لولیو، سویڈن کی بعض اہم سیاسی و مذہبی شخصیات سے جماعتی وفد کی ملاقات
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سویڈن کو ملک میں اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالہ، قرآنی تعلیمات کے تعارف اور اسلام کی حقیقی و پُرامن تعلیمات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کا موقع مل رہا ہے۔ خصوصاً موجودہ سال میں متوقع قومی انتخابات کے تناظر میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں عوامی مباحث میں اضافہ ہوا ہے جو بسا اوقات منفی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس پس منظر میں جماعت احمدیہ سویڈن کی جانب سے مختلف تقریبات، میلوں اور عوامی پروگراموں کے دوران اہم شخصیات تک اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کی کوشش جاری ہے۔

یوک موک میلہ:مورخہ ۶؍فروری ۲۰۲۶ء کو خاکسار (مبلغ سلسلہ) کو دائیں بازو کی سیاسی پارٹی Swedish Democrats کے قومی نائب صدر Henrik Vinge سے تقریباً نصف گھنٹہ ملاقات کا موقع ملا۔ اس پارٹی کو ملک کی نمایاں اسلام مخالف سیاسی جماعتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملاقات کے دوران جماعت احمدیہ کا تفصیلی تعارف کروایا گیا، جماعت کی امن پسند خدمات اور اسلامی تعلیمات بیان کی گئیں۔ نیز امیگریشن سے متعلق حالیہ قوانین کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بعض سماجی مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ جماعت کی ’Ask A Muslim‘ مہم کو موصوف نے خاص طور پر سراہا۔
مورخہ ۷؍فروری کو ملک کی سابقہ وزیر اعظم ، موجودہ اپوزیشن لیڈر اور آنے والے انتخابات میں وزیر اعظم بننے کی امیدوار Magdalena Andersson جو کہ سوشل ڈیموکریٹس پارٹی کی سربراہ بھی ہیں، سے ملاقات کی۔ انہیں جماعت احمدیہ اور ’Ask A Muslim‘ مہم کے ذریعے اسلام کے تعارف کے سلسلہ میں ہونے والی کاوشوں سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میلے میں جماعت کا سٹال دیکھ چکی ہیں اور اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطابات و مکتوبات پر مشتمل کتاب ’عالمی بحران اور امن کی راہ‘ بطور تحفہ پیش کی گئی جسے انہوں نے خوشی سے قبول کیا۔

اسی روز Social Democrats کی امیگریشن پالیسیز کی ذمہ دار Ida Karkiainen سے ملاقات ہوئی۔ انہیں جماعت احمدیہ کا تعارف کروایا گیا اور ’Ask A Muslim‘ مہم کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کی کوششوں کا ذکر کیا گیا۔ مزید برآں امیگریشن کے نئے قوانین کے نتیجے میں درپیش بعض مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی۔
اسی شام ماڈریٹ پارٹی جو کہ حکومتی پارٹی ہے کے پارلیمنٹ میں گروپ لیڈر Mattias Karlsson سے ملاقات کی۔ اس دوران جماعت احمدیہ کے مختلف پروگراموں، امن کے قیام کے لیے جماعت کی خدمات اور امیگریشن قوانین کے بعض پہلوؤں پر تبادلۂ خیال ہوا۔

اسی میلے کے دوران متعدد مقامی سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں جن میں Swedish Democrats کے لولیو کونسل کے پارٹی لیڈر اور نائب پارٹی لیڈر، نیز سویڈش ڈیموکریٹس کے نوجوانوں کے صوبائی ہیڈ شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں مستقبل میں باہمی تعاون اور مشترکہ پروگراموں کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
مورخہ ۲۰؍فروری کو لولیو میں Luleå UN Associationکی صدر Lenitha Hedqvistسے ملاقات کی۔ یہ تنظیم Swedish UN Association سے وابستہ ہے۔ ملاقات میں جماعت احمدیہ کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا اور دنیا کے مختلف ممالک میں احمدیوں کے خلاف امتیازی قوانین اور مذہبی مظالم کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ نیز امن کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
Luleå on Ice ایونٹ:مورخہ یکم مارچ کو Luleå on Ice ایونٹ کے دوران سوشل ڈیموکریٹس کے ممبر آف پارلیمنٹ Fredrik Lundh Sammeli نے جماعت کے سٹال کا دورہ کیا۔ ان سے پہلے سے تعارف ہونے کے باعث مختلف امور پر خوشگوار تبادلۂ خیال ہوا۔ اسی ایونٹ میں Left Party کے کونسل گروپ لیڈر Mathias Karvonen سے بھی ملاقات ہوئی جو قبل ازیں جماعت کے سینٹر کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایونٹ میں جماعت کی موجودگی اور سٹال کو بہت سراہا۔

Arjeplog میلہ: مورخہ ۷؍مارچ کو Arjeplog میں منعقدہ میلے کے موقع پر کونسل کے میئر Isak Utsi اور نائب چیئرمین کونسل Jan Davidsson سے ملاقات ہوئی۔ انہیں جماعت احمدیہ کا تفصیلی تعارف کروایا گیا۔ دونوں شخصیات نے جماعت کی امن پسند کاوشوں کو سراہتے ہوئے میلے میں جماعت کی موجودگی کو اہم قرار دیا۔
مورخہ ۱۴؍مارچ کو لولیو میں انسانی ہمدردی پر مبنی امیگریشن پالیسیوں کے حق میں ایک عوامی اجتماع منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شمالی علاقہ جات کی بشپ Åsa Nyström، مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے تقاریر کیں۔ خاکسار کو بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اظہار خیال کا موقع ملا۔
اجتماع کے دوران بشپ Åsa Nyström سے ملاقات ہوئی۔ ان سے اس سے قبل بھی ملاقات ہو چکی ہے۔ ان کے ساتھ آئندہ امن کانفرنس میں شرکت کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ اسی طرح Green Party کی کونسل گروپ لیڈر Evelina Rydeker سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہیں جماعت احمدیہ کے تفصیلی تعارف اور جماعتی خدمات سے آگاہ کرنے کے لیے آئندہ ایک تفصیلی ملاقات کا وقت طے کرنے پر اتفاق ہوا جس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
اللہ تعالیٰ ان ملاقاتوں کے مثبت اور دیرپا نتائج پیدا فرمائے اور ہمیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منشا کے مطابق خدمت دین کی مزید توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔ آمین
(رپورٹ: رضوان احمد افضل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: کینیا کے نواشا ریجن کی جماعت Olsait، ناروک کاؤنٹی میں پہلے مشن ہاؤس کا بابرکت افتتاح



