیٰ ظرف رکھتے تھے۔ مرحوم نے فضل عمر ہسپتال میں ۲۱ سال بطور ایکسرے ٹیکنیشن خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کے دادا مکرم حکیم غلام حسن صاحب قادیان اور بعد ہجرت ربوہ کے پہلے لائبریرین تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔

۳۔مکرم ملک وسیم احمد صاحب ابن مکرم ملک مبارک احمد صاحب (منو آباد۔ نواب شاہ)

۹؍جون ۲۰۲۶ء کو ۶۵ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد حضرت مولوی مہر دین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نواسے تھے۔ آپ کو جماعتی اور تنظیمی سطح پر متعدد عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔ اپریل ۱۹۸۸ء میں جب محمودہال نواب شاہ کو مخالفین نے آگ لگائی تو اس وقت مرحوم نے زخمیوں کو وہاں سے نکالا۔ اپنے بھائی، مکرم ملک مبرور احمد صاحب شہید، کی شہادت کے وقت آپ خود بھی موقع پر موجود تھے تاہم اللہ تعالیٰ نے آپ کو حملہ آوروں کے شر سے محفوظ رکھا۔ بھائی کی شہادت کے بعد آپ نے ان کے بچوں کا احسن رنگ میں خیال رکھا اور ان کی تعلیم سمیت بہت سے اخراجات کی ذمہ داری خوش دلی سے خود اٹھائی۔ آپ دوسروں کا خیال رکھنے والے،صدقہ و خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ایک نیک اور با وفا انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔

۴۔مکرمہ مبارکہ پدما صاحبہ اہلیہ مکرم سید رفیع احمد صاحب (Tooting Bec، یوکے)

۱۶؍ جون ۲۰۲۶ء کو ۴۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے والد مکرم محی الدین داروغہ صاحب مرحوم کے ذریعہ آئی جو قبول احمدیت کے بعد جسمانی اور ذہنی اذیتوں کے باوجود ایمان پر نہایت صبر اور استقامت کے ساتھ قائم رہے۔ مرحومہ کے سسرال نے بھی احمدیت کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند، شریف النفس،جماعتی پروگاموں میں بھر پور حصہ لینے والی ایک نیک اور باوفا خاتون تھیں۔ پسماندگان میں والدہ اور شوہر کے علاوہ ایک بیٹا،ایک بیٹی،ایک بھائی اور آٹھ بہنیں شامل ہیں۔

۵۔مکرم جاوید اقبال صاحب ابن مکرم اقبال احمد صاحب مرحوم (فرانس)

۹؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۷۰ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ ۹سال تک اپنی لوکل جماعت‘‘ دارالاحسان’’ کے صدر رہے۔ مرحوم کا جماعت کے ساتھ ایک مضبوط اور مخلصانہ تعلق تھا اور اپنی تمام ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے تھے۔مرحوم ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ عزت،احترام اور پیار کے ساتھ پیش آنے والے ایک خوش اخلاق اور مخلص انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۶۔ مکرم اعزاز محمود خالد زبیری صاحب ابن مکرم احتجاج علی زبیری صاحب (کینیڈا)

۳؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۷۳ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مرزا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔مرحوم کو پاکستان، یوکے اور کینیڈا میں نمایاں جماعتی خدمات کی توفیق ملی۔ آپ نے ۱۹۹۲ء میں اٹک (پاکستان) سے مخالفت اور جان کے خطرے کے پیش نظر خلیفہ وقت کی ہدایت پر ہجرت کی۔ آپ نظام جماعت کے انتہائی مطیع، فرمانبردار اور مخلص خادم تھے۔ نومبر ۲۰۲۴ء میں شدید بیماری کے باوجود، آپ کو ریجنل عاملہ کے ساتھ اسلام آباد( یو کے) میں حضور انور ایدہ اللہ تعالی کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ آخری بیماری کے دوران بھی آپ حضور انور کا خطبہ جمعہ بڑی باقاعدگی سے سنتے رہے اور جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء کے موقع پر ہسپتال سے عالمی بیعت میں بھی شامل ہوئے۔ آپ نے اپنی بیماری کا نہایت صبر اور حوصلے سے مقابلہ کیا اور آخری ایام ذکر الہی میں گزارے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button