تحریک جدید کی مالی قربانی کے چند ایمان افروز واقعات
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۷؍نومبر۲۰۲۵ء)
البانیہ سے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک البانین دوست بلال یوسف صاحب ہیں بہت سادہ مزاج آدمی ہیں۔ غریب بھی ہیں۔ وہاں جلسہ ہو رہا تھا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بغیر کسی معاوضے کے ایک ہفتہ تک ہر روز صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک جلسہ کا کام کیا۔اور ہمارے بہت سارے والنٹیئر جلسوں پہ دنیا میں یہ کام کرتے ہیں لیکن بعضوں کو ضرورت ہوتی ہے تو اس کے باوجود والنٹیئر وقت دیتے ہیں رضاکارانہ طور پر۔ بعضوں کو ضرورت ہوتی بھی نہیں ان کا گزارہ ہو رہا ہوتا ہے۔ بہرحال کہتے ہیں یہ شام کو کام کرتے تھے چار بجے تک اور پھر چار بجے شام کو اپنی جاب پہ چلے جاتے تھے۔ ایک روز لفافے میں پچھتر (75)یورو تحریک جدید کا چندہ لے کر آئے۔ البانیہ مشرقی یورپ کا غریب ملک ہے۔ مربی صاحب کو کہنے لگے کہ کئی دنوں سے یہ رقم چندے میں دینے کے لیے جمع کی تھی اور لفافے کے اوپر البانین زبان میں یہ لکھا ہوا تھا کہ بہت خوش دلی سے جماعت کی خدمت میں پیش ہے۔ شاید یہ رقم دوسروں کو کم لگتی ہو پچہتر (75) یورو صرف لیکن مربی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ان کی پندرہ فیصد تنخواہ تھی جبکہ ان کو گھر کا کرایہ وغیرہ بھی دینا تھا۔
دنیا دار تو کہہ سکتے ہیں کہ پچہتر (75) یورو سے یہ اسلام کو پھیلانے کی باتیں کرتے ہیں یا چند یورو سے اسلام کو پھیلانے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ اسلام مخالف جو تنظیمیںہیں اور حکومتیں ہیں ان کے پاس بلینز، بلینز پاؤنڈ ہیں۔ وہ اپنے پیسے اسلام کے خلاف خرچ کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اس چھوٹی سی قربانی میں بھی اتنا فضل فرمایا ہے کہ اس قربانی سے جماعت احمدیہ مشن بھی قائم کر رہی ہے صرف یہ ایک نہیں ہیں پچہتر(75) یورو دینے والے۔ بہت سارے ایسے لوگ ہیں بلکہ اس سے بھی کم دینے والے لوگ ہیں اور جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہی چھوٹی چھوٹی رقموں سے دنیا میں اپنے کام سرانجام دے رہی ہے۔ اشاعت اسلام کا کام کر رہی ہے اور دنیا میں جو ترقی ہو رہی ہے وہ بلینز ڈالر خرچ کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔
اسی طرح اس سے بھی زیادہ غریب ممالک میں بعض قربانی کے نظارے نظر آتے ہیں جو ابتدائے اسلام یا اس وقت جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مالی قربانیوں کی تحریک فرمائی تھی اس وقت پیش آتے تھے۔یا اس وقت پیش آئے جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا کہ آج دشمن پوری طرح تیار ہو کر ہم پر حملہ آور ہے اس لیے خرچ کرو۔ اور اس پر لوگوں نے قربانیاں کیں۔ غریب عورتوں نے اپنی مرغیاں اور مرغیوں کے انڈے بیچ کر چندے دے دیے۔ معمولی معمولی قربانی تھی۔ اس وقت دو تین سال میں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ کہا تھا کہ تین سال میں ہندوستان میں ستائیس ہزار روپیہ جمع کرو لیکن جماعت نے قربانی کی اور ایک سال میں ہی ایک لاکھ روپیہ جمع کر لیا۔ آج بھی قربانیوں کے نظارے ہمیں غریب ممالک کی طرف سے نظر آتے ہیں۔(ماخوذاز الحکم جلد25 نمبر8 مورخہ21فروری1923ء صفحہ 7)(ماخوذ ازتاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ35)
انڈونیشیا میں ایک ممبر جادِی مظفر صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ ان کی اہلیہ کے پاس جماعت کی ایک معمر خاتون آئیں انہوں نے چند گٹھے لکڑیاں اس نیت سے پیش کیں کہ ہم انہیں خرید لیں۔کہتے ہیں کہ ہمیں تو لکڑیوں کی ضرورت نہیں تھی۔ پہلے ہی ہم نے خرید کر رکھی ہوئی تھیں۔چھوٹے قصبوں میں یا گاؤں میں رہتے تھے ان غریب ملکوں میں جو پوری طرح ترقی یافتہ نہیں ہیں تو بعض دفعہ غریب لوگ لکڑیاں جلاتے ہیں۔ گیس تو وہاں ہوتی نہیں یا شاید کیروسین کے چولہے جلا لیتے ہوں لیکن بہرحال لکڑیاں پھر بھی استعمال ہوتی ہیں۔ تو کہتے ہیں ہم کیونکہ اَور چیزیں بھی استعمال کر رہے تھے اس لیے ہم نے کہا لکڑیاں ہمارے پاس زیادہ استعمال نہیں ہوتیں۔ ہمیں ضرورت نہیں ہے۔لیکن بہرحال چونکہ وہ بیچاری معمّر خاتون سر پر گٹھے اٹھا کر لائی تھی تو اہلیہ نے اس پر ترس کھاتے ہوئے لکڑیاں خرید لیں۔ انڈونیشین روپے کی قیمت بہت کم ہے وہاں لاکھوں میں باتیں ہوتی ہیں تو انہوں نے لکڑیوں کا وہ گٹھا ایک لاکھ روپے میں جو پاکستانی روپے کے برابر بھی چند روپے بنتے ہیں اس میں خرید لیا۔ بہرحال جب خرید لیا اور اس کو رقم دینی چاہی تو اس معمر خاتون نے کہا کہ میں یہ لکڑیاں اس لیے نہیں لائی کہ تم سے رقم لوں اور اپنے پر خرچ کروں بلکہ یہ تو میں نے تحریک جدید کا چندہ دینا تھا۔ اسے میری طرف سے تحریک جدید کے چندے میں شمار کر لو۔ ان کی بیوی لجنہ کی عہدیدار بھی تھیں وہ رقم جو تھی، جو کچھ تھا سارا وہیں چندہ دے گئیں اور ایک پیسہ بھی اپنے ساتھ لے کر نہیں گئیں۔
اسی طرح انڈونیشیا سے ہی ایک ممبرسسیلہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ چند سال پہلے ان کے مالی حالات نہایت خراب تھے۔ ایک سات سال کا بچہ تھا اور دوسرے بچہ سے حاملہ تھیں۔ جس دن دوسرا بچہ پیدا ہوا اسی دوران عید بھی قریب آ گئی تو ان تینوں نے تحریک جدید کے وعدے کی رقم جو کہ بارہ لاکھ روپے تھی، باقی تھی۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ وہاں روپے کی قیمت بہت کم ہے تو یہاں بھی وہی جذبہ نظر آتا ہے جس کی مثالیں ہم پہلے بزرگوں میں دیکھتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بارہ لاکھ روپے کا ان کا وعدہ تھا۔ہم چاہتے تھے کہ تحریک جدید کا چندہ دے دیں اور خلیفة المسیح کو دعا کے لیے لکھیں۔ ہم نے بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح یہ چندہ ادا ہو جائے لیکن غربت کی وجہ سے یہ مشکل نظر آ رہا تھا۔کہتی ہیں میرا ایک بہت تھوڑا سا بینک اکاؤنٹ تھا جب میں نےوہاںدیکھا تو ساڑھے بارہ لاکھ روپے وہاں موجود تھا۔ تو کہتی ہیں اگر ہم یہ سارا کچھ دے دیتے تو ہمارے پاس دینے کو کچھ نہ ہوتا لیکن بہرحال انہوں نے فیصلہ کیا کہ بارہ لاکھ روپے تو میاں بیوی اور بڑے بچے کی طرف سے دے دیں اور بقایا پچاس ہزارجو ہے وہ چھوٹے بچے کی طرف سے دے دیں تو وہ ہم نے دے دیا اور اس طرح رقم ختم ہو گئی۔ کچھ بھی ان کے پاس نہیں تھا۔کہتی ہیں لیکن ہمیں افسوس نہیں ہوا بلکہ دل میں خوشی محسوس ہوئی کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے نومولو دبچے کو بھی اس میں شامل کر لیا۔ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بھی کیسا فضل کیا کہ ایک ہفتے کے بعد ہی انہیں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی آمدنی ہو گئی اور یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دس گنا بڑھانے کا وعدہ کیا ہے اسے اس طرح پورا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فوراً اپنا وعدہ پورا فرما دیا۔
اسی طرح گھانا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ خلیفة المسیح کے خطبات میں ایمان افروز واقعات جب لوگوں کو سنائے گئے تو ایک افریقن گھانین ممبر نے اپنی جیب میں موجود آخری رقم بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دی۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ مسجد سے باہر نکلتے ہی انہیں دو فون کالز موصول ہوئیں جو ان کی زندگی کا رُخ بدلنے والی تھیں۔ یعنی دو ممکنہ گاہکوں نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ایسی پُرکشش ملازمت یا مواقع کی پیشکش کی جس سے انہیں ان کی دی ہوئی رقم سے بیس گنا زیادہ منافع حاصل ہوا۔ یہ غیر معمولی واقعہ اس حقیقت کی ایک زبردست یاددہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں قربانی کرنے والوں کو کس طرح فوری اور بے مثل انعامات سے نوازتا ہے۔ یہ واقعہ بھی ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنا۔
مزید پڑھیں: مالی قربانی کی اہمیت



