یادِ رفتگاں

مکرم عبد الحفیظ خان صاحب آف خوشاب

(شاہین کوثر۔کینیڈا)

میرے پیارے ابا جان کو ہم سے بچھڑے ۷؍سال ہوگئے ہیں لیکن ان کی یادیں اور باتیں آج بھی دل و دماغ پر نقش ہیں۔ آپ ۱۹۳۰ء میں خوشاب میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت فتح دین صاحبؓ  صحابی حضرت مسیح موعودؑ کی نسل سے اور حافظ عبدالکریم صاحب خوشابی کے بڑے بیٹے تھے جنہوں نے ۱۹۳۰ء کے قریب ۷۵؍آدمیوں کے ہمراہ جماعت احمدیہ خوشاب کی بنیاد ڈالی۔ بعد ازاں اپنے گھر کا ایک حصہ وقف کیا جس میں مسجد احمدیہ خوشاب تعمیر کی گئی۔ ہمارے پیارے اباجان نے زندگی کی ۸۹؍بہاریں دیکھیں۔ آپ ایک محنتی، نیک سیرت، محبت و شفقت کے پیکر، ہنس مکھ اور ذمہ دار ی سے دوسروں کے کام آنے والےوجود تھے۔

آپ پانچ وقت کے نمازی، تہجد گزار، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے، جماعتی خدمت کے شوقین تھے۔ پانچوں نمازیں مسجد میں جاکر باجماعت ادا کرتے اور تمام چندہ جات بر وقت ادا کرتے تھے۔ ان کا ہر انداز ہی نرالہ تھا خواہ باپ کی شکل میں ہو یا بیٹے کی۔ ہر انداز میں محبت و الفت اور پیار جھلکتا تھا۔ ان کے نمایاں اوصاف میں سے چند درج ذیل ہیں۔

خلافت احمدیہ سے والہانہ محبت تھی۔ خلیفہ وقت جب بھی کوئی تحریک فرماتے تو لبیک کہتے ہوئے اوّلین میں شامل ہوتے۔ نماز باجماعت ادا کرتے اور ہمیں بھی باقاعدگی سے نماز پڑھنے کی تلقین کرتے۔ جب بھی کوئی مشکل وقت آتا تو تہجد پڑھنے کی تلقین کرتے اور کہتے کہ خلیفۃ المسیح کو دعا کے لیے لکھو اور صدقہ بھی دو۔ اس کے بعد خود بھی تہجد میں رو رو کر اپنے رب کے حضوردعائیں کرتے اور الحمدللہ! وہ کام ہو جاتا۔

جوانی میں قدم رکھنے کے بعد باقاعدگی سے جلسہ سالانہ ربوہ میں شامل ہوتے تھے۔ وہ خلافت ثانیہ کا دور تھا۔ اپنے اہل و عیال اور خاندان کے دیگر افراد کو بھی ساتھ لاتےاور دعائیں کرتے تھے۔ اکثر اوقات اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کو بھی جلسہ میں لے آتے، ان کو خلیفۃ المسیح کے خطبات سنواتے اور تبلیغ بھی کرتے۔ آپ کے بعض غیر احمدی رشتہ دار لوگوں کے ڈر کی وجہ سےاحمدی تو نہ ہوئے لیکن وہ ہماری مخالفت بھی نہیں کرتے تھے۔

۱۹۸۰ء میں ہم خوشاب سے ربوہ منتقل ہوئے تو یہاں آنے کا ایک ہی مقصد تھا کہ خلیفۃ المسیح کے پیچھے نمازیں پڑھنا اور حقیقتاًآپ نے ایسا کر کے دکھایا۔ دارالعلوم وسطی سے روزانہ مسجد مبارک جاتے، خصوصاً فجرکی نماز پر۔ ظہر اور عصر کی نماز بھی وہیں جا کر ادا کرتے۔ اکثر امی جان کو بھی ساتھ لے جاتے اور درس سن کر گھر واپس آتے۔ رمضان میں نماز تراویح مسجد مبارک میں ادا کرتے۔ اور اکثر ہم بہن بھائیوں کو بھی سائیکل پر بٹھا کر لے جاتے۔ کئی دفعہ اعتکاف بھی کیا۔ پیارے حضور کا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنتے اور ہم سب کو بھی سنواتے۔

آپ کی نوکری ہمیشہ ربوہ سے باہر رہی ہے۔ گرمی ہو یا سردی آپ ہمیشہ رمضان کے پورے روزے رکھا کرتے تھے۔ رمضان میں روزہ رکھ کر علی الصبح سرگودھا یا فیصل آباد جاتے تھے اور واپس گھر آکر افطار کرتے۔ شدید گرمی میں بھی روزہ نہ چھوڑتے۔

ربوہ کے جلسوں میں ہمیشہ شمولیت کرتے۔ جب پاکستان میں جلسوں پر پابندی لگ گئی تو قادیان جلسے پر جاتے۔ کبھی زاد راہ کی پرواہ نہیں کی، خدا تعالیٰ اس کا خود ہی انتظام کردیتا تھا۔ جلسہ سالانہ قادیان میں اپنے اہل و عیال کو بھی لے کر جاتے۔ وہاں جا کر نماز تہجد میں باقاعدگی سے شامل ہوتے اور تمام مقاماتِ مقدسہ پر جا کر بھی خوب دعائیں کرتے۔ ایک سال جلسہ سالانہ قادیان گزرنے کے بعد ویزہ لگ کر آیا۔ اباجان نے یہ موقع بھی غنیمت جانا اور جلسہ گزرنے کے بعد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بستی قادیان سے محبت کی خاطر سفر اختیار کیا۔

چندہ جات میں بہت باقاعدہ تھے۔کبھی یہ موقع نہ آتا کہ سیکرٹری مال کو چندہ کی خاطر گھر آنا پڑے بلکہ ہمیشہ تنخواہ آنے پر سب سے پہلے خود جا کر چندہ ادا کرتے۔ آپ نے محلہ دارالعلوم وسطی ربوہ میں لمبا عرصہ بطور سیکرٹری مال خدمت کی توفیق پائی۔

آپ میں خدمت خلق کا جذبہ بھی بہت نمایاں تھا۔ آپ پہلے تو واپڈا میں کلرک تھے اور پھر وقت کے ساتھ ترقی کرتے کرتے ریونیو آفیسر واپڈا بن گئے۔ آپ نے اپنے اس عہدہ سے بہت سارے لوگوں کو جائز فائدہ پہنچایا۔ سینکڑوں لوگوں کو آپ نے بجلی کے میٹرلگوا کر دیے۔ گورنمنٹ کے قوانین کا آپ کو بخوبی علم تھا اس لیے دفتری معاملات میں لوگوں کو مفید مشورے دیتے۔ آپ واپڈا کی جس پوسٹ پر تھے اس میں بہت ہی کرپشن تھی۔ آپ بتاتے تھے کہ میرے ساتھ کے افسروں کے پاس کوٹھیاں اور گاڑیاں ہیں لیکن آپ نے ہمیشہ رزقِ حلال ہی کمایا۔ تھوڑی تنخواہ کے باوجود سب سے پہلے چندہ نکالتے اور اس قربانی سے تھوڑی تنخواہ میں بھی برکت پڑ جاتی۔ ہماری والدہ صاحبہ نے بھی ہمیشہ نہایت کفایت شعاری سے گھر کا خرچہ چلایا۔ ہمیں ہر ماہ تھوڑا سا جیب خرچ ملتا تھا اور ہمیں تلقین کرتے کہ پہلے اس میں سے چندہ ادا کرو اور پھر خرچ کرو۔

آپ کے پاس ہمیشہ قانون کی ایک کتاب ہوتی تھی اور ہر کام قانون کے مطابق کرتے تھے اور لوگوں کو اس میں سے مفید مشورے بھی دیتے جس کی وجہ سے ان کے کام بغیر رکاوٹ کے ہو جاتے تھے۔ رشوت دینے اور لینے کے بے حد خلاف تھے۔ اسی لیے آپ قانون کے مطابق افسروں سے کام کرواتے اور نہ کبھی رشوت دی اور نہ لی۔ آپ اکثر لوگوں کے کام خود کروا دیتے تھے اور اس کے لیے کبھی اجر نہیں مانگا۔ کئی بیوگان کو پنشن لگوا کر دی۔ اپنے رشتہ داروں کے دفتری کام خواہ کسی بھی محکمہ سے متعلق ہوں خوشی سے کروا کر دیتے۔ آپ کے ایک بھائی جوانی میں ہی بس حادثے میں وفات پاگئے۔ آپ نے ہمیشہ ان کی فیملی کا خیال رکھا اور ہر معاملہ میں ان کی مدد کرتے تھے۔

آپ بہت نرم مزاج تھے جب بھی کسی بہن بھائی سے اختلاف رائے یا ان بن ہو جاتی تو آپ پہلے جا کر مناتے اور صلح میں پہل کرتے۔

ہم خداتعالیٰ کے فضل سے چھ بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ شہر خوشاب میں جہاں ہماری رہائش تھی وہاں بیٹی کی پیدائش کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لوگ مبارکباد کی بجائے افسوس کرنے آتے تھے اور ایسے موقعوں پر دایہ کو پیسے بھی کم دیتے تھے۔ لیکن ہمارے ابا جان نے بیٹی کی پیدائش پر ہمیشہ خوشی کا اظہار کیا اور مٹھائی بانٹی۔ بیٹیوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ جب میری سب سے چھوٹی بہن کی پیدائش ہوئی تو دایہ کا چہرہ مرجھا گیا کہ اس بار بھی بیٹی ہوئی ہے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی کیوں نہ اس کا گلہ دبا دوں۔ ابا جان کو اس پر بہت ہی غصہ آیا اور دایہ سے کہا کہ ایسا نہ کہو یہ مجھے بہت پیاری ہے میں تمہیں بیٹوں کے برابر اس کے پیسے دوں گا۔ اور پھر اسی کے مطابق اس کو پیسے دیے۔ وہ بہت حیران تھی کہ کیسے باپ ہیں جو چھٹی بیٹی کی پیدائش پر خوشی منا کر مٹھائی بانٹ رہے ہیں۔

۱۹۷۴ء میں ہم خوشاب میں ہی تھے۔ اس وقت ہماری وہاں کافی مخالفت شروع ہو گئی۔ غیر از جماعت لوگ ہمارے گھروں کو آگ لگانے اور جائیدادوں کو لوٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ وہ کہتے کہ تمہارا کلمہ مختلف ہے اور کہتے تھے کہ مسلمان ہو جاؤ۔ ان حالات میں آپ نے کافی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ تمام مرد حضرات رات کو گھروں کا پہرہ دیتے۔ آپ بھیس بدل کر روزانہ سرگودھا اپنی جاب پر جاتے اور بائیکاٹ کی وجہ سے واپسی پر سرگودھا سے اشیاء خورو نوش لے کر آتے۔

خوشاب میں آپ نے دوسرے محلے میں مکان بنوایا اور ہم اس میں رہنے لگے۔ ہر جمعہ کو ہم محلہ ہیرانوالہ مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنےکے لیے جایا کرتے تھے۔ ایک بار ہم جمعہ کی نماز کے لیے گئے ہوئے تھے تو گھر میں چور آگئے اور تمام بکسوں (سوٹ کیس) کی تلاشی لی۔ ایک بکسے میں ہم سب بچوں کے پیسے پڑے ہوئے تھے جو کہ ہماری امی جان نے چھوٹی چھوٹی ڈبیوں میں ڈال کر رکھے ہوئے تھے جس میں سے دو دن قبل سب بچوں نے چندہ ادا کیا تھا۔ چوروں نے تمام بکس کھولے لیکن خدا کی تقدیر کہ ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا کہ ان کو وہ پیسے نظر نہ آئے مزید یہ بھی کہ وہ گھر سے کچھ نہ لے جا سکے۔

سرکاری ملازمت کےدوران جس شہر میں بھی آپ کو رہنے کا موقع ملتا، جماعتی خدمت میں پیش پیش رہے۔ ۱۹۷۰ء میں آپ کا تبادلہ منگلا ڈیم ہو گیا اور وہیں پر ہماری فیملی بھی شفٹ ہوگئی۔ وہاں آپ کو جماعتی خدمت کا موقع ملا۔ آپ بطور صدر جماعت بھی وہاں کام کرتے رہے۔

آپ اپنے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں سے بہت محبت کرنے والے تھے۔ جو بھی آپ کو ملنے منگلا ڈیم آتا، آپ اس کی خوب مہمان نوازی کیا کرتے تھے اور اُن کی خوب خدمت کرتے تھے، اور بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔

لاہور میں بھی آپ کا تبادلہ ہوا۔ وہاں جودھامل بلڈنگ میں رہا کرتے تھے۔ وہاں بھی آپ کو خدمت دین کا موقع ملا۔ صدر صاحب سے جو بھی کام ملتا تھا، بڑی خوشی سے بجالایا کرتے تھے۔ تبلیغ کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ ریٹائر منٹ کے بعد دفتر محاسب صدر انجمن احمدیہ پاکستان میں بھی رضاکارانہ کام کرتے رہے۔

آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے ملاقات کا بہت شوق تھا۔ آپ کی خواہش تھی کہ جلسہ سالانہ یوکے میں شامل ہوں اور خلیفہ وقت سے ملاقات کریں۔ آپ نے اس مقصد کے لیے اپنا ایک پلاٹ بھی بیچا لیکن ویزہ نہ لگ سکا اور یہ حسرت ہمیشہ آپ کے دل میں رہی۔

اس کے بعد آہستہ آہستہ کمزور ہوتے گئے اور بیمار ہوگئے اور آخری دو سال چارپائی پرہی رہے۔ آخری بیماری میں آپ کو کئی عوارض لاحق ہو گئے۔ آپ نے کبھی اس کی شکایت نہ کی اور بڑے صبر کے ساتھ بیماری کے آخری ایام گزارے اور کبھی کوئی شکوہ کا لفظ زبان پر نہ لائے۔ آپ موصی تھے اور حصہ جائیداد زندگی میں ہی ادا کر کے کلیئرنس سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیا تھا۔ وہ ۱۶؍اکتوبر ۲۰۱۹ء کو بھرپور زندگی گزار کر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔

بلانے والا ہے سب سے پیارا

اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

آپ اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ دامادوں کی بھی ہمیشہ عزت کیا کرتے تھے اور ان کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ مختلف جماعتی دفاتر میں بھی کام کیا۔ آپ ریاضی کے ماہر تھے اور چندہ کا حساب کتاب بغیر کیلکو لیٹر کے کر لیتے تھے۔

ہمیشہ سب کے ساتھ محبت سے پیش آتے۔ ان کے بڑے داماد نثار احمد خان مربی سلسلہ تھے۔ جب آپ نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی کی تو اسے نصیحت کی کہ مربی کے پاس اگر دنیاوی مال و متاع زیادہ نہ بھی ہوتو دین کی دولت بہت زیادہ ہے۔ مکرم نثار صاحب آپ کی زندگی میں ہی ایک حادثے میں وفات پاگئے۔ آپ کو ان کی وفات کا بہت دکھ تھا۔ آپ کے دوسرے داماد بشارت احمد خان(ڈش ماسٹر) ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے داماد محمود احمد خان، محمود اقبال اور عبد المومن صاحبان ہیں۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے ابا جان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور اپنی اولاد کے حق میں جو دعائیں کی ہیں ان کو قبول فرمائے اور ہم سب کو بھی ان کا نمونہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

سائے کی طرح ساتھ نبھاتے رہے وہ

خاموش رہ کر بھی بہت کچھ سکھاتے رہے وہ

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہمارے والدِمحترم سیّد زکی احمد صاحب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button