بنگلہ دیش کے واقفین نَو اور واقفات نَو کا ساتواں سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء
محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے ۱۲؍سال سے اوپر کے واقفین نَو اور واقفات نَو کا ۷واں سالانہ نیشنل اجتماع مورخہ ۱۱و۱۲؍اپریل ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ و اتوار جماعت کے ہیڈ کوارٹر دار التبلیغ بخشی بازار میں بخیر و عافیت منعقد ہوا۔ الحمدللہ

۱۱؍اپریل بروز ہفتہ صبح ۹؍بجے مکرم عبد الاوّل خان چودھری صاحب امیر جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کی صدارت میں افتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم، دعا اور نظم کے ساتھ ہوا۔ مکرم اکرام خان شجیب صاحب ناظم اعلیٰ اجتماع کمیٹی نے سب کو اجتماع میں خوش آمدید کہا۔ پھر مکرم محمد ظہور الاسلام صاحب نیشنل سیکرٹری وقف نَو نے تقریر کی۔ آپ نے اجتماع کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارسال کردہ خصوصی پیغام کا بنگلہ ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا۔ اسی طرح مکرم انچارج صاحب شعبہ وقف نَو مرکزیہ کا ارسال کردہ پیغام بھی پڑھا گیا۔

اس دو روزہ اجتماع میں علمی اور ورزشی مقابلے بھی ہوئے جن میں شاملین نے اپنی عمر کے لحاظ سے مختلف گروپس کی صورت میں حصہ لیا۔
۱۱؍اپریل بروز ہفتہ دوپہر کو ایم ٹی اے انٹرنیشنل بنگلہ دیش سٹوڈیوز کے انچارج مکرم آصف احمد چودھری صاحب کے ساتھ ایک نشست ہوئی۔
شام ساڑھے سات بجے مکرم لقمان احمد کشور صاحب انچارج شعبہ وقف نَو مرکزیہ کے ساتھ ایک (آن لائن) نشست منعقد ہوئی جس میں آپ نے چند ایک اہم نصائح کیں۔
رات ۹ بجے مکرم نیشنل امیر صاحب کے ساتھ ایک تربیتی اجلاس منعقد ہوا۔

۱۲؍اپریل صبح ۹؍بجے سے ۱۱؍بجے تک کیریئر گائیڈلائن اجلاس منعقد ہوا جس میں جامعہ احمدیہ بنگلہ دیش کی طرف سے ایک خصوصی پریزینٹیشن پیش کی گئی اور سوال و جواب کی ایک نشست منعقد ہوئی۔
صبح گیارہ سے ایک بجے تک مستورات ہال میں واقفات نَو کے ليے الگ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
دوپہر تین بجے اختتامی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت مکرم امیر صاحب نے کی۔ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مکرم ناظم اعلیٰ اجتماع کمیٹی نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ پھر مکرم محمد ظہور الاسلام صاحب نیشنل سیکرٹری وقف نَو نے تقریر کی۔ آخر پر مکرم امیر صاحب نے اختتامی دعا کروائی جس کے ساتھ یہ بابرکت اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔
اختتامی اجلاس میں علمی اور ورزشی مقابلہ جات کے انعامات تقسیم کيے گئے۔ اس کے علاوہ عمر کے لحاظ سے نصاب وقف نَو مکمل کرنے والے ۱۰۰؍واقفین نَو اور واقفات نَو اور حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’ضرورت الامام‘ کا مطالعہ مکمل کرنے والے ۲۶۴؍واقفین نَو اور واقفات نَو کو انعامات سے نَوازا گیا۔
اجتماع کو کامیاب کرنے کے ليے ۲۰؍افراد نے ۴۰؍گھنٹے وقار عمل کيا۔ امسال اجتماع میں کل ۴۰؍جماعتوں سے ۵۹۳؍احباب و خواتین نے شرکت کی جن میں ۱۷۷؍واقفین نَو اور ۱۵۶؍واقفات نَو اور ۲۶۰؍والدین شامل تھے۔
اللہ تعالیٰ اس اجتماع کے انعقاد کو ہر لحاظ سے بابرکت کرے، واقفین نَو اور واقفات نَوکواپنے ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے عہد کو پورا کرنے کی توفیق دے۔ آمین
(رپورٹ:نوید الرحمٰن۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بنگلہ دیش کے واقفین نَو اور واقفات نَو کے نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم
میرے پیارے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی بچو!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ، نیشنل وقف نَو اجتماع بنگلہ دیش ۱۱ و ۱۲؍اپریل ۲۰۲۶ء کو منعقد ہو رہا ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ یہ اجتماع آپ سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔
واقفین نَو ہونے کے ناطے آپ شاید سوچیں کہ آپ سے ایمان اور اطاعت کا کیا معیار مطلوب ہے؟ اس کی پیمائش کیسے کی جائے گی؟ اس سلسلہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو تیار نہ ہو جاوے۔ اور ہر ذلّت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو تیار نہ ہو۔ [وفاداری کی]یہ صفت پیدا نہیں ہوسکتی۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ ۴۲۹، ایڈیشن ۱۹۸۴ء)
یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں کہ سچا ایمان اور اللہ سے وفاداری کبھی بھی محض الفاظ تک محدود نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی ذاتی خواہشات کو شکست دے۔ یہ ایک ایسی موت کا تقاضا کرتا ہے جس میں انسان اپنی انا اور ذاتی خواہشات کو اس حد تک دبا دے کہ وہ باقی ہی نہ رہیں۔ یہ تقاضا کرتا ہے کہ انسان کا ہر سانس اور ہر حرکت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کی خواہش کے تابع ہو۔ یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان دنیا کی تمام لذتوں اور کششوں کو ترک کر دے۔ یہ تقاضا کرتا ہے کہ انسان خدا کی خاطر ہر ممکنہ ذلت، سختی اور جدوجہد کو صبر کے ساتھ برداشت کرے۔ اور یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کے دکھ اور تکلیف کو جھیلے۔
اگر کوئی انسان اس کیفیت کو حاصل کر لیتا ہے صرف تب ہی اسے خدا کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کے عہد پر پورا اترنے والا سمجھا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اطاعت اور اپنے ایمان کے ساتھ وفاداری کا وہ بلند معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ایک سچے واقف نَو کا طرۂ امتیاز ہے۔ آپ میں سے ہر ایک دنیا میں ایک گہرے اور تبدیلی لانے والے روحانی انقلاب کو برپا کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے چیلنج پر پورا اترے جو کہ آپ کی زندگی کا حقیقی مقصد اور ہدف ہے۔ آمین
مزید پڑھیں: مجلس انصار اللہ ددگو، برکینافاسو کا ریجنل اجتماع ۲۰۲۶ء




