متفرق مضامین

تاریخ کا آئینہ: روشن یادوں کی بازگشت(قسط دوم)

(محمد سلطان ظفر۔ کینیڈا)

مکرم ومحترم مبارک احمد انصاری سابق پروفیسر تعلیم الاسلام کالج ربوه و جامعہ احمدیہ کینیڈا

حضورؓ کے دوسرے سوال کے بعد یعنی کیا میں اس کام میں شوق پیدا کروں گا بجلی کی طرح میرا ذہن رسالہ سبزاشتہار کے ان الفاظ کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جا ئےگا کی طرف گیا کہ کیسے حضورؓ نے ایسا سوال کیا کہ جس کا جواب ہاں کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا اور یہ حضورؓ کے ذہین اور فہیم ہونے کا ثبوت ہے

[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۱۴؍اپریل ۲۰۲۶ء]

تعلیم الاسلام کالج کی لاہور سے ربوہ منتقلی

۱۹۵۴ء میں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تعلیم الاسلام کالج لاہور سے ربوہ میں منتقل ہو گیا۔ چونکہ کالج کا الحاق پنجاب یونیورسٹی لاہور سے تھا اس لیے اس کے لاہور سے ربوہ منتقل ہونے کی وجہ سے الحاق کی تجدید ضروری تھی اور صدرانجمن احمدیہ نے اس سلسلے میں درخواست بھجوائی تو یونیورسٹی نے ایک کمیشن مقرر کیا جو کالج کے معائنہ کے لیے آیا۔ جس نے یونیورسٹی سے مشروط طور پر اس کالج کے الحاق کی سفارش کی جس میں کچھ دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی رکھی کہ کالج میں سائنس کے اساتذہ میں ایک ایک استاد کی ایزادی کردی جائے۔ حضرت مصلح موعودؓ کالج کی بہبود میں خاص دلچسپی لیتے تھے۔ ان کا ایک اصول یہ بھی تھا کہ حتّی الوسع یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے تازہ افراد میں سے استاد رکھے جائیں۔ خوش قسمتی سے میں نے اسی سال ہی ایم ایس سی کی تھی۔ ان ہی دنوں ایک روز میرے والد صاحب جب دفتری امور کے سلسلے میں حضورؓ سے ملے تو حضورؓ سے یہ بھی عرض کیا کہ میرا بیٹا جس نے زندگی وقف کی ہوئی ہے وہ ایم ایس سی کر چکا ہے۔ حضورؓ نے یہ سن کر فرمایا ہمیں تو کالج میں ایک کیمسٹری کے ایم ایس سی کی بہت ضرورت ہے آپ اپنے بیٹے کو میرے پاس بھجوا دیں۔ میرے والد صاحب نے حامی بھرلی۔ میری صورت حال کچھ یوں تھی کہ میں نے کیمیکل ٹیکنا لوجی میں ایم ایس سی کی تھی جو ٹیچنگ بھی کر سکتے تھے اور انڈسٹری میں بھی کام کرنے کے اہل تھے۔ لیکن ان کے لیے یہ ضروری تھا کہ انہوں نے کسی انڈسٹری میں کم از کم دو ماہ کام کیا ہو ورنہ انہیں ڈگری نہیں دی جاتی تھی اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے میں ایک فیکٹری میں زیرِتربیت تھا۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ فیکٹری اچانک بوائلر انسپکشن کے لیے بند ہوگئی۔ میرا دل لاہور میں کبھی بھی نہیں لگا تھا اس لیے جوں ہی فیکٹری بند ہوئی مجھے کوئی اور سواری تو نہ ملی میں ماڑی انڈس میں سوار ہو کر رات بارہ بجے کے قریب ربوہ پہنچ گیا۔

سٹیشن سے گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو والد صاحب نے در وازہ کھولا۔ والد صاحب نے بتایا کہ وہ ابھی تک سوئے نہیں تھے کیونکہ وہ بہت پریشان تھے اور پریشانی کی وجہ ان کا یہ وعدہ تھا کہ وہ صبح مجھے حضور ؓکی خدمت میں پیش کردیں گے اور ایسا کرنا ان کے لیے تقریباً نا ممکن تھا۔ اگر کسی آدمی کو بھی پیغام دینے کے لیے بھجواتے تب بھی صبح تک میرا آنا ممکن نہ تھا اور ان کو تو اس بات کا ہی علم نہ تھا کہ لاہور میں مَیں کہاں مل سکوں گا؟ میری رہائش کہاں ہے؟ اسی پریشانی کی وجہ سے انہیں نیند نہیں آرہی تھی اور وہ اس مسئلہ کے حل ہونے کے لیے دعا میں مصروف تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کرتے ہوئے میری ربوہ میں آنے کی یہ صورت نکالی اور میں غیر متوقع طور پر ربوہ پہنچ گیا۔ اگلی صبح میں حضورؓ سے ملاقات کے لیے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری پہنچ گیا اور ملاقات کے لیے نام لکھوا دیا جو منظور ہو گیا اور جلد ہی ملاقات کا انتظام ہوگیا۔ السلام علیکم اور مصافحہ کے بعد حضورؓ نے بیٹھنے کو کہا اور میں تعمیل میں بیٹھ گیا۔ حضورؓ نے جو پہلا سوال مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ کیا آپ کو پڑھانے کا شوق ہے ؟ چونکہ میرا طبعی میلان اس شعبہ سے نہ تھا میں نے جواباً عرض کیا کہ حضورؓ مجھے پڑھانے کا شوق تو نہیں ہے۔ میرے اس غیر متوقع جواب کو سن کر حضورؓ تو خاموش ہی ہو گئے اور کافی دیر تک خاموش ہی رہے۔ میں بھی شرمندگی کی وجہ سے خاموش ہی تھا اور یہ خاموشی مجھ پر بہت دوبھر ہو رہی تھی۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہوں۔ میرا سر جھکا ہوا تھا اور میں کنکھیوں سے کبھی کبھی حضور ؓکو دیکھ لیتا تھا۔ مجھے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ کافی لمبے عرصےتک یہ کیفیت رہی کہ میرے کانوں میں حضورؓ کی آواز آئی جو مجھ سے دوسرا سوال کر رہے تھے اور وہ سوال یہ تھا کہ اگر آپ کو پڑھانے کے کام پر لگا دیا جائے تو کیا اس کام میں شوق پیدا کریں گے ؟ حضورؓ کے اس سوال سے میری جان میں جان آئی۔ میں نے عرض کیا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ شوق پیدا کروں گا۔ اس پر حضورؓ نے فرمایا کہ کالج جاکر حضرت مرزا ناصر احمدصاحبؒ سے رابطہ کروں اور ہدایات لوں۔ (حضورؓ کے الفاظ تو صرف ناصر احمد تھے لیکن ادب کی خاطر خاکسار نے حضرت مرزا – اور صاحب کے الفاظ زائد کیے ہیں) حضورؓ کے دوسرے سوال کے بعد یعنی کیا میں اس کام میں شوق پیدا کروں گا بجلی کی طرح میرا ذہن رسالہ سبزاشتہار کے ان الفاظ کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جا ئےگا کی طرف گیا کہ کیسے حضورؓ نے ایسا سوال کیا کہ جس کا جواب ہاں کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا اور یہ حضورؓ کے ذہین اور فہیم ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کے بعد کالج میں میری تعیناتی ہو گئی۔ میں نے وہاں اپنی طرف سے کوشش کی کہ جو عہد میں نے حضورؓ سے کیا تھا اسے پورا کروں اور اس پڑھانے کے کام میں شوق پیدا کروں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت فضل کیا اور میری بہت مدد کی۔ مجھے تعلیم الاسلام کالج میں ۳۵؍سال کے قریب پڑھانے کا موقعہ ملا – الحمد للہ اس وقت میرے شاگرد دنیا کے بہت سے ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مجھے ان سے محبت ہے اور وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں فالحمد للّٰه على ذالك

پارٹیشن کے بعد ہمارا کالج جب ڈی اے وی کالج بلڈنگ میں منتقل ہوااور میں اس میں آیا تو چند سال بعد مرزا خورشید احمد صاحب کو بھی وہاں پایا۔ ۱۹۵۴ء میں کالج لاہور سے ربوہ منتقل ہوا تو میں ایم ایس سی کیمسٹری پاس کرچکا تھا تو بوجہ واقف زندگی ہو نے کے مجھے اس کالج میں لگا لیا گیا اور دو تین سال بعد مرزا خورشید احمد صاحب بھی اسی کالج میں انگریزی کے استاد لگ گئے۔ مجھے یہاں آپ کا ایک واقعہ یاد آیا جو یہ ہے کہ جب مرزا انس احمد صاحب بھی اس کالج کے سٹاف میں شامل ہو گئے تو ایک دفعہ وہ لاہور میں برٹش کونسل میں گئے تو وہ وہاں سے ایک تعلیمی وظیفہ کا فارم اپنے لیے اور کچھ زائد فارم بھی لے کر آئے۔ انہوں نے ایک فارم مرزا خورشید احمد صاحب کو بھی دیا۔ مرزا انس احمد صاحب کو تو یہ وظیفہ نہ مل سکا مگر مرزا خورشید احمد صاحب کو مل گیا ۔ اس کا تعلق کچھ انگریزی زبان کے تلفظ سے تھا۔

آپ اپنے مضمون کے ایک بہترین استاد تھے اور اپنے شاگردوں میں بہت ہر دل عزیز تھے۔انہوں نے اپنے شاگردوں کو بہت محنت سے پڑھایا۔ طبیعت میں نفاست تھی، خوش لباس اور بہت محنتی اور جو کام بھی ان کے سپرد ہوا بہت محنت سے انجام دیا۔ سلسلے کے اموال کی ہمیشہ حفاظت کی۔ غرباء کا بہت خیال رکھتے۔ گھر میں پھلدار پودے لگائے ان میں لیچی کے درخت بھی تھے آخر وقت تک عبادات مسجد میں ادا کرتے رہے۔ میں نے جب تک دیکھا ہے مسجد مبارک میں دائیں کونے میں پہلی صف میں نماز کی ادائیگی کرتے تھے۔ مجھے ان کے ساتھ مہمان نوازی کی ڈیوٹی دینے کا موقع ملا ہے۔ وہ ڈیوٹی شروع ہونے کے وقت سے کافی پہلے پہنچ جاتے اور کام پورا ختم ہونے کے بعد گھر واپس تشریف لے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں چھ بیٹوں سے نوازا تھا ۔ سکول کی تعلیم سب کو ایبٹ آباد میں دلوائی لیکن ان کی تربیت کا بھی بہت خیال رکھا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سب کو خدمت سلسلہ میں لگایا جہاں وہ بہت اچھی طرح اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرزا خورشید احمد صاحب کے درجات بلند فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔ آمین یا رب العٰلمين

مرزا غلام احمد صاحب

مرزا غلام احمد صاحب مرزا خورشید احمد صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے تین بیٹے ہیں جو تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں میرے شاگرد تھے۔ دوسرے بیٹے مرزا ناصر انعام جامعہ احمدیہ یوکے کے پرنسپل ہیں اور تیسرے بیٹے مرزانصیر احسان آجکل امریکہ میں ہیں۔ یہ دونوں جڑواں بھائی ہیں۔

مرزا غلام احمد صا حب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے آڈیو ایڈیشن تیار کرنے کا بھی موقعہ ملا ہے۔ ان میں آپ نے بہت عمدہ کام کیا ہے۔ کیا بلحاظ تلفظ اور کیا عمدہ ادائیگی، ان کا کام بہت اعلیٰ پایہ کا ہے حالانکہ انہوں نے کبھی جامعہ میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ لاہور کی دومساجد میں احمدیوں کی شہادت پر ان کا ایک انٹرویو سلمان تاثیر صاحب گورنر پنجاب کے ساتھ جس کسی نے سنا ہے وہ اس کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جو کام بھی ان کے سپرد ہوا اس کو اس کی صحیح روح کے ساتھ انہوں نے اداکیا۔اس کی ایک مثال ذیل میں پیش ہے :

۱۹۸۲-۸۳ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ابھی ربوہ میں ہی مقیم تھے اور خاکسا رٹی آئی کالج میں کالج کا رجسٹرار بھی تھا اور میرے پاس سارے کالج کے امتحانوں کے نتائج ہوتے تھے۔ کالج میں موسم گرما کی چھٹیاں ہو چکی تھیں مجھے کالج کے امتحانوں کے نتائج دیکھنے کا اتفاق ہوا تو میں یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا کہ اکثراحمدی طلبہ کے نتائج غیراحمدی طلبہ سے کمزور تھے تو میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اس بارے میں اپنی تشویش کا اظہارلکھا اور عرض بھی کیا کہ ہمیں اس بارے میں کچھ کوشش کرنی چاہیے اور مجلس خدام الاحمدیہ یا نظارت تعلیم کے سپرد یہ کام کیا جائے۔ چنانچہ حضورؒ نے اس کام کی ڈیوٹی نظارت تعلیم کے سپرد کی کہ وہ یہ کام کرے۔ اس وقت ناظر تعلیم مکرم مرزا غلام احمد صاحب تھے۔ انہوں نے خاکسار سے رابطہ کیا اور کہا کہ کوچنگ کلاسوں کے لیے استاد مقرر کر دیے جائیں تا کہ کلاسوں کا اجرا کیا جاسکے اور یہ بھی انتظام کر دیا کہ یہ کلاسیں جامعہ احمدیہ کی عمارت میں ہوں۔چنانچہ استادوں کی ڈیوٹیاں لگادی گئیں۔ اس کے بعد مرزا غلام احمد صاحب نے خود بچوں کےگھروں میں جا کر ان کے والدین سے ملاقاتیں کیں۔ اکثر والدین سے ملاقات ہی بہت مشکل تھی اور جن سے ہوئیں ان کی طرف سے تعاون اتنا سازگار نہ تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہمارے بچوں میں سے اکثر پڑھنا ہی نہ چاہتے تھے بلکہ ان کے دل میں تو باہر جانے کا جنون سمایا ہوا تھا۔ ان سب باتوں کے باوجود مرزا غلام احمد صاحب نے اپنی کوشش جاری رکھی اور کلاسوں کا اجرا ممکن ہو سکا۔ یہ کام بہت مشکل تھا مگر مرزا غلام احمد صاحب کی مسلسل مساعی کے باعث ممکن ہو سکا۔ چنانچہ یہ کلاس صرف ڈیڑھ مہینہ کے قریب جاری رہ سکی لیکن دن بدن اس میں حصہ لینے والے طلبہ کی تعداد گھٹتی رہی حتّی کہ ان کا ٹیسٹ دینے کا وقت آگیا تو گنتی کے صرف چند طلبہ اس ٹیسٹ میں شریک ہوئے۔ باوجود بہت کوشش کے ہم بچوں کو قائل نہ کر سکے۔ چنانچہ اس کلاس کو مجبوراً بند کرنا پڑا۔ دعا ہے کہ اللہ تعا لیٰ مرزا غلام احمد صاحب کے درجات بہت بلند کرے۔آمین۔

مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب

محترم پروفیسر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت ذو الفقار علی گوہر صاحبؓ کے بیٹے تھے جو ہندوستان میں آزادی ملنے سے قبل کی ایک تحریک جو تحریک خلافت کہلاتی تھی کے دو سر گرم ممبر ان جو علی برادران کے نام سے مشہور تھے یعنی مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی کے بڑے بھائی تھے، کے بیٹے تھے۔ اور مولانا عبد المالک خان صاحب کے بڑے بھائی تھے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی ایس سی کیا اور علیگڑھ سے کیمسٹری میں ایم ایس سی کیا۔ وہاں یونیورسٹی میں کشمیر کے لیڈر شیخ محمد عبداللہ صاحب جو بعد میں شیر کشمیر کے نام سے مشہور ہوئے ان کے ہم جماعت تھے۔ تلاش روز گار میں ریاست حیدر آباد دکن پہنچے۔ ایک وقت میں انہوں نے حضرت مولانا عبد الرحیم نیّرؓ کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر بھی کام کیا جنہیں جماعت نے کسی خاص کام سے وہاں بھجوایا تھا۔ ایک دفعہ مجھ سے ذکر کیا کہ حضرت نیّر صاحبؓ کے ساتھ کام کرنے سے انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایک اچھے مبلغ ہونے کے علاوہ سیاست میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ مغربی افریقہ میں جو جماعتیں بنی ہیں وہ ابتدا میں حضرت نیّرصاحبؓ ہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ مکرم حبیب اللہ خان صاحب عثمانیہ یونیورسٹی کے ایک ذیلی ادارہ عثمانیہ کالجیٹ سکول میں سائنس کے استاد ر ہے ہیں۔

میں نے مکرم حبیب اللہ خانصاحب کو پہلی دفعہ غالباً ۱۹۴۵ یا ۱۹۴۶ء میں دیکھا جب اچانک ایک روز تعلیم الاسلام کالج قادیان جہاں میں تعلیم حاصل کر رہا تھا میں ہمارے کیمسٹری کے پیریڈ میں آئے اور انہوں نے ہماری کلاس لی اور ہمیں بہت لطف آیا۔ اس سے قبل ہم فزکس کے پروفیسر میاں عطاء الرحمٰن صاحب کے پڑھانے کے طریق سے بہت متاثر تھے۔ اب ویسا ہی مزہ ہمیں کیمسٹری کے لیکچر میں بھی آیا۔ ان کے اس لیکچر کے دوران کچھ کالج کمیٹی کے ممبر ان بھی پچھلے بنچوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور غالباً یہ جائزہ لے رہے تھے کہ وہ کیسے استاد ہیں اور ان کا پڑھانے کا طریق کیسا ہے۔ ہم طالب علموں نے تو بہت ہی پسند کیا۔ اس کے بعد ملک کی پارٹیشن ہو گئی اور ہم سب پاکستان آگئے بعد میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے لاہور میں کالج کھولنے کا ارشاد فرمایا اور ایف سی کالج کی ہمسائیگی میں ایک ڈیری فارم کی مترو کہ عمارت میں کالج کھل گیا۔ کچھ عرصہ بعد ہم نے پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب کو ایک دفعہ پھر دیکھا لیکن اب وہ مستقلاً معہ اہل و عیال پاکستان آگئے تھے اور انہوں نے ہمارے کالج میں پڑھانا شروع کر دیا۔ کالج کے ۱۹۵۴ء میں ربوہ آنے تک وہ لاہور میں ہی رہے اور ان کی رہائش غالباً دھرمپورہ میں رہی۔ کالج ربوہ آنے پر رہائش کے لیے انہوں نے ایک مکان کرایہ پر لیا اور کافی عرصہ اس میں رہائش رکھی۔ پھر جب صدر انجمن احمد یہ کی طرف سے مکان کی تعمیر کے لیے قرضے ملنے شروع ہوئے تو خانصاحب نے بھی قرضہ حاصل کیا۔ زمین کے دو دس دس مرلہ کے پلاٹ خانصاحب کے پہلے ہی سے تھے۔ رقم جو قریباً بائیس تئیس صد روپے تھی وہ قرضہ میں ملی۔ اس رقم اور کچھ اور رقم جو اپنے پاس تھی اس سے دو کمرے اس زمین پر جو محلہ دارالرحمت شرقی میں ہے تعمیر کروائے۔ ابھی اندر سے پلستر بھی نہ ہوئے تھے کہ وہ اپنے مکان میں رہائش پذیر ہو گئے۔ میں ایک روز ان کے مکان پر حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ بجلی نہ تھی۔ تیل کا لیمپ استعمال کر رہے تھے۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ ابھی بجلی لگوانے کی گنجائش نہیں۔ تخمینہ لگوایا تھا۔ پتا لگا کہ یہ سب کچھ اند از اً پانچ صد کا نسخہ ہے اس لیے ابھی ارادہ چھوڑ دیا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کو کس قدر گنجائش ہے اور کیا آپ دو صد کا انتظام کر سکتے ہیں؟ تو فرمایا کہ یہ تو ممکن ہے اور کچھ دنوں کے بعد مجھے دو صد روپے دے دیے۔ اس زمانہ میں بجلی کی فٹنگ عموماً لکڑی کی کیسنگ (Casing) میں ہوتی تھی۔ چنانچہ میں فیصل آباد جس کا نام اس وقت لائل پور تھا۔ ضروری سامان معہ ضروری اوزاروں کے لے آیاجو ان کی دی ہوئی رقم کے اندر ہی میسر ہو گیا۔

فٹنگ کا طریق یہ ہوتا تھا کہ دیوار پر نشان لگا کر مناسب فاصلے پر چھوٹے چھوٹے چوکور سوراخ بنا دیے جاتے تھے اور ان میں لکڑی کی گٹیاں پھنسا کر ارد گرد سیمنٹ لگا دیا جاتا تھا ۔پھر ان گٹیوں میں کیلوں کے ذریعہ کیسنگ فٹ کر دی جاتی تھی ۔کام میں نے ان کے سامنے کر کے دکھایا جسے وہ سمجھ گئے اور انہوں نے خود بھی کام بطور ذاتی وقار عمل کے کرنا شروع کیا اور چند دن میں بنیادی کام مکمل ہو گیا صرف تاریں ڈالنی رہ گئیں ۔چنانچہ وہ میں نے ڈال دیں اور باقی فٹنگ بھی مکمل ہو گئی۔ ان سب کاموں میں وہ برابر میری مدد کرتے رہے۔ اب کنکشن حاصل کرنے کا مرحلہ آیا جو اس طرح پورا ہو گیا کہ ہمارے ایک طالبعلم جو B.Sc میں پڑھتے تھے ان کے والد چنیوٹ میں بجلی کے محکمہ میں S.D.O تھے وہ احمدی تو نہ تھے لیکن قادیان کے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طالبعلم رہ چکے تھے اور وہیں سے میٹرک کیا تھا ان کے تعاون سے کنکشن حاصل کرنے کا مرحلہ بھی آسان ہو گیا اور انہیں بجلی کی سہولت بھی حاصل ہو گئی۔میں نے محسوس کیا کہ وہ محنت کرنے سے عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ گھر میں کیاریاں اور پودے لگارکھے تھے۔ باغبانی کا بھی بہت شوق تھا۔

ربوہ میں ان دنوں کریانہ کی زیادہ د کا نیں نہ تھیں اور جو تھیں ان کے ریٹ بہت زیادہ ہوتے تھے۔ کافی عرصےتک میں اور محترم خان صاحب سائیکل پر چنیوٹ جایا کرتے اور چنیوٹ سے مہینہ بھر کا سودا خرید کر سائیکل پر لاد کرربوہ لاتے رہے۔

جلسہ سالانہ کے موقع پر مکرم حبیب اللہ خان صاحب کی ڈیوٹی بطور ناظم مکانات رہی اور مجھے ان کے نائب کے طور پر ایک عرصہ تک کام کرنے کا موقعہ ملتا رہا۔ میں نے انہیں بہت ذمہ دار اور محنتی پایا۔ اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔

اس وقت کالج میں وہ شعبہ کیمسٹری کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ بھی رہے۔ انہی کے دور میں کالج کے لیے انگلستان اور جرمنی سے سامان اور کیمیکلز براہ راست درآمد کرنے کا انتظام کیا گیا اس طرح لیبارٹری میں استعمال کی جانے والی پٹرولیم گیس کا پلانٹ بھی منگوایا۔ اس کام کا انچارج محترم حبیب اللہ خان صاحب کو مقرر کیا گیا جنہوں نےنہایت خوش اسلوبی سے یہ کام سر انجام دیا۔ وہ شعبہ امتحان اور ریکارڈ کے مطابق Controller of Examination انچارج بھی رہے اور کالجوں کے قومیائے جانے تک یہ کام کرتے رہے۔ مجھے ان کے نائب کے طور پر اس شعبہ میں بھی کام کرنے کا موقعہ ملا۔

کلاس میں جب وہ لیکچر دیتے تو نہایت بلند آواز سے دیتے۔ دور دور تک ان کی آواز سنائی دیتی۔ ان کے بعد بلند آواز سے پڑھانے میں مکرم مولوی محمد دین صاحب لیکچرار اسلامیات کا نمبر آتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آخر میں ان کی آواز بہت حد تک ختم ہو گئی تھی۔ ان کا خط بھی بہت عمدہ تھا۔ نہایت روانی کے ساتھ لکھتے اور بہت خوبصورت لکھتے۔ کالج سے ۱۹۷۲ء میں فارغ ہونے کے بعد دفاتر میں بھی انہیں کام کرنے کا موقع ملا۔ دفتر وصیت میں بطور سیکرٹری کار پر داز بہشتی مقبرہ بھی انہیں سلسلہ کی خدمت کا موقع ملا۔ آخری عمر میں جب حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ کے نامکمل کام کو کرنے کے لیے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے جو کمیٹی بنائی تھی اس میں آپ کو بھی بطور ممبر نامزد کیا گیا تھا۔ آخر دم تک اس ڈیوٹی سے بھی عہدہ برآ ہوتے رہے۔ نہایت ایمان دار، محنتی اور درویش قسم کے آدمی تھے۔ بہت عمدہ حس مزاح رکھتے تھے ملنے والوں کو ان سے مل کر بہت خوشی حاصل ہوتی تھی۔ کالج میں پریکٹیکل کے دوران پورا وقت لیبارٹری میں موجو د رہتے اور اس وقت تک طلبہ کی حاضری نہ لگاتے جب تک پریکٹیکل مکمل کر کے نوٹ بک پر لکھ نہ لیا جائے اور دستخط نہ کروائے جائیں۔ کالج کے ایک سابق طالبعلم ریاض احمد صاحب جو احمد ی نہ تھے اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں شعبہ کیمسٹری کے چیئر مین تھے نے اس بات کا اظہار مجھ سے اس طرح کیا کہ آپ لوگوں نے ہمیں بعض ایسی عادتیں ڈال دی ہیں جن کی وجہ سے اس زمانہ میں ہمیں پسند نہیں کیا جاتا خصوصاً طلبہ میں۔ اور اس سلسلہ میں خصوصی طور پر خان صاحب کا ذکر کیا کہ وہ کام مکمل کر واکر نوٹ بک کے اندراجات کی پڑتال کرتے ورنہ طالبعلم کو چھٹی نہ ملتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرا بھی طریق کار اب خانصاحب والا ہے جو آجکل کے طلبہ پسند نہیں کرتے۔دراصل ان کا یہ کہنا محترم حبیب اللہ خان صاحب کے لیے خراج عقیدت و تحسین ہے۔

میں اپنی ریٹائر منٹ کے بعد جب پاکستان جاتا تو ہمیشہ ان سے ان کے گھر پر حاضر ہو کر ملتا۔ ایک ایسے ہی موقعہ پر ڈرائنگ روم کی فٹنگ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میری جب بھی اس پر نظر پڑتی ہے مجھے آپ یادآجاتے ہیں اور میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔

اللہ اللہ!کیسے کیسے بزرگ تھے کہ اپنے چھوٹوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا بدلہ دعا جیسی قیمتی چیز سے دیتے ہیں۔ جب بھی مجھے یہ واقعہ یاد آتا ہے تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور اس وقت بھی جب کہ میں یہ سطور رقم کررہا ہوں میری آنکھیں پر نم ہیں۔

۳؍جنوری ۱۹۹۷ءکو ابھی میں ربوہ میں ہی تھا کہ مجھے خانصاحب کی وفات کی اطلاع ملی اور مجھے ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شامل ہونے کا موقعہ ملا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے استاد اور ساتھی محترم حبیب اللہ خانصاحب کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور ان کی اولاد اور شاگردوں کو بھی ان کی اچھی باتوں کا وارث بنائے۔آمین ثم آمین

(جاری ہے)

مزید پڑھیں: تاریخ کا آئینہ: روشن یادوں کی بازگشت(قسط اوّل)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button