افریقہ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ سیرالیون کے اکسٹھویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا انعقاد

٭… جلسہ سالانہ کے بابرکت موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا احباب جماعت کے نام خصوصی پیغام

٭… جلسہ سالانہ کے بابرکت موقع پر ۱۵۷؍ سعید روحیں بیعت کر کے اسلام احمدیت میں شامل ہوئیں

٭…جلسہ میں مجموعی حاضری ۲۰؍ ہزار ۱۵۶ رہی

محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ سیرالیون کا ۶۱واں جلسہ سالانہ مورخہ ۶تا ۸؍فروری ۲۰۲۶ء کو بو شہر میں اپنی دینی و روحانی روایات کے ساتھ منعقد ہوا۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت ایک خصوصی پیغام بھی ارسال فرمایا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نمائندہ خصوصی نے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ حضور انور نے مکرم زاہد احمد خان صاحب صدر قضا بورڈ یوکے کو مرکزی نمائندہ مقرر فرمایا تھا۔ مکرم موسیٰ میوا صاحب امیر جماعت احمدیہ سیرالیون اور مرکزی نمائندہ نے جلسہ سے قبل احمدیہ کمپاؤنڈ پہنچ کر شعبہ جات کے انتظامات کا معائنہ کیا اور ضروری ہدایات دیں۔ رجسٹریشن، رہائش، جنرل کچن اور دیگر شعبہ جات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

پہلا روز: ۶؍فروری بروز جمعۃ المبارک جلسہ سالانہ کے پہلے روز کا آغاز صبح پونے پانچ بجے نماز تہجد سے ہوا جو مکرم میر وسیم الرشید صاحب ریجنل مبلغ مکینی ریجن نے پڑھائی۔ مکرم مولوی حسن سیسے صاحب نے ’’قرآن کریم کے معارف حاصل کرنے کے لیے تقویٰ ضروری ہے‘‘ کے موضوع پر درس دیا۔ نماز فجر کے بعد اعلانات ہوئے اور مکرم امیر صاحب و مرکزی نمائندہ نے ناظمین شعبہ جات اور نیشنل عاملہ کے ساتھ میٹنگ کی۔

ساڑھے نو بجے مرکزی مہمان نے نمائش کا افتتاح کیا اور اس کے معائنہ کے بعد تقریب پرچم کشائی منعقد ہوئی۔ مرکزی نمائندہ نے لوائے احمدیت جبکہ مکرم امیر صاحب نے سیرالیون کا پرچم لہرایا اور مرکزی نمائندہ نے دعا کروائی۔

پہلے اجلاس کا آغاز صبح دس بجے مکرم امیر صاحب کی صدارت میں ہوا۔ تلاوت قرآن کریم حافظ اسد اللہ وحید صاحب نے اور ترجمہ مکرم مولوی زکریا صاحب نے پیش کیا۔ مکرم عمر ایف کاربو صاحب نے جامعہ احمدیہ کے چار طلبہ کے ہمراہ قصیدہ ’’يَا قَلْبِيَ اذْكُرْ اَحْمَدَا‘‘ پیش کیا۔ بعد ازاں معزز مہمانان، پیراماؤنٹ چیفس، مذہبی راہنماؤں اور حکومتی وزراء کا تعارف کروایا گیا۔ مکرم امیر صاحب نے افتتاحی تقریر میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ آپ نے سورت آل عمران کی آیت۷ کی تلاوت کرتے ہوئے قرآن کریم کے نزول اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور جماعت احمدیہ کا تعارف پیش کیا۔

مرکزی نمائندہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا جس کا کریول ترجمہ مکرم موسیٰ محمود صاحب نے پیش کیا۔ مکرم فواد لولے صاحب سیکرٹری تعلیم و سیکرٹری نصرت جہاں بورڈ نے گذشتہ سال کی تعلیمی رپورٹ پیش کی اور سکولوں، اساتذہ اور طلبہ کی کارکردگی کے اعداد و شمار بیان کیے۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے سکولوں اور طلبہ میں اسناد و نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔

اس موقع پر مختلف علاقوں کے پیراماؤنٹ چیفس، سرکاری افسران، مذہبی شخصیات، سماجی کارکنان اور حکومتی وزراء نے جماعت احمدیہ کی تعلیمی، صحت اور سماجی خدمات کو سراہا۔ سابق نائب صدر مملکت نے جماعت کی خدمات بالخصوص شعبہ تعلیم کو غیر معمولی قرار دیا اور بتایا کہ وہ خود بھی احمدیہ سکول میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ وزیر قانون و اٹارنی جنرل نے بھی ملکی ترقی میں جماعت کے کردار کو سراہا۔

وزارت سوشل ویلفیئر کے ڈپٹی منسٹر مکرم محمد حاجی کیلا صاحب صدر مملکت کی نمائندگی کرتے ہوئے شاملین جلسہ سے مخاطب ہوئے اور انہوں نے صدر مملکت کی طرف سے نیک تمناؤں اور مبارک باد کا پیغام بھی پہنچایا۔

تمام شاملین نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ براہ راست سنا۔ بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے خطبہ جمعہ دیا جس میں جلسہ سالانہ کے مقصد اور حضور انور کی بیان فرمودہ دعاؤں کی طرف توجہ دلائی۔ نماز جمعہ و عصر جمع کرکے ادا کی گئیں جس کے بعد ظہرانہ پیش کیا گیا۔

اجلاس مستورات:بعد از دوپہر مستورات کا اجلاس منعقد ہوا جو شام تک جاری رہا۔ پہلے اجلاس کی صدارت مکرمہ مسز نینسی کمارا صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ سیرالیون نے کی۔ تلاوت قرآن کریم، حدیث اور نظم کے بعد افتتاحی تقریر ہوئی اور مہمانان کا تعارف کروایا گیا۔ لجنہ اماء اللہ کی سالانہ مساعی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’اسلام کا موجودہ دور میں خواتین کو درپیش چیلنجز کے بارے میں ردعمل‘‘ از مکرمہ فاطمہ اسمعیل محمود صاحبہ، ’’خلافت میری روحانی روشنی‘‘ از مکرمہ عطیۃ الغفور صاحبہ، ’’عصر حاضر اور بچوں کی پرورش میں ماؤں کو درپیش چیلنجز‘‘ از مکرمہ امامہ کمارا صاحبہ، ’’اسلامی تعلیمات اخلاقی اور معاشرتی زوال کا تدارک کرتی ہیں‘‘ از مسز عصمت فورائی صاحبہ، ’’مالی قربانی‘‘ از مکرمہ مریم سیسے صاحبہ اور ’’عہدیداران کی ذمہ داریاں‘‘ از مکرمہ مصباح منصور صاحبہ۔ لجنہ کی ممبرات نے قصیدہ بھی پیش کیا۔ آخر پر مکرم امیر صاحب نے اختتامی کلمات کہے۔

شام ساڑھے سات بجے نماز مغرب و عشاء جمع کرکے ادا کی گئیں جس کے بعد شاملین کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خصوصی پیغام کا مینڈھے اور ٹمنی زبانوں میں ترجمہ سنایا گیا۔

دوسرا روز: ۷؍فروری بروز ہفتہ جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کا آغاز صبح پونے پانچ بجے نماز تہجد سے ہوا جو مکرم مولوی عبداللطیف بایاں صاحب نے پڑھائی۔ مکرم اسمٰعیل نالو صاحب افسر جلسہ سالانہ نے ’’نزول قرآن کے مقصد‘‘ کے موضوع پر درس دیا۔ نماز فجر کے بعد مکرم امیر صاحب و مرکزی نمائندہ نے ناظمین شعبہ جات اور نیشنل عاملہ کے ساتھ میٹنگ کی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔

دوسرا اجلاس صبح ساڑھے نو بجے مکرم طاہر محمود عابد صاحب صدر جماعت و مشنری انچارج گنی کناکری کی زیرصدارت شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم منکالو ٹولی صاحب نے اور کریول ترجمہ مکرم مصطفیٰ فودے صاحب نے پیش کیا۔ جالا اے گرے صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا کلام ’’نور فرقان ہے جو سب نوروں سے اجلیٰ نکلا‘‘ پیش کیا۔

مکرم حامد علی بنگورا صاحب مربی سلسلہ نے ’’قرآن کریم سے آنحضرت ﷺ کا عشق‘‘، مکرم مربی محمد نعیم اظہر صاحب نائب امیر اول و مبلغ انچارج نے ’’خلفائے احمدیت کی دعاؤں کی قبولیت‘‘ اور صدر اجلاس نے ’’حضرت مسیح موعودؑ پر کیے جانے والے اعتراضات کے جواب‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ اس موقع پر ’’خلیفہ دل ہمارا ہے‘‘ کے عنوان سے نظم بھی پیش کی گئی۔

عزت مآب ڈیوڈ موئینینا سینگہ چیف منسٹر سیرالیون نے جماعت احمدیہ کو جلسہ سالانہ کے انعقاد پر مبارک باد دی اور جماعت کی خدمات کا اعتراف کیا۔ انہیں جماعتی کتب کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔ بعد ازاں ممبران پارلیمنٹ، پیراماؤنٹ چیفس اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سمیت متعدد معززین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور جماعت احمدیہ کی تعلیمی، صحت اور سماجی خدمات کو سراہا۔

پروگرام کے مطابق تین نکاحوں کے اعلانات مکرم منیر حسین صاحب ریجنل مبلغ ویسٹرن ایریا نے کیے۔ نماز ظہر و عصر کے بعد احباب کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔

شام ساڑھے تین بجے سے چھ بجے تک تیسرا اجلاس الحاج عبد الحئی کورومہ صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم حسن ابراہیم کمارا صاحب نے اور ترجمہ مکرم المامی لہائی کمارا صاحب نے پیش کیا۔ جامعۃالمبشرین کے طلبہ نے قصیدہ ’’يَا عَيْنَ فَيْضِ اللّٰهِ وَ الْعِرْفَانِ‘‘ پیش کیا۔

مکرم سید سعید الحسن شاہ صاحب مربی سلسلہ نے ’’حضرت مسیح موعودؑ کا عشق قرآن‘‘، مکرم مورث کمارا صاحب مربی سلسلہ نے ’’شہدائے احمدیت‘‘ اور مکرم شاہد کورجی صاحب نیشنل سیکرٹری وقف نو نے ’’جو قرآن کو عزت دیں گے آسمان پر عزت پائیں گے‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ اس کے علاوہ ’’قرآن سب سے اچھا‘‘ کے عنوان سے نظم پیش کی گئی۔

مکرم فواد لولے صاحب نے پرائمری، مڈل اور میٹرک بورڈ میں سو فیصد نتائج حاصل کرنے والے احمدی سکولوں کے طلبہ کی اوّل و دوم پوزیشنز کا اعلان کیا اور اسناد پیش کیں۔ اس کے ساتھ ہی اجلاس برخواست ہوا۔

شام ساڑھے سات بجے نماز مغرب و عشاء جمع کرکے ادا کی گئیں جس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے پروگرام ’’This Week with Huzoor‘‘ کا کریول ترجمہ دکھایا گیا۔ اس دوران مرکزی نمائندہ نے مرکزی مبلغین کے ساتھ علیحدہ میٹنگ بھی کی۔

تیسرا اور آخری روز: ۸؍فروری بروز اتوار جلسہ سالانہ کے تیسرے روز کا آغاز صبح پونے پانچ بجے نماز تہجد سے ہوا جو مکرم ملک محمد قاسم طاہر صاحب ریجنل مبلغ پورٹ لوکو ریجن و مبلغ ضلع ٹونکولی لی نے پڑھائی۔ مکرم حافظ صلاح الدین صاحب مربی سلسلہ نے ’’قرآن کریم وقف زندگی کی حقیقت‘‘ کے موضوع پر درس دیا۔ مکرم محمد قاسم طاہر صاحب نے نماز فجر پڑھائی۔

اختتامی اجلاس:صبح دس بجے اختتامی اجلاس مرکزی نمائندہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ تلاوت مکرم میر وسیم الرشید صاحب مربی سلسلہ نے اور ترجمہ مکرم طاہر احمد سیسے صاحب نے پیش کیا۔ عزیزم ابراہیم محمود کمارا نے نظم ’’جمال و حسن قرآں نور ِجان ہر مسلماں ہے‘‘ سے چند اشعار پیش کیے جن کا کریول ترجمہ مکرم خالد پئین صاحب نے پیش کیا۔

مکرم عثمان عبدالباری صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ سیرالیون نے ’’توکّل علیٰ اللہ‘‘ اور مکرم عبدالہادی قریشی صاحب مربی سلسلہ و استاد جامعۃ المبشرین سیرالیون نے ’’سیرالیون کے ابتدائی مبلغین کے حالات زندگی اور ان کی قربانیاں‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ مکرم معلّم سلیمان بنگورا صاحب اور مکرم عثمان بنگورا صاحب نے کریول نظم پیش کی۔ مرکزی نمائندہ نے ’’اسلام کی تعلیمات: معاشرے کو اخلاقی اور سماجی زوال سے بچانے کا مؤثر نظام‘‘ کے موضوع پر تقریر کی جس کا رواں کریول ترجمہ مکرم موسیٰ محمود صاحب نے پیش کیا۔ مکرم امیر صاحب نے ’’حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کی پیشگوئیاں اور پھر حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں اور ان کا پورا ہونا‘‘ کے موضوع پر اختتامی تقریر کی۔

بیعت اور دعائیہ خطوط:جلسہ سالانہ کے بابرکت موقع پر ۱۵۶؍سعید روحوں نے بیعت کرکے اسلام احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دو ہزار سے زائد دعائیہ خطوط بھی ارسال کیے گئے۔

حاضری:نظامت رجسٹریشن کے مطابق جلسہ سالانہ میں مجموعی حاضری ۲۰؍ہزار ۱۵۶؍رہی۔ نماز ظہر و عصر کے بعد تصاویر ہوئیں جس کے بعد کھانا پیش کیا گیا اور مہمانوں و وفود کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا۔

اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لگائے ہوئے شجر احمدیت کو مزید پھلوں سے نوازے اور اقوام عالم کو ہمیشہ اس کے سایہ میں راحت و آرام نصیب فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: ذیشان محمود۔ ناظم سوشل میڈیا اور سید سعید الحسن شاہ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے جلسہ سالانہ سیرالیون ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم

پیارے احباب جماعت احمدیہ سیرالیون

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا ۶۱واں جلسہ سالانہ ۶، ۷ اور ۸؍فروری ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسے کو بڑی کامیابی سے نوازے اور تمام شاملین بے شمار برکتیں حاصل کریں۔

قادیان میں ہمارے حالیہ جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے احبابِ جماعت کو جلسہ سالانہ کے حقیقی مقصد، ہماری بیعت سے وابستہ ذمہ داریوں اور جماعت کے اندر تقویٰ یعنی راستبازی کے راسخ ہونے کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی تھی۔

اگرچہ جلسوں میں ہماری شمولیت روحانی ترقی کے قیمتی مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن ان کا اصل مقصد عبادت کا ایک ماحول پیدا کرنا ہے۔ جلسے کے اس نظام کے ذریعہ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اِذن الٰہی سے قائم فرمایا تھا، ایک ایسا روحانی ماحول قائم ہوتا ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوبارہ جوڑتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاءِ کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قو میں طیار کی ہیں۔ جو عنقریب اس میں آملیں گی۔ کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘(اشتہار ۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۱، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)

میں نے سب کو یہ بھی یاد دلایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس دنیا میں اس لیے مبعوث ہوئے تاکہ زمانے کے گزرنے اور گمراہ لوگوں کے افعال کی وجہ سے اسلام کی تعلیمات پر جو گرد جم گئی تھی اسے دور کریں اور اسلام کو ایک بار پھر اس کی پاک اور اصل صورت میں پیش کریں۔ آپؑ کا مشن ہمارے پیارے نبی آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اصل دین کی احیاء، اس پر عمل کرنے کی ترغیب دینا اور اس مقصد کے لیے ایک جماعت تیار کرنا تھا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جو لوگ آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کا عہد کرتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی پنجوقتہ نمازوں کو باقاعدگی سے ادا کریں اور نمازِ تہجد پڑھنے کی کوشش کریں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل درود بھیجتے رہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور استغفار میں مداومت اختیار کریں۔ وہ اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد رکھیں اور اس کی حمد و ثنا کو اپنا روزمرہ کا معمول بنائیں۔

آپؑ نے مزید وضاحت فرمائی کہ ہم اپنی بیعت کے تقاضوں کو صرف اسی وقت پورا کر سکتے ہیں جب ہم اس مقام پر پہنچ جائیں جہاں ہم مکمل طور پر آپؑ کی پیروی کریں اور کسی دنیاوی رشتے، تعلقات یا ذمہ داریوں کو اس عہد کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔

مزید برآں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں تعلیم دی کہ یہ ضروری ہے کہ ہم تقویٰ یعنی راستبازی کو اختیار کریں اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کا حقیقی خوف پیدا کریں۔ درحقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جب تک جماعت اللہ تعالیٰ کی نظر میں متقی نہیں بن جاتی، ہم اس کی مدد کی امید نہیں رکھ سکتے۔ صرف خود کو متقی سمجھنا کافی نہیں ہے، بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی نظر میں متقی بننا ہوگا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے لیے نہایت درد مندی اور جوش سے دعائیں کیں۔ اس حوالے سے آپؑ نے فرمایا:’’میں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہوجاتا ہے اور بعض اوقات غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ایسا میرا حال تم لوگوں کے واسطے سوزش میں رہتا ہے کہ خدا تعالیٰ جماعت میں ایسا تقویٰ پیدا کرے۔‘‘

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس دل دہلا دینے والی اذیت اور تھکن کے بارے میں سن کر جو آپؑ نے ہمارے لیے دعا کرتے ہوئے برداشت کی، ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہم کس حد تک اپنے عہدِ بیعت کو پورا کر رہے ہیں اور کیا ہم تقویٰ کی راہ پر چل رہے ہیں؟ اگر ہم آپؑ کی دعاؤں کے وارث بننا چاہتے ہیں، خصوصاً ان دعاؤں کے جو آپؑ نے جلسے میں شامل ہونے والوں کے لیے کی ہیں، تو ہمیں انتھک محنت کرنی چاہیے اور اس مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے اور جس کے لیے ہم نے آپؑ کی بیعت کی ہے۔

آخر پر میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جلسے کو آپ کے تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کا ذریعہ بنائے، آپ اللہ تعالیٰ، جو ہمارا خالق ہے، کے ساتھ ایک قریبی تعلق قائم کرنے والے ہوں اور آپ اخلاقی اور نیک رویے کے ان بلند معیاروں تک پہنچ سکیں جن کی توقع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے ممبران سے کی تھی۔ آپ ہمیشہ خلافتِ احمدیہ کے نظام کے وفادار رہیں اور اسلام احمدیت کے پُرامن اور محبت بھرے پیغام کو سیرالیون کے تمام لوگوں تک پہنچانے والے بنیں۔ اللہ آپ سب پر رحم کرے۔

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ فن لینڈ کے وفد کی شہرPietarsaari کے میئر اور پادریوں سے ملاقات نیز لائبریری کا دورہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button