متفرق

اَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ

واقفین نو بچوں کی تربیت کے لیے ضروری نصیحت

ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’ایک بہت ضروری بات جو اس حوالے سے میں کہنا چاہتا ہوں وہ واقفین نو بچوں کے متعلق ہے۔ اکثر والدین کا خیال ہے کہ واقفین نو بچوں کو بچپن میں کچھ نہیں کہنا۔ وہ جو چاہے کرتے رہیں بڑے ہو کر خود ٹھیک ہو جائیں گے۔ یہ بڑی غلط سوچ ہے۔ آپ نے جب اپنے بچوں کو وقف کیا ہے تو اس دعا کے ساتھ کہ اے اللہ جو بچہ پیدا ہونے والا ہے اسے میں تیرے دین کی خاطر وقف کرتی ہوں۔ یہ دعا اوریہ اظہار خود اس بات کا متقاضی ہے کہ بچے کی تربیت کے لئے زیادہ کوشش کی ضرورت ہے اور اس تربیت کو کامیاب کرنے کے لئے زیادہ دعا کی ضرورت ہے۔ پس وقف نو بچوں کی تو خاص طور پر بچپن سے دینی تربیت کرنے کی ضرورت ہے، اخلاقی تربیت کرنے کی ضرور ت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ بڑے ہو کر وہ دوسروں کی نسبت زیادہ ممتاز ہو کر ابھریں اور دنیاوی دلچسپیاں انہیں اپنی طرف نہ کھینچیں۔ ان کے اخلاق کے معیار دوسروں سے بلند ہوں نہ یہ کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ بدتمیزی کر رہے ہوں۔بچے اگر کسی کے گھر جائیں تو گھر والوں کے ناک میں دم کیا ہو۔ بعض مائیں کہہ دیتی ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ واقف نو بچوں کو کچھ نہیں کہنا ان میں اعتماد پیدا کریں۔ ان کا کہنے کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں بدتمیز بنا دیں۔ تین چار سال کی عمر سے ہی بچے کو پیار سے تربیت کی ضرورت ہے۔ بلا وجہ کی ڈانٹ ڈپٹ جو بعض مائیں اور باپ کرتے ہیں اور ان کو عادت ہوتی ہے اس سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے روکا تھا کہ اس طرح نہ کیا کریں اور یہ ہر بچے کے لئے ضروری ہے چاہے وہ واقف نو ہے یا نہیں۔‘‘

(جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۱۸ء کے موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا مستورات سے خطاب)

(مرسلہ:قدسیہ محمود سردار۔ کینیڈا)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button