مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگی صورت حال کے تناظر میںامّت مسلمہ کو زرّیں نصائح نیز دعاؤں کی تحریک۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۶؍مارچ ۲۰۲۶ء
٭… مسلمانوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ بحیثیت ملت اسلامیہ ہم نے ایک ہونا ہے اور اس کے لیے ہم نے بھرپور کوشش کرنی ہے۔ اگر ایسا ہوگا تو تب ہی ہم دنیا کے حملوں سے بچ سکیں گے، تب ہی ہم اپنا وقار قائم کرسکیں گے اور اسلام مخالف طاقتوں کو اپنے اندر پھاڑ ڈالنےسے روک سکیں گے
٭… ہمارا کام یہ ہے کہ آج دعا کے ذریعے خدا کے آگے جھکیں اور مسلم دنیا کے لیے بہت دعا کریں
٭… یہ بدامنی ان ہی عالمی طاقتوں کی پھیلائی ہوئی ہے اور بظاہر اس کے رکنے کا امکان نظر نہیں آتا۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی خاص تقدیر ہو۔ اس کے لیےبھی انہیں بہرحال کوشش کرنی ہوگی اور ہمیں اس کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے
٭… قرآن کریم نے مسلمانوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرادو۔ پھر اگر صلح ہوجانے کے بعد ان میں سے کوئی دوسرے پر چڑھائی کرے تو چڑھائی کرنے والے کے خلاف سب مل کر جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے اور جب وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان لڑنے والوں میں صلح کرادو۔
٭… ہمارا کام تو یہی ہے کہ دعا کریں اور رمضان میں صرف اپنی ذاتی ضروریات کے لیے دعا نہ کریں بلکہ امت مسلمہ کے لیے اور دنیا کے امن کےلیے دعا کریں۔
٭… محترمہ صاحبزادی امة الجمیل صاحبہ دختر حضرت مصلح موعودؓ، مکرم ڈاکٹر رشیداحمد خان صاحب آف ہالینڈ نیز مکرمہ زینب بی بی صاحبہ کی وفات پر ان کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۶؍مارچ ۲۰۲۶ء بمطابق ۶؍امان ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۶؍مارچ ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
آنحضرتﷺ جو پیغام لائے اس کا مقصد خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لانا، اس کی عبادت کرنا، اس کی توحید کا قیام اور اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے کوشش کرنا ہے۔
پھر ایک امت واحدہ بن کر آپس میں بھائی بھائی بن کر رہنا ہے۔ مگر آج اس دعوے کے باوجود کہ ہم کلمہ گو ہیں، ہم ایک اکائی نہیں ہیں۔ ہمارے اعمال وہ نہیں ہیں جس تعلیم کا ہم دعویٰ کرتے ہیں۔ نتیجۃً جب ہم اسلامی دنیا کا جائزہ لیں تو انتہائی قابل فکر حالت ہے۔ بعض ممالک کے پاس قدرتی وسائل اور اس کی دولت ہے مگر اس کے باوجود دنیا کی طاقتوں کے سامنے ان کا کوئی خاص مقام ہے اور نہ دین کی ترقی کے لیے ان کا کوئی خاص کردار ہے، نہ ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے ان کی کوئی خاص کوشش نظر آتی ہے۔ اس کا نتیجہ بالکل ظاہر ہےکہ غیر اس صورت حال سےفائدہ اٹھاتے ہیں۔
مسلمانوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ بحیثیت ملت اسلامیہ ہم نے ایک ہونا ہے اور اس کے لیے ہم نے بھرپور کوشش کرنی ہے۔ اگر ایسا ہوگا تو تب ہی ہم دنیا کے حملوں سے بچ سکیں گے، تب ہی ہم اپنا وقار قائم کرسکیں گے اور اسلام مخالف طاقتوں کو اپنے اندر پھاڑ ڈالنےسے روک سکیں گے۔
اس کے لیے ہمیں یہ غور کرنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اس کے لیے کیا انتظام فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے مسیح موعوداور مہدی معہود کو مبعوث فرمایا ہے۔
دنیا کے حالات کے بارے میں مَیں ایک عرصے سے یہ کہہ رہا ہوں کہ یورپ کے ممالک تو حالات کی ابتری کی وجہ بنیں گے ہی مگر اسلامی ممالک بھی اس فساد میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
مغربی طاقتوں نے پہلے اسلامی ممالک کو آپس میں لڑایا اور اب ان کے وسائل پر قابض ہونے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ دجالی طاقتیں کبھی بھی ہم مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق سے رہتا نہیں دیکھ سکتیں۔ ان کا اصل ایجنڈا ہی یہی ہے کہ مسلمانوں میں ہمیشہ فساد پیدا کیا جاتا رہے۔
ہمارا کام یہ ہے کہ آج دعا کے ذریعے خدا کے آگے جھکیں اور مسلم دنیا کے لیے بہت دعا کریں۔
امریکہ نے بہت سارے اسلامی ممالک میں اپنے فوجی اڈے قائم کیے ہوئے ہیں، مگر کس لیے؟ کیا ان ممالک کی حفاظت کے لیے؟ آخر ان عرب ممالک کو کس سے خطرہ تھا؟ ان طاقتوں نے خود خطرات پیدا کیے اور پھر مسلمان ممالک کو یہ تاثر دیا کہ تمہیں خطرہ ہے اس لیے تمہاری حفاظت کے لیے یہ انتظام کیا جارہا ہے۔ مسلمان ممالک کو جس سے اصل خطرہ ہے اس کے خلاف تو یہ فوجی اڈے کبھی استعمال بھی نہیں کریں گے۔
ایران تو ہمیشہ ہی ان ممالک کو کھٹکتا رہتا تھا۔ اسرائیل کے خلاف ایران کی پالیسی زیادہ سخت تھی، دیگر اسلامی ممالک سے عقائد کا اختلاف بھی تھا۔ اس سب کا ان عالمی طاقتوں نے فائدہ اٹھایااور اپنی موجودگی اس خطے میں یقینی بنالی۔ ان اڈوں کی وجہ سے ہی عرب ممالک پر حملوں کا خطرہ تو تھا اور حملہ ہوا اور ان حملوں سے عرب ممالک کی معیشت تباہ ہوئی۔ اس صورت حال کا فائدہ ان عالمی طاقتوں کوہی ہوا اور آئندہ بھی ہوگا۔
حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒنے عراق جنگ کے دوران یہ فرمایا تھا کہ یہ فساد اب بڑھتا جائے گا۔ کاش! مسلمان ممالک اس سے سبق سیکھتے۔
یہ بدامنی ان ہی عالمی طاقتوں کی پھیلائی ہوئی ہے اور بظاہر اس کے رکنے کا امکان نظر نہیں آتا۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی خاص تقدیر ہو۔ اس کے لیےبھی انہیں بہرحال کوشش کرنی ہوگی اور ہمیں اس کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے۔
یہ ظلم جس طرح روز بروز بڑھتا جارہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگ عظیم ہونی ہے۔ بلکہ
بعض مغربی تبصرہ نگاروں کے مطابق تو جنگ عظیم شروع ہوچکی ہے۔ مَیں بھی یہی کہتا ہوں کہ شروع ہوچکی ہے۔ لیکن اب بھی اگر مسلمان دنیا عقل سے کام لے تو یہ اب بھی دجال کے فتنے سے محفوظ رہ سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جو جنگ ہو رہی ہےکہنے کو تو یہ امریکہ نے ایران پر حملہ کرکے شروع کی ہے، مگرایران نے پہلے تنبیہ کی تھی کہ اگرہم پر حملہ ہوا تو عرب ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔یہ رجیم چینج کا نعرہ لگاتے تھے مگر کیا حاصل ہوا؟ خامنہ ای صاحب کو تو شہادت کا مقام مل گیا اور ان کی عزت اور بڑھ گئی، ان کے پورے خاندان کو مارا گیا تو اس سے رجیم چینج کیا ہونی تھی،ان کی قوم مزید متحد ہوگئی۔
مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں دفاعی طاقت نہیں ہے، ان کا مکمل انحصار مغربی طاقتوں پر ہے۔ یہ جنگ اب خوفناک صورت اختیار کرچکی ہے۔
عرب طاقتوں کو جہاں ایک طرف تیل کے کنویں بند ہونے سے نقصان ہو رہا ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہےوہیں انہیں اس جنگ میں امریکی دفاعی سہولت حاصل کرنے کا خرچ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ اس سب سے عرب دنیا کی معیشت کو بہت نقصان پہنچے گا۔
امریکی صدر گذشتہ امریکی حکومتوں کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں۔ یہ ان کی آج کی پالیسی نہیں بلکہ مدت سے یہی پالیسی ہے کہ جہاں دل چاہے اس خطے کے وسائل پر قبضہ کرو اس کا جواز کچھ بھی پیش کردو کہ یہ وجہ ہوئی وہ وجہ ہوئی۔ جو ملک ان کےساتھ شامل نہ ہو اس کے خلاف دھونس اور دھمکی سے کام لیا جاتا ہے۔
جہاں انصاف نہ ہووہاں پھر تباہی آتی ہے۔ ان طاقتوں نے سینکڑوں بچے اور معصوموں کو مار دیا یہ کیسی جنگ ہے جس میں بچوں کے سکول پر بمباری کی جارہی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اسلام توحید کے قیام کے لیے آیا تھااور اسی مقصد لیے مسلمان ممالک کو کوشش کرنی چاہیے اور متحد ہونا چاہیے۔ ان طاقتور ممالک کو اپنا خدا نہ سمجھیں ورنہ یہ ممالک ایک ایک کرکے تمام اسلامی ممالک اور ان کے وسائل پر قبضہ کرلیں گے۔
قرآن کریم نے مسلمانوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرادو۔ پھر اگر صلح ہوجانے کے بعد ان میں سے کوئی دوسرے پر چڑھائی کرے تو چڑھائی کرنے والے کے خلاف سب مل کر جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے اور جب وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان لڑنے والوں میں صلح کرادو۔
یہ وہ حکم ہے جو دنیا کے امن کے لیے بھی ضروری ہے اور مسلمانوں کے لیے تو اس کی اہمیت اور زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ ہدایت فرمائی ہے۔ صلح کراتے ہوئے اپنے ذاتی فائدے نہیں دیکھنے بلکہ اصل مسئلے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ پاکستان اور دیگر بعض ممالک بشمول چین وغیرہ نے صلح کرانے کے لیے پیشکش کی ہے ایران سمیت ان عرب ممالک کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔
ہمارا کام تو یہی ہے کہ دعا کریں اور رمضان میں صرف اپنی ذاتی ضروریات کے لیے دعا نہ کریں بلکہ امت مسلمہ کے لیے اور دنیا کے امن کےلیے دعا کریں۔
خطبے کے دوسرے حصے میں حضورانور نے درج ذیل
مرحومین کا ذکر خیر فرمایا اور نماز جنازہ غائب
پڑھانے کاارشاد فرمایا:
۱۔ محترمہ صاحبزادی امة الجمیل صاحبہ۔ جو حضرت مصلح موعودؓکی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اور ناصر محمود سیال صاحب کی اہلیہ تھیں۔ حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحبؓ کی بہو تھیں۔ حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ امّ طاہر کی بیٹی تھیں۔ حضرت مصلح موعودؓ کے بچوں میں بھی سب سے چھوٹی تھیں۔ ۱۹۵۵ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے ان کا نکاح پڑھایا تھا۔ ان کے چار بچے ہیں ۔ مرحومہ غریب پرور، دعاگو، نیک بزرگ خاتون تھیں۔
۲۔ مکرم ڈاکٹر رشیداحمد خان صاحب آف ہالینڈ ابن مکرم نظام الدین صاحب جو گذشتہ دنوں ۹۱؍سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کےچاربیٹے اورچار بیٹیاں ہیں۔ مرحوم نیک فطرت، نڈر، خدا ترس، ملنسار، صِلہ رحمی کرنے والے، خلافت کے شیدائی، قربانی کےلیے تیار رہنے والے بزرگ تھے۔ مرحوم کو فرقان فورس میں شامل ہونے کی بھی توفیق ملی۔ مرحوم کو تبلیغ کا بھی بڑا شوق تھا۔
۳۔ مکرمہ زینب بی بی صاحبہ اہلیہ بشیر احمد صاحب مرحوم سابق صدر جماعت ۲۷۵ چک کرتارپور ۔ مرحومہ گذشتہ دنوں ۸۵؍سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ مرحومہ تہجد گزار، دعاگو، قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی نیک فطرت خاتون تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ کئی پوتے پوتیاں واقف زندگی ہیں۔ ان کی بیٹی مبلغ سلسلہ کی اہلیہ ہیں اور اپنی والدہ کے جنازے میں شامل نہیں ہوسکیں۔
حضورانور نے تمام مرحومین کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔
٭…٭…٭



