مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(ماہ ِمئی و جون ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)(قسط نہم)
اسلام
ماہ ذوالحجہ: عالم اسلام میں موسم حج جاری ہے، امسال مناسک حج کی ادائیگی کے دوران حرم کی سیکیورٹی کا غیرمعمولی انتظام کیا گیا تھا نیز آتش زدگی اور بھگدڑ وغیرہ کا کوئی بڑا واقعہ بھی پیش نہیں آیا تھا۔ بس حجاج کو شدید گرمی کا مسئلہ درپیش رہا۔ سعودی حکام کے مطابق امسال پندرہ لاکھ سے زائد حجاج نے میدانِ عرفات میں وقوف کیا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث آئندہ برسوں میں حج کے دوران گرمی مزید خطرناک ہوسکتی ہے۔گو امسال بھی سعودی حکومت نے ٹھنڈک پہنچانے کے جدید ذرائع، سایہ دار راستوں اور طبی سہولیات کے انتظامات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
نیزمشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران پر مسلّط کی گئی جنگ کے باوجود تقریباً تیس ہزار ایرانی شیعہ حجاج سعودی عرب پہنچے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ سعودی اور ایرانی حکام نے حج کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنے اور حجاج کی سہولت کے لیے باہمی تعاون کو بڑھایا ہے۔
بین المذاہب مکالمہ اور امن عالم : اردن سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو نے مسلمانوں اور عیسائیوں سے اپیل کی کہ وہ دنیا میں بڑھتی ہوئی نفرت، جنگ اور تقسیم کے ماحول کے مقابل پر باہمی تعاون اور انسانیت کی خدمت کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔ گو یہ بیان مسلم۔عیسائی تعلقات کے حوالے سے اہم پیش رفت اور امید افزا بات ہے۔
اسی تسلسل میں دیکھیں تو جماعت احمدیہ کی جانب سے عالمی امن کے لیے کوششیں ہر لحاظ سے زیادہ منظم و مربوط ہیں جیسا کہ حال ہی میں برطانیہ میں منعقدہ نیشنل پیس سمپوزیم میں امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا کہ دنیا تیزی سے ایک تباہ کن عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے اور اگر انصاف اور امن کو ترجیح نہ دی گئی تو اس کے نتائج سابقہ عالمی جنگوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔ اس پیس سمپوزیم کی تفصیلی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں شمارہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۲۳؍مئی ۲۰۲۶ء میں۔
یہودیت
اسرائیل میں عیسائیوں پر مظالم:گذشتہ چند برسوں میں کافی میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں اسرائیل میں آباد یہودی مذہب کے پیروکاروں کی طرف سے مسلمانوں کے بعد عیسائیوں پر بھی مظالم کا پتا چلتا ہے۔
یہ مظالم اس لحاظ سے بھی قابل توجہ ہیں کہ ایک طرف اسرائیل خود کو مذہبی آزادی کا محافظ قرار دیتا ہےمگر مقامی عیسائی کلیسیا کے راہنما، انسانی حقوق کے ادارے اور بعض بین الاقوامی ذرائع بڑھتے ہوئے امتیازی رویوں اور حملوں کی شکایت کر رہے ہیں۔
اس پہلو سے بعض مثالیں دیکھیں تو سامنے آتا ہے کہ عیسائی پادریوں اور راہبات پر حملے ہوئے۔ مثلاً اپریل ۲۰۲۶ءمیں یروشلم میں ایک کیتھولک راہبہ پر دن دہاڑے حملہ کیا گیا۔ عیسائی پادریوں اور راہبوں نے بارہا شکایت کی ہے کہ بعض انتہاپسند یہودی نوجوان اور مذہبی گروہ ان پر تھوکتے ہیں، توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں یا صلیب اور مذہبی لباس کا مذاق اڑاتے ہیں۔
پھر گرجا گھروں اور مسیحی املاک کی بے حرمتی کی بات کی جائے تو عیسائی اداروں نے چرچ کی عمارت پر ٹینک کے گولے گرنے، چرچ کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے لکھنے، مجسموں کو نقصان پہنچانے، قبرستانوں کی بے حرمتی اور بعض مقامات پر آتش زنی کی کوششوں کی شکایت بھی کی گئی ہے۔
گو بظاہر اسرائیلی حکومت اور پولیس عموماً ایسے حملوں کی سرکاری طور پر مذمت کرتی ہیں اور بعض مقدمات میں گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔اور کہنے کی حد تک اسرائیل میں عیسائیوں کو قانونی طور پر عبادت، گرجا گھروں اور مذہبی اداروں کی آزادی حاصل ہے، اور کئی عیسائی راہنما یہ فرق کرتے ہیں کہ تمام اسرائیلی معاشرہ نہیں بلکہ خاص طور پر بعض انتہاپسند عناصر ایسےکام کررہے ہیں۔ لیکن سب اس حقیقت کو نظر انداز کرتے آئے ہیں کہ
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر سب ایسے مہربہ لب تھے کہ
کہ بولے نہیں جیسے اک گنگ و کر
معصوموں پر مسلسل بے رحمی اور نہایت سفاکیت سے مظالم ڈھانے پر کمربستہ اسرائیلی افواج کے تعلق میں مئی ۲۰۲۶ء میں جنوبی لبنان سے خبر آئی جب ایک مسیحی اکثریتی گاؤں دَیبِل میں ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں ایک اسرائیلی فوجی حضرت مریمؑ کے مجسمے کے ساتھ کھڑا تھا اور اس نے مجسمے کے منہ میں سگریٹ رکھا ہوا تھا، جبکہ خود بھی سگریٹ پی رہا تھا۔ عیسائی حلقوں خصوصاً لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کے مسیحیوں نے اسے مذہبی بے حرمتی اور توہین قرار دیا۔ یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ حساس بن گیا کیونکہ اسی گاؤں سے اس سے کچھ عرصہ قبل ایک اور تصویر سامنے آئی تھی جس میں ایک اسرائیلی فوجی حضرت عیسیٰؑ کے صلیبی مجسمے کو ہتھوڑے سے پاش پاش کرتا دکھائی دیا تھا۔ اس وجہ سے اسے محض ایک انفرادی حرکت نہیں بلکہ عیسائی مذہب کے متعلق بڑھتی ہوئی بے ادبی کی مثال قرار دیا گیا۔
عیسائیت
رومن کیتھولک پوپ اور مصنوعی ذہانت : پوپ لیو نے اپنی پہلی بڑی رسمی دستاویز (Encyclical) میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات پر غیر معمولی شدت کے ساتھ تنبیہ کی ہے۔پوپ نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی کی ترقی کو محض تجارتی یا عسکری دوڑ کا حصہ نہ بننے دیا جائے بلکہ اس پر سخت نگرانی اور مؤثر ضابطے نافذ کیے جائیں۔ کیونکہ یہ جدید ٹیکنالوجی غلط معلومات اور پراپیگنڈے کو غیر معمولی رفتار سے پھیلا سکتی ہے۔نیز سوشل میڈیا کے جدید الگورتھم اکثر تنازع، نفرت اور اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں کیونکہ اس سے زیادہ توجہ حاصل ہوتی ہے اوراگر مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں اور جنگی منصوبوں میں اسی طرح بےلگام استعمال کیا گیا تو دنیاایک نہ ختم ہونے والی مسلسل جنگ کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اس تناظر میں امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بارہا یہ توجہ دلا چکے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی اگر اخلاقی اور روحانی اقدار سے جدا ہو جائیں تو انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
جبری غلامی کی مذمت : مقدم الذکر موقع پر پوپ صاحب نے غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی تسلیم کیا کہ کیتھولک چرچ نے بحرِاوقیانوس کے پار غلامی (Transatlantic Slavery) کی بھرپور مذمت بہت دیر سے کی، اور اس بابت معذرت کا اظہار کیا کہ کس طرح براعظم افریقہ سے آزاد لوگوں کو جبرا ًغلام بنا کر جہازوں میں بے رحمی سے بھر کر نئی زمین یعنی امریکہ لایا گیا ، انتہائی ظالمانہ سلوک کیا گیااور جبری مشقت لی گئی۔
دجال کا انتظار:مسلمان معاشروں میں دجال معہود کا آج بھی ظاہری شکل میں انتظار جاری ہےجبکہ ہم تیرھویں اور چودہویں صدی پار کرکے ۱۴۴۷ ہجری میں جی رہے ہیں۔ احادیث ، تفاسیر اور روایات میں آخری زمانہ کے متعلق بہت سی نشانیاں اور پیش خبریاں موجود ہیں۔ مثلاً دجال کے متعلق ہے کہ اس کے پاس بظاہرجنت اور جہنم ہوں گے، وہ لوگوں کے معاشی وسائل پر اثر انداز ہوگا، وہ ایک قوم کو تو اپنے مفاد کے لیے روٹیوں کے پہاڑ دان کردے گا،تو کسی دوسری قوم کو قحط و تنگی میں مبتلا کرسکے گا۔
گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء متعدد مواقع پر ان روایات کی بہت صراحت سے تشریح کرچکے ہیں کہ دجال محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک بہت بڑا اور وسیع سیاسی، معاشی، عسکری اور فکری نظام ہے جو دنیا کے وسائل پر غیر معمولی غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔
اس تناظر میں آج ہمارے سامنے امریکہ کے قریب واقع ایک چھوٹے سے ملک کیوبا کی مثال ہے۔ جہاں امریکہ کی طویل بحری ناکہ بندی کی وجہ سے توانائی اور خوراک کی قلت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
خدا جانے یہ سادہ لوح مسلمان کس دجال کا انتظار کررہے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ایک طاقتور ملک اور اس کے بنائے ہوئے عالمی نظام کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ علی الاعلان کسی ملک پر معاشی پابندیاں عائد کرے،اس کی توانائی، تجارت یا بینکاری تک رسائی محدود کر دے، اور اس کے نتیجے میں کروڑوں لوگ بجلی، ایندھن اور بنیادی ضروریات سے محروم ہو جائیں۔
مذہب کا استعمال:امریکہ میں ۱۷؍مئی کو ’’Rededicate 250: National Jubilee of Prayer, Praise & Thanksgiving‘‘ کے نام سے ایک بڑا مذہبی اجتماع منعقد ہوا، جسےٹرمپ انتظامیہ کی حمایت حاصل تھی۔
یہ تقریب امریکہ کی ۲۵۰ ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے کی پہلی بڑی تقریب تھی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور پروگرام میں انجیل کے پیروکار عیسائی راہنماؤں، قدامت پسند کیتھولک شخصیات اور ریپبلکن سیاست دانوں کی شرکت نمایاں رہی۔ امریکہ کے نائب صدر، وزیر خارجہ اور دیگر حکام کے پیغامات بھی پیش کیے گئے۔
جبکہ ناقدین نے اعتراض کیا کہ اس تقریب میں امریکہ کے متنوّع مذہبی منظرنامے کی مناسب نمائندگی نہیں تھی۔ کیونکہ مسلمانوں، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں، ہندوؤں، بہت سے قابل ذکر پروٹسٹنٹ فرقوں اور مذہب سے غیر وابستہ افراد کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔
دراصل امریکہ میں جاری ایک گہری فکری کشمکش طشت ازبام ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ کی بنیادی طور پر یہودی-عیسائی (Judeo-Christian) مذہبی اقدار پربنیاد رکھی گئی تھیں، اس لیے قومی زندگی میں مذہب، خصوصاً عیسائیت کا نمایاں کردار ہونا چاہیے۔
دوسری طرف بہت سے امریکی دانشور، مذہبی اقلیتیں اور سیکولر حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدید امریکہ صرف عیسائیوں کا ملک نہیں بلکہ مختلف مذاہب اور نظریات رکھنے والے لوگوں کا مشترکہ وطن ہے۔ ان کے نزدیک اگر ریاست کسی ایک مذہبی مکتبہ فکر یا فرقے کے زیادہ قریب نظر آئے تو یہ مذہبی آزادی اور مساوات کے اصولوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مغرب میں کئی دہائیوں تک مذہب کے اثر و رسوخ کے کم ہونے کی بات کی جاتی رہی، لیکن اب امریکہ اور یورپ کے بعض حصوں میں مذہبی شناخت ہی سیاسی اور سماجی طاقت کے حصول کے ذریعہ کے طور پر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کو
بات جو دل سے نکلتی ہے بری لگتی ہے
(اواب سعد حیات)
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(ماہ مئی ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)(قسط ہشتم)




