خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍اپریل 2026ء

’’آج صفحۂ دنیامیں وہ شے کہ جس کا نام توحید ہے بجز امت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےاَور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اَور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑہا مخلوقات کو وحدانیت الٰہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف رہبر ہو۔ ہریک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنالیا اور مسلمانوں کا وہی خدا ہے جو قدیم سے لازوال اور غیرمبدّل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔ سو یہ تمام واقعات ایسے ہیں کہ جن سے ہادی اسلام کا صدقِ نبوت اظہر من الشمس ہے‘‘

’’واقعات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرتؐ اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لیے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکّل کرنے والے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہوکر اس بات کی کچھ بھی پروا نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا۔ بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کرکے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے‘‘

’’ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکّل کرکے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں‘‘

’’آنحضرت ؐکا ایسی عام گمراہی کے وقت میں مبعوث ہونا کہ جب خود حالت موجودہ زمانہ کی ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اور ہدایت ربّانی کی کمال ضرورت تھی اور پھر ظہور فرما کر ایک عالَم کو توحید اور اعمالِ صالحہ سے منور کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو اُم الشرور ہے قلع قمع فرمانا اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آنحضرتؐ خدا کے سچے رسول اور سب رسولوں سے افضل تھے‘‘

ہم اس زمانے میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آپؐ کے عاشق صادق کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے قیام کے لیے مامور کیا کیونکہ اس زمانے میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام جو مسیح موعود اور مہدی معہودبھی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور سنت کا عملی نمونہ تھے اور آپؑ کا دل ہی اپنے آقا کی اتباع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے پھیلانے کے لیے ایک درد سے بھرا ہوا تھا

’’یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا، کوئی رازق نہ ماننا، کوئی مُعِز اور مُذِل خیال نہ کرنا،کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا، اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا۔ اپنا تذلّل اسی سے خاص کرنا ۔اپنی امیدیں اسی سے خاص کرنا۔ اپنا خوف اسی سے خاص کرنا‘‘

’’مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا زمین پر دوبارہ توحید کو قائم کروں اور انسان پرستی یا سنگ پرستی سے لوگوں کو نجات دے کر خدائے واحد لا شریک کی طرف ان کو رجوع دلاؤں اور اندرونی پاکیزگی اور راستبازی کی طرف ان کو توجہ دوں‘‘

’’میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا بہشت یہی ہے کہ میں اپنی زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو رہائی پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ لوں اور میری روح ہر وقت دعا کرتی ہے کہ اے خدا! اگر میں تیری طرف سے ہوں اور اگر تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ دن دکھلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اٹھا دی جائے کہ گویا نعوذ باللہ انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ ایک زمانہ گذر گیا کہ میرے پنج وقت کی یہی دعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کر لیں اور تثلیث کے اعتقاد سے توبہ کر یں‘‘

جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو بھیجا تھا اور جس توحید کی تعلیم کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا اس حقیقی توحید پر ہم عمل کرنے والے بھی ہوں اور دنیا میں پھیلانے والے بھی ہوں کہ اب انسانیت کی بقا کا یہی ایک حل ہے۔ اس کے علاوہ اَور کوئی حل نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پُر معارف ارشادات کی روشنی میں توحیدِ الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ

مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب سابق امیر ضلع سیالکوٹ حال امریکہ اور مکرم اُدراگو حالیدو صاحب شہید آف برکینا فاسو کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍اپریل 2026ء بمطابق 03؍شہادت1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں توحید کے قیام کے لیے درد، کوشش اور جرأت اور شرک کے ہر پہلو کے مقابل پر ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہو جانے اور ہر قوم کے شرک کے خیالات اور تعلیم کے خلاف حق گوئی

کے بارے میں ہم پہلے پڑھتے رہے ہیں۔ اس کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:

’’خیال کرنا چاہیے کہ کس استقلال سے آنحضرتؐ اپنے دعویٰ نبوت پر باوجود پیدا ہوجانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہوجانے لاکھوں معاندوں اورمزاحموں اور ڈرانے والوں کے اوّل سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے۔ برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلّی مایوس کرتے تھے اور روزبروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہوجانا وہم بھی نہیں گذرتا تھا بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے ازدست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے‘‘ یعنی خود اپنے ہاتھ سے پہلی جمعیت جو قرابت داری تھی اس کو بھی کھو بیٹھے ’’اور ایک بات کہہ کر لاکھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے سر پر بلالیا۔ وطن سے نکالے گئے۔ قتل کے لیے تعاقب کیے گئے۔ گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہوگیا۔ بارہا زہر دی گئی۔ اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں…‘‘ فرماتے ہیں:’’ اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کرکے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنالیا۔ جو اپنے اور خویش تھے ان کو بت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا۔ یہودیوں سے بھی بات بگاڑ لی کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بداعمالیوں سے روکا۔ حضرت مسیح کی تکذیب اور توہین سے منع کیا جس سے ان کا نہایت دل جل گیا۔‘‘ یہودیوں کو مسیح کی تکذیب سے منع کیا جس سے ان کا دل جل گیا ’’اور سخت عداوت پر آمادہ ہوگئے اور ہر دم قتل کردینے کی گھات میں رہنے لگے۔ اسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کردیا گیاکیونکہ جیسا کہ ان کا اعتقاد تھا حضرت عیسٰی کو نہ خدا نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا۔ آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہوگئے کیونکہ ان کو بھی ان کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی اور مدار نجات کا صرف توحید ٹھہرائی گئی۔‘‘فرماتے ہیں:’’اب جائے انصاف ہے کہ کیا دنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی۔‘‘ الزام لگایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا حاصل کی۔ اس زمانے کے لوگ الزام لگاتے تھے ’’کہ ہرایک فرقہ کو ایسی ایسی صاف اور دلآزار باتیں سنائی گئیں کہ جس سے سب نے مخالفت پر کمر باندھ لی اور سب کے دل ٹوٹ گئے اور قبل اس کے کہ اپنی کچھ ذرّہ بھی جمعیت بنی ہوتی یا کسی کا حملہ روکنے کے لیے کچھ طاقت بہم پہنچ جاتی سب کی طبیعت کو ایسا اشتعال دے دیا کہ جس سے وہ خون کرنے کے پیاسے ہوگئے۔‘‘ آج بھی جو مستشرقین ہیں ،اسلام کے مخالف ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہ یہی الزام لگاتے ہیں۔ لیکن یہ الزام لگاتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ کیا کوئی انسان فائدہ اٹھانے کے لیے ایسی حالت اپنے اوپر وارد کرتا ہے۔ فرمایا :’’زمانہ سازی کی تدبیر تو یہ تھی کہ جیسا بعضوں کو جھوٹا کہا تھا ویسا ہی بعضوں کو سچا بھی کہا جاتا۔‘‘ اگر اتنا ہی زمانے کے پیچھے چلنا تھا تو جس طرح بعضوں کو جھوٹا کہا تو خوش کرنے کے لیے بعضوں کو سچا بھی کہہ دیتے ’’تا اگر بعض مخالف ہوتے تو بعض موافق بھی رہتے۔ بلکہ اگر عربوں کو کہا جاتا کہ تمہارے ہی لات و عزیٰ سچے ہیں تو وہ تو اسی دم قدموں پر گر پڑتے اور جو چاہتے ان سے کراتے۔ کیونکہ وہ سب خویش اور اقارب اور حمیت قومی میں بے مثل تھے۔‘‘ رشتہ داری تھی، قرابت داری تھی، قبیلہ داری تھی اور اس کے لیے تو وہ ہر قربانی کے لیے تیار ہوا کرتے تھے ۔ ’’اور ساری بات مانی منائی تھی صرف تعلیم بت پرستی سے خوش ہوجاتے۔‘‘ صرف آپؐ یہ کہہ دیتے کہ ٹھیک ہے تمہارے بت ٹھیک ہیں تو خوش ہو جاتے’’ اور بدل و جان اطاعت اختیار کرتے ‘‘آپؐ کی۔ یہی مطالبہ انہوں نے پیش بھی کیا تھا۔ ’’لیکن سوچنا چاہیے کہ آنحضرت کا یکلخت ہرایک خویش و بیگانہ سے بگاڑ لینا اور صرف توحید کو جو اُن دنوں میں اس سے زیادہ دنیا کے لیے کوئی نفرتی چیز نہ تھی اور جس کے باعث سے صدہا مشکلیں پڑتی جاتی تھیں بلکہ جان سے مارے جانا نظر آتا تھا مضبوط پکڑلینا یہ کس مصلحت دنیوی کا تقاضا تھا اور جبکہ پہلے اسی کے باعث سے اپنی تمام دنیا اور جمعیت برباد کرچکے تھے تو پھر اسی بلاانگیز اعتقاد پر اصرار کرنے سے کہ جس کو ظاہر کرتے ہی نومسلمانوں کو قید اور زنجیر اور سخت سخت ماریں نصیب ہوئیں کس مقصد کا حاصل کرنا مراد تھا۔‘‘ صرف خود کو ہی نہیں بلکہ توحید کا اعلان کرنے پہ آپؐ کے ماننے والوں کو بھی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں۔

’’کیا دنیا کمانے کے لیے یہی ڈھنگ تھا کہ ہر ایک کو کلمہ تلخ جو اس کی طبع اور عادت اور مرضی اور اعتقاد کے برخلاف تھا، سناکر سب کو ایک دم کے دم میں جانی دشمن بنادیا اور کسی ایک آدھ قوم سے بھی پیوند نہ رکھا۔ جو لوگ طامع اور مکار ہوتے ہیں۔‘‘ جن کی طمع ہوتی ہے، جو کسی چیز کی خواہش کرنے والے ہوتے ہیں یا ہوشیاری یا مکاری دکھانے والے ہوتے ہیں’’ کیا وہ ایسی ہی تدبیریں کیا کرتے ہیں کہ جس سے دوست بھی دشمن ہو جائیں۔ جو لوگ کسی مکر سے دنیا کو کمانا چاہتے ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا کرتا ہے کہ بیکبارگی ساری دنیا کو عداوت کرنے کا جوش دلاویں اور اپنی جان کو ہر وقت کی فکر میں ڈال لیں۔ وہ تو اپنا مطلب سادھنے کے لیے سب سے صلح کاری اختیار کرتے ہیں اور ہرایک فرقہ کو سچائی کا ہی سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ خدا کے لیے یک رنگ ہوجانا ان کی عادت کہاں ہوا کرتی ہے۔ خدا کی وحدانیت اور عظمت کا کب وہ کچھ دھیان رکھا کرتے ہیں۔ ان کو اس سے غرض کیا ہوتی ہے کہ ناحق خدا کے لیے دکھ اٹھاتے پھریں۔ وہ تو صیاد کی طرح وہیں دام بچھاتے ہیں کہ جو شکار مارنے کا بہت آسان راستہ ہوتا ہے۔‘‘ اگر پکڑنا ہی ہو،دھوکے سے قابو کرنا ہے تو پھر شکاری کی طرح جال بچھاتے ہیں’’ اور وہی طریق اختیار کرتے ہیں کہ جس میں محنت کم اور فائدہ دنیا کا بہت زیادہ ہو۔ نفاق ان کا پیشہ اور خوشامد ان کی سیرت ہوتی ہے۔ سب سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا اور ہر ایک چور اور سادھ سے برابر رابطہ رکھنا ان کا ایک خاص اصول ہوتا ہے۔ مسلمانوں سے اللہ اللہ اور ہندوؤں سے رام رام کہنے کو ہر وقت مستعد رہتے ہیں اور ہر ایک مجلس میں ہاں سے ہاں اور نہیں سے نہیں ملاتے رہتے ہیں…‘‘جیسی مجلس ہو ویسے ہی اپنے آپ کو ڈھال لیا۔‘‘ ان کو خدا سے کیا تعلق اور اس کے ساتھ وفاداری کرنے سے کیا واسطہ اور اپنی خوش باش جان کو مفت میں ادھر ادھر کا غم لگا لینا انہیں کیا ضرورت۔ استاد نے ان کو سبق ہی ایک پڑھایا ہوا ہوتا ہے کہ ہر ایک کو یہی بات کہنا چاہیے کہ جو تیرا راستہ ہے وہی سیدھا ہے اور جو تیری رائے ہے وہی درست ہے اور جو تُو نے سمجھا ہے وہی ٹھیک ہے۔ غرض ان کی راست اور ناراست اور حق اور باطل اور نیک اور بد پر کچھ نظر ہی نہیں ہوتی بلکہ جس کے ہاتھ سے ان کا کچھ منہ میٹھا ہوجائے وہی ان کے حساب میں بھگت اور سدھ اور جنٹلمین ہوتا ہے اور جس کی تعریف سے کچھ پیٹ کا دوزخ بھرتا نظر آوے اسی کو مکتی پانے والا اور سرگ کا وارث اور حیات ابدی کا مالک بنا دیتے ہیں۔’’ وہی سب کچھ بن جاتا ہے ان کے لیے۔‘‘ لیکن

واقعات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لیے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکّل کرنے والے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہوکر اس بات کی کچھ بھی پروا نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا۔ بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کرکے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے۔

اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔

ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکّل کرکے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔‘‘

انبیاء کی تاریخ میں بھی دیکھ لو۔ اتنی ہو ثابت قدمی۔ کہیں بھی ثابت نہیں۔

’’پس ذرہ ایمانداری سے سوچنا چاہیے کہ یہ سب حالات کیسے آنحضرتؐ کے اندرونی صداقت پر دلالت کررہے ہیں۔ ماسوا اس کے جب عاقل آدمی ان حالات پر اَور بھی غور کرے کہ وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرتؐ مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالتِ موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادیٔ آسمانی کی اشد محتاج تھی اور جو جو تعلیم دی گئی وہ بھی واقعہ میں سچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی۔‘‘ زمانہ ایسا بگڑا ہوا تھا کہ اس وقت ضرورت تھی کسی ہادی کی ،کسی مصلح کی ،کسی راہنما کی اور تب آپؐ اس زمانے میں آئے۔’’ اور ان تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں۔ اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا الہ الا اللّٰہ کا نقش جما دیا اور جو نبوت کی علت غائی ہوتی ہے‘‘ جو مقصد ہوتا ہے’’یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایا جو کسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں بہم نہیں پہنچا۔ تو ان واقعات پر نظر ڈالنے سے بلا اختیار یہ شہادت دل سے جوش مار کر نکلے گی کہ آنحضرتؐ ضرور خدا کی طرف سے سچے ہادی ہیں۔ جو شخص تعصب اور ضدیت سے انکاری ہو اس کی مرض تو لاعلاج ہے خواہ وہ خدا سے بھی منکر ہو جائے ورنہ یہ سارے آثارِ صداقت جو آنحضرتؐ میں کامل طور پر جمع ہیں کسی اَور نبی میں کوئی ایک تو ثابت کرکے دکھلاوے تاہم بھی جانیں۔ ‘‘

پھر فرماتے ہیں:

’’ہندو دوسرے تمام پیغمبروں اور کتابوں کی تکذیب کرکے صرف وید کا بھجن گا رہے ہیں کہ جو ہے سو وید ہی ہے۔ عیسائی ساری تعلیم الٰہی انجیل پر ختم کیے بیٹھے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ قدر و منزلت ہریک کتاب کی افادہ توحید سے وزن کی جاتی ہے اور جو کتاب توحید کا فائدہ پہنچانے میں زیادہ ہو وہی رتبہ میں زیادہ ہوتی ہے۔ ‘‘ الٰہی کتاب کی اصل چیز تو یہ ہے کہ اس میں توحید کا سبق زیادہ ہو۔’’ اور یہی وجہ ہے کہ اگر منکرِ وحدانیتِ الٰہی کا کیسا ہی جامع اخلاق کیوں نہ ہو مگر تب بھی نجات نہیں پاسکتا۔‘‘سارے جامع اخلاق اس میں موجود ہوں لیکن توحید کا اگر منکر ہو تو اللہ کے نزدیک وہ نجات یافتہ نہیں ہے۔ ’’اب ان صاحبوں کو سوچنا چاہیے کہ توحید جو مدار نجات کا ہے کس کتاب کے ذریعہ سے دنیا میں سب سے زیادہ شائع ہوئی۔ بھلا کوئی بتلائے تو سہی کہ کس ملک میں وید کے ذریعہ سے وحدانیتِ الٰہی پھیلی ہوئی ہے…کوئی ملک نظر نہیں آتا کہ جہاں بذریعہ انجیل کے اشاعت توحید کی ہوئی ہو بلکہ انجیل کے ماننے والے موحد کو ناجی ہی نہیں سمجھتے۔ ‘‘نجات یافتہ نہیں سمجھتے جو توحید کو مانتے ہیں ’’اور پادری لوگ اہل توحید کو ایک اندھیری آگ میں بھیج رہے ہیں۔‘‘ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ جو توحید کو ماننے والے ہیں، ایک خدا کو ماننے والے ہیں وہ تین خداؤں کو نہیں مانتے تو آگ میں پڑ رہے ہیں ’’کہ جہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا اور بقول ان کے اس کالی آگ سے وہی شخص بچے گا جو خدا پر موت اور مصیبت اور بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ اور تجسم اور حلول ہمیشہ کے لیے روا رکھتا ہو۔ ورنہ کوئی صورت بچنے کی نہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ ؑکا اس میں نقشہ کھینچا ہے۔’’ گویا وہ فرضی بہشت یورپ کی دو بزرگ قوموں انگریزوں اور روسیوں کو نصفا نصف تقسیم کرکے دیا جائے گا۔‘‘ اب اس میں اَور بھی بڑے ملک تقسیم ہو گئے ہیں۔ امریکہ والے بھی کہتے ہیں بلکہ اب تو صدر امریکہ کے بعض ہمدردوںکی طرف سے یہاں تک کہا جانے لگ گیا ہے کہ مسیح کی جو آمد ثانی ہے وہ شاید ٹرمپ کی صورت میں ہو گی۔ انا للہ۔فرماتے ہیں کہ نصفا نصف تقسیم کرکے دیا جائے گا’’ اور باقی سب موحد اس قصور سے جو خدا کو ہر ایک طرح کے نقصان سے جو اس کے کمال تام کے منافی ہے پاک سمجھتے تھے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ غرض ہماری اس تحریر سے یہ ہے کہ

آج صفحۂ دنیامیں وہ شے کہ جس کا نام توحید ہے بجز امت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اَور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اَور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑہا مخلوقات کو وحدانیت الٰہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف رہبر ہو۔ ہریک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنالیا اور مسلمانوں کا وہی خدا ہے جو قدیم سے لازوال اور غیرمبدّل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔ سو یہ تمام واقعات ایسے ہیں کہ جن سے ہادی اسلام کا صدق نبوت اظہر من الشمس ہے۔‘‘

کھلے روشن کی طرح ہے سورج کی طرح روشن ہے۔ ’’کیونکہ معنے نبوت کے اور علّتِ غائی رسالت اور پیغمبری کی انہیں کی ذات بابرکات میں ثابت اور متحقق ہورہی ہے‘‘ یہی ثابت ہو رہا ہے سب کچھ ۔ ’’اور جیسا کہ مصنوعات سے صانع شناخت کیا جاتا ہے ویسا ہی عاقل لوگ اصلاح موجودہ سے اس مصلح ربانی کی شناخت کررہے ہیں۔‘‘ کوئی چیز بنانے والا ہو تو اس کی جو چیز بنی ہو۔ کوئی بھی پرزہ بنایا ہے یا کوئی چیز بنائی ہو اس سے شناخت کیا جاتا ہے کہ وہ کیسی اعلیٰ بنائی ہے یا کس قسم کی بنائی ہے۔ اسی طرح مصلح ربانی کی شناخت اس طرح ہوتی ہے کہ وہ توحید کا پرچار کرنے والا ہوتا ہے۔

’’اسی طرح ہزارہا ایسے اور بھی واقعات ہیں کہ جن سے آنحضرت کا موید بتائید الٰہی ہونا ثابت ہوتا ہے ۔مثلاً

کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بے زر، بے زور، بیکس، اُمی، یتیم، تنہا، غریب ایسے زمانہ میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مالی اور فوجی اور علمی رکھتی تھی ایسی روشن تعلیم لایا کہ اپنی براہین قاطعہ اور حجج واضحہ سے سب کی زبان بند کردی اور بڑے بڑے لوگوں کی جو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے‘‘یعنی فلسفی کہلانے والے اور بڑے سکالر جو تھے’’فاش غلطیاں نکالیں اور پھر باوجود بے کسی اور غریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ بادشاہوں کو تختوں سے گرا دیا اور انہیں تختوں پر غریبوں کو بٹھا یا۔ اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اَور کیا تھا۔ کیا تمام دنیا پر عقل اور علم اور طاقت اور زور میں غالب آجانا بغیر تائید الٰہی کے بھی ہوا کرتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 108تا 119)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ’’تواریخ صاف بتاتی ہے اور فرقان مجید کے کئی مقامات میں …بوضاحت تمام وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تمام دنیا میں شرک اور گمراہی اور مخلوق پرستی پھیل چکی تھی اور تمام لوگوں نے اصولِ حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور صراطِ مستقیم کو بھول بھلا کر ہر یک فرقہ نے الگ الگ بدعتوں کا راستہ لے لیا تھا۔ عرب میں بت پرستی کا نہایت زور تھا۔ فارس میں آتش پرستی کا بازار گرم تھا۔‘‘ ایرانی لوگ اس زمانے میں آتش پرست تھے ۔آگ کو پوجا کرتے تھے۔’’ ہند میں علاوہ بت پرستی کے اور صدہا طرح کی مخلوق پرستی پھیل گئی تھی اور انہی دنوں میں کئی پوران اور پستک کہ جن کے رو سے بیسیوں خدا کے بندے خدا بنائے گئے اور اوتار پرستی کی بنیاد ڈالی گئی۔ تصنیف ہو چکی تھی اور بقول پادری بورٹ صاحب‘‘لکھا ہے۔ یہاں اس سے آپؑ کی مراد جان ڈیون پورٹ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ ’’اور کئی فاضل انگریزوں کے ان دنوں میں عیسائی مذہب سے زیادہ اَور کوئی مذہب خراب نہ تھا۔‘‘ جان ڈیون پورٹ نے بھی یہ لکھا ہے اور آپؑ کے زمانے میں ان کی جو باتیں آپؑ کے علم میں آئیں، اَور لوگوں نے بھی، عیسائی مؤرخوں نے، فاضل انگریزوں نے بھی یہ لکھا ہے کہ کوئی مذہب ایسا خراب نہ تھا جتنا عیسائیت ہے ’’اور پادری لوگوں کی بد چلنی اور بداعتقادی سے مذہب عیسوی پر ایک سخت دھبہ لگ چکا تھا اور مسیحی عقائد میں نہ ایک نہ دو بلکہ کئی چیزوں نے خدا کا منصب لے لیا تھا۔پس

آنحضرت ؐکا ایسی عام گمراہی کے وقت میں مبعوث ہونا کہ جب خود حالت موجودہ زمانہ کی ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اور ہدایت ربانی کی کمال ضرورت تھی اور پھر ظہور فرما کر ایک عالم کو توحید اور اعمالِ صالحہ سے منور کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو اُم الشرور ہے قلع قمع فرمانا اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آنحضرتؐ خدا کے سچے رسول اور سب رسولوں سے افضل تھے۔

ان کا سچا ہونا تو اس سے ثابت ہے کہ اس عام ضلالت کے زمانہ میں قانون قدرت ایک سچے ہادی کا متقاضی تھا اور سنتِ الٰہیہ ایک رہبر صادق کی مقتضی تھی ‘‘تقاضا کر رہی تھی۔ سنت بھی یہی تھی کہ جب لوگ بگڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فرستادے بھیجتا ہے ’’کیونکہ قانون قدیم حضرت ربّ العالمین کا یہی ہے کہ جب دنیا میں کسی نوع کی شدت اور صعوبت اپنے انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو رحمتِ الٰہی اس کے دُور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ جیسے جب اِمساکِ باران سے غایت درجہ کا قحط پڑ کر‘‘ بارشیں نہ ہوں، قحط سالی ہو ،خشک سالی ہو تو قحط پڑ جاتا ہے ’’خلقت کا کام تمام ہونے لگتا ہے‘‘ لوگ مرنے لگتے ہیں’’تو آخر خداوند کریم بارش کر دیتا ہے اور جب وبا سے لاکھوں آدمی مرنے لگتے ہیں تو کوئی صورت اصلاح ہوا کی نکل آتی ہے یا کوئی دوا ہی پیدا ہو جاتی ہے اور جب کسی ظالم کے پنجہ میں کوئی قوم گرفتار ہوتی ہے تو آخر کوئی عادل اور فریاد رس پیدا ہو جاتا ہے۔پس ایسا ہی جب لوگ خدا کا راستہ بھول جاتے ہیں اور توحید اور حق پرستی کو چھوڑ دیتے ہیں تو خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کسی بندہ کو بصیرت کامل عطا فرما کر اور اپنے کلام اور الہام سے مشرف کر کے بنی آدم کی ہدایت کے لیے بھیجتا ہے کہ تا جس قدر بگاڑ ہو گیا ہے اس کی اصلاح کرے۔ اس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ پروردگار جو قیوم عالم کا ہے‘‘ جو دنیا کو قائم رکھنے والا ہے ’’اور بقا اور وجود عالم کا اسی کے سہارے اور آسرے سے ہے ‘‘اس کے آسرے سے ہے ،اسی کی وجہ سے ہے’’ کسی اپنی فیضان رسانی کی صفت کو خلقت سے دریغ نہیں کرتا اور نہ بیکار اور معطل چھوڑتا ہے بلکہ ہر یک صفت اس کی اپنے موقعہ پر فی الفور ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔ پس جبکہ ازروئے تجویز عقلی کے اس بات پر قطع واجب ہوا کہ ہر یک آفت کا غلبہ توڑنے کے لیے خدا تعالیٰ کی وہ صفت جو اس کے مقابلہ پر پڑی ہے ظہور کرتی ہے اور یہ بات تواریخ سے اور خود مخالفین کے اقرار سے اور خاص فرقان مجید کے بیان واضح سے ثابت ہو چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت میں یہ آفت غالب ہو رہی تھی کہ دنیا کی تمام قوموں نے سیدھا راستہ توحید اور اخلاص اور حق پرستی کا چھوڑ دیا تھا اور نیز یہ بات ہر یک کو معلوم ہے کہ اس فساد موجودہ کی اصلاح کرنے والے اور ایک عالم کو ظلمات شرک اور مخلوق پرستی سے نکال کر توحید پر قائم کرنے والے صرف آنحضرت ہی ہیں کوئی دوسرا نہیں تو ان سب مقدمات سے نتیجہ یہ نکلا کہ آنحضرت خدا کی طرف سے سچے ہادی ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 112تا114 حاشیہ نمبر 10)

پس

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ وجود ہیں جنہوں نے توحید کو حقیقی رنگ میں دنیا میں قائم کیا۔

گذشتہ خطبات میں اس کے بہت سارے واقعات، بہت سارے حوالے بھی مَیں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے لیے کوشش فرمایا کرتے تھے اور پھر

ہم اس زمانے میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آپؐ کے عاشق صادق کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے قیام کے لیے مامور کیا کیونکہ اس زمانے میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام جو مسیح موعود اور مہدی معہودبھی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور سنت کا عملی نمونہ تھے اور آپؑ کا دل ہی اپنے آقا کی اتباع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے پھیلانے کے لیے ایک درد سے بھرا ہوا تھا۔

چنانچہ ہمیں آپؑ کی تحریروں اور آپؑ کی عملی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں نظر آتی ہیں جن میں سے چند ایک میں بیان کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ بھی عجیب معاملہ ہے۔ ہمارا یہ الہام کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ ایک نئی طرز کا الہام ہے۔ ہم نے اب سے پہلے کسی الہامی عبارت میں اس قسم کے الفاظ نہیں دیکھے۔ اس کے معنے جو ہمارے خیال میں آتے ہیں یہ ہیں کہ

ایسا شخص بمنزلہ توحید ہی ہوتا ہے جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں توحید الٰہی کی نہایت ہتک کی گئی ہو اور اسے نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ ایسے وقت میں آنے والا توحید مجسم ہوتا ہے۔ ‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 1،ایڈیشن 2022ء)

یہ ایک مجلس میں آپؑ نے بیان کیا تھا اس کو ایک اخبار نے اس طرح لکھا اور دوسرے اخبار نے البدر میں ذرا تفصیل سے اس طرح لکھا ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ

’’اس شخص مامور شدہ کو توحید کی پیاس ایسی لگائی جاتی ہے کہ وہ تمام اپنے اغراض اور مقاصد کو ایک طرف رکھ کر توحید کے قائم کرنے میں خود ایک مجسم توحید ہو جاتا ہے۔ اس کے اٹھنے بیٹھنے اور حرکت اور سکون اور ہر ایک قول و فعل میں توحید کی لَو اسے لگی ہوئی ہوتی ہے۔ ‘‘

(البدرجلد2نمبر12 مورخہ 10؍اپریل 1903ءصفحہ91کالم نمبر 2)

فرمایا:’’ ہر شخص اپنا ایک مقصد اور غایت مقرر کرتا ہے مگر اس شخص‘‘ کا مقصود یعنی جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے اس ’’کا مقصود ومطلوب اللہ تعالیٰ کی توحید ہی ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو اپنے طبعی جذبات اور مقاصد سے بھی مقدم کر لیتا ہے۔ اپنی ساری ضرورتوں کو پیچھے ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح پر ہر ایک شخص کا اپنے مقاصد کا ایک بت ہوتا ہے اور وہ اس تک پہنچنا چاہتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوتا ہے کہ اس تک پہنچا دے یا اس کی عمر کا پہلے ہی خاتمہ کر دے۔‘‘ مقصد حاصل کرنا، اس کے لیے لوگوں کی، کاروباری لوگوں کی ،تجارت پیشہ لوگوں کی ،اَور دنیاوی مقاصد کے حاصل کرنے والے لوگوں کی بڑی خواہشیں ہوتی ہیں۔ اور انہوں نے اپنا ایک ٹارگٹ بنایا ہوتا ہے۔ لیکن یا تو اللہ تعالیٰ ان کو پہنچا دیتا ہے یا اس سے پہلے ان کاخاتمہ ہو جاتا ہے۔’’ وہ اپنے مال یا عزّت و آبرو، بال بچوں یا دوسری حوائج کے لیے تڑپتا ہے اور بے خود ہوتا ہے اور بسااوقات لوگ انہیں مشکلات میں پڑ کر خودکشی بھی کر لیتے ہیں مگر وہ شخص جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے اس کا یہی جوش خدا تعالیٰ کی توحید کے لیے ہوجاتا ہے اور اپنی نفسانی خواہشوں کی بجائے خدا تعالیٰ کی توحید کے لیے مضطرب اور بے خود ہوتا ہے۔‘‘

فرماتے ہیں کہ ’’مَیں سمجھتا ہوں کہ ایسے وقت میں یہ الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْکیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنی توحید بہت ہی پیاری ہے۔ یہ توحید تھی جس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے کبھی وبا، کبھی قحط اور کبھی اپنے پیارے انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ کی تلوار سے اس کے قیام کے واسطے ہزاروں مشرک جانوں کو تباہ کردیا۔ مکہ و مدینہ منورہ کے حالات بھی صرف اسی کی خاطر پیچیدہ ہوئے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ بھی اسی توحید کے لیے تھا ۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 1-2،ایڈیشن 2022ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شرک اور اس کی باریک اقسام

کا تذکرہ کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ ’’یہ بھی چاہیے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پرہیز ہو۔ نہ سورج نہ چاند نہ آسمان کے ستارے۔ نہ ہوا نہ آگ نہ پانی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ایسا ان پر بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کےقسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کر کے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور نہ اپنے علم پر کوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت روح گری رہے۔‘‘ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی اللہ کے حضور جھکو کہ اللہ! تیرے فضل سے سب کچھ ہوگا۔ سب نتائج پیدا ہوں گے۔ ’’انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے۔‘‘ انسان کا علم کسی پڑھانے والے کامحتاج ہے لیکن پھر limitied ہے، محدود ہے۔ ’’مگر اس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا علم کسی پڑھانے والے کا محتاج نہیں ہے ’’اور باایں ہمہ غیرمحدود ہے۔‘‘ اس میں کوئی حد نہیں ہے’’ انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے۔ ‘‘سننے کی طاقت جو ہے انسان کی ہوا چاہتی ہے اور پھر بھی محدود حد تک سن سکتا ہے’’ مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔ اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔ اس لیے اس کی توحید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو ۔ یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے۔‘‘

(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 154-155)

آج کل کے زیر اثر بعض دفعہ بچوں میں بھی یہ سوال اٹھتے ہیں اور لکھتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ اللہ تعالیٰ کہاں سے آیا؟ شاید بڑے ان کو بتاتے ہیں یا خود ان کے ذہنوں میں سوال اٹھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات ایسی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور لامحدود ہے۔ اسی نے ہر ایک کو پیدا کیا ہے۔ اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ اس لیے جو بھی ایک تصوّر پیدا ہو سکتا ہے کسی آخری چیز کا جو خود بخود وجود میں آئی وہ خدا تعالیٰ ہی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :

’’یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا کوئی رازق نہ ماننا کوئی مُعز اور مُذِل خیال نہ کرنا‘‘ کوئی عزت دینے والا، ذلیل کرنے والا خیال نہ کرنا۔ ’’کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا، اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا۔ اپنا تذلّل اسی سے خاص کرنا۔اپنی امیدیں اسی سے خاص کرنا۔ اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔

پس کوئی توحید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔ اوّل ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا‘‘ یعنی ختم ہونے والی ہیں’’ اور تمام کو ھالکة الذات اور باطلة الحقیقت خیال کرنا۔‘‘سب چیزیں اپنی ذات میں ہلاک ہونے والی ہیں اور جھوٹی ہیں۔ اس میںمکمل کاملیت نہیں ہے۔’’دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا اور جو بظاہر ربّ الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں ‘‘جن سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے وہ ان کو بھی رب سمجھتا ہے ’’ یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔‘‘نہ کوئی امریکہ ہے ،نہ کوئی اسرائیل ہے، نہ کوئی دنیا کی اَور بڑی طاقت ہے بلکہ صرف خدا تعالیٰ کی طاقت ہے۔ اگر مسلمان بھی اس چیز کو پہچان لیں تو یقیناً ان کی کامیابی ہے۔’’ تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا اور اسی میں کھوئے جانا۔ ‘‘

(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ،روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349-350)

جس طرح اللہ تعالیٰ سے محبت ہونی چاہیے ویسی کسی اَور سے نہ ہو۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’اب اس زمانہ میں جب خدا نے دیکھا کہ زمین بگڑ گئی اور کروڑہا مخلوقات نے شرک کی راہ اختیار کر لی اور چالیس کروڑ سے بھی زیادہ ایسے لوگ دنیا میں پیدا ہو گئے کہ ایک عاجز انسان، مریم کے بیٹے کو خدا بنا رہے ہیں۔‘‘ اس زمانے میں عیسائیوں کی تعداد چالیس کروڑ تھی ’’اور ساتھ ہی شراب خواری اور بے قیدی اور دنیا پرستی اور غافلانہ زندگی انتہا تک پہنچ گئی تو خدا تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لیے مامور کیا کہ تا مَیں ان خرابیوں کی اصلاح کروں۔ سو اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے اور بد عقیدگی اور بداعمالی سے توبہ کر چکا ہے۔‘‘ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپؑ نے یہ فرمایا۔ اب تو کروڑوںاللہ تعالیٰ کے فضل سے آپؑ کی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں ۔اور نشانات کا بھی آپؑ نے ذکر فرمایا کہ ’’ اور ڈیڑھ سو سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکا ہے جس کے اس ملک میں کئی لاکھ انسان گواہ ہیں اور

مَیں بھیجا گیا ہوں کہ تا زمین پر دوبارہ توحید کو قائم کروں اور انسان پرستی یا سنگ پرستی سے لوگوں کو نجات دے کر خدائے واحد لا شریک کی طرف ان کو رجوع دلاؤں اور اندرونی پاکیزگی اور راستبازی کی طرف ان کو توجہ دوں۔

چنانچہ مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگوں میں ایک تحریک پیدا ہو گئی ہے اور ہزارہا لوگ میرے ہاتھ پر توبہ کرتے جاتے ہیں اور آسمان سے ہوا بھی ایسی چل رہی ہے کہ اب توحید کے موافق طبیعتیں ہوتی جاتی ہیں اور صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہے کہ انسان پرستی کو دنیا سے معدوم کر دے۔ اس ارادہ کے پورا کرنے کے لیے صدہا اسباب پیدا کیے گئے ہیں۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد1 صفحہ 256-257جدید ایڈیشن)

اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی وہ مہیا فرمائے ہوئے ہیں اور اس کے ذریعے سے ہم تبلیغ بھی کرتے ہیں اور

ہر احمدی کا یہ کام ہے کہ توحید کو پھیلانے کے لیے بھی کوشش کرے۔

آپؑ فرما تے ہیں :’’جہاں تک ہم سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ بت پرستی کی تعریف کیا ہے اور ان لوگوں کو کون سی چیز بت پرست بناتی ہے، لازم ہے کہ ان امور کو ہم بیان کریں۔جاننا چاہیے کہ عبادت، عقاید کا نتیجہ ہے اور اہل حق کے عقاید یہ ہیں کہ خدا ایک ہے اور اللہ جلّ شانہ کی صفات ہمیشہ سے قائم و دائم ہیں یعنی نہ اس کی صفات میں تبدل ہے نہ ہی تغیر ‘‘ہے۔ کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ،کوئی تغیر نہیں ہوسکتا’’ اور نہ ابتدا ہے اور نہ انتہا ہے۔ سچا اور حقیقی خدا ابدی اور ازلی ہے۔ کوئی مخلوق نہیں کہ متولد ہو‘‘ یعنی جو کسی ذریعےسے پیدا ہوا ہو۔ جیسا کہ پہلے بھی میں نے بتایا۔ بعضوں کے سوالوں کا جواب اس میں آ گیا کہ سچا اور حقیقی خدا ابدی اور ازلی ہے کوئی مخلوق نہیں کہ متولد ہو۔وہ پیدا نہیں ہوا۔ ’’اور ایسی صفات سے برتر ہے جن کو تسلیم کرنے سے ہمارا دل نفرت کرے۔ اس کی صفات تو ہمارے دل کا اقرار ہیں اور ہمارا دل اس کی صفات سے مانوس ہے۔ وہ ازل سے واحد ہے۔ کون سا دل ہے جو اس کی وحدت کا منکر ہے۔ ابد سے وہ ایک ہے اور کون سا دل ہے جو اس کی تثلیث کا اقرار کرتا ہے۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد5 صفحہ 489، 490)

عیسائی تعلیم یہ ہے ناں کہ تین خدا ہیں۔ تو جو نیک فطرت ہے وہ کوئی اقرار نہیں کر سکتا کہ تثلیث ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:’’ میں تثلیث کی خرابیوں کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا ہوں‘‘ عیسائیت میں جو خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں ان کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا ہوں ’’اس لیے یہ دردناک نظارہ کہ ایسے لوگ دنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے میرے دل پر اس قدر صدمہ پہنچاتا رہا ہے کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ مجھ پر میری تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی غم گذرا ہو بلکہ اگر ہمّ و غم سے مرنا میرے لیے ممکن ہوتا تو یہ غم مجھے ہلاک کر دیتا کہ کیوں یہ لوگ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں اور کیوں یہ لوگ اس نبی پر ایمان نہیں لاتے جو سچی ہدایت اور راہ راست لے کر دنیا میں آیا ہے ۔‘‘یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں ایمان نہیں لاتے۔’’ ہر ایک وقت مجھے یہ اندیشہ رہا ہے کہ اس غم کے صدمات سے میں ہلاک نہ ہو جاؤں…‘‘ آپؑ فرماتے ہیں:’’ خدا نے قرآن کریم میں سچ فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ اس افترا سے آسمان پھٹ جائیں کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا جاتا ہے اور

میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا بہشت یہی ہے کہ میں اپنی زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو رہائی پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ لوں اور میری روح ہر وقت دعا کرتی ہے کہ اے خدا اگر میں تیری طرف سے ہوں اور اگر تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ دن دکھلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اٹھا دی جائے کہ گویا نعوذ باللہ انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ ایک زمانہ گذر گیا کہ میرے پنج وقت کی یہی دعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کر لیں اور تثلیث کے اعتقاد سے توبہ کر یں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ۔ جلد2 صفحہ547-548، ایڈیشن2018ء)

عیسائیت عملاً تو معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا تثلیث کا نظریہ تو صرف کتابی نظریہ ہی رہ گیا ہے۔ یورپ میں خاص طورپہ بہت کم ہیں جو پریکٹس (practise)کرنے والے ہیں۔ لیکن افریقہ اور ساؤتھ امریکہ میں ابھی بھی ہیں۔ اور جو تثلیث کے نظریے کو چھوڑ بھی رہے ہیں وہ بھی ایک خدا کو نہیں مانتے تو

توحید پر قائم کرنے کے لیے ہمیں جس حد تک ہو کوشش کرنی چاہیے کہ یہ پیغام پہنچائیں۔

اللہ تعالیٰ کرے کہ

جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو بھیجا تھا اور جس توحید کی تعلیم کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا اس حقیقی توحید پر ہم عمل کرنے والے بھی ہوں اور دنیا میں پھیلانے والے بھی ہوں کہ اب انسانیت کی بقا کا یہی ایک حل ہے۔ اس کے علاوہ اَور کوئی حل نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

نماز کے بعد مَیں دو

جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔

ایک ہیں

مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب جو ضلع سیالکوٹ کے سابق امیر تھے۔

آج کل کچھ عرصہ سے امریکہ میں تھے۔ گذشتہ دنوں اکانوے (91)سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم موصی تھے ۔

ان کی بیٹی حفصہ حئی کہتی ہیں کہ بچپن ہی سے ان کی زندگی کو جماعت کی خدمت میں خلوص، عاجزی اور کامل لگن کے ساتھ گزارتے ہم نے دیکھا ہے۔ خلافت سے ان کی گہری وابستگی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا جس نے ان کی اولاد اور اہل خانہ کے دلوں میں بھی خلافت سے محبت اور وفاداری پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔اور یہ حقیقت بھی ہے۔ بہت وفادار اور نظام جماعت سے اخلاص رکھنے والے شخص تھے۔ ان کو جوانی سے لے کے آخری عمر تک مختلف خدمتوں کی توفیق ملی۔ خدام الاحمدیہ میں ضلع کے قائد کے طور پر ،مقامی قائد کے طور پر، پھر مقامی امیر کے طور پر ،ضلعی امیر کے طور پر خدمات کا ان کو موقع ملتا رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کا بڑا شوق تھا اور مرکز سے جو وفود جاتے تھے ان کو ہمیشہ اپنے گھر میں ٹھہراتے، ان کی خدمت کیا کرتے تھے۔ بڑی خوش دلی سے ان کی مہمان نوازی کرتے۔ ان کے چہرے پر ایک خاص اطمینان ہوتا جب یہ خدمت کر رہے ہوتے تھے۔ کبھی کسی عہدے دار کے بارے میں کوئی نامناسب بات نہ انہوں نے کہی نہ کبھی سننے کے روادار تھے۔ وہ کبھی اپنے سامنے تنقید کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ پر ان کو بڑا کامل توکّل تھا۔ کبھی بھی کوئی آزمائش پیش آئی خواہ جماعتی خدمت ہو یا ذاتی زندگی میں تو ہمیشہ ان کی پوری توجہ دعا کی طرف رہی اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ تھا اور ان کی بیٹی کہتی ہیں ہم نے بھی دیکھا ہے کہ اکثر اوقات اللہ تعالیٰ نے آپ کی بھرپور مدد فرمائی اور ان کی دعائیں قبول ہوئیں۔ اور اپنی والدہ کی بھی انہوں نے بہت خدمت کی۔ بیمار رہیں توکئی سال تک بڑے صبر اور محبت سے ان کی خدمت کرتے رہے۔

ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور نواسے نواسیاں اور پڑ نواسے وغیرہ شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔

اسی طرح انتظامی لحاظ سے امیر ضلع بھی تھے تو ہر جماعت کا ان کو پتہ تھا۔ چھوٹی سے چھوٹی جماعت جو گاؤں کی تھی اس کا بھی پتہ تھا اور تمام راستوں کاپتہ تھا۔ ضلع کے حالات پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ یہ نہیں کہ صرف امیر بن کے بیٹھے ہیں تو شہر میں رہ رہے ہیں بلکہ یہ ہر جگہ جایا کرتے تھے۔اور جلسہ سالانہ پہ جب حالات اچھے تھے اور وہاں سیالکوٹ سے بھی جلسہ پہ شامل ہونے والوں کی سپیشل ٹرینیں آیا کرتی تھیں تو بڑے نظم و ضبط سے اس کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ بڑی محبت کرنے والی شخصیت تھے اور ہمیشہ اخلاص و وفا سے جیسا کہ میں نے کہا پُر تھے۔ بہت عاجز انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

دوسرا ذکر ہے

مکرم اُدراگو حَالیدو (Ouedraogo Halidou) صاحب کا۔ یہ برکینافاسو

کے مقامی احمدی ہیں۔ فوج میں ملازم تھے اور آج کل آیوگیا کے ایک گاؤں میں ڈیوٹی پر متعین تھے کیونکہ وہاں دہشت گردوں نے کافی فساد مچایا ہوا ہے تو 3؍مارچ کو ڈیوٹی کے دوران دہشت گردوں کے حملے میں ان کی وفات ہوگئی۔ شہید ہو گئے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر چالیس سال تھی۔ ایک مخلص خادم تھے۔2007ء میں انہوں نے احمدیت قبول کی اور آپ اور آپ کی اہلیہ اپنی فیملی میں اکیلے احمدی تھے ۔ باقی کوئی احمدی نہیں تھا ان کے خاندان میں۔

ریجنل مبلغ سعادت صاحب کہتے ہیں۔ مرحوم جماعت کے بہت ہی فعال ممبر تھے اور جماعت اور خلافت سے گہرا تعلق تھا۔ بڑے نیک ،عبادت گزار ،مخلص، احمدی نوجوان تھے۔ قائد مجلس خدام الاحمدیہ بھی رہ چکے تھے۔ چندہ جات میں ان کی باقاعدگی تھی۔ جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ فوج کی جاب کے باوجود برکینا فاسو کے جلسہ سالانہ میں ہر سال شامل ہوتے تھے۔ مربیان اور معلمین سے بہت عزت اور احترام سے پیش آتے اور ان کی مدد بھی کیا کرتے تھے ۔2008ء میں جب مَیں گھانا دورے پہ گیا ہوں۔ 2005ء میں تو برکینا فاسو بھی گیا تھا لیکن 2008ء میں گھانا گیا ہوں تو وہاں برکینا فاسو کے خدام کا سائیکلوں پہ ایک قافلہ آیا تھا۔ ایک ہزار سے زیادہ کلومیٹر سفر کر کے اور ان کے سائیکل بھی ایسے ہمارے جیسے یہاں کے نہیں ہوتے۔ ٹوٹے پھوٹے سائیکل، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور اس میں انہوں نے ایک ہزار سے زائد کلومیٹر کا سفر کیاہے۔ یہ گھانا پہنچے اور وہاں مجھے ملے۔ ہمیشہ جلسوں پہ بھی یہ سائیکل پر جایا کرتے تھے۔

سمپوری عبدالرحمٰن (Simpore Abdoul Rehman) صاحب لوکل مشنری کہتے ہیں ان کو جماعت کی بے لوث خدمت کرنے والا اور ہمہ وقت خدمت کے لیے مستعد پایا ۔کسی کام کے لیے بلایا جاتا فوراً لبیک کہتے۔ جلسہ سالانہ اور دیگر تنظیمی اجتماعات میں پوری ذمہ داری سے کام کرتے۔ ان کے کام کی وجہ سے اس طرح devoted تھے کہ لوگ ان کے کام کی وجہ سے ان کو چھوٹا معلم کہا کرتے تھے بلکہ معلم بھی اتنے وقف کی روح سے کام نہیں کرتے جتنا یہ کیا کرتے تھے۔ جب ان کو اپنی فوج میں ابھی کام نہیں ملا تھا تو بڑے فکر مند رہتے تھے کہ مجھے آج کل کوئی کام نہیں۔ میں غریب ہوں اور جماعت کی ترقی میں کس طرح حصہ لے سکتا ہوں۔ بہرحال جب ان کو نوکری ملی تو باقاعدگی سے پھر انہوں نے چندہ ادا کرنا شروع کیا۔ بڑا گہرا تعلق جماعت کے ساتھ تھا۔ جہاں بھی ان کی ٹرانسفر ہوتی وہاں جا کے پہلے جماعتی سینٹر یا مسجد کی تلاش کرتے اور نماز جمعہ وغیرہ میں باقاعدہ آیا کرتے تھے۔

ان کے پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سےمغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍مارچ 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button