حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اِسلام کے لیے خدمات(قسط اوّل)
میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصحیتاً کہتا ہوں کہ اسلام کے لیے جاگو کہ اسلام سخت فتنے میں پڑا ہے اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اسی لیے آیا ہوں
ارشاد باری تعالیٰ ہے: یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ الۡمَلِکِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ۔ ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ۔ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ۔ (الجمعہ: ۲تا۵) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ اِس (اللہ) کی جو بادشاہ بھی ہے اور پاک (بھی ہے اور سب خوبیوں کا جامع) ہے۔ اور غالب (اور) حکمت والا ہے۔ وہی خدا ہے جس نے ایک اَن پڑھ قوم کی طرف انہی میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا جو اِن کو خُدا کے احکام سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو وہ اس سے پہلے بڑی بھول میں تھے اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی (وہ اسے بھیجے گا) جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
ایک اَور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۔ (النور : ۵۶)اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا۔ جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنادیا تھا اور جو دین اس نے ان کے لیے پسند کیا وہ ان کے لیے اسے مضبوطی سے قائم کردے گا اور ان کے خوف کے حالت کے بعدوہ ان کے لیے امن کی حالت تبدیل کردے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے اور جو لوگ اس کے بعد بھی انکار کریں گے وہ نافرمانوں میں سے قرار دیئے جائیں گے۔
احادیث شریف: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ جب آپؐ نے اس آیت وَاٰخَرِیۡنَ… پڑھی جس کے معنے یہ ہیں کہ کچھ بعد میں آنے والے لوگ بھی اِن صحابہؓ میں شامل ہوں گے جو ابھی تک ان کے ساتھ نہیں ملے تو ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہﷺ! یہ کون لوگ ہیں جو درجہ تو صحابہؓ کا رکھتے ہیں لیکن ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔ حضورؐ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس آدمی نے تین دفعہ یہی سوال دہرایا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی ہم میں بیٹھے تھے۔ آنحضرتﷺ نے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھااور فرمایا کہ ایمان اگر ثریا کے پاس بھی پہنچ گیا یعنی زمین سے اٹھ گیا تو اِ ن لوگوں میں سے کچھ لوگ اِس کو واپس لے آئیں گے (یعنی آخرین سے مراد ابنائے فارس ہیں جس میں سے مسیح موعود ہوں گے اور ان پر ایمان لانے والے صحابہؓ کا درجہ پائیں گے۔
حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ مہدی کا مجھ سے قریبی تعلق ہوگا۔ اس کی پیشانی روشن اور ناک بلند ہوگی (یعنی کشادہ پیشانی کھڑی ناک والا ہوگا) وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ جس طرح کہ وہ اس سے پہلے ظلم و تعدی سے اٹی پڑی تھی۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: اے مسلمانو!تم کس قدر خوش قسمت ہوگے اس وقت تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور تم میں سے تمہارا امام ہوگا۔۲۔ کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا۔ قریب ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کرے اس حال میں کہ امام مہدی اور حکم اور عدل ہوں گے وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔
اِسی طرح محمد بن خالد الجندی سے روایات ہے یعنی عیسیٰ ابن مریم کے سوا کوئی مہدی نہیں۔
نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ اے مسلمانو۔ جب تمہیں اِس کا علم ہوجائے تو فوراً اس کی بیعت کرو۔ خواہ تمہیں برف پر سے گھٹنوں کے بل جانا پڑے۔ کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہوگا۔ (ہفت روزہ بدر قادیان۔تقاریر جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۹ءمسیح موعود نمبر۔مسیح موعود اور خدمت اسلام ۱۳/ ۹۔ ۴؍مارچ۲۰۰۰ءاز مولانا محمد کریم الدین شاہد۔ صفحہ نمبر۸)
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ انبیاء اس قوم میں سے مبعوث کرتا رہا ہے جس کی ترقی اور کامیابی دنیاوی لحاظ سے ناممکن نظر آتی ہے کون کہہ سکتا تھا کہ حضرت موسی علیہ السلام کے ہم قوم مصر کے فرعونوں کے ساتھ ٹکرا سکیں گے مگر اس قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم پر عمل کرکے اس میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس سنت قدسیہ کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسلمانوں میں نازل فرمایا تاکہ مسلمانوں کو نئے سرے سے زندگی ملے اور وہ پستی میں گرے سمندر سے نکل کر بلندیوں کو چھو سکیں اور یہ تبھی ہو سکتا تھا کہ مسلمان حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے نبی پاکﷺ کے احکامات پر عمل کریں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا زمانہ مسلمانوں کے لیے زوال کا زمانہ تھا گویا مسلمانوں کی ترقی کرنا خشکی پر کشتی چلانے یا سمندر میں گھوڑے دوڑانے کے مترادف تھا۔ اس وقت مسلمان حد درجہ کی مذہبی اور سیاسی پستی میں مبتلا ہوچکے تھے اور بظاہر ان کے دوبارہ سراٹھانے کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلا م کو غلبہ حاصل ہوا۔ روزنامہ الفضل قادیان صفحہ نمبر۵)
اس زمانے میں پیارے نبیﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اسلام کاصرف نام اور قرآن کے صرف الفاظ رہ جائیں گے۔ مسجدیں بظاہر آباد نظر آئیں گی لیکن درحقیقت ہدایت سے خالی اور ویران ہوں گی۔ ان بگڑے ہوئے مسلمانوں کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ ان علماء ہی سے فتنہ نکلے گا اور انہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ چنانچہ انیسویں صدی عیسوی میں مسلمان اسلامی تعلیمات سےاس قدر دور جا پڑے کہ آنحضرتﷺ کی مذکورہ پیشگوئی حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ اس صدی میں ایک طرف مسلمانوں کی مادی اور سیاسی قوت میں بتدریج انحطاط اور زوال واقع ہورہا تھا۔ ان کی دینی و اخلاقی حالت انتہائی درجہ تک گر چکی تھی تو دوسری طرف اسلام دشمن طاقتیں اسلام کو مٹانے اور اس کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں۔ عیسائی مناد پوری دنیا کو عیسائیت کے زیر نگیں لانے کے لیے انتھک کوشش کررہے تھے۔ خصوصاً عیسائی پادری اور بشپ خاص خانہ کعبہ پر صلیب کی چمکار دیکھنے کے خواب دیکھ رہے تھے اور ان کا یہ خواب پورا ہوتا ہو ابھی دکھائی دے رہا تھا کیونکہ صرف ہندوستان کے ہی طول و عرض میں لاکھوں فرزندان اسلام، اسلام کو خیرباد کہہ کر عیسائیت کی آغوش میں جارہے تھے۔ جگہ جگہ بائبل سوسائٹیاں قائم کی گئیں اور اسلام اور بانی اسلام کے خلاف صد ہا کتابیں شائع کی گئیں اور کروڑ ہا کی تعداد میں مفت پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ میزان الحق اور امہات المومنین جیسی گمراہ کن تحریرات کے ذریعہ اسلام اور بانی اسلام کے تابناک چہرے کو بدنما کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف لاکھوں دیوی دیوتاؤں کے پجاری، خدا ئےواحد و یگانہ کی پرستش کرنے والوں پراپنے ناپاک حملہ کرنے میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔ آریہ سماج اور برہمو سماج جیسی تحریکیں اپنے شباب پر تھیں اور انہوں نے اسلام کو اپنے اعتراضات کا نشانہ بنایا ہوا تھا گویا اسلام دشمنوں کے نرغے میں گھر کر رہ گیا تھا۔ ان سب تحریکوں کا مقصد اسلام کو کچل ڈالنا اور قرآن مجید اور بانی اسلامؐ کی صداقت کو دنیا کی نگاہوں میں مشتبہ کرنا تھا۔ مسلمان علماء اور عوام الناس ان حملوں کے سامنے بالکل بےبس تھے۔ آریہ سماج ویدوں کے بعد کسی الہام الٰہی کے قائل نہ تھے اور برہموسماج سرے سے ہی الہام الٰہی کے منکر تھے اور مجرد عقل کو اپنی حصول نجات کے لیے کافی خیال کرتے تھے۔ تعلیم یافتہ مسلمان یورپ کے گمراہ کن فلسفہ سے متاثر ہوکر اور عیسائی ملکوں کو ظاہری اور مادی ترقی دیکھ کر الہام الٰہی کے منکر ہورہے تھے اور علماء کا گروہ تو آپس میں تکفیر بازی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ یا معمولی نوعیت کے مسائل میں الجھا ہواتھا۔
غرض یہ ایسا زمانہ تھا کہ ہندو اور عیسائی دونوں مل کر اسلام کا نام مٹانے کے درپے نظر آنے لگے۔
رہا دین باقی نہ اسلام باقی
فقط اسلام کا رہ گیا نام باقی
ہندوؤں نے اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط تنظیم بنا کر اس عزم کے ساتھ کام شروع کیاہوا تھا کہ تمام ہندوستان کے مسلمانوں کو مرتد کرکے ہندو بنایا جائے۔ چنانچہ اس قوم نے اسلام اور مقدس پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہزاروں گندے اعتراض جمع کرکے پورے ملک کے قریہ قریہ میں پھیلا دیے…۔ برہموسماج کے حامیوں نے ملک کے جرائد و رسائل میں دین اسلام کے چند مضامین شائع کرکے قلعہ اسلا م پرحملہ شروع کررکھے تھے۔ گویا اسلام اور مسلمانوں پر کفار کی عام یلغار کایہ زمانہ تھا۔ دوسری طرف عیسائی قوم یعنی انگریز کی ملک ہند میں مستحکم حکومت قائم ہوچکی تھی۔ پورے ہندوستان میں عیسائی تنظیموں نے جنہیں حکومتِ وقت کی پشت پناہی کے علاوہ یورپ، امریکہ کی عیسائی دنیا کی دولت بھی حاصل تھی بڑے منتظم طریق پر فعال تبلیغی مراکز کے ذریعہ پورے ملک میں قائم تھے۔ غیر قوموں بالخصوص مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی موثر مہم چلا رکھی تھی۔ کروڑوں روپے کے اناجیل و دیگر عیسائی لٹریچر متعدد زبانوں میں چھپوا کر جگہ جگہ تقسیم کیا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں ہزاروں پادری زبانی تبلیغ بھی کررہے تھے۔ اس طرح کھلے عام عیسائی مسلمانوں سے مناظرے بھی کرتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں مسلمان عیسائی بن گئے۔ (ماخوذ از ہفت روزہ بدر قادیان ۱۹-۱۵؍مارچ۲۰۱۵ءسیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اسلامی خدمات۔سہیل احمد مبلغ سلسلہ ہریانہ،صفحہ نمبر ۵۱)
اسلام کے اس پُرآشوب زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے اور پیشگوئیوں کے عین مطابق احیائے اسلام کے لیے قادیان کی مقدس بستی میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح مہدی اور امام مہدی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ کی پیدائش توام ہوئی۔ آپ کے ساتھ آپ کی ایک بہن بھی پیدا ہوئی جو جلد ہی فوت گئی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم کےلیے آپ کے والد صاحب نے جن استاد سے آپ کو قرآن مجید اور ابتدائی تعلیم دلائی ان کے نام میں ’فضل‘ آتا تھا۔ اور پھرایک شیعہ عالم گل علی شاہ صاحب کو تعلیم کےلیے مقرر فرمایا۔ جن سے آپ نے فارسی کی ابتدائی صرف ونحو اور عربی کی تعلیم حاصل کی اور اپنے والد صاحب سے جو علاقے کے مشہور طبیب حاذق تھے طب کی تعلیم جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کی۔ مگر ان علوم میں حصولِ کمال کی طرف آپ کی طبیعت راغب نہ ہوئی اس لیے کہ آپؑ روحانیت کی طرف طبیعت کا میلان رکھتے تھے اور قرآن مجید کے حقائق اور معارف و دقائق، نکات کی معرفت کی طرف دلی رغبت رکھتے تھے اور آپ کے دل میں قرآن کریم کا عشق موجزن تھا۔ (ماخوذ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خدمت اسلام۔مولانا حکیم محمد دین صاحب سابق ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ قادیان۔ تقریر جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۷۷ء۔ہفت روزہ قادیان مسیح موعود نمبر ۱۸،۱۱؍ مارچ ۱۹۹۹ءصفحہ ۱۱)
آپ جوانی میں خلوت نشینی اختیار کر لی۔ سارا سار ادن مسجد میں بیٹھ کر قرآن کریم پڑھتے اور اس کے حاشیے پر نوٹ لکھتے رہتے اور اسلام اور مسلمانوں کی خستہ حالی کو دیکھ کر دن رات مضطرب اور بے چین ہوجاتے، غیرت رسول کا بےپناہ جذبہ شروع سے ہی ایسا موجزن تھا کہ سولہ، سترہ سال کی عمر سے عیسائیوں کے اعتراضات جمع کرنے کی مہم شروع کردی۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ اوائل ہی سے خانہ خدا میرے مکان، صالحین میرے بھائی اور ذکر الٰہی میری دولت اور خلق خدا پر خاندان رہا ہے۔ ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۷ء تک آپؑ سیالکوٹ میں بسلسلہ ملازمت قیام فرمایا۔ (مسیح موعود اور خدمت اسلام از مولانا محمد کریم الدین صاحب شاہدایڈیشنل ناظم وقف جدید بیرون قادیان۔ہفت روزہ بدر قادیان،مسیح موعود نمبر۱۳؍مارچ۲۰۲۰ءصفحہ ۲۰)
وقت تھا وقتِ مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا
آپؑ کے دل میں اسلام سے عشق اور محبت کا جذبہ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھر اہوا تھا کہ آپؑ نے اس کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے بہت سے سفر بھی اختیار کیے۔ آپ نے اس غرض کے لیے لاہور، سیالکوٹ، کپورتھلہ، جالندھر، فیروز پور، لدھیانہ، دہلی وغیرہ کے سفر اختیار کیے اور حق کی آواز پنجاب بلکہ ملک کے کونہ کونہ تک پہنچا دی۔ امرتسر میں عیسائیوں سے ایک فیصلہ کن مباحثہ کیا جس کی باز گشت انگلستان میں سنائی دی۔ چنانچہ لارڈ بشپ نے پادریوں کی کانفرنس میں اس خطرے کا اظہار کیا کہ اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں اور ہندوستا ن میں برطانوی مملکت میں محمدؐ کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جارہی ہے۔
ادیانِ عالم پر اسلام کی عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ برتری ثابت کرنا اور اسے زندہ کامل اور مکمل مذہب کے طور پر پیش کرنا آپ کی زندگی کا مقصد تھا اور آپ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک چومکھی لڑائی میں مصروف تھے۔ (ماخوذ از حضور کا اسلام سے عشق و محبت اور جوش تبلیغ روایات کی روشنی میں۔نصیر احمد عارف نظارت اصلاح وارشاد مرکزیہ قادیان ہفت روزہ بدر قادیان۔ ۲۲تا۲۹؍دسمبر۲۰۱۶ء)
ایسے پُرفتن اور پُرآشوب دور میں منشائے ایزدی اور ارادۂ الٰہی سے خدمت اسلام کے لیے آپ کا انتخاب ہوا اور آپ علیہ السلام نے اسلام کے دفاع کے لیے نہایت محنت اور عرق ریزی سے چار حصوں پر مشتمل ایک عظیم الشان اور انقلاب آفریں کتاب براہین تصنیف فرمائی۔ پہلے دو حصوں کی اشاعت ۱۸۸۰ء میں ہوئی۔ تیسرے حصے کی ۱۸۸۲ء میں اور چوتھے کی ۱۸۸۴ء میں ہوئی۔ تصنیف ہذاکے چوتھے حصے کے آخر میں آپؑ علیہ السلام نے یہ اطلاع شائع فرمائی کہ ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت ا س کی کوئی اَور صورت تھی۔ پھر بعد اس کے قدرت الٰہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی۔ جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پر دہ غیب سے انِّی اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسےاسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً وباطناً حضرت رب العالمین ہیں۔ (حضرت مسیح موعود اور خدمت اسلام حضرت مسیح موعود کی عظیم الشان معرکۃ الآراا لتصنیف براہین احمدیہ۔ ہفت روزہ بدر ۲۲تا۲۹؍دسمبر۲۰۱۶ءصفحہ ۵۱)
آپؑ کے دعویٔ مجددیت اور ماموریت کے بعد منشائےالٰہی کے ماتحت تئیس سال تک براہین احمدیہ کے اگلے حصوں کی اشاعت معرض التوا میں رہی۔ آخر ۱۹۰۵ء میں اس کا پانچواں اور آخری حصہ شائع ہوا۔ جو گو سابقہ مضمون کےتسلسل میں نہیں تھا۔ لیکن اس لمبے عرصہ میں براہین احمدیہ کے پہلے چار حصوں میں درج شدہ پیشگوئیاں جو پوری ہورہی تھیں۔ ان کا ذکر کرکے حضور نے ایک رنگ میں اسے سابقہ حصص سے مربوط کردیا۔ ابتدائی چار حصص میں آپ نے اسلام کی صداقت قرآن شریف کی تمام صحیفہ آسمانی پر برتری، نبوت محمدیہ کی حقانیت، الہام الٰہی کی حقیقت اور اس کی ضرورت پر زبردست دلائل بیان فرمائے۔ آپ نے اس کتاب کا نام البراہین احمدیہ علیٰ حقیقۃ کتاب اللّٰہ القرآن و لنبوۃ المحمدیۃ رکھا۔ کتاب کے پہلے حصے میں آپ نے تمام ادیان عالم کے لیڈروں کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مجید کی حقیت اور آنحضرتﷺ کی صداقت کے ثبوت میں جو دلائل ہم نے اپنی الہامی کتاب یعنی قرآن کریم سے نکال کر پیش کیے ہیں اگر کوئی غیر مسلم ان سے نصف یا تیسرا حصہ یا چوتھا یا پانچواں حصہ ہی اپنے مذہب کی صداقت کے ثبوت میں اپنی الہامی کتاب سے نکال کر دکھا دے یا اگر دلائل پیش کرنے سے عاجز ہوتو ہمارے دلائل کو ہی نمبروار توڑ کر دکھا دے تو میں بلا تامل دس ہزار کی جائیداد اس کے حوالہ کر دوں گا۔ مگر یہ شرط لازمی ہوگی کہ تین مسلمہ ججوں کا ایک بورڈ یہ فیصلہ دے کہ جواب شرائط کے مطابق دیا گیا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ اوّل، مفہوماًوحضرت مسیح موعود اور خدمت اسلام،ہفت روزہ بدر قادیان۲۲تا۲۹؍دسمبرصفحہ ۵۱)
آج تک کوئی اس چیلنج کو قبول نہیں کرسکا اور نہ آئندہ قیامت تک کرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب منشائے الٰہی اور تائیدِالٰہی سے لکھی گئی ہے کسی انسانی منصوبہ کا اس میں دخل نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ ایک عظیم الشان معجزہ اور نشان الٰہی ہے۔ اس جگہ صداقتِ اسلام، قرآن مجید کی تمام مذہبی کتب پر برتری و تفوق، نبوت محمدیہ کی حقانیت وحی و الہام کی حقیقت اور اس کی ضرورت پر براہین احمدیہ میں آپ کے پیش کردہ دلائل میں سے کچھ ضروری نمونے پیش ہیں۔ مذہب اسلام ایک زندہ، کامل اورسچا مذہب ہے اور یہ دعوی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ الیوم اکملت اس آیت میں صریح یہ بیان کیا گیا ہے کہ قرآن شریف نے کامل تعلیم عطا کی ہے اور قرآن شریف کا ہی ایسا زمانہ ہے جس میں کامل تعلیم عطا کی جاتی پس یہ دعویٰ کامل تعلیم کا جو قرآن شریف نے کیا یہ اسی کا حق تھا۔ اس کے سوا کسی آسمانی کتاب نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ تورات اور انجیل دونوں اس دعویٰ سے دستبردار ہیں۔ پس اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے یہ آیت بڑی دلیل ہے کہ وہ تعلیم کی رو سے ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہےاور کامل تعلیم کے لحاظ سے کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ سوائے اسلام کے دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں ہے جو خدائے تعالیٰ کو جمیع صفات رزائل سے منزہ اور تمام محامد کاملہ سے متصف سمجھتا ہواس میدان میں آپ کے دلائل کے سامنے کوئی مذہب ٹک نہیں پاتا۔ آپ نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں آنحضورﷺ کے عظیم الشان مصلح ربانی، ہادی آسمانی، مربی اعظم، زندہ، کامل، بزرگ تر اور تمام رسولوں کے سرتاج اور افضل الرسل ہونے پر دلائل کا وہ سورج چڑھا دیا کہ جس کے سامنے باطل کو راہ فرار کے سوائے کوئی راہ نظر نہ آئی۔ قرآن مجید منجانب اللہ زندہ کامل، بے مثل و مانندتمام صداقتوں کا مجموعہ تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والا اور انسان کو مرتبہ، یقین کامل اور معرفت تک پہنچانے والا کلام ہے۔ آپ نے اپنی تصنیف میں قرآن مجید اور سب مذہبی کتابوں کی برتری ثابت کی ہے۔ آپ نے نہ صرف مخالفین اسلام کے قرآن مجید پر کیے جانے والے بے بنیاد اعتراضات کے مدلل و مسکت جوابات دیے بلکہ ان کو تمام مذہب کے متبعین کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاءﷺ کے ان دلائل کا جو قرآن مجید سے اخذ کرکے پیش کیے ہیں۔ قرآن مجید کا عین ضرورت کے وقت نازل ہونا ور پھر ایسے وقت میں جب کہ ظلمت و تاریکی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی اور ظلمت کو نور سے بدل دینا اس کی صداقت اور کمال پر دلالت کرتا ہے۔ آپؑ براہین احمدیہ میں فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ الہام ہوا۔ جس کے معنے یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصوصیت میں یعنی ارادہ الٰہی احیائے دین کے لیے جوش میں ہے۔ لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص محی کی تعین ظاہر نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ اختلاف میں ہے۔ اس اثنا میں میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا ھذا رجل یحب رسول اللّٰہ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اس کے قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے وہ اس شخص میں محقق ہے۔ اس الہام کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو منصب عطا فرمایا۔ اور بنی نوع انسان کی یہ ہدایت کے لیے آپ کا ظہور ہوا۔ آپ نے اپنی تصنیف کے ذریعہ صداقتِ اسلام، قرآن مجید کی تمام مذہبی کتب پر برتری وحی و الہام کی حقیقت اور اس کی ضرورت کو ناقابل تردید دلائل سے پیش فرمایا۔ نبوت محمدیہ کی حقانیت کو ثابت کیا اور آپؑ کی عظمت قائم فرماتے ہوئے۔ آپؑ کی محبت کو دلوں میں بٹھایا اور آپ کی قوت قدسیہ اور فیضان کو ثابت کیا۔ آپ نے اس عظیم الشان تصنیف کے ذریعہ یقیناً خدمت اسلامی کا حق ادا کیا۔ یہ وہ عظیم الشان خدمت اسلامی ہے۔ جس کا قرض امت محمدیہ قیامت تک نہیں اتار سکتی۔ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو آپ کے مقام و مرتبہ اورآپ کی خدمات اسلامی کا فہم و ادراک عطافرمائے۔ آمین ثم آمین(حضرت مسیح موعود اور خدمت اسلام۔ہفت روزہ بدر قادیان ۲۲تا۲۹؍دسمبر۲۰۱۶ءصفحہ ۵۶)
آپؑ نے اپنی بعثت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی دین اِسلام کی خدمت کے لیے سر توڑ کوشش کیں جن میں مندرجہ ذیل خدمات شامل ہیں۔
٭… انسان کا خدا سے تعلق توحید، وحی اور الہام کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنا
٭… پیارے نبیؐ کا عظیم الشان مقام
٭… قرآن شریف سے محبت اور اللہ سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ثابت کیا
٭… ملائکہ کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ
٭… انبیاء کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ
٭… معجزات کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ
٭… شریعت کی عظمت کا قیام
٭… عبادات کے متعلق اصلاح۔ نماز اور دعا کا گہرا تعلق
٭… فقہ کی اصلاح
٭… عورتوں کے حقوق کا قیام (ورثہ؍ پردہ؍ علم؍نکاح؍خلع اور طلاق) کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ فرمایا نیز موقع محل کے مطابق عورتوں کے حقوق بیان فرمائے
٭… اسلا م کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھانا
٭… جہاد کی صحیح تعلیم
٭… امن عامہ کا قیام بذریعہ ایک دوسرے کے مذہب کے خلاف باتیں کرنے کو ناپسند فرمایا (حضرت مسیح موعودؑ کے کارنامے۔ تقریر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی صفحہ ۱۰۔ ۲۸دسمبر ۱۹۲۷ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان صفحہ ۱۷-۷)
آپؑ نے اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت میں گزار دی اور بگڑی ہوئی امت مسلمہ کو خداتعالیٰ کی طرف راغب کیا۔ خدا کی محبت اور اس کے تعلق کو زندہ کیا۔ پیارے نبی کی محبت دلوں میں جگائی۔ قرآن شریف کی محبت کی طرف توجہ دلائی، اسلام کےبارے میں غلط الزامات کو اپنی تحریروں اور تقاریر سے دور فرمایا۔ (حضوؑر کا اسلام سے عشق و محبت اور جوش تبلیغ روایات کی روشنی میں۔نصیر احمد عارف نظارت اصلاح وارشاد مرکزیہ۔ہفت روزہ بدر قادیان ۲۹-۲۲؍دسمبر۲۰۱۶ءصفحہ نمبر۱۹)
آپ نے ہستی باری تعالیٰ، توحید باری تعالیٰ، صفات باری تعالیٰ اور آقا و مطاع آنحضرتﷺ کا مقام۔اور اسلام کا ایک کامل اور مکمل دین ہونا ثابت فرمایا۔ اسلام کا ادیان باطلہ کے مقابل پرسچا ہونے پر آپ کے مضامین کی تالیف و تصنیف کا سلسلہ اوئل عمر سے ہی جاری تھا۔ اہل اِسلام سے آپ نے مخاطب ہو کرفرمایا۔ میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصحیتاً کہتا ہوں کے اسلام کے لیے جاگو کہ اسلام سخت فتنے میں پڑا ہے اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اسی لیے آیا ہوں کہ مجھے خداتعالیٰ نے علم قرآن بخشا ہے۔ اور حقائق و معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کیے گئے ہے۔ سو میری طرف آؤ اور اس نعمت میں حصہ پاؤ۔اس دور میں آپ دن رات بےقرار رہتے اور تڑپتے اور خداتعالیٰ کے حضور اپنی دعاؤں اور التجاؤں کے ساتھ جھکے رہتے۔ آپؑ نےاسلام کا علم بلند کیا اور اس علم کو اپنی زندگی کے آخری سانسوں تک بلند رکھا۔ (حضور کا اسلام سے عشق و محبت اور جوش تبلیغ روایات کی روشنی میں۔نصیر احمد عارف نظارت اصلاح وارشاد مرکزیہ۔ہفت روزہ بدر قادیان ۲۹-۲۲؍دسمبر۲۰۱۶ءصفحہ نمبر ۱۹)
آپؑ فرماتے ہیں: ہمارابہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے۔ یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرمو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا سر چشمہ ہے جو تمہیں بچا ئے گا۔ میں کیا کروں اور کسطرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھاؤں۔ کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس طرح سے میں علاج کروں تا سننے والے لوگوں کے کان کھلیں۔(کشی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۲،۲۱)
نیز آپؑ فرماتے ہیں کہ میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ میں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے اور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے اور اس قدر قیمت ہے اگر میں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس شخص سے زیادہ دولتمند ہوجائیں گے۔جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے وہ ہیرا کیا ہے؟ سچا خدااور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا اور سچا ایمان اس پر لانا اور سچی محبت کے ساتھ اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنا اور سچی برکات اس سے پانا۔(اربعین، روحانی خزائن جلد۱۷صفحہ۳۴۵،۳۴۴)
حضرت مسیح موعود نے خداتعالیٰ کا ثبوت اس کی کامل صفات سے دیا۔ چونکہ خداتعالیٰ دنیا سے مخفی ہوتا ہے۔ اور انبیاء اس کا ثبوت اس کی کامل صفات سے دیتے ہیں۔ آپ جس زمانے میں مبعوث ہوئے اس وقت بھی خداتعالیٰ کی دنیا کی نظروں سے مخفی تھے۔ آپؑ نے اس زمانے میں جس میں خداتعالیٰ کا ذکر دنیا میں حقیقی طور پر مٹ چکا تھا اس کی کامل صفات کے ذریعہ قائم کیا اور نشانات کے ذریعہ اس کی صفات کو ثابت کیا۔ مثلاً آپؑ کو الہام ہوا جو ابتدائی ذمانہ کا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خداتعالیٰ اسے قبول کرکے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کردے گا۔ آپ نے یہ الہام شائع فرمایا۔ آپ کو یہ الہام اپنی ماموریت سے پہلے ہوا۔ جس میں یہ پیشگوئی تھی کہ
آپ زندہ رہیں گےاور ماموریت کا دعویٰ کریں گے۔(پہلی پیشگوئی)
جب آپ دعویٰ کریں گے تو دنیا آپ کو رد کرے گی۔ (دوسری پیشگوئی)
دنیا معمولی مخالفت نہ کرے گی بلکہ آپؑ پر ہر قسم کے حملے کیے جائیں گے۔ (تیسری پیشگوئی)
خداتعالیٰ کی طرف سےوہ حملے ردّکیے جائیں گے اور آپ کی صداقت آخر پر ظاہر ہوجائے گی۔(چوتھی پیشگوئی)
یہ کوئی معمولی باتیں نہیں تھیں جو قبل از وقت اور اس وقت جبکہ ظاہری حالات بالکل خلاف تھے۔ بتلائی گئیں۔(حضرت مسیح موعود کے کارنامےتقریر حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانیؓ،جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء،انوار العلوم جلد ۱۰ صفحہ ۱۲۰،۱۱۹)
پھر ایک اَور الہام ہوا:
’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔‘‘
آج کی دنیا میں آپ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچ گیا ہے اور ۲۱۴؍ممالک میں احمدیت کا شجر لگ چکا ہے۔ غرض خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے سے اس طرح اپنی صفات کے ثبوت دیے ہیں۔ جس طرح وہ پہلے نبیوں کے ذریعہ سے دیتا چلا آیا ہے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق لوگوں کے خیالات میں جوفساد پڑ گیا تھا۔ اس کی اصلاح فرمائی۔ مذہب میں سب سے بڑی ہستی خداتعالیٰ کی ہستی ہے۔ مگر اس کی ذات کے متعلق مسلمانوں میں اور دوسرے مذہبوں میں اتنا اندھیر ا مچا ہوا تھا۔ اور اسی خلاف عقل باتیں بیان کی جاتی تھی کہ ان کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں ہوسکتی تھی۔ اس خرابی کو آپ نے دور فرمایا۔ خداتعالیٰ کے متعلق یہ خیالات پھیلے ہوئے تھے
۱۔ شرک جلی اور خفی میں لوگ مبتلاتھے
۲۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ یقین رکھتے تھے کہ اگر خدا ہے تو وہ علت العل ہے۔ وہ اس کی قوت ارادی کے منکر تھے۔
۳۔بعض لوگ خیال کرتے تھے کہ دنیا آپ ہی آپ بنی ہے اور خداتعالیٰ کا جوڑے جاڑنے سے زیادہ دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض مسلمان بھی اس غلطی میں مبتلا تھے۔
۴۔ بعض لوگ خداتعالیٰ کے رحم کاانکار کرنے لگ گئے تھے اور کہتے تھے کہ خدا میں رحم کی صفت نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ وہ عدل کے خلاف ہے۔
۵۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کاظہور صرف چند سو سال تک ہی تھا
۶۔ بعض لوگ خدا کے متعلق غلط بیانی کرتے تھے جیسے کہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے۔
۷۔ بعض لوگ تو خدا تعالیٰ کو قانون قضا و قدر جاری کرنے کے بعد بیکار سمجھتے اور اس وجہ سے کہتے تھے کہ دعا کرنا بے فائدہ ہےدعا سے اس قانو ن میں رکاوٹ نہیں پیدا کرسکتی۔
۸۔ خداتعالیٰ کی صفات کا انکار کرتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ
خداتعالیٰ کے بارے میں ان باطلانہ خیالات کو آپؑ نے ختم کیا۔ مذہب کو پاک کیا۔ آپؑ نے شرک کو پورے طور پرختم کیا اور توحید کو اپنے پورے جلال کے ساتھ ظاہر کیا۔
آپؑ سے پہلے مسلمان علماء تین قسم کا شرک مانتے تھے۔
۱۔ بتوں، فرشتوں اور معین چیزوں کی عبادت کرنا۔ علماء کی قبروں تک کو سجدہ کرتے۔
۲۔ علماء تسلیم کرتے تھے کہ کسی میں خدائی صفات تسلیم کرنا بھی شرک ہے۔
۳۔ علماء یہ سمجھتے کہ کوئی چیز اپنی ذات میں فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ یہ بھی شرک ہے کیونکہ جب تک ہر چیز میں خدا کا ہی جلوہ نظر نہ آئے اس وقت تک اس سے فائدہ کی امید رکھنا شرک ہے۔
اس کے علاوہ آپؑ نے توحید کے متعلق مختلف کتابوں میں مضامین لکھے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ خالی عقیدہ رکھنا کہ ہرچیز میں خدا کا ہاتھ ہے۔ یہ اعلیٰ توحید نہیں بلکہ کمال توحید یہ ہے کہ خداتعالیٰ ہر چیز میں سے اپنا ہاتھ دکھائے۔ جب ایسا ہو تب خداتعالیٰ واقعہ ہر چیز میں نظر آتاہے۔ محض ہمارا خیال نہیں ہوتا یہ ایسی توحید ہے جو عقیدہ سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان کے تمام اعمال پر حاوی ہے ایک مسلمان کی اخلاقی، تمدنی، سیاسی، معاشرتی، غرضیکہ ہر قسم کی زندگی پر حاوی ہے یہ کامل توحید کا درجہ ہے۔ جب یہ کامل توحید کا درجہ کسی کو مل جاتے تو اس کے بعد کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا۔ اور اسی توحید پر ایمان لانا مدار نجات ہے۔ (حضرت مسیح موعود کے کارنامےتقریر حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانیؓ،جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء،انوار العلوم جلد ۱۰ صفحہ۱۲۹،۱۲۸)
اس کے علاوہ وحی اور الہام کے بارے میں حضور نے غلط فہمیوں کا جواب فرمایا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ الہام تو خد اتعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک انعام ہے اور بندہ اور خداتعالیٰ میں محبت نہ ٹوٹنے والا تعلق پیدا کرنے کاذریعہ ہے اور یقین اور وثوق تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کا سلسلہ بند کرکے مذہب اور روحانیت کا باقی کیا رہ جاتا ہے۔ مسلمانوں کو آپ نے توجہ دلائی کہ رسول کریم تو اس لیے مبعوث ہوئے تھے کہ دنیا پر خداتعالیٰ کی رحمت کی بارش اور بھی شان سے نازل ہو۔ پس آپ کے آنے سے اللہ تعالیٰ کا یہ انعام بند نہیں ہوا بلکہ اس میں اور بھی ترقی ہوگئی ہے۔
خداتعالیٰ الہام کے ذریعہ معارف پر آگاہ کرتا ہے۔ روحانی علوم جو سینکڑوں سالوں کی محنت اور کوشش سے بھی معلوم نہ ہوسکیں۔ خداتعالیٰ الہام کےذریعہ ایک سیکنڈ میں بتادیتا ہے۔ الہام کی ایک غرض اظہار محبت بھی ہے۔ جب تک خداتعالیٰ اپنے خاص بندوں پر الہام نہ نازل کرے اس وقت تک کس طرح ان کی تڑپ دور ہوسکتی ہے۔
آپؑ نے آیات قرآنیہ سے بھی ثابت کیا کہ الہام کے جاری رہنے کا خداتعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو جھوٹا نہیں کرتا۔ (حضرت مسیح موعود کے کارنامےتقریر حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانیؓ،جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء،انوار العلوم جلد ۱۰ صفحہ ۱۴۵)
آپؑ نے فرمایا کہ یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے وحی و الہام کا دروازہ کو بند نہیں کیا جو لوگ اس امت کو وحی و الہام کے انعامات سے بے بہرہ ٹھہراتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ اور قرآن شریف کے اصل مقصد کو انہوں سمجھا ہی نہیں۔ ان کے نزدیک یہ امت وحشیوں کی طرح ہے۔
(بنت رحمان)
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قلمی جہاد



