چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۲۲)
۲۰۰۔ کہ حق جو سے کرتار کرتا ہے پیار
وہ انساں نہیں جو نہیں حق گزار
حق جُو haq joo: سچائی کی تلاش کرنے والا The seeker of truth
کرتار kartaar: کرنے والا، پیدا کرنےوالا، خالق The Creator, God
سچی اور بےلاگ بات کہنا اس لیے ضروری ہے کہ ہمارا پیدا کرنے والا سچ کو تلاش کرنے والے سے پیار کرتا ہے۔ وہ انسان کہلانے کا مستحق نہیں جو اپنے عمل میں سچا نہیں ہے۔
۲۰۱۔ کہو جبکہ پوچھے گا مولیٰ حساب
تو بھائیو بتاؤ کہ کیا ہے جواب؟
ایک دن خدا کے حضور پیش ہونا ہے۔ وہ ہمارے اعمال کا حساب لے گا۔ بھائیو ! سوچ کے بتاؤ اس دن کے لیے تمہارے پاس اس بات کا کیا جواب ہے ؟
۲۰۲۔ میں کہتا ہوں اک بات اے نیک نام
ذرہ غور سے اس کو سنیو تمام
بھلے آدمی! میں ایک بات کہتا ہوں میری ساری بات توجہ سے سننا۔
۲۰۳۔ کہ بیشک یہ چولہ پُر از نورہے
تمرّد ، وفا سے بہت دور ہے
نور noor: روشنی Light
تَمرُّد tamarrud: سرکشی، بغاوت، گستاخی Stubbornness، obstinacy, disobedence, rebellion
مجھے یہ کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ چولہ روحانی روشنی سے بھرا ہؤا ہے۔ اگر اس کو دیکھ کر اس کی سچائی تسلیم کرو تو یہ وفا داری ہے اور اگر انکار کرو تو سرکشی اور بغاوت ہے۔
۲۰۴۔ دکھائیں گے چولہ تمہیں کھول کر
کہ دو اُس کا اُتّر ذرا بول کر
اتر uttar: رائے، جواب opinion, Reply
تمہیں یہ چولہ کھول کر دکھائیں گے۔ پھر تم اس کا جواب بول کر دینا۔
۲۰۵۔ یہی پاک چولہ رہا اک نشاں
گُرو سے کہ تھا خلق پر مہربان
خلق khalq: لوگ، مخلوق People
گُرو نانک کے بعد یہی پاک چولہ ان کا ایک نشان باقی رہا ہے۔ یہ ان کی بڑی مہربانی تھی کہ مخلوق خدا کے لئے وہ ہدایت کا سامان چھوڑ گئے۔
۲۰۶۔ اسی پر دوشالی چڑھے اور زر
یہی فخر سکھوں کا ہے سربسر
دوشالے do shaale: بڑی چادر Sheets
زر zar: سوناGold
سکھ مذہب کے ماننے والوں کو اس کی روحانی اہمیت کا احساس تھا، اس مبارک چیز پر فخر کرتے تھے اور اسے قیمتی کپڑوں اور سونے میں لپیٹ کر رکھتے تھے
۲۰۷۔ یہی ملک و دولت کا تھا اک ستوں
عمل بد کئے ہوگئے سرنگوں
ستوں SutooN: کھمبا، اہم رکن Pillar
سرنگوں sar negooN: اوندھے، منہ کے بل، شرمندہ embarassed, Disgraced Hanging down one‘s head in shame
ملک اور دولت قائم رکھنے کے لیے یہ ایک ستون کا کام دیتا تھا۔ لیکن خراب کام کرنے سے زوال آگیا۔ سر جھکانا پڑا۔ عزت قائم نہ رہی۔
۲۰۸۔ خدا کے لئے چھوڑو اب بغض و کیں
ذرہ سوچو باتوں کو ہو کر امیں
بغض و کیں bughz-o-keeN: جلن، حسد، کینہ Rancour, malice, grudge
امیں ameeN: امانت دار Trustee, faithful
اللہ تعالیٰ کے واسطے اب کینہ ، تعصب ،غصہ اور جلن چھوڑ دو۔ اور ایمان داری سے باتوں پر غور کرو۔
۲۰۹۔ وہ صدق و محبت وہ مہر و وفا
جو نانک سے رکھتے تھے تم برملا
صدق و صفا sidq-o-safaa: سچائی، صفائی Truth, honesty, sincerity
مہر mehr: مہربانی، محبت، شفقت Love, Kindness, loyalty
برملا barmalaa: کھلا، ظاہر، صاف صاف Clearly
تم نانک سے سچی محبت کرتے تھے، اس کے دفادار تھے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے تم اس کا کھلا کھلا اظہار بھی کرتے تھے
۲۱۰۔ دکھاؤ ذرا آج اس کا اثر
اگر صدق ہے جلد دوڑو اِدھر
صدق و صفا sidq-o-safaa: سچائی، صفائی Truth, honesty, sincerity
آج بھی وہ محبت اور وفا داری دکھاؤ اگر تم سچے ہو تو تیزی سے اس چولے کے پیغام کی طرف آؤ۔
۲۱۱۔ گُرو نے تو کر کے دکھایا تمہیں
وہ رستہ چلو جو بتایا تمہیں
گُرو نے ان تعلیمات پر عمل کرکے دکھایا ۔ سیدھے راستے پر چل کے دکھایا ۔ اب تم بھی اس کے بتائے ہوئے رستہ پر چلو۔
مزید پڑھیں: خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریاں




