بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۹)

(مرسلہ: احسان احمد۔مربی سلسلہ دفتر پی ایس، اسلام آباد)

٭… جامعہ احمدیہ گھانا کے ایک طالبعلم نے سوال بھجوایا کہ ایک مولوی سے کسی نے پوچھا کہ شیطان اگر آگ سے بنا ہے تو اسے جہنم میں درد کس طرح ہو گا؟ تو مولوی نے اس شخص کو تھپڑ مارا اور کہا کہ جو جلد تیرے رخسار پر ہے وہی میرے ہاتھ پر ہے، مجھے لگا کہ تم میرے تھپڑ سے درد محسوس نہیں کرو گے۔ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے

٭… کیا حیض روکنے کی دوائی کھا کر عورتیں ماہ رمضان کے روزے رکھ سکتی ہیں؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے اس کی اجازت دی تھی

٭… ایک دوست نے سورت یونس کی آیت نمبر ۵۸ کے حوالہ سے لکھا کہ روح کا دل کے ساتھ کیا تعلق ہے؟

٭… ایک مربی صاحب نے دریافت کیا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ Eye Dropsڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا جبکہ فقہی مسائل کے پروگرام میں کہا گیا ہے کہ روزہ میں Eye Drops کا استعمال ممنوع ہے۔ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے

٭… حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر جا کر خدا تعالیٰ سے اپنی دنیاوی اشیاء جیسے امتحان میں کامیابی یا کاروبار میں برکت کے لیے بھی دعا کر سکتے ہیں؟

سوال:۔ جامعہ احمدیہ گھانا کے ایک طالبعلم نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ ایک مولوی سے کسی نے پوچھا کہ شیطان اگر آگ سے بنا ہے تو اسے جہنم میں درد کس طرح ہو گا؟ تو مولوی نے اس شخص کو تھپڑ مارا اور کہا کہ جو جلد تیرے رخسار پر ہے وہی میرے ہاتھ پر ہے، مجھے لگا کہ تم میرے تھپڑ سے درد محسوس نہیں کرو گے۔ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۷ مارچ ۲۰۲۴ء میں اس بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب:یہ تو مولوی کا جواب ہے، جو اس کی عقل میں آیا۔ لیکن اس کی حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہﷺ میں فرشتوں کو نوری اورابلیس یا شیطان کو ناری وجود قرار دیا گیا ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی مطیع و فرمانبردار اور انسانوں میں نیکی کی تحریک کرنے والی ہستیاں ہیں۔ جن کے متعلق فرمایا: لَا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ۔(التحریم:۷)یعنی اللہ نے ان کو جو حکم دیا ہے اس کی وہ نافرمانی نہیں کرتے اور جو کچھ کہا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔ جبکہ ابلیس اور شیطان دین کا انکار کرنے والا، گناہوں اور غلط کاموں پر انسان کو اکسانے والا اور برائی کی تحریک کرنے والا وجود ہے۔جس کے متعلق فرمایا: اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا۔(بنی اسرائیل:۵۴) یعنی شیطان بے شک انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے۔ اورفرمایا:کَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہٖ۔(الکہف:۵۱)یعنی وہ جِنّوں میں سے تھا سو اس نے (اپنی فطرت کے مطابق) اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔

اسی طرح حدیث میں شیطان کے بارہ میں حضورﷺ نے فرمایا کہ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ۔ (صحیح بخاری کتاب الاعتکاف بَاب زِيَارَةِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا فِي اعْتِكَافِهِ)یعنی شیطان انسان کے بدن میں ایسے دوڑتا پھرتا ہے جیسے خون دوڑتا پھرتا ہے۔

پس ثابت ہوا کہ یہ سب استعارے ہیں، ورنہ اگر شیطان واقعی آگ سے بنا ہے تو وہ کس طرح انسان کے خون میں دوڑ سکتا ہے، اس سے تو انسان کا جسم جل جانا چاہیے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ سب امور استعاروں میں بیان ہوئے ہیں اور تشریح طلب ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرشتہ اور شیطان کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’شیطان کیا چیز ہے۔ پس اُن کو یاد رہے کہ انسان کے دل کے ساتھ دو کششیں ہر وقت نوبت بہ نوبت لگی رہتی ہیں ۔ ایک کشش خیر کی اور ایک کشش شرکی ۔ پس جو خیر کی کشش ہے شریعت اسلام اُس کو فرشتہ کی طرف منسوب کرتی ہے ۔ اور جو شرکی کشش ہے اس کو شریعت اسلام شیطان کی طرف منسوب کرتی ہے اور مدعا صرف اس قدر ہے کہ انسانی سرشت میں دوکششیں موجود ہیں۔ کبھی انسان نیکی کی طرف جھکتا ہے اور کبھی بدی کی طرف۔‘‘(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰صفحہ ۱۷۹)

سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ۱۳ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ۔ یعنی شیطان کا یہ کہنا کہ تو نے مجھے تو آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے(انسان کو) گیلی مٹی سے پیدا کیا،کی تشریح میںانسان کے مٹی سے اور شیطان کے آگ سے تخلیق پانے کے استعارہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’یعنی گیلی مٹی کی طرح آدمی مختلف اخلاق میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اور چاہے تو بالا طاقت کا مطیع بھی ہو سکتا ہے مگر میری فطرت میں تو نے ناری صفت رکھی ہے، اس لئے میں کسی کا مطیع نہیں بن سکتا۔ عربی کا محاورہ ہے خُلِقَ مِنْ عَجَلٍ جس کے معنے یہ نہیں کہ جلدی کوئی مادہ ہے جس سے انسان پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی کا مادہ ہے۔ اسی طرح اس آیت سے یہ مرادنہیں کہ آدمی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں اور شیطان آگ سے، بلکہ یہ مراد ہے کہ انسان کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ مختلف حالات میں ان کے مطابق ڈھل جاتا ہے اور شیطان کی فطرت میں آگ جیسا مادہ ہے اور وہ نافرمانی کرتا ہے۔‘‘ (تفسیر صغیر صفحہ ۱۸۹ حاشیہ)

پس آگ، مٹی اور نور سے تخلیق پانا یہ سب استعاراتی کلام ہیں، جن سے ان وجودوں کی فطرت اور ان کی طرف سے سرزد ہونے والے کاموں کا اظہار کرنا مقصود ہے۔ ان الفاظ کو ظاہر پر محمول کرنا درست نہیں۔

سوال: بنگلہ دیش سے ایک دوست نے حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کیا حیض روکنے کی دوائی کھا کر عورتیں ماہ رمضان کے روزے رکھ سکتی ہیں؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے اس کی اجازت دی تھی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۴؍اپریل ۲۰۲۴ء میں اس بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب:حیض کا آنا بھی عورت کی تخلیق کا حصہ ہے، اس لیے اسے روکنا کئی قسم کی بیماریوں اور پیچیدگیوں کا باعث ہو سکتا ہے۔ اور جو چیز بیماری کا باعث ہو وہ جائز کس طرح ہو سکتی ہے؟ اس لیے اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔

پہلے زمانوں میں بھی حیض وغیرہ کو روکنے کے لیے کئی قسم کے حربے اور ادویات یقیناً موجود ہوں گی، لیکن اسلام نے کسی جگہ ان کو استعمال کر کے حیض روکنے کی ہدایت نہیں کی۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر حضورﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ؓ کے بھی مخصوص ایام شروع ہوگئے تھے۔ جس پر حضورﷺ نے انہیں ان ایام میں عمرہ کرنے سے روک دیا اور جب ان کے یہ ایام ختم ہو گئے تو آپﷺ نے انہیں ان کے بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے بھجوایا۔ (صحیح بخاری کتاب الحج بَاب تَقْضِي الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ)

پھر اسلام نے بیماری کی حالت میں تو ویسےبھی روزے رکھنے سے منع فرمایا اور بعد میں انہیں پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس قسم کی ادویات کے استعمال سے مستقل بیمار ہو کر روزوں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہونے کی بجائے بہتر ہے کہ اسلام نے جن چیزوں کی چھوٹ دی ہے، ان سے فائدہ اٹھا کر ثواب حاصل کیا جائے نہ کہ اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے۔

باقی جہاں تک حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ان دوائیوں کے استعمال کی اجازت دینے کی بات ہے تو وہ بھی درست نہیں ہے۔ حضور رحمہ اللہ نے بالکل اس کی اجازت نہیں دی بلکہ آپ نے تو اسے صحت کے لحاظ سے ناجائز اور مضر قرار دیا ہےاور اس قسم کے کاموں سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اس سے بعض دفعہ عورتوں کو مستقل نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اور اس قسم کی حرکتوں سے کینسر کا ہوجانا بعید نہیں ہے۔ (مجلس سوال و جواب ۱۰؍جنوری ۱۹۹۷ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۹ اگست تا ۴ ستمبر ۱۹۹۷ ء صفحہ۱۳)

پس لگتا ہے کہ یا تو کسی نے آپ کو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا غلط ترجمہ کر کے بتایا ہے۔ یا آپ حضورؒ کی بات کو سمجھ نہیں سکے۔

سوال: یوکے سے ایک دوست نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں سورۃ یونس کی آیت نمبر ۵۸ کہ ’’اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے یقیناً ایک ایسی کتاب آگئی ہے جو سراسر نصیحت ہے اور وہ (ہر) اس (بیماری) کے لیے جو سینوں میں (پائی جاتی) ہو شفا (دینے والی) ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘ کے حوالہ سے لکھا کہ روح کا دل کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۴؍اپریل ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب:روح اور دل کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے انوار سماویہ پہلے روح کی طرف نازل ہوتے ہیں اور پھر دل کی طرف جاتے ہیں۔اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ’’انسان کا دل خدا کے گھر کی مثال ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد دہم صفحہ ۶۳، ایڈیشن۲۰۲۲ء) نیز فرمایا کہ ’’دل تو اللہ تعالیٰ کی صندوقچی ہوتا ہے اور اس کی کنجی اس کے پاس ہوتی ہے۔‘‘(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۲۳۹، ایڈیشن۲۰۲۲ء)

لیکن روح اور دل کے تعلق کو معلوم کرنے کے لیے کوئی دنیاوی علم کام نہیں آتا بلکہ اس کے لیے بھی روحانیت ہی کی ضرورت پڑتی ہے۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’روحانی امور دل کے ساتھ ایک بار یک تعلق رکھتے ہیں اور تمام روحانی لوگوں کا تجربہ ہے کہ دل کا روحانیات کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ جس طرح روح کا علم مادیات سے معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کا تعلق جو جسم سے ہے وہ دریافت نہیں ہو سکتا اسی طرح یہ بات بھی مادی قواعد سے دریافت نہیں ہو سکتی کہ دل سے روح کا کیا تعلق ہے۔ پس اس معاملہ میں ہمیں تجربہ کاروں کے مشاہدہ پر یقین کرنا پڑے گا جو بالا تفاق اس امر کے گواہ ہیں کہ دل کا تعلق روحانی امور سے ضرور ہے۔ ‘‘ (تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ۱۳۲، ایڈیشن ۲۰۲۳ء)

علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دل سے صرف جسم کا ایک ظاہری لوتھڑا مراد لے لینا بھی درست نہیں ہےبلکہ اس سے مراد انسان کا دماغ یعنی Mind بھی ہے جو انسانی سوچ کا آخری مرکز ہے۔ اسی لیے آنحضورﷺ نےبھی دل کو ان معنوں میں استعمال فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا کہ جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہےاور جب وہ بگڑجائے تو سارا جسم بگڑجاتا ہے، سنو وہ دل ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان بَاب فَضْلِ مَنْ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ روح اور دل کے تعلق میں دل اور دماغ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: انگریزی میں ایک لفظ ہے Mind اور Heart۔ یہ دونوں انگریزی زبان میں محض لوتھڑے کے معنی میں استعمال نہیں کرتے جو ہمارے سینے میں دھڑک رہا ہوتا ہے بلکہ جو عقل کا نقطہ اور سرچشمہ ہے جس سے علم کے سوتے پھوٹتے ہیں اس کو بھی انگریزی میں Heart اور Mind کہتے ہیں اور عربی زبان میں عقل کہتے ہیں۔ جو ہمارے سینہ میں دھڑک رہا ہوتا ہے اس کو بھی کہتے ہیں دل اور قلب اور اس کو بھی کہتے ہیں جو عقل اور علم کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔ تو روح کا تعلق دل کے دھڑکنے کے ساتھ نہیں ۔ روح کا تعلق اس خداداد عقل اور فراست اور علم کے ساتھ ہے جو روح کی پرورش کرتا ہے علم اور جو راہیں روح کی نشوونما کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائی ہیں ان راہوں کی طرف لے کے جاتا اور ان پر روح کی کوشش کو قائم کرتا ہے۔ (خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء،خطبات ناصر جلد نہم صفحہ ۱۸۲)

پس روح کا دل کے ساتھ ایک نہایت لطیف روحانی تعلق ہوتا ہے، جسے دنیاوی اور مادی علوم سے جاننا ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے روحانیت میں ترقی کرنا اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ضروری ہے۔

سوال: کینیڈا سے ایک مربی صاحب نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ Eye Dropsڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا جبکہ فقہی مسائل کے پروگرام میں کہا گیا ہے کہ روزہ میں Eye Drops کا استعمال ممنوع ہے۔ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵ اپریل ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب:یہ ٹھیک ہے کہ آنکھوں میں دوائی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ،لیکن اس بارہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے جس ارشاد کا آپ نے اپنے خط میں ذکر کیا ہے، اس کے ساتھ ہی حضور نے یہ بھی تو فرمایا ہے کہ سرمہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ دن کو لگانا مکروہ ہے۔(فرمودات مصلح موعود دربارہ فقہی مسائل صفحہ ۱۶۰)

جب روزہ کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگانا مکروہ ہے تو ثابت ہوا کہ اس حالت میں آنکھوں میں دوائی ڈالنا بھی مکروہ ہی ہے۔ لہٰذا کیا ضرورت ہے کہ دوائی ڈال کر اپنے روزہ کو مکروہ کیا جائے۔

علاوہ ازیں روزہ کی حالت میں آنکھوں میں دوائی ڈالنے کی بابت بھی اس زمانہ کے حکم و عدل نے ہماری راہنمائی فرمائی ہوئی ہے۔ چنانچہ اس سوال پر کہ روزہ دار کی آنکھ بیمار ہو تو اس میں دوائی ڈالنی جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: یہ سوال ہی غلط ہے۔ بیمار کے واسطے روزہ رکھنے کا حکم نہیں۔ (ملفوظات جلد نہم صفحہ ۷۵، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۲ء)

سوال: انڈیا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر جا کر خدا تعالیٰ سے اپنی دنیاوی اشیاء جیسے امتحان میں کامیابی یا کاروبار میں برکت کے لیے بھی دعا کر سکتے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵؍اپریل ۲۰۲۴ء میں اس بارہ میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: جہاں نیک ،بزرگ اور خدا تعالیٰ کی فرستادہ ہستیاں مدفون ہوتی ہیں، وہ جگہیں بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کے نزول کا مورد ہوتی ہیں۔ اس لیے ان جگہوں پر دعا کرتے وقت سب سے پہلے تو خدا تعالیٰ کی حمد وثناء کرنی چاہیےجس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سورت فاتحہ جیسی عظیم سورت عطا فرمائی ہے۔ پھر محسن انسانیت حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ پر درود و سلام بھیجنا چاہیےجس کا ہر مومن کو حکم دیا گیا ہے۔(سورۃ الاحزاب:۵۷) پھر ان جگہوں میں مدفون بزرگ ہستیوں کے بلندیٔ درجات کے لیے دعا کریں اور یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے متبعین کو بھی ان نیکیوں اور ان تعلیمات پر قائم فرما جنہیں لے کر یہ آئے تھے۔پھر اپنے لیے دینی و دنیوی حسنات کے حصول کی دعائیں کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے جو چاہیں مانگیں۔اس میں کچھ حرج کی بات نہیں۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے احباب جماعت کی راہنمائی کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعا اور اس کی حکمت کے عنوان پر ایک تقریر فرمائی تھی،جو کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہے۔ اس تقریر میں حضورؓ نے بہت سی اہم باتوں کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی تھی، اس کا بھی آپ مطالعہ کرلیں۔ اس میں حضورؓ اپنے طریق دعا کے بارہ میں فرماتے ہیں: میں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ جب بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبر پر دعا کرنے کے لیے آتا ہوں میں نے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ پہلے میں رسول کریمﷺ کے لیے دعا کیا کرتا ہوں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے دعا کرتا ہوں اور دعا یہ کیا کرتا ہوں کہ یا اللہ! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو میں اپنے اِن بزرگوں کی خدمت میں تحفہ کے طور پر پیش کر سکوں۔ میرے پاس جو چیزیں ہیں وہ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ البتہ تیرے پاس سب کچھ ہے اس لئے میں تجھ سے دعا اور التجا کرتا ہوں کہ تو مجھ پر احسان فرما کر میری طرف سے انہیں جنت میں کوئی ایسا تحفہ عطا فرما جو اِس سے پہلے انہیں جنت میں نہ ملا ہوتو وہ ضرور پوچھتے ہیں کہ یا اللہ! یہ تحفہ کس کی طرف سے آیا ہے؟ اور جب خداانہیں بتاتا ہے تو وہ اُس کے لیے دعا کرتے ہیں اور اِس طرح دعا کرنے والے کے مدارج بھی بلند ہوتے ہیں اور یہ بات قرآن اور احادیث سے ثابت ہے۔ اسلام کا مسلمہ اصل ہے اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ دعا ئیں مرنے والے کو ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ (النساء:۸۷) کہہ کر اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تمہیں کوئی شخص تحفہ پیش کرے تو تم اُس سے بہتر تحفہ اُسے دو ورنہ کم از کم اتنا تحفہ تو ضرور دو جتنا اُس نے دیا۔ قرآن کریم کی اِس آیت کے مطابق جب ہم رسول کریمﷺ یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے دعا کریں گے اور ان پر درود اور سلام بھیجیں گے تو خداتعالیٰ ہماری طرف سے اِس دعا کے نتیجہ میں اُنہیں کوئی تحفہ پیش کر دے گا۔ ہم نہیں جانتے کہ جنت میں کیا کیا نعمتیں ہیں مگراللہ تعالیٰ تو اُن نعمتوں کو خوب جانتا ہے اِس لئے جب ہم دعا کریں گے کہ الٰہی! تو رسول کریمﷺ کو کوئی ایسا تحفہ دے جو اِس سے پہلے اُنہیں نہ ملا ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ جب وہ تحفہ اُنہیں دیا جاتا ہوگا تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی بتایا جاتا ہو گا کہ یہ فلاں شخص کی طرف سے تحفہ ہے۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اِس علم کے بعد وہ چپ کرکے بیٹھے رہیں اور تحفہ بھجوانے والے کے لیے دعا نہ کریں۔ ایسے موقع پر بے اختیار اُن کی روح اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائے گی اور کہے گی کہ اے خدا! اَب تو ہماری طرف سے اِس کو بہتر جزاء عطا فرما ۔ اِس طرح فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا کے مطابق وہ دعا پھر درود بھیجنے والے کی طرف لوٹ آئے گی اور اِس کے درجہ کی بلندی کا باعث ہو گی۔ پس یہ ذریعہ ہے جس سے بغیر اِس کے کہ کوئی مشرکانہ حرکت ہو ہم خود بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور قوم بھی فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔(مزار حضرت مسیح موعود ؑ پر دعا اور اس کی حکمت، انوار العلوم جلد ۱۷ صفحہ ۱۸۳،۱۸۲)

پس بزرگوں کے مزاروں پر جا کر ان بزرگ ہستیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنا، نیز اپنی دینی و دنیوی ترقیات اور حصول حسنات کے لیے اللہ تعالیٰ ہی سے مختلف دعائیں مانگنا جائز ہے اور یہ بات شرک کے زمرہ میں ہر گز نہیں آتی۔ ہاں ان بزرگ ہستیوں سے سوال کرنا یا ان سے مرادیں مانگنایا یہ تصور رکھنا کہ یہاں مدفون لوگ ہماری مرادیں پوری کر سکتے ہیں، یہ سب شرک اور گناہ ہے۔

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۸)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button