محترم نذیر احمد ڈار صاحب
(ڈاکٹر حامد اللہ خان ۔ یوکے)
خاکسار اس وقت جماعت کے ایک دیرینہ خادم اور سلسلہ کی خدمت کے لیے ہمہ وقت مستعد اور معاون دوست کا مختصرًا ذکر خیر کرنا چاہتا ہے۔ جن کا خاکسار کے ساتھ بھی بہت محبت اور پیار کا تعلق رہا۔ ان کے ساتھ بِیتے کئی پل اور ان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔
آپ بہت مہمان نواز تھے۔ مجھے آپ کے گھر کئی بار رہنے کا اتفاق ہوا۔ آپ قادیان میں میرے سسر محترم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کے کلاس فیلو بھی رہ چکے تھے۔ محترم صاحبزادہ صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ موسم گرما میں خاکسار کے ہاں جب یارکشائر میں ہمارا قیام تھا، تشریف لاتے(یہ خلافت ثالثہ کے دور کی بات ہے ) اور ہم جب بھی ویک اینڈ پر جماعتی اجتماعات پر لندن آتے تو ہمارا قیام محترم نذیر ڈار صاحب کے اصرار پر انہی کے گھر پر ہوتا تھا۔ محترم ڈار صاحب کی بیگم صاحبہ بہت تواضع سے کھانے کا اہتمام کرتیں اور بالکل اپنے عزیز رشتہ داروں کی طرح ہمارا خیال رکھتیں۔ اللہ انہیں جزائےخیر دے اور ان کےدرجات بلند کرے۔

خاکسار اور میری بیگم صاحبزادی امۃالحئی مرحومہ نے مع ہمارے بچگان، کئی مرتبہ محترم ڈار صاحب کے گھر قیام کیا۔ مرحوم ڈار صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ ہماری تواضع کرتےاور خدمت کرنےمیں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ اللہ تعالیٰ مرحومین پر ہمیشہ اپنی پیار کی نظر رکھے اور ان کےدرجات بلند کرے۔ کیا ہی پیارے شفقت کرنے والے وجود تھے۔
اُن دنوں مسجد فضل کے پاس کوئی گیسٹ ہائوس نہیں تھا اور باہر سے آنے والےمہمانوں کو رہائش کے سلسلہ میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خوش قسمتی سے مسجد فضل لندن کے قرب و جوارمیں چند احمدیوں کے گھر ہر وقت مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اور ان کی خاطر مدارات کے لیے کھلے رہتے تھے۔ خاکسار کو کئی مرتبہ محترم نذیر ڈار صاحب کے علاوہ محترم عبدالباقی ارشد صاحب مرحوم، محترم داؤد گلزار صاحب مرحوم ( جو حضرت عبداللہ سنوری صاحبؓ کے خاندان سے تھے) اور محترم خالد اختر صاحب مرحوم کے ہاں قیام کرنے کا موقع میسر آیا۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجات بلند کرے آمین۔ اس کے علاوہ برادرم فلاح الدین صاحب اوران کے بہنوئی محترم ممتاز صاحب کے ہاں بھی کئی بار قیام رہا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائےخیر سے نوازے۔ آمین
محترم ڈار صاحب مشرقی افریقہ میں پولیس میں اعلیٰ عہدہ پر فائز رہ چکے تھے لیکن اس کے باوجود طبیعت میں نہایت درجہ خاکساری تھی۔خدمت دین میں صف اوّل میں تھے۔ آپ نے لندن جماعت میں مختلف حیثیتوں سے کام کیا اور ہرذمہ داری کو فرضِ اوّلین سمجھ کر اداکرتے تھے۔
خاکسار ۱۹۶۷ء میں یوکے آیا۔ لندن مشن میں کام کرنے والوں کی اس وقت بہت کمی تھی۔ لیکن جب مشرقی افریقہ کے احمدی احباب لندن آکر رہائش پذیر ہوئے تو انہوں نے جماعت کی کافی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ گویا الٰہی تقدیر اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔ اور مستقبل میں خلیفہ وقت کی لندن ہجرت کے پیش نظر یہ ساری تیاریاں ہو رہی تھیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جماعت کو تیار کر رہا تھا۔ ان خوش قسمت لوگوں میں محترم ڈاکٹر ولی شاہ صاحب اور منصور شاہ صاحب کے والد محترم سید اقبال شاہ صاحب، نذیر احمدڈار صاحب، عبدالرحمان صاحب مرحوم اوربشیر احمد حیات صاحب مرحوم شامل تھے۔ اس کے علاوہ جو دوست جماعتی کاموں میں مستعد و فعال تھے ان میں محترم داؤد گلزار صاحب مرحوم، محترم ہدایت اللہ بنگوی صاحب مرحوم، محترم خالد اختر صاحب مرحوم، محترم اعجاز احمدصاحب اور محترم چودھری رشید احمدصاحب نمایاں ہیں۔
حضرت چودھری ظفراللہ خان صاحبؓ جب انٹرنیشنل کورٹ سے ریٹائر ہوئے تو آپ مستقلاً لندن منتقل ہو گئے۔ آپ کا قیام محمود ہال کی اُوپر والی منزل میں تھا۔ آپ جماعتی اردو کتب کا انگریزی میں ترجمہ کر رہے تھے۔ آپball pen کے ساتھ لکھتے تھے۔ ان دنوں جماعت کے پاس ٹائپنگ کا خاطر خواہ انتظام نہ تھا۔ محترم ڈار صاحب ہر شام حضرت چودھری صاحبؓ سے hand written ترجمہ کے کاغذات اپنے ساتھ گھر لے جاتے اور type کرکے اگلے دن اُن کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ اور یہ کام آپ بہت محنت، لگن اور باقاعدگی سے سرانجام دیتے۔
محترم ڈار صاحب کی بیگم صاحبہ کو یہ سعادت بھی حاصل تھی کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی پگڑی کا کپڑا دھو کر ا س پر مایا (starch) لگاتیں اور پھرمحترم ڈار صاحب کپڑے کو احتیاط کے ساتھ کلاء کے اوپر باندھ دیتے۔
محترم نذیر ڈار صاحب کو یارکشائر آنے کا موقع بھی ملا اور خاکسار کی دعوت پر آپ ہمارے گھر بھی تشریف لائے۔ یارکشائر میں ڈار صاحب کا قیام ان کے ہم زلف محترم اللہ دتہ احمدی صاحب کے گھر ہوتا تھا۔
۱۹۸۵ء میں اگست کے مہینہ میں Batley یارکشائر میں ہمارا سیرت النبیؐ کا جلسہ مقامی کونسل ہال میں ہونا تھا۔ لیکن مولویوں کی شدید مخالفت کی وجہ سے جلسہ منعقد نہ ہوسکا۔ مولویوں نے قریبی شہروں بریڈفورڈ، شیفیلڈ اورلیڈز وغیرہ سے بڑی تعداد میں فسادی ہجوم اکٹھاکیا۔ احمدی گنتی کے تھے جن میں خاکسار کے علاوہ میرے ماموں ڈاکٹر سعید احمد خان صاحب مرحوم اور اُن کی بیگم، نیزچند نواحمدی دوست بھی تھے۔ فسادی مولویوں نے ڈاکٹر سعید احمد خان مرحوم کو بھی مارا پیٹا اورخاکسار کو بھی اس حد تک مارا کہ میں بےہوش ہوگیا اور میری کار، جس پر کلمہ کا اسٹیکر لگا ہواتھا، اس کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد مخالفت بہت شدت اختیار کرگئی۔ لوکل کورٹ میں جب پولیس والوں نے کیس چلایا تو لندن سے محترمی ڈار صاحب تشریف لائے اور بڑی دلیری سے کورٹ گئے۔ ( جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ آپ مشرقی افریقہ میں پولیس میں اعلیٰ عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے اس لیے پولیس آپ کا احترام کرتی تھی)۔
آپ نےخلافت رابعہ کے شروع سالوں میں حضور ؒکے لندن قیام کے دوران آ پ ؒکےدست راست کی طرح کام کیا اور جماعت کے کئی انتظامی امور محترم نذیر احمد ڈار صاحب کے ذمہ ہوتے تھے جنہیں آپ نہایت اخلاص اورذمہ واری کے ساتھ سر انجام دیتے رہے۔ اسائلم کے لیے یوکے آنے والوں کی بھی ہر ممکن مدد اور راہنما ئی کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ جماعت کے ان مخلص دوستوں کی گونا گوں خدمات کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔ آمین یا رب العالمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محترم ماسٹر منیر احمد صاحب آف جھنگ



