حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آغاز ہو گیا ہے۔ مکہ و مدینہ سمیت چند ممالک میں ۱۷؍فروری کی شام کو یکم رمضان کا چاند دیکھا گیا، جبکہ قادیان، ربوہ اور اسلام آباد (یوکے) میں ۱۸؍فروری کو رمضان شروع ہوا۔

٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رمضان المبارک کی آمد پر دنیا بھر کے مسلمانوں کو مبارکباد دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردہ پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ رمضان روحانی تجدید، ہمدردی، عاجزی اور انسانیت کے لیے کوشش کرنے کا وقت ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو اس مقدس مہینے کی خوشیوں اور برکتیں نصیب ہونے کی دعاکی اور مذہبی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی معاشرہ اپنے شہریوں کو آزادانہ طور پر عبادت کرنے کا حق دیتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ رمضان امن اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔

٭…لندن میں ماہِ رمضان کے استقبال کے لیے شہر کو روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ لندن کے مشہور علاقے ویسٹ اینڈ میں رمضان کے آغاز کی خوشی میں روشنیاں اور خصوصی سجاوٹ لگائی گئی، جس میں پیکاڈلی سرکس اور لیسٹر اسکوائر سمیت اہم مقامات شامل ہیں۔ لندن کے میئر صادق خان نے تقریب میں شرکت کی اور رمضان کی خوشیوں اور بھائی چارے کا پیغام دیا، ساتھ ہی مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد بھی دی۔ تقریب میں تیس ہزار سے زائد LED لائٹس شام ۵ بجے سے صبح ۵ بجے تک روشن رہیں گی اور لندن کو امید و اتحاد کی علامت بنایا گیا ہے۔

٭…بلوچستان میں انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جس میں کل چودہ دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ سی ٹی ڈی نے کوئٹہ کے درخشاں علاقے میں آٹھ دہشت گرد اور بارکھان میں چھ کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ حکام کے مطابق یہ ملزمان تخریبی کارروائیوں میں ملوّث تھے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ نے سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی پر تعریف کی اور امن و امان کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔ سیکیورٹی فورسز فرار دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کر رہی ہیں۔

٭…فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے ساٹھ دن میں ہتھیار ڈالنے کے مطالبے اور دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکی کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس کے سینئر راہنما محمود مرداوی نے کہا کہ انہیں اس نوعیت کا کوئی باضابطہ مطالبہ معلوم نہیں اور اسرائیلی سرکاری بیانات مذاکرات کے عمل سے الگ ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے کہا تھا کہ اگر حماس نے ہتھیار نہیں ڈالے تو غزہ میں دوبارہ جنگ شروع کی جائے گی، لیکن حماس نے واضح کیا کہ وہ غزہ کے قبضے کے خاتمے تک ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ رپورٹ میں غزہ میں انسانی بحران اور بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاکتوں کا بھی ذکر ہے۔

٭…جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو گیا ہے۔ مذاکرات میں امریکی پابندیوں کو کم کرنے اور غیر حقیقی مطالبات سے گریز کو مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔ ایرانی عہدے دار نے کہا ہے کہ ایران مثبت اور سنجیدہ موقف کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہے۔ مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور متعلقہ تنازعات کے حل کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھانا ہے۔ دونوں ممالک نے مذاکرات کے اہم اصولوں پر سمجھوتے کی بات کی ہے جس سے مستقبل میں تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔

٭…آٹھ اسلامی ممالک سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی نے اسرائیل کے ایک فیصلے کی سخت مذمت کی ہے جس میں مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو ریاستی اراضی قرار دینے کی منظوری دی گئی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور ۱۹۶۷ء کی حدود کے خلاف ہے اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسلامی ممالک نے اس فیصلے کو غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا اور دو ریاستی حل کے عمل میں رکاوٹ قرار دیا۔ خبر میں مذمت اور عالمی قوانین کے تناظر پر زور دیا گیا ہے۔

٭…امریکہ میں معروف سول رائٹس راہنما ریورنڈ جیسی لوئس جیکسن ۸۴؍سال کی عمر میں انتقال کر گئے، جنہوں نے نسل پرستی، معاشی انصاف اور مذہبی آزادی کے لیے چھ دہائیوں تک جدوجہد کی۔ وہ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قریبی ساتھی تھے اور متعدد ملکی و بین الاقوامی حقوقِ انسانی مہمات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی موت پر عالمی اور امریکی راہنماؤں نے انہیں انسانی حقوق کی علامت قرار دیا۔ اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے بعض ریڈ لائنز پر تہران ابھی تک تیار نہیں، تاہم مذاکرات جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔

٭…امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات میں کچھ معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے، لیکن ریڈ لائنز یعنی سخت حدوں پر بات کرنے کے لیے ایران ابھی تک تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی اوّلین ترجیح یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں اور مذاکرات جاری رکھنے کی امید ظاہر کی ہے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button