متفرق شعراء
دامنِ مولیٰ پکڑنے کا ہے وقت

خوابِ غفلت سے نکلنے کا ہے وقت
یہ روِش اپنی بدلنے کا ہے وقت
اٹھ رہا ہے چاروں جانب سے دھواں
بستیاں مٹنے کا جلنے کا ہے وقت
طاقتیں سب برسرِ پیکار ہیں
لو پہاڑوں کے پگھلنے کا ہے وقت
ہو چکے ہیں آسمان پر فیصلے
اب نئے دستور چلنے کا ہے وقت
ہو رہی ہے یہ زمیں زیر و زبر
غیظ سے اس کے ابلنے کا ہے وقت
ملگجی سا ہو رہا ہے یہ سماں
عصر ہے اور دن کے ڈھلنے کا ہے وقت
گونجتی ہے اک منادی کی صدا
لغزشیں چھوڑو سنبھلنے کا ہے وقت
اب ظفؔر اس پار جانے کے لیے
دامنِ مولیٰ پکڑنے کا ہے وقت
(مبارک احمد ظفؔر۔ یوکے)
مزید پڑھیں: اک نعمتِ عظمٰی ہے دنیا میں خلافت بھی




