ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۴)(قسط ۱۵۸)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
میگنیشیا کارب
Magnesia carbonica
(Carbonate of Magnesia)
میگنیشیا کارب میں بیماریاں اکیس دن کے بعد دوبارہ واپس آتی ہیں۔علامتیں ٹھیک بھی ہورہی ہوں تو وہ اکیس دن کے بعد دوبارہ کچھ نہ کچھ جوش دکھانے لگتی ہیں۔مریض کو کھلی ہوا کی خواہش ہوتی ہے خواہ ٹھنڈی ہی ہو حالانکہ سردی اس کے لیے مضر ہوتی ہے۔مریض اپنے آپ کو ہروقت ڈھانپے رکھتا ہے ۔گرم مشروب سے پسینہ آتا ہے۔دانت کے اعصابی ریشوں میں شدید درد ہوتا ہے۔(صفحہ۵۶۹)
میگنیشیا کے تمام اعصابی دردوں کو ہلکا ہلکا چلنے سے آرام آتا ہے۔ہلکی حرکت سے خصوصاً دانت کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔میگنیشیا کارب کی اعصابی تکلیفوں کا دورہ عموماً رات کو ہوتا ہے۔لیکیسس میں حرکت سے آرام نہیں آتا جبکہ میگنیشیا کارب میں حرکت آرام دیتی ہے۔(صفحہ۵۶۹ )
میگنیشیا کارب میں کندھوں میں بھی درد ہوتا ہے خصوصاً دائیں کندھے میں ۔سارے جسم میں تھکاوٹ کا احساس رہتا ہے۔ جلد بے رنگ ،زرد اور مرجھائی ہوئی ۔سردی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔بستر کی گرمی میں بھی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح بدلتے ہوئے موسم میں اور کھلی ہوا میں سکون محسوس ہوتا ہے۔(صفحہ۵۷۰ )
میلنڈرینم
Malandrinum
میلنڈرینم وجع المفاصل اور جوڑوں کی اندرونی جھلیوں کی سوزش میں بھی مفید ہے۔ عموماً یہ دوا جسم کے نچلے حصوں پر زیادہ اثر کرتی ہے۔ ٹانگوں پر گھٹنوں سے لے کر ٹخنوں تک اس کا اثر زیادہ ہو تا ہے ۔ کمر میں دکھن اور چوٹ لگنے کی طرح کا درد ہو تو بھی میلنڈر ینم مفید ہے۔ (صفحہ۵۷۲)
ملیریا آفیشی نیلس
Malaria officinalis
ملیریا آفیشی نیلس جگر کے لیے بھی اچھی ہے۔جگر کے مقام پر درد اور اینٹھن محسوس ہو۔جگر،تلی اور گردے کام کرنا چھوڑدیں۔جسم میں خون کی کمی واقع ہو۔سارا نظام صحت جواب دے جائے،جلد اور چہرہ زرد ہو اور مریض بہت کمزوری اور سردی محسوس کرے تو اسے استعمال کرنا چاہیے۔ (صفحہ۵۷۵)
مینگینم
Manganum aceticum
(Manganese acetate)
اس میں حیض کی خرابیاں بھی ملتی ہیں۔ قلت حیض جو وقت گزرنے کے بعد ایک آدھ دن کے لیے آتا ہے ۔ خون کی رنگت پھیکی پانی کی طرح ہوتی ہے ایسی صورت میں بجائے اس کے کہ حیض جاری کرنے والی دوا دی جائے مینگینم دینی چاہیے۔ کیونکہ ایسے مریض میں خون کی شدید کمی ہوتی ہے اس لیے حیض کا خون جاری کرنے والی دوا سے رہا سہا خون بھی نکل جائے گا۔ میرا تجربہ ہے کہ علامات کے مطابق صحیح دوا دی جائے تو حیض کا خون جاری ہونے کی بجائے کچھ عرصہ کے لیے رک جاتا ہے لیکن کئی مہینے حیض بند رہنے کے بعد جب جسم میں خون کی کمی پوری ہو جائے اور طاقت آ جائے تو پھر حیض نارمل ہو جائے گا۔ اگر خون کی کمی نہ ہونے کے باوجود حیض بند ہو جائے تو بندش حیض کی دوسری دوائیں سوچنی چاہئیں۔ (صفحہ۵۷۷۔۵۷۸)
مینگینم میں جلدی علامتیں بھی ملتی ہیں۔ زخموں اور ناسور کے کنارے موٹے ہو جاتے ہیں۔ اکثر زخم لمبا عرصہ چلتے ہیں اور ٹھیک نہیں ہوتے۔(صفحہ۵۷۸)
مینگینم کے مریض کے زخم اور ناسور ٹھیک نہیں ہوتے اور مسلسل ہرے رہتے ہیں۔ یہ کیفیت جزوی کینسر کی ہے۔ اگر اسے زبردستی ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ پورے کینسر میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کے مریض کو معمولی سالمس بھی سخت تکلیف دیتا ہے ۔ اگر چلنے سے ہڈیوں میں درد ہو اور آرنیکا، برائیو نیا سے فائدہ نہ ہو تو مینگینم فائدہ دیتی ہے۔ یہ ان دونوں دواؤں کی نسبت زیادہ گہرا اثر رکھتی ہے۔ اسی طرح مینگینم میں بپٹیشیا سے ملتی جلتی درد یں ہوتی ہیں جو معدے کی خرابی اور ٹائیفائیڈ کے تعفن سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر بپٹیشیا کچھ فائدہ دے کر چھوڑ دے تو مینگینم کو یاد رکھنا چاہیے۔(صفحہ۵۷۹)
مینگینم میں حرکت سے اور چلنے پھرنے سے تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔لیکن بیٹھنے سے بھی آرام نہیں آتا۔ہاں اگر مریض لیٹ جائے تو سب تکلیفیں یوں ختم ہوجاتی ہیں گویا تھیں ہی نہیں۔ وہ عورتیں جو موٹاپے کا شکار ہوں۔ ہر وقت جسم میں درد یں ہوں اور وہ ہر وقت لیٹی رہیں ان کی دوا مینگینم بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس کی دوسری اہم علامتیں موجود ہوں۔ بعض دفعہ بیٹھے بیٹھے گھبراہٹ کی وجہ سے حرکت کرنے اور چلنے پھرنے کو دل چاہتاہے لیکن چلنے پھرنے سے دردوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ اس علامت میں آرسینک اوررسٹاکس کا خیال آ سکتا ہے مگر ان دونوں کی علامتیں بالکل مختلف ہیں۔ (صفحہ۵۷۹)
سل کی علامتوں میں ارجنٹم مٹیلیکم، فاسفورس اور گریفائیٹس کی علامتیں مینگینم سےمشابہت رکھتی ہیں۔ اگر سل کے مریض میں خون کی کمی کی وجہ سے سر میں درد ہو توایسے سردرد میں بھی مینگینم مفید ہو سکتی ہے ۔ اس میں دردیں سوئی کی چبھن کی طرح ہوتی ہیں جیسے کسی نے ٹانکہ بھر دیا ہو ۔ نیز سر کی جلد میں سرخ رنگ کے داغ بن جاتے ہیں اور ان جگہوں میں درد ہو تا ہے ۔(صفحہ ۵۷۹۔۵۸۰)
وہ نزلاتی بیماریاں جن کے نتیجہ میں کان مسلسل بھاری رہنے لگیں اور قوت شنوائی متاثر ہو ان میں مینگینم کو نہیں بھولنا چاہیے۔ سرد اور بھیگے ہوئے موسم میں بغیر کسی انفیکشن کے بھی شنوائی متاثر ہوتی ہو اور مریض اونچا سننے لگے ، اگر اس کے ساتھ کان میں خارش ہو اور دبانے سے گلے میں بھی شروع ہو جائے اور چھینکیں بھی آئیں تو مینگینم سے افاقہ ہو سکتا ہے ۔ عموماً یہ علامتیں بھیگے ہوئے ٹھنڈے موسم میں بڑھتی ہیں۔(صفحہ۵۸۰)
وہ مریض جو رفتہ رفتہ کمزور ہو رہے ہوں ان کی طاقت کو بحال کرنے کے لیے بھی مینگینم کار آمد ہے ۔ ٹھنڈے اور مرطوب موسم میں اور طوفان آنے سے پہلے مینگینم کی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔(صفحہ۵۸۱ )
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۳)(قسط ۱۵۷)




