شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
مسیح موعود علیہ السلام سے بے نظیر تعلق
پھر اسی دسویں شرط کے تحت کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک ایسا تعلق ہوگا جس کی نظیر نہ ہو۔ یہ واقعہ سیدعبدالستار شاہ صاحبؓ کا ہے کہ ۱۹۰۷ء میںجبکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے چھوٹے بیٹے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد بیمار ہوگئے اور شدید قسم کا ٹائیفائڈ کاحملہ ہوا۔ ’’ان کی بیماری کے ایام میں کسی شخص نے خواب میں دیکھاکہ مبارک احمد کی شادی ہو رہی ہے۔ اور معبرین نے لکھاہے کہ اگر شادی غیرمعلوم عورت سے ہو تواس کی تعبیر موت ہوتی ہے مگربعض معبرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسے خواب کو ظاہری صورت میں پورا کر دیا جائے تو بعض دفعہ یہ تعبیرٹل جاتی ہے۔ پس جب خواب دیکھنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا یہ خواب سنایا تو آپ نے فرمایا کہ معبرین نے لکھا ہے کہ اس کی تعبیر موت ہے مگر اسے ظاہری رنگ میں پوراکردینے کی صورت میں بعض دفعہ یہ تعبیر ٹل جاتی ہے۔ اس لئے آئو مبارک احمد کی شادی کردیں۔ گویا وہ بچہ جسے شادی بیاہ کاکچھ بھی علم نہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی شادی کا فکرہؤا۔ جس وقت حضور علیہ السلام یہ باتیں کررہے تھے تو اتفاقاً حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے گھر سے (یعنی آپ کی ا ہلیہ حضرت سیدہ سعیدۃ النساء بیگم صاحبہ) جو یہاں بطور مہمان آئے ہوئے تھے، صحن میں نظر آئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایااور فرمایا ہمارا منشا ء ہے کہ مبارک احمد کی شادی کردیں۔ آپ کی لڑکی مریم ہے۔ آپ اگر پسند کریں تواس سے مبارک احمد کی شادی کر دی جائے۔ انہوں نے کہا حضور مجھے کوئی عذر نہیں لیکن اگر حضور کچھ مہلت دیں تو ڈاکٹر صاحب سے بھی پوچھ لوں۔ ان دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم اوران کے اہل وعیال گول کمرہ میں رہتے تھے۔ وہ (اہلیہ حضرت ڈاکٹر صاحب)نیچے گئیں …۔ ڈاکٹر صاحب شاید وہاں نہ تھے۔ کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کچھ دیر انتظار کیاتو وہ آگئے۔ جب وہ آئے تو انہوں نے اس رنگ میں ان سے بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جب کوئی داخل ہوتاہے تو بعض دفعہ اس کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے توکیا آپ پکے رہیں گے؟ ان کو اس وقت دو خیال تھے کہ شاید ان کی وجہ سے ڈاکٹرصاحب کو یہ رشتہ کرنے میں تامّل ہو۔ ایک تو یہ کہ اس سے قبل ان کے خاندان کی کوئی لڑکی غیر سید کے ساتھ نہ بیاہی گئی تھی۔ اوردوسرے یہ کہ مبارک احمد ایک مہلک بیماری میں مبتلاتھا اورڈاکٹر صاحب مرحوم خود اس کا علاج کرتے تھے۔ اوراس وجہ سے وہ خیال کریں گے کہ یہ شادی ننانوے فیصد خطرہ سے پُر ہے اور اس سے لڑکی کے ماتھے پر جلد ہی بیوگی کا ٹیکہ لگنے کا خوف ہے۔ ان باتوں کی وجہ سے ڈاکٹرصاحب کے گھروالوں کو یہ خیال تھا کہ ایسا نہ ہو ڈاکٹرصاحب کمزوری دکھائیں اوران کاایمان ضائع ہو جائے۔ اس لئے انہوں نے پوچھا کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ مجھے اُمید ہے اللہ تعالیٰ استقامت عطا کرے گا۔
اس پر والدہ مریم بیگم مرحومہ نے ان کو بات سنائی اور بتایاکہ اس طر ح مَیں اوپرگئی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ مریم کی شادی مبارک احمد سے کردیں۔ یہ بات سن کر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اچھی بات ہے، اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ پسندہے تو ہمیں اس پرکیااعتراض ہوسکتاہے۔ ا ن کا یہ جواب سن کر مریم بیگم مرحومہ کی والدہ ، اللہ تعالیٰ ان کے درجات کوہمیشہ بڑھاتا چلا جائے، رو پڑیں اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ اس پرڈاکٹر صاحب مرحوم نے ان سے پوچھا کہ کیاہوا۔ کیاتم کویہ تعلق پسند نہیں؟۔ انہوں نے کہا مجھے پسند ہے۔ بات یہ ہے کہ جب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکاح کا ارشاد فرمایا تھا، میرادل دھڑک رہا تھا اورمَیں ڈرتی تھی کہ کہیں آپ کا ایمان ضائع نہ ہو جائے۔ اور اب آپ کاجواب سن کر مَیں خوشی سے اپنے آنسو روک نہیں سکی۔ چنانچہ یہ شادی ہوگئی اور کچھ دنوں کے بعد( جیساکہ بیماری شدید تھی) وہ لڑکی بھی بیوہ ہوگئی۔‘‘(روزنامہ الفضل قادیان۔ یکم اگست ۱۹۴۴ء۔ صفحہ ۱-۲۔ بحوالہ حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب۔ صفحہ ۱۲۲ تا ۱۲۴)
اب دیکھیں اللہ تعالیٰ نے بھی ڈاکٹر صاحب کے اخلاص کو ضائع نہیں کیا اور حضرت مصلح موعود ؓسے ان کی شادی ہوئی جس کا نام حضرت اُمّ طاہر، مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا تھا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدؓ کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’انہیں دنوں میں جب کہ متواتریہ وحی خداکی مجھ پرہوئی اور نہایت زبردست اور قوی نشان ظاہر ہوئے اور میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا دلائل کے ساتھ دنیامیں شائع ہوا، خوست علاقہ حدود کابل میں ایک بزرگ تک جن کا نام اخوند زادہ مولوی عبداللطیف ہے کسی اتفاق سے میری کتابیں پہنچیںاور وہ تمام دلائل جو نقل اور عقل اور تائیدات سماوی سے مَیںنے اپنی کتابوں میں لکھے تھے (یعنی اللہ تعالیٰ کی تائید سے مَیں نے اپنی کتابوں میں لکھے تھے )وہ سب دلیلیں ان کی نظر سے گذریں۔ اور چونکہ وہ بزرگ نہایت پاک باطن او ر اہل علم اور اہل فراست اور خداترس اور تقویٰ شعار تھے اس لئے ان کے دل پر ان دلائل کا قوی اثر ہوا اور ان کو اس دعوے کی تصدیق میں کوئی دقّت پیش نہ آئی۔ اور ان کی پاک کانشنس نے بلاتوقف مان لیاکہ یہ شخص منجانب اللہ ہے او ر یہ دعویٰ صحیح ہے۔ تب انہوں نے میری کتابوں کو نہایت محبت سے دیکھناشروع کیا اور ان کی روح جو نہایت صاف اور مستعد تھی میری طرف کھینچی گئی۔ یہاں تک کہ ان کے لئے بغیر ملاقات کے دور بیٹھے رہنا نہایت دشوار ہو گیا۔ آخر اس زبردست کشش اور محبت اور اخلاص کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس غرض سے کہ ریاست کابل سے اجازت حاصل ہو جائے حج کے لئے مصمّم ارادہ کیااور امیر کابل سے اس سفر کے لئے درخواست کی۔ چونکہ وہ امیر کابل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے تھے اس لئے نہ صرف ان کو اجازت ہوئی بلکہ امداد کے طورپر کچھ روپیہ بھی دیا گیا۔ سو وہ اجاز ت حاصل کر کے قادیان میں پہنچے اور جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مَیں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعویٰ کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایاکہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اورجیساکہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہؤا ہوتاہے ایسا ہی مَیں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا۔ اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھاایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا‘‘۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ صفحہ۷۔ روحانی خزائن۔ جلد ۲۰۔ صفحہ ۹-۱۰)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۶۸تا۲۷۲)
مزید پڑھیں: نمازیں نیکی کا بیج ہیں



