یورپ (رپورٹس)

سالانہ نیشنل اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ کے موقع پر ایک مشاعرہ کا انعقاد

محض خدا تعالیٰ کے فضل واحسان سے مجلس انصار اللہ برطانیہ کو امسال سالانہ نیشنل اجتماع کے موقع پر ۱۸؍ستمبر ۲۰۲۶ء بعد از نماز مغرب وعشاء ایک مشاعرہ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ اس مشاعرے کو صدر مجلس انصاراللہ یوکے صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب کی خصوصی سرپرستی حاصل رہی۔ مشاعرے کے انتظامات کے لیے صدر صاحب نے مکرم شکیل احمد بٹ صاحب نائب صدر کی سرپرستی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں مکرم فاروق محمود صاحب ،مکرم طارق مجید صاحب ،مکرم میر انجم پرویز صاحب اور مکرم احسان قمر صاحب شامل تھے۔

چاروں طرف سے کھلے سائبان کے نیچےسجنے والی اس محفل میں بڑے آتش دانوں میں لکڑیاں جلا کر ماحول کو مزید پُررونق اور پُرجوش بنا دیا گیا تھا۔ مشاعرے کا آغاز نماز عشاءکے بعد ساڑھے آٹھ بجےہوا جس میں تمام سامعین کو الاؤ کے گرد دائرے کی شکل میں نشستوں پر بٹھایا گیا۔

مشاعرے کے مہمان خصوصی مکرم مرزا نصیر احمد صاحب استاد جامعہ احمدیہ یوکے تھے۔ میزبانی کے فرائض مکرم فاروق محمود صاحب نے ادا کیے۔ مشاعرے کے باقاعدہ آغاز سے قبل شعر کا شوق رکھنے والے بعض احباب کو بغرض حوصلہ افزائی اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا موقع دیا گیا۔ بعد ازاں مکرم فاروق محمود صاحب نے بطور میزبان سب سے پہلے اپنا کلام پیش کیا۔ اس کے بعد دیگر شعرائے کرام نے سامعین کی خدمت میں اپنا اپنا کلام پیش کرنے کی توفیق پائی۔

چند اشعار بطور نمونہ درج ذیل ہیں:

وہ ایسا یار ہے جو آب دے، سراب نہ دے

وہ خود ہے منزل تعبیر، صرف خواب نہ دے

٭…٭…٭

کچھ اس طرح سے زیست تھی پُر از وفوردرد

طائف کی ایک شام ہی اوج شعور درد

گویا اس ایک دور میں بس تھا ظہور درد

ورثے میں ہم کو بھی ملا کچھ کچھ سرور درد

دنیا جہاں کے درد کا اک میزباں لکھوں

ممکن کہاں ہے پھر بھی میں شایان شاں لکھوں

میزبان شاعر کے بعد دیگر شعراء نے اپنے کلام سے مشاعرے کو چار چاند لگائے۔ ذیل میں بطور نمونہ چند شعراء کے اشعار درج ہیں:

اسحاق عاجز صاحب

خدا کی حمد کے نغمے سنا کر جا رہے ہو تم

دیار یار میں جلسہ منا کر جا رہے ہو تم

ملے ان سے کہ جو بچھڑے ہوئے تھے تم سے مدت سے

جو تھے روٹھے ہوئے ان کو منا کر جا رہے ہو تم

بسی ہے چار سُو خوشبو یہاں پیارے خلیفہ کی

یہ خوشبو روح میں اپنی بسا کر جا رہے ہو تم

٭…٭…٭

احسان قمر صاحب

ذکر محفل میں عشق و محبت کا ہے

پھول چنتے رہیں، شعر سنتے رہیں

بزم یاراں میں ذکر خلافت بھی ہے

سر کو دھنتے رہیں، شعر سنتے رہیں

عزم محکم لیے ہاتھ میں ہاتھ دیں

یا خلافت کے پرچم کے سائے تلے

امن و رحمت کا پیغام دیتے ہوئے

گیت بنتے رہیں، شعر سنتے رہیں

تیری چوکھٹ پہ آ کر ملا چین وہ

جو ملا نہ کہیں بھی زمانے میں تھا

علم و حکمت سے دامن کو اپنے یہاں

آپ بھرتے رہیں، شعر سنتے رہیں

٭…٭…٭

رانا ساجد محمود صاحب

ایک مسلم ہے کہ آپس میں لڑے جاتا ہے

ایک کافر ہے کہ یکجان ہؤا پھرتا ہے

اےمسلمان! تجھے دیکھ کے شیطان بھی اب

چیختا، چھپتا، پریشان ہؤا پھرتا ہے

٭…٭…٭

اس شہر میں سارے ہی مسلمان ہیں ساجد

اس شہر میں حق بات کہو گے تو مرو گے

٭…٭…٭

طارق مجید صاحب

مہتاب سر جھکائے حضور! آپ کے حضور

سورج بھی ٹمٹمائے حضور! آپ کے حضور

تزئین آسماں کو جو لٹکی ہے کہکشاں

وہ بھی ہے خاک پائےحضور، آپ کے حضور

دیکھا ہے ہم نے آپ کے شیروں کی دھاڑ سے

جنگل بھی تھرتھرائے حضور! آپ کے حضور

٭…٭…٭

ڈاکٹر طارق انور باجوہ صاحب

نور در نور کی چادر میں منور پیکر

میری نظروں میں وہ انساں بھی تمہی ہوتے ہو

میں عبادت کے لیے شعر کہا کرتا ہوں

میرے سب شعروں کا عنواں بھی تمہی ہوتے ہو

٭…٭…٭

اے خدا کے فیض اور عرفان کے چشمۂ رواں!

تشنہ لب دوڑے چلے آتے ہیں تجھ تک کارواں

٭…٭…٭

خاکسار نورالجمیل نجمی

اس کے رنگوں میں رنگے تو جانا کہ جیون کا حاصل ہے کیا

اس کے در کے ہوئے تو یہ پایا کہ پانے کے قابل ہے کیا

اے مسیحا! ترا جو بھی دن ہو وہ فضلوں سے بھرپور ہو

اے مسیحا! تری جو بھی شب ہو وہ ’’نورٌ علیٰ نور‘‘ ہو

٭…٭…٭

ہاں ہم نے ہی مانا ہے مسیحائے زماں کو

یہ بات اگر جرم ہے سو بار کریں گے

ہر نسل میں گوندھیں گے وفاداری کا جذبہ

ہر شاخ دعاؤں سے ثمر بار کریں گے

٭…٭…٭

میر انجم پرویز صاحب

مرے دل میں اچانک یہ خلش کیا

کوئی کرنے لگا ہے سرزنش کیا

ہزاروں نفرتیں دل میں بسی ہیں

بنے پھرتے ہو تم صوفی منش کیا

کوئی جوہر ہے دل میں کارفرما

وگرنہ گردش خوں کیا، تپش کیا

٭…٭…٭

محبتوں کا منادی، سفیر امن و سلام

چہار سمت اندھیرے، وہ روشنی کا پیام

ہر اک کو اپنی پڑی ہے تمام عالم میں

مگر ہر ایک کا ہمدرد اک ہمارا امام

جہاں سے کاش کہ جنگ وجدال مٹ جائے

وہ ملک ملک گیا لے کے عدل کا پیغام

٭…٭…٭

مشاعرے کے اختتام پر مہمان خصوصی نےبتایا کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا تو خاکسار کے دادا حضرت مرزا محمد اسماعیل صاحبؓ نے مولویوں کی طرف سےحضرت عیسیٰؑ کے نام ایک پنجابی نظم لکھی جس کا نفس مضمون یہ تھا کہ اے مسیح عیسیٰ! یہاں قادیان میں ایک شخص نے دعویٰ کر دیا ہے جس کا کوئی جواب نہیں دے پا رہا، اس لیے اب تُو جلد آسمان سے اتر تاکہ اس کا فیصلہ ہو جائے۔ یہ نظم آپؓ نے قادیان جا کر حضورؑ کو سنائی تو آپؑ نے فرمایا کہ اب آپ اس کا جواب بھی لکھیں۔ چنانچہ آپؓ نے اس کا جواب بھی لکھا اور وہ بھی حضورؑ کو سنایا تو فرمایا کہ یہ دونوں نظمیں چھپوا دیں۔ مہمان خصوصی نے اس میں سے چند اشعار بھی پیش کیے اور پھر اجتماعی دعا کروائی۔ اس طرح یہ یادگار اور پُروقار محفل رات دس بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔

(رپورٹ: مکرم نور الجمیل نجمی)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جاپان کے ناگویا شہر کے ثقافتی پروگرام میں جماعتی تبلیغ سٹال اور اسلام احمدیت کا تعارف

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button