متفرق شعراء

سر پہ دائم خلافت کا سایہ رہے

سر پہ دائم خلافت کا سایہ رہے
دل کی گہرائیوں سے دُعاگو ہیں سب

فضلِ ربی ہے سایہ فگن ہر گھڑی
دی ہے اللہ نے برکت جماعت کو سب

ہے خلافت نبوت کے منہاج پر
خاتم الانبیاءؐ کا ہے اعجاز سب

دورِ اوّل ہو یا دور ہو آخریں
سب ہے فضلِ خدا آپؐ ہی کے سبب

ساتھ کرتا ہے افواجِ قدّوسیاں
اپنا نائب کسی کو وہ چنتا ہے جب

تیز تر ہے ترقی کی جانب رواں
عمر سو سال سے بھی زیادہ ہے اب

عافیت ہے اسی سائباں میں فقط
آج دنیا کو ہے جس کی بے حد طلب

نہرِ عرفان ہے دعوتِ عام ہے
اور جی بھر کے پیتا ہے ہر تشنہ لب

اَب خلافت سے ہی اپنی پہچان ہے
اَب خلافت ہے ماں باپ نام و نسب

جوبھی ہیں اس سے برگشتہ سب خوار ہیں
جوبھی لڑتا ہے اللہ سے جیتا ہے کب؟

(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

مزید پڑھیں: قرآن ترا چہرہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button