متفرق مضامین

حضرت شیخ فضل کریم صاحب رضی اللہ عنہ

(غلام مصباح بلوچ۔ استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا)

حضرت شیخ فضل کریم صاحبؓ ولد مکرم شیخ عطا محمد صاحب گھمن کلاں ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔ نہایت ہی مخلص اور سلسلہ احمدیہ کے عاشق وجود تھے۔ آپؓ کا نکاح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت میاں نبی بخش صاحب سے ایک ہزار روپیہ حق مہر پر ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۰ء کو پڑھا۔ (بدر ۵؍جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۲ کالم ۳)

آپ پہلے دہلی میں کنٹرولر جنرل گورنمنٹ آف انڈیا کے دفتر میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ تھے۔ پھر حیدرآباد دکن چلے گئے اور مہتمم خزانہ عامرہ سرکار عالی حیدرآباد دکن رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اچھی ملازمت سے نوازا تھا۔ آپ بھی اس الٰہی نوازش کے شکرانے کے طور پر مالی قربانیوں میں پیش پیش رہتے۔ حضرت میر قاسم علی دہلوی رضی اللہ عنہ سپرٹنڈنٹ احمدیہ یتیم خانہ قادیان نے جب قادیان میں یتیم خانہ قائم فرمایا تو انہی دنوں آپ بھی قادیان آئے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ نے حضرت میر صاحبؓ  کی تحریک پر یتیم خانے کے بچوں کے لیے دل کھول کر مدد کی۔ حضرت میر صاحبؓ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں: ’’مکرمی شیخ فضل کریم صاحب مہتمم خزانہ عامرہ سرکار عالی حیدرآباد دکن بتقریب رخصت معہ اہل و عیال دار الامان میں تشریف لائے ہیں۔ چونکہ نیازمند ایڈیٹر فاروق کے وہ قدیمی کرم فرما اور مخلص دوست ہیں، ایک دن مجھے ملنے آئے، میں آپ کو یتیم خانے میں لے گیا جس کو ملاحظہ فرما کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ میں بھی یتامیٰ کے لیے کچھ دوں گا۔ مجھے ان بچوں کے لیے عید اضحی کے کپڑوں کا فکر تھا پائجامہ بنوانے تھے، کُرتے نہیں بنے تھے۔ کُرتوں کی درخواست میں نے کی تو شیخ صاحب نے نہایت شرح صدر سے اُسی وقت نیاز مند کو ساتھ لے جاکر بازار سے تین تھان حسب پسند خادم کو عید کے کُرتوں کے واسطے دلوادیے۔ اللہ تعالیٰ شیخ صاحب کو اس کا اجرعظیم عطا فرماوے اور اُن کو اس سے زیادہ دینی اور دنیاوی اہلی و عیالی ترقی و فراوانی عطا فرماوے۔ آمین ‘‘ (اخبار فاروق، قادیان ۳۱؍جولائی ۱۹۱۹ء صفحہ ۲)

اسی طرح الفضل ۱۴؍جون ۱۹۲۰ء صفحہ ۹ پر مدرسہ احمدیہ کے لیے آپ کی مالی امداد کا ذکر موجود ہے۔

اپنے اہم عہدہ کی مصروفیات کے باوجود جماعت کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ اس کی ایک مثال مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے امتحان میں شامل ہونا ہے۔ حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ  کتاب ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ کے امتحان کی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں: ’’یہ امر نہایت مسرت انگیز ہے کہ وہ احباب جن کی کاروباری مصروفیتیں نیز طالب علمانہ طرزِ محنت کا نقش مٹ جانا امید نہیں دلاتا تھا کہ وہ باوجود اپنے مشاغل کے پھر طالب علمانہ زندگی میں آویں گے، وہ بھی اس امتحان میں کتاب کے کیڑے نظر آئے، مثلاً مفتی گلزار محمد صاحب بٹالوی و شیخ فضل کریم صاحب حیدرآبادی ….اول مفتی گلزار محمد صاحب بٹالوی، دوئم ماسٹر نور الٰہی صاحب قادیان، سوئم شیخ فضل کریم صاحب…‘‘ (الفضل ۱۳؍جولائی ۱۹۲۳ء صفحہ ۷)

آپ ابتدائی موصیان میں سے تھے۔ ۱۹۰۷ء میں وصیت کی۔ وصیت نمبر ۲۰۶؍تھا اور ۱۰/۱ حصہ کی وصیت کی تھی لیکن خلافتِ ثانیہ میں آپؓ نے دفتر وصیت کو خط لکھا کہ ’’… اب سلسلہ کی ضروریات کو بڑھتا ہوا دیکھ کر اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہٖ کے ضروری اعلان کی تکمیل میں میری خواہش ہے کہ میں بجائے ۱۰/۱ حصہ کے ۸/۱ حصہ کی وصیت ادا کردوں… آپ یہ تبدیلی وصیت میں اپنے رجسٹروں میں درج فرما لیں…‘‘ (الفضل ۲۲؍جون ۱۹۲۶ء صفحہ ۹ کالم ۳)

آپ نے ۱۶؍اگست ۱۹۲۴ء کو دہلی میں وفات پائی اور امانتاً وہیں دفن ہوئے۔ اخبار الفضل نے لکھا: ’’یہ خبر افسوس سے سنی جائے گی کہ شیخ فضل کریم صاحب نے جو نہایت مخلص اور دیندار احمدی تھے، دہ ماہ کی علالت کے بعد دہلی میں وفات پائی، اِنَّا لِلّٰہ و اِنَّا الیہ راجعون… شیخ صاحب پہلے حیدرآباد دکن میں ملازم تھے اور اب دہلی میں اپنی سرکاری ملازمت پر واپس آگئے تھے۔ ان کی لاش بطور امانت اسی جگہ دفن کی گئی…‘‘ (الفضل ۲۸؍اگست ۱۹۲۴ء صفحہ ۱) آپ کی وفات کے وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مسجد فضل لندن کے سنگ بنیاد کے لیے لندن میں تھے۔جب حضورؓ واپس قادیان تشریف لائے تو اپنے خطبہ جمعہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۲۴ء کے آخر میں چند نماز جنازہ غائب کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ’’… اسی طرح جماعت کے بڑے بڑے آدمیوں نے وفات پائی ہے … اور شیخ فضل کریم صاحب وہ بھی نہایت مخلص آدمی تھے۔ ‘‘ (خطبات محمود جلد ۸ صفحہ ۵۵۸) بعد ازاں آپ کی نعش ۱۶؍مئی ۱۹۲۶ء کو دہلی سےلائی گئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کی گئی۔

آپ کی اہلیہ محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ کی وفات ۸؍اپریل ۱۹۶۹ء کو لاہور میں ہوئی، جنازہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے پڑھایا اور بوجہ موصیہ (وصیت نمبر:۳۷۷۲) ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔ (الفضل ۱۱؍اپریل ۱۹۶۹ء صفحہ ۸)

اولاد میں ایک بیٹے شیخ محمد عبدالرشید صاحب چوبرجی لاہور (وفات : ۶؍جنوری ۱۹۷۳ء بعمر ۶۵ سال۔ مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ ) اور دو بیٹیوں امۃ اللطیف صاحبہ اور امۃ المجید صاحبہ کا علم ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: تورات اور بائبل میں جنگ کی تعلیمات اور اسلام سے ان کا موازنہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button