سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ کی تصنیف اور اشاعت سے مقصد کسی قسم کی دنیوی خواہش نہ تھی بلکہ ایک اور صرف ایک ہی قصد تھا کہ دین اسلام کی صداقت ظاہر ہو۔اور ان حملوں کا جواب دیا جاوے جو اس وقت اسلام پر کئے جاتے تھے

[گذشتہ سے پیوستہ]اب سوال یہ ہے کہ جن سے پیشگی قیمت لی تھی اس کاکیابنا؟ اس میں اوّل تو یہ ذہن میں رکھناچاہیے کہ جو قیمت لی گئی تھی وہ’’قیمت‘‘ نہ تھی۔ وہ رعایتی قیمت تھی۔ اس کو اچھی طرح ذہن میں رکھناچاہیے۔ اس لیے کہ عوام الناس پر یہ تاثر دیناکہ نہ جانے کتنی دولت اکٹھی کرلی گئی ہوگی یہ درست نہیں ہے۔

پھر یہ کہ اس کتاب کے خریدارکوئی ہزاروں اورسینکڑوں میں نہ تھے۔ گو کہ اس وقت ہمارے پاس کوئی ایسا حساب کتاب یا روزنامچہ یا کھاتہ نہ ہے کہ ہم خریداروں کی تعداد کو معین کرسکیں۔ ہاں کچھ اندازہ کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

پہلے ہمیں دیکھنا ہوگاکہ کتاب کتنی تعداد میں شائع ہوئی تھی؟ غالب امکان ہےکہ براہین احمدیہ سات سوسے ایک ہزارکی تعداد میں شائع ہوئی ہوگی۔

حضرت مولانا عبدالرحیم دردصاحبؓ A.R.Dard,M.Aمصنف کتاب Life of Ahmad اپنی کتاب کے صفحہ ۷۸ پر فرماتےہیں:

"In the beginning only 700 copies were produced, but later the number was increased to 1,000. In a Western country this number would today seem ridiculously small; but in the nineteenth century, and in a country where literacy did not extend to even one per cent of the population it was a really difficult job to find Muslim customers on the one hand; and, on the other, representatives of other religions who could read the book.”

حضرت اقدس علیہ السلام نے اپریل ۱۸۷۹ء میں جب براہین احمدیہ کا اشتہار دیا تو اس میں فرمایا : ’’…ہرایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار نسخہ چھپے توچورانوے روپیہ صَرف ہوتے ہیں۔ پس کل حصص کتاب نو سوچالیس روپے سے کم میں چھپ نہیں سکتے۔ ‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ۱۷،۱۶)

واضح ہوکہ براہین کاپہلادوسرااور تیسرا حصہ ۷۰۰؍کی تعداد میں شائع ہوا اورچوتھا حصہ ایک ہزارکی تعداد میں شائع کرنے کاارادہ تھا۔ جیساکہ حضرت اقدس ؑایک خط میں تحریرفرماتے ہیں:’’اشتہار اپریل ۱۸۷۹ء کتاب سات سوجلدچھپی ہے۔ لیکن اب میں نے تجویزکی ہے کہ ہزارجلدچھپے تو بہتر۔‘‘ (مکتوبات احمد جلداوّل صفحہ ۵۳۸۔مکتوب بنام میرعباس علی صاحب)

توہرچندکہ حضورؑ کاارادہ ایک ہزارکی تعدادمیں شائع کرنے کاتھالیکن پہلے تین حصے ایک ہزارکی تعدادمیں نہ تھے۔ ممکن ہے کہ چوتھاحصہ ایک ہزارہی شائع ہواہوجیساکہ حضورؑ نے لکھاہے لیکن یہ تو صاف ظاہر ہے کہ ایک ہزار خریدار تو بہرحال نہ تھا اور جوخریدارتھے بھی تو کسی نے وہ کتاب پانچ روپے میں اورتھوڑے تھے جنہوں نے دس روپے اورچند ایک تھے جنہوں نے پچیس روپے میں خریدی۔ بلکہ بعض لوگ تو ایسے تھے جنہیں یہ کتاب صرف آٹھ آنے میں دی گئی۔ اور اکثر کتابیں مفت دی گئیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کتاب کے نہ تو کوئی معقول اورحوصلہ افزاء خریدار سامنے آئے اورنہ ہی اعانت کرنے والے میسر آسکے۔

ذرادیکھتے ہیں کہ اس کتاب کی اعانت کرنے والے کتنے لوگ تھے اورکتنی اعانت ہوئی ہوگی۔ جلداوّل میں بے شک بڑے بڑے نوابوں اور مہاراجوں کے نام ہیں۔لیکن جنہوں نے بطورخریداریااعانت کے رقم دی ان کے نام جلداول کے صفحہ ۱۰سے ۱۲ پرموجودہیں۔اوران کے ناموں کے آگے دی گئی رقم بھی لکھی ہوئی جوکہ ۵۴۸؍روپے کُل بنتی ہے۔

براہین احمدیہ حصہ سوم ،روحانی خزائن جلداول کے صفحہ ۱۳۵ پرحضورؑ نے لکھاہے کہ ’’اب کی دفعہ ان صاحبوں کے نام جنہوں نے کتاب کوخریدفرماکرقیمت پیشگی بھیجی یامحض للہ اعانت کی بوجہ عدم گنجائش نہیں لکھے گئے۔ ‘‘

خاکسارنے براہین احمدیہ اور دیگرکتب کی مدد سےمعلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ براہین احمدیہ کے لیے آخرکتنے لوگوں نے اعانت کی ہوگی۔ گذشتہ اقساط میں براہین احمدیہ کے معاونین کے تذکرہ میں یہ تفصیل الگ سے بھی موجودہے۔ براہین احمدیہ پر اٹھنے والے اخراجات کی طرف کبھی نظرنہیں جاتی۔ہم دیکھتےہیں کہ حضورؑ براہین احمدیہ کے پروف بھی بذریعہ رجسٹرڈ پوسٹ کے بھیجتے تھے۔اور اس زمانے میں رجسٹری کاخرچ چار آنہ تھا۔بیسیوں مرتبہ ڈاک کایہ خرچ ہواہوگا۔اور بیسیوں مرتبہ ہی حضورؑ خودبھی تشریف لے گئے ہوں گے۔ پھر۱۵۰؍رجسٹرڈ پیکٹ تو امراء کوالگ بھیجے گئے۔ کاتبوں کے خرچ اس کے علاوہ رہے۔ پھرجب چوتھاحصہ شائع ہواتو ایک اشتہاراردواور ایک انگریزی مع ایک خط کے ساری دنیامیں بھیجاگیا۔جس کی تعداد ۲۰ سے ۲۵؍ہزارکے قریب ہوگی۔ پھر۱۸۹۰ء تک ۹۰؍ہزارخطوط کے جواب بھی لکھے گئے۔مہمان داری بھی رہی۔ اوران مہمانوں کی تعداد بھی ۶۰؍ہزارکے قریب تھی۔یہ وہ سارے امورتھے کہ جن کی وجہ سے معلوم ہوتاہے کہ اس عرصہ میں حضورعلیہ السلام باوجود مخلصین کی اعانت کے زیربارہی رہتے رہے۔ اوریہ بھی امرواقعہ ہے کہ معقول سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے ہی براہین احمدیہ کی مزیدطباعت ملتوی ہوتی رہی۔ورنہ ہونہیں سکتاتھا کہ براہین احمدیہ کہ جس کوحضورؑ اپنی ’’عمرعزیز‘‘ کاسرمایۂ حیات سمجھتے رہے اور جس کی طباعت کے لیے اتنے سرگرم رہے اس کوشائع کرنے کی طرف توجہ نہ فرماتے۔ صاف نظرآتاہے کہ اس عرصے میں ایک بنیادی اورفوری وجہ سرمایہ کی ہی کمی تھی۔وہ الگ بات ہے کہ درپردہ مصلحت الٰہی کے تقاضے کچھ اَورہی تھے لیکن ظاہری اسباب قلت سرمایہ ہی تھے۔ اس لیے یہ ایک خام خیالی اور بدظنی ہے کہ جیسے بہت پیسہ جمع ہوگیاتھا۔

پھر ایک امر یہ بھی مدنظر رہے کہ اس سات سو کتاب میں سے ڈیڑھ سو کتاب تو وہ تھی جو حضرت اقدسؑ نے مخیراحباب کی خدمت میں پوسٹ کی کہ یہ کتاب ہے آپ اس جیسی عظیم الشان کتاب کی اشاعت کے لیے تعاون کریں یا کم ازکم خریداربن جائیں۔ اوریہ ڈیڑھ سو کتاب وہ تھی جو کہ خریداربننا اوراعانت توکجاوہ کتاب بھی ضائع گئی یوں باقی ساڑھے پانچ سوکتاب باقی رہ جاتی ہے۔ آپ ان کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’…ہم نے پہلا حصہ جو چھپ چکا تھا اس میں سے قریب ایک سو پچاس جلد کے بڑے بڑے امیروں اور دولت مندوں اور رئیسوں کی خدمت میں بھیجی تھیں اور یہ امید کی گئی تھی جو امراء عالی قدر خریداری کتاب کی منظور فرما کر قیمت کتاب جو ایک ادنیٰ رقم ہے بطور پیشگی بھیج دیں گے اور ان کی اس طور کی اعانت سے دینی کام بآسانی پورا ہوجائے گااور ہزارہا بندگانِ خدا کو فائدہ پہنچے گا۔ اسی امید پر ہم نے قریب ڈیڑھ سو کے خطوط اور عرائض بھی لکھے اور بہ انکسار تمام حقیقت حال سے مطلع کیا مگر باستثناء دو تین عالی ہمتوں کے سب کی طرف سے خاموشی رہی نہ خطوط کا جواب آیا نہ کتابیں واپس آئیں مصارف ڈاک تو سب ضائع ہوئے لیکن اگر خدانخواستہ کتابیں بھی واپس نہ ملیں تو سخت دقت پیش آئے گی اور بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا افسوس جو ہم کو اپنے معزز بھائیوں سے بجائے اعانت کے تکلیف پہنچ گئی اگر یہی حمایت اسلام ہے تو کار دین تمام ہے ہم بکمال غربت عرض کرتے ہیں کہ اگر قیمت پیشگی کتابوں کا بھیجنا منظور نہیں تو کتابوں کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیں ہم اسی کو عطیہ عظمیٰ سمجھیں گے اور احسان عظیم خیال کریں گے ورنہ ہمارا بڑا حرج ہوگا…‘‘(براہین احمدیہ صفحہ ’’ب،ج‘‘،روحانی خزائن جلداول صفحہ ۶۳،۶۲)

پھر اس کے علاوہ ایک بھاری تعداد ان کتب کی بھی ہے جو کہ آپؑ نے مفت تقسیم فرمائیں۔ کیونکہ کتاب کی اشاعت کوئی تجارتی منصوبہ توتھانہیں اورنہ ہی خریدوفروخت یا کاروبار تھا بلکہ اسلام اورنبی اکرم ﷺ کی صداقت کا یہ ایک اشتہارتھا جس کو جس طرح بھی ہوسکے عام کرنامقصودتھا۔سواس کے لیے حضرت اقدسؑ نے ایک کثیر تعداد میں یہ جلدیں مفت بھی تقسیم فرمائیں۔ چنانچہ حضرت شیخ یعقو ب علی عرفانی صاحب ؓ اپنی تصنیف ’’حیاتِ احمد‘‘میں بیان کرتے ہیں: ’’مفت دینے میں تامل نہ تھا :یہی نہیں بلکہ جب کبھی کوئی ایسا شخص آپؑ کے سامنے آتاجو استطاعت نہ رکھتا ہواور دینی محبت اس کے اندر ہو اسے مفت دیدیتے۔ بہت سی کتابیں آپؑ نے مفت دی تھیں …… آپؑ نے مختلف طریقوں سے اس امر کا اظہار کیا۔ اور واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ کی تصنیف اور اشاعت سے مقصد کسی قسم کی دنیوی خواہش نہ تھی بلکہ ایک اور صرف ایک ہی قصد تھا کہ دین اسلام کی صداقت ظاہر ہو۔اور ان حملوں کا جواب دیا جاوے جو اس وقت اسلام پر کئے جاتے تھے۔چنانچہ جب بعض لوگوں نے تحریک اعانت پر اس قسم کا جواب دیاکہ بعد تیاری کتاب خرید لینگے۔ تو آپؑ نے لکھا: ’’بعض صاحبوں کی سمجھ پر رونا آتا ہے۔ جو وہ بر وقت درخواست اعانت کے یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کتاب کو بعد تیاری کے خرید لیں گے پہلے نہیں۔ ان کو سمجھناچاہئے کہ یہ کچھ تجارت کا معاملہ نہیں اور مولف کو بجز تائید دین کے کسی کے مال سے کچھ غرض نہیں۔ ‘‘ (حیات احمدجلددوم صفحہ۶۵،۶۴)

ایک اَورروایت ہے کہ مفت کتاب دینے کے متعلق حضرت اقدس علیہ السلام کے ایک خط کا اقتباس اس معاملے میں روشنی ڈالتا ہے ۔یہ خط ایک نجی خط ہے لیکن آج تک کے حالات اوراعتراضات کے جواب کے لیے کتنا ٹھوس اورواضح خط ہے ۔آپؑ اپنے اس خط میں میر عباس علی صاحب کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: ’’آپ اس کے خریداروں کی فراہمی میں یہ ملحوظ خاطر شریف رکھیں کہ کوئی ایساخریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید فروخت پر نظر ہو۔بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مددکرناچاہتے ہیں انہی کی خریداری مبارک اور بہتر ہے کیونکہ درحقیقت یہ کوئی خریدفروخت کاکام نہیں۔ بلکہ سرمایہ جمع کرنے کیلئے یہ ایک تجویز ہے ۔مگر جن کا اصول محض خریداری ہے اُن سے تکلیف پہنچتی ہے ۔اور اپنے روپیہ کو یاد دلاکر تقاضاکرتے رہتے ہیں ۔سوایسے صاحب اگر خریداری کے سلسلہ میں داخل نہ ہوں اور نہ وہ روپیہ بھیجیں ۔اور نہ کچھ مددکریں ۔تو یہ ان کے لئے اس حال سے بہتر ہےکہ کسی وقت بدگمانی اور شتابکاری سے پیش آویں۔‘‘(مکتو بات احمد جلد اول صفحہ ۵۰۷مکتوب نمبر ۱ بنام میر عباس علی صاحب)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button