حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

اصل صبر تو صدمہ کے آغاز کے وقت ہی ہوتا ہے

پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر کرو۔ اس عورت نے کہا: چلو دور ہو اور اپنی راہ لو۔ جو مصیبت مجھ پر آئی ہے وہ تم پر نہیں آئی۔ دراصل اس عورت نے آپ کو پہچانا نہیں تھا (تبھی اس کے منہ سے ایسے گستاخانہ کلمات نکلے) جب اسے بتایا گیا کہ یہ تو رسول اللہ ؐ تھے تو وہ گھبرا کر آپ کے دروازہ پرآئی۔ وہاں کوئی دربان روکنے والا تو تھا نہیں اس لئے سیدھی اندرچلی گئی اور عرض کیا حضور میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا :اصل صبر تو صدمہ کے آغاز کے وقت ہی ہوتا ہے (ورنہ انجام کار تو سب لوگ ہی رو دھو کر صبر کرلیتے ہیں۔ )(صحیح بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب زیارۃ القبور)

ایک بہت ہی اہم نکتہ پانچویں شرط میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ چاہے جو بھی حالات ہوں، تنگی اور تنگ دستی کے دن لمبے ہوتے جارہے ہوں ،دنیاوی لالچیں سامنے نظر آرہی ہیں اور یہ بھی خیال آتا ہے اگر میں فلاں کام کروں اور اس طرف جھکوں تو بڑے فوائد حاصل کرسکتا ہوں۔ دنیاوی قوتیں بھی لالچ دے رہی ہوتی ہیں کہ کوئی بات نہیں۔احمدی ہوتے ہوئے جماعت سے تعلق رکھتے ہوئے بھی تم یہ کام کرلو۔ یہ کاروبار کرلو اس سے تم اپنے حالات بھی بہتر کرلوگے پھرجماعت کی خدمت بھی چندے دے کر کرلوگے۔ تو یہ سب دجالی فتنے ہیں جماعت سے دور کرنے کے، خد اسے دور کرنے کے۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم نے بیعت کی ہے تو پھران چکروں میں نہ پڑو۔ اس دھوکے سے دور رہو۔ خدا سے وفاداری کا نمونہ دکھائو۔ اس کی طرف جھکو تو تم میرے ہو اور تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔ اس بارہ میں آنحضرت ؐ کی بڑی پیاری نصیحت ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبکہ میں آنحضرتؐ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا۔ آپ نے فرمایا اے برخوردار میں تجھے چند باتیں بتاتا ہوں اول یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا خیال رکھ، اللہ تعالیٰ تیرا خیال رکھے گا۔ تو اللہ تعالیٰ پر نگاہ رکھ تو اسے اپنے پاس پائے گا۔ جب کوئی چیز مانگنی ہو تو اللہ تعالیٰ سے مانگ اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر اور سمجھ لے کہ اگر سارے لوگ اکٹھے ہوکر تجھے فائدہ پہنچانا چاہیں تووہ تجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاسکتے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے اور تیری قسمت میں فائدہ لکھ دے۔ اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر اتفاق کرلیں توتجھے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ تیری قسمت میں نقصان لکھ دے۔ قلمیں اٹھا کر رکھ دی گئی ہیں اورصحیفۂ تقدیر خشک ہوچکا ہے۔ (سنن ترمذی۔ کتاب صفۃ القیامۃ۔ باب نمبر ۵۹)

ایک اور روایت میںہے کہ آنحضرت ؐنے فرمایا اللہ تعالیٰ پر نگاہ رکھ تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ کو خوش حالی میں پہچان اللہ تعالیٰ تجھے تنگدستی میں پہچانے گا اور سمجھ لے کہ جو تجھ سے چوک گیا اور تجھ تک نہیں پہنچ سکا وہ تیرے نصیب میں نہیں تھا اور جوتجھے مل گیا ہے وہ تجھے ملے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کیونکہ تقدیر کا لکھا یوں ہی تھا۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے او ر خوشی بے چینی کے ساتھ مل ہوئی ہے اور ہر تنگی کے بعد یسر اور آسانی ہے۔(ریاض الصّالحین للامام النوّوی۔ باب المراقَبۃ۔ حدیث نمبر ۶۲)

آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے حالانکہ، آپ کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کی رضاکے بغیر تھا ہی نہیں،پھر کس درد سے دعا مانگتے تھے۔

روایت ہے کہ محمد بن ابراہیم حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ؐ کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی۔ پھر رات کے حصہ میں میں نے حضور کو وہاں نہ پایا۔ پھر ٹٹولنے پر اچانک میرا ہاتھ حضور کو چھو گیا اور ہاتھ حضور کے قدم مبارک پر لگا جبکہ آپ سجدہ کر رہے تھے اور اس دوران دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری ثنا کا شمار نہیں کرسکتا۔ تو ویسا ہی ہے جیسا خود تو نے اپنی ذات کی ثنابیان فرمائی ہے۔ (سنن ترمذی۔ کتاب الدعوات۔ باب ماجاء فی عقدالتّسبیح بالید)

پھر ایک روایت میں ہے کہ مدینہ کے ایک شخص سے حضرت عبد الوہاب بن ورد روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کی خدمت میں لکھا کہ مجھے تحریراً کوئی نصیحت فرمائیں۔اس پر حضرت عائشہ نے انہیں لکھ کر بھیجا۔ السلام علیکم۔ میں نے رسول اللہ ؐ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں کو ناراض کرکے بھی اللہ کی رضا کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے بالمقابل خود اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور جو شخص لوگوں کی رضا جوئی کی خاطر اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔(سنن ترمذی۔ کتاب الزھد۔ باب ماجاء فی حفظ اللّسان۔ حدیث نمبر ۲۴۱۴)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۹۱ تا ۹۳)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button