تازہ ترین: اللہ تعالیٰ نے فلاح و کامیابی کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا ہے۔ خلاصہ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء
٭… ہم یہ جلسہ اس لیے منعقد کر رہے ہیں تاکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت و مؤاخات میں ایک دوسرے کے لیے نمونہ بن جائیں
٭… ہمیں جلسہ کرانے کا تب ہی فائدہ ہوسکتا ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے عہدِبیعت کی تجدید کرنے کے لیے یہاں حاضر ہوں اور یہ عہد کریں کہ یہاں سے ہم نیکی اور تقویٰ پر عمل کرنے والے بن کر نکلیں گے
٭… ان دنوں میں ذکرِ الٰہی پر بھی بہت زور دیں۔اپنے لیے، جماعت کے لیے اور عالَم اسلام کے لیے بہت دعا کریں۔ پوری دنیا کے لیے بھی بہت دعا کریں
۶۰ویں جلسہ سالانہ برطانیہ کی تقریب پرچم کشائی اور امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز افتتاحی خطاب کا خلاصہ
(حدیقۃ المہدی، ۲۴؍جولائی ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آج اپنے بصیرت افروز خطاب سے جماعت احمدیہ برطانیہ کے ۶۰ویں جلسہ سالانہ کا افتتاح فرمایا۔ ساڑھے چار بجے کے قریب حضورِ انور نے لوائے احمدیت لہرایا جبکہ محترم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے برطانیہ کا قومی پرچم لہرایا۔ جیسے ہی حضورِ انور نے لوائے احمدیت لہرایا، فضا نعروں سے گونج اٹھی۔ اس کے بعد حضورِ انور نے دعا کروائی اور جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس کے لیے جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے۔
چار بج کر پینتیس منٹ پر حضور انور مردانہ پنڈال میں رونق افروز ہوئے۔ جونہی حضورِانور پنڈال میں داخل ہوئے فلک شگاف نعرے بلند ہوئے اور عشاقانِ خلافت نے ان نعروں کا بھرپور جواب دیا۔ بعد ازاں افتتاحی اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم احسان احمد صاحب کو سورۃ البقرہ کی آیات ۱تا۸؍ کی تلاوت اور ان کا ترجمہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں مکرم عبد الحئی سرمد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا اردو منظوم کلام بعنوان ‘‘محاسنِ قرآن کریم’’ میں سے بعض اشعار پیش کیے۔ یہ اشعار حسب ذیل شعر سے شروع ہوئے:
جو خاک میں مِلے اُسے ملتا ہے آشنا
اَے آزمانے والے! یہ نسخہ بھی آزما
بعد ازاں مکرم فارس نسیم صاحب (متعلم جامعہ احمدیہ یوکے)نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی تصنیف ‘آئینہ کمالات اسلام’سے فارسی منظوم کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس کا آغاز درج ذیل شعرسے ہوا:
عجب نوریست در جانِ محمدؐ
عجب لعلیست در کانِ محمدؐ
ان اشعار کا اردو ترجمہ مکرم کاشف علی صاحب (مربی سلسلہ )کو پیش کرنے کی سعادت ملی۔
خلاصہ خطاب حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ
چار بج کر ۵۶؍منٹ پر حضور انور فلگ شگاف نعروں کی گونج میں منبر پر رونق افروز ہوئے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عطا فرماتے ہوئے افتتاحی خطاب کا آغاز فرمایا۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
حضرت مسیح موعودؑ نے جلسے کے مقاصد کو بیان کرتےہوئے فرمایا کہ
ہم یہ جلسہ اس لیے منعقد کر رہے ہیں تاکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت و مؤاخات میں ایک دوسرے کے لیے نمونہ بن جائیں۔
پس اسی مقصد کے لیے ان جلسوں کا انعقاد ہوتا ہے اور اسی مقصد کے لیے آج آپ لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جب تک ہم اس مقصد کو پانے کے لیے اپنی پوری کوشش نہیں کریں گے ہمارا مسیح موعودؑ کی بیعت میں آنا بھی بےمقصد ہے اور ان جلسوں میں آنا بھی بےمقصد ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ
اسلام کی تعلیم کی جڑ تقویٰ ہے، اگر تقویٰ ہے تو انسان اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرسکتا ہے ورنہ دین پر عمل کرنے کا ہمارا نعرہ صرف ایک نعرہ رہ جائے گا۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اس بنیادی مقصد کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرمایا ہے کہ
ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے
اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے
یہ دوسرا مصرعہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو الہاماً فرمایا تھا۔ پس تقویٰ ہی اصل جڑ ہے جب تک یہ ہم میں رہے گی ہم اپنے مقصد میں بھی کامیاب ہوتے رہیں گے۔ قرآن کریم اور شریعت پر کامل ایمان لانے کےلیے تقویٰ ضروری ہے، عبادات بجالانے کےلیے تقویٰ ضروری ہے، گھریلومعاملات میں حسنِ سلوک کرنے کےلیے تقویٰ ضروری ہے۔
اسلام میں سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہے جو متقی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ متقیوں کا دوست اور مددگار ہے۔ وہ متقی سے محبت کرتا ہے، بہترین انجام متقیوں کا ہوگا۔
نبی ؐکی کامل اطاعت کے لیے بھی تقویٰ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ہم چاہے جتنے مرضی عہدکرتے رہیں، نعرے لگاتے رہیں کہ ہم جماعت سے وابستہ ہیں، حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آگئے ہیں، ہم آنحضرتﷺ پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ لیکن اگر ہمارے اندر تقویٰ نہیں تو یہ نعرے صرف نعرے ہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فلاح و کامیابی کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بےشمار مقامات پر تقویٰ کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تم تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش کرو۔ اگر تم تقویٰ میں آگے بڑھو گے تو ایمان میں اور قربِ الٰہی کے حصول میں بھی آگے بڑھو گے۔
اگر ہم نے کامیابیاں حاصل کرنی ہیں، اپنی اصلاح کرنی ہے، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے ہمیں متقی بننا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے آغاز میں ہی فرمادیا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے، اس کے پیغام سے، اس کی شریعت سے تب ہی فائدہ اٹھاسکتے ہو جب تمہارے اندر تقویٰ ہو۔
پس اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ تقویٰ کے بغیر اسلام میں انسان کا کوئی مقام نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف نے تو اپنے نزول کی علتِ غائی یہ قرار دی ہے کہ تقویٰ کی راہوں کو سکھائے۔
اللہ تعالیٰ نے ایک اَور موقع پر قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مومنوں کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے اس قرآن میں شفا اور رحمت رکھی ہے مگر ظالموں کو یہ صرف خسارے میں بڑھاتا ہے۔ جن میں تقویٰ نہیں انہیں قرآن کریم کوئی راہ نہیں دکھا سکے گا۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
ہماری شریعت اور قرآن کریم میں یہی حکم ہے کہ غضِ بصر سےکام لو اور نظریں نیچی رکھو۔ اگر لوگ اس پر عمل کرنے لگ جائیں اور تقویٰ کی یہ حالت پیدا ہوجائے تو انسان بہت سارے گناہوں سے بچ سکتاہے۔
آج کل کے معاشرے میں یہی وہ گناہ ہیں جو دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔ فرمایا عورتوں کے حسن کے قصے مت سنو اور ان کاموں سے پرہیز کروجن سے تمہیں ٹھوکر لگ سکتی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ نجات بغیر نبی کریمﷺ پر ایمان لانے اور اس کی ہدایات نماز وغیرہ بجالانے کے نہیں مل سکتی۔
بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سچے ہیں۔ مگر
حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور آنحضرتﷺ کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہب کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ وہ تمام دنیا کےلیے آیاہے۔
انسان کا کام ہے کہ مانگنے سے رکے نہیں اور خداتعالیٰ کی محبت کے لیے اسی سے مانگتے چلے جاناچاہیے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ اسی لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ متقی وہ ہیں جو نماز کھڑی کرتے ہیں اور کھڑی وہی چیز کی جاتی ہے جو گرنے کے لیے مستعد ہو۔ انسانی کوششیں بغیر خداتعالیٰ کے فضل کے بےکار ہیں۔ اس لیے اُس رحیم و کریم نے فرمایا کہ جہاں تک ممکن ہو وہ تقویٰ کی راہ سے نماز کی اقامت میں کوشش کریں۔ پھر اگر وہ میرے کلام پر ایمان لاتے ہیں تو مَیں انہیں ان کی کوشش اور سعی پر نہیں چھوڑوں گا بلکہ مَیں آپ ان کی دستگیری کروں گا۔ تب ان کی نماز ایک اَور رنگ پکڑ لےگی اور ایک اَور کیفیت اس میں پیدا ہوجائے گی جو ان کے خیال و گمان میں بھی نہ تھی۔
پھر ایسے ہی مالی عبادت بھی ہے۔ جس قدر انسان کرسکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اپنے اموالِ مرغوبہ میں سے کچھ خدا کے لیے دے دے۔ اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ ہیں جو اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے انہیں دیا ہے۔
فرمایا: جو کچھ انسان کو ہر ایک قسم کی نعمت مثلاً اس کی جان اور صحت اور علم اور طاقت اور مال وغیرہ میں سے دیا گیا ہے اس کی کوشش سے صرف مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ تک اپنا اخلاص ظاہر کرسکتا ہے اور اس بڑھ کر بشری قوتیں طاقت نہیں رکھتیں۔
فرمایا: یہ احساس کہ یہ میری چیز ہے یہ بھی ایک مرض ہے۔ اگر تم ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی چیز سمجھو گے تو یہ تقویٰ ہے۔
حضورؑ فرماتے ہیں نماز کو خوب سنوارسنوار کر پڑھنا چاہیے کیونکہ
نماز سب ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے۔
اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ، راستباز، ابدال اور قطب گزرے ہیں ۔انہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیونکر حاصل کیے؟ اسی نماز کے ذریعے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف کو سمجھنے اور اس کےموافق ہدایت پانے کے لیے تقویٰ ضروری ہے۔ پھر آپؑ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک انسان اپنے اخلاقِ ردیّہ کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک وہ ان اخلاق کے مقابل پر جو اخلاقِ فاضلہ ہیں ان کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ دو ضدیں ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔اصل چیز یہ ہے کہ انسان تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ آپؑ نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ متقی کو پیار کرتا ہے۔
خداتعالیٰ کی عظمت کو یاد کرکے سخت ترساں رہو، اور یاد رکھو کہ سب اللہ کے بندے ہیں۔
کسی پر ظلم نہ کرو ، نہ کسی کو حقارت سے دیکھو۔ جماعت میں اگر ایک آدمی گندا ہوتا ہے تو وہ سب کو گندا کردیتا ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ
ہمیشہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ اور طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔ اس کا معیار قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھاہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہاتِ دنیا سے آزاد کرکے اُس کے کاموں کا خود متکفل ہوجاتا ہے۔
جیسا کہ فرمایا جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لیے راستہ مَخلَصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لیے ایسی روزی کے سامان پیدا کردیتا ہے کہ اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔
فرمایا :یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے، وہ بڑی طاقتوں والا ہے ۔جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کروگے تووہ ضرور تمہاری مدد کرے گا ۔ جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو وہ اُس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔
ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں :سب کو متوجہ ہوکر سننا چاہیے، پورے غور اور فکر کے ساتھ سنو، کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا ہے۔ اس میں سستی و غفلت اور عدمِ توجہ بہت برے نتائج پیدا کرتی ہے ۔جو لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب انہیں مخاطب کرکے کچھ بیان کیا جائے تو اس کو غور سےنہیں سنتے، تو انہیں بولنے والےکے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجے کا مفید اور مؤثر کیوں نہ ہو، کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔
حضورِانور نے فرمایا پس
ہمیں جلسہ کرانے کا تب ہی فائدہ ہوسکتا ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے عہدِبیعت کی تجدید کرنے کے لیے یہاں حاضر ہوں اور یہ عہد کریں کہ یہاں سے ہم نیکی اور تقویٰ پر عمل کرنے والے بن کر نکلیں گے۔
آپؑ نے فرمایا کہ ہماری جماعت کے لیے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلۂ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تا وہ لوگ خواہ کسی قسم کے بغضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے، یا کیسے ہی رُوبہ دنیا تھے، ان تمام آفات سے نجات پاویں۔
آخر میں حضورِانور نے فرمایا کہ
ان دنوں میں ذکرِ الٰہی پر بھی بہت زور دیں۔اپنے لیے، جماعت کے لیے اور عالَم اسلام کے لیے بہت دعا کریں۔ پوری دنیا کے لیے بھی بہت دعا کریں۔
اللہ تعالیٰ انہیں اپنی پہچان عطا کرے اور ہمیں بھی تبلیغ کے مقصد کو پورا کرنے اور تقویٰ پر چلتے ہوئے ان تک پیغام پہنچانے کی توفیق دے۔
٭…٭…٭