پروفیسر چودھری محمد علی صاحب
(سیّدمعین شاہ۔ لندن)
ہمارے ٹی آئی کالج کی تاریخ میں بعض شخصیات محض اساتذہ نہیں بلکہ ایک پورا عہد اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی تھیں۔ فلسفے کے پروفیسر چودھری محمد علی صاحب مرحوم بھی ایسی ہی ایک باوقار شخصیت تھے۔ جن کا ذکرآتے ہی کالج کے نظم و ضبط ، علمی فضا اوراخلاقی تربیت کی ایک مکمل تصویرآنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔
آپ فلسفے کے استاد تھے۔ مگر فلسفہ ان کے مضمون تک محدود نہ تھا۔ ان کی گفتگو، طرزِ فکراورطرزِعمل میں بھی جھلکتا تھا۔ وہ کلاس روم میں کھڑے ہو کر محض نظریات نہیں پڑھاتے تھے بلکہ طلبہ کو سوچنے ، سوال اٹھانے اور دلیل کے ساتھ بات کرنے کی تربیت دیتے تھے۔ ان کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے کہ محسوس ہوتا کہ فلسفہ کوئی خشک علم نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ایک زندہ طریقہ ہے۔ وہ ہر طالب علم کے ذہنی معیارکو پہچانتے تھے اوراس کے مطابق گفتگو کا زاویہ اختیار کرتے۔

تعلیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ کالج ہاسٹل کے انچارج بھی تھے۔ ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کے لیے وہ صرف ایک نگران نہیں بلکہ ایک شفیق بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ اگر کوئی طالب علم بیمار ہوجاتا تو سب سے پہلے ان کی توجہ اس کی طرف ہوتی۔ کسی کی مالی یا گھریلو پریشانی ہوتو ہر ممکنہ حد تک مدد کرتے۔ ان کی ہمدردی دکھاوے کی نہیں بلکہ خلوص پر مبنی ہوتی تھی۔ اسی طرح وہ کالج باسکٹ بال ٹیم کےPatron بھی تھے۔ کھیل کے میدان میں ان کی موجودگی، ٹیم ورک اوراخلاقی اقدار کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ جیت سے زیادہ کھیل کے آداب پر زور دیتے تھے۔ کھلاڑیوں کو یہ احساس دلاتے کہ کھیل جسمانی صحت کے ساتھ کردار سازی کا بھی ذریعہ ہے۔ ان کے زیرِسایہ ٹیم نے نہ صرف اچھے نتائج دیے بلکہ نظم و ضبط اور باہمی احترام کی مثال بھی قائم کی۔
اپنی seniority اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث جب کبھی پرنسپل صاحب کسی سرکاری یا انتظامی کام سے دوسرے شہر جاتے تو انہیں قائم مقام پرنسپل مقرر کیا جاتا۔ یہ ذمہ داری وہ بڑے وقاراورتوازن کے ساتھ نبھاتے تھے۔ دفتر میں ان کا انداز سادہ مگر فیصلہ کن ہوتا۔ اساتذہ ان کی بات کو اہمیت دیتے تھے اور طلبہ انہیں ایک منصف مزاج منتظم کے طور پر جانتے تھے۔
اگرچہ وہ فطرتاً بہت عاجز، نرم گفتار اور ہر ایک کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے انسان تھے مگر کالج کے نظم و ضبط کے معاملے میں کسی قسم کی رعایت کے قائل نہ تھے۔ اگر کسی طالب علم نے کالج کے قوانین یا اخلاقی حدود کی خلاف ورزی کی ہوتی تو وہ سختی سے پیش آتے تھے۔ یہ سختی ذاتی نہیں بلکہ اصولی ہوتی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ادارے کی ساکھ اورطلبہ کی کردار سازی نظم و ضبط کے بغیر ممکن نہیں۔ اس اصولی رویے کی بدولت کالج میں ایک خاص وقار اور ترتیب قائم رہتی۔
طلبہ دل ہی دل میں ان سے ڈرتے بھی تھے اوراحترام بھی کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی طلبہ جب عملی زندگی میں قدم رکھتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ اس سختی کے پیچھے دراصل ان کی بھلائی اور مستقبل کی تربیت پوشیدہ تھی۔ وہ ایسے استاد نہیں تھے جو صرف نصاب ختم کر کے چلے جائیں بلکہ ایسے معلّم تھے جو اپنے شاگردوں کو ایک ذمہ دار انسان بنانے کا خواب دیکھتے تھے۔
آج جب کالج کے وہ دن یاد آتے ہیں تو فلسفے کے اس پروفیسر کی شخصیت ایک روشن مینار کی طرح ذہن میں ابھرتی ہے۔ ان کی عاجزی، ان کی اصول پسندی اوران کی بے لوث خدمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ایک اچھا استاد وہی ہوتا ہے جو علم کے ساتھ کردار بھی منتقل کرے۔ ایسے لوگ اداروں کی عمارت نہیں بلکہ ان کی روح ہوتے ہیں اور وقت گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کی یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔ وہ ایک استاد ہی نہیں بلکہ ایک شفیق باپ بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
مزید پڑھیں: میری ماں میری جنت۔ مریم محمود صاحبہ



