از مرکزجلسہ سالانہیورپ (رپورٹس)

انٹرنیشنل تبلیغ فورم بر موقع جلسہ سالانہ یوكے ۲۰۲۶ء

۲۳؍ جولائی ۲۰۲۶ء كو صبح دس بج كر چالیس منٹ پر تبلیغ ماركی میں انٹرنیشنل تبلیغ فورم كا انعقاد كیا گیا۔ فورم كا آغاز تلاوت قرآن كریم سے ہوا۔ مكرم طاہر خالد صاحب مربی سلسلہ نے سورت حٰمٓ السجدہ كی آیات ۳۴؍ تا ۳۷؍ كی تلاوت كی۔ اس كے بعد مكرم محترم عطاء المجیب راشد صاحب مبلغ انچارج جماعت احمدیہ یوكے نے اجتماعی دعا كروائی۔ بعد ازاں میزبان پروگرام مكرم ابراہیم اخلف صاحب، نیشنل سیكرٹری تبلیغ یوكے، نے سب سے پہلے مہمانوں كو خوش آمدید كیا اور پھر بتایا كہ اس پروگرام میں اپنے اپنے ممالك كی تبلیغی سرگرمیوں كی رپورٹ پیش نہیں كی جائے گی بلكہ ایسے امور پر بات كی جائے گی جس كے نتیجے میں ہم اپنی تبلیغ كو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنا سكتے ہیں۔ اس پروگرام میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز كی ہدایت كے مطابق تین امور پر زور دیا جائےگا:

٭…كیسے زیادہ احباب كو تبلیغ كے كام میں شامل كیا جا سكتا ہے

٭… كامیاب تبلیغ كرنے والوں كا نمونہ اور ذاتی تجربات

٭…عوام كے ذہن كو سمجھنا

اس كے بعد مقرر نے حضور انور كے اس پیغام كا ایك حصہ پڑھ كر سنایا جو آپ نے حال ہی میں جلسہ سالانہ امریکہ كے موقع پر ارسال فرمایا تھا اور اس میں تبلیغ كے حوالے سے نصائح فرمائیں تھیں۔

اس كے بعد مكرم عثمان احمد صاحب نے آج كے پروگرام كا خاكہ پیش كیا۔ اس كے بعد خطابات اور معروضات شروع كیے گئے۔

سب سے پہلے مكرم حافظ اسماعیل ادوسی صاحب، مبلغ غانا، نے اس موضوع پر بات كی كہ افریقہ میں تبلیغ كے لیے كون سے طریقے اپنائے جائیں تاكہ زیادہ سے زیادہ بیعتیں حاصل ہو سكیں۔ انہوں نے بتایا كہ افریقہ میں دو ہزار سے زیادہ زبانیں اور بہت سی قومیں بستی ہیں۔ وہاں مسائل بھی ہیں، مخالفت بھی ہوتی ہے اور زبان كی رُكاوٹیں بھی ہیں، لیكن اچھی بات یہ ہے كہ افریقہ كے لوگ مذہب میں دلچسپی ركھتے ہیں اور بات سننے كو تیار ہوتے ہیں۔ حضور انور نے ایك بار خاكسار سے فرمایا كہ یورپ وغیرہ میں الحاد جیسے مسائل ہیں، مگر افریقہ میں اب بھی وفاتِ مسیح اور ختمِ نبوت جیسے موضوعات لوگوں كی توجہ كھینچتے ہیں، اس لیے وہاں انہی موضوعات پر بات كی جائے۔ مقرر نے مزید بتایا كہ افریقہ میں لوگوں كے ساتھ گھل مل كر رہیں تاكہ وہ آپ كو اجنبی نہ سمجھیں، اس سے تبلیغ زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ ان كی رسموں اور روایات كو سمجھنا ضروری ہے، ورنہ تبلیغ میں كامیابی مشكل ہے۔ اپنے قریبی لوگوں اور ہمسایوں كو تبلیغ میں پہلے ترجیح دیں اور ذاتی رابطوں پر توجہ دیں۔ شہری علاقوں میں چونكہ جدید ٹیکنالوجی عام ہو رہی ہے، وہاں سوشل میڈیا كے ذریعے تبلیغ كارگر ثابت ہو سكتی ہے، جبكہ دیہی علاقوں میں پرانے، روایتی طریقے زیادہ مؤثر ہیں۔

اس كے بعد امیر صاحب جرمنی نے خطاب كرتے ہوئے بتایا كہ جرمنی میں تبلیغ كو مؤثر بنانے كے لیے كون سے ذرائع اختیار كیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا كہ جرمنی میں تبلیغ كے بہت سے پروگرام بنائے جاتے ہیں، تاہم مشكل یہ ہے كہ میدان تو بہت وسیع ہے مگر ایسے احباب كم ہیں جو جذبہ سے تبلیغ میں حصہ لے سكیں۔ انہوں نے كہا كہ ہمارے لیے زیادہ ضروری یہ ہے كہ ہم عام آدمی تك پہنچیں۔ ہم میں سے اكثر لوگ سوشل میڈیا پر بہت وقت صرف كرتے ہیں، مگر وہاں لوگ آپ كو دیكھ اور مل نہیں سكتے، جبكہ جب آپ سڑك پر كسی سے ملتے اور بات كرتے ہیں تو اس كا اثر بالكل مختلف ہوتا ہے۔ آپ اپنی سائیكل اور كار كو بھی تبلیغ كے لیے استعمال كر سكتے ہیں، مثلاً سائیكل پر ایسی شرٹ پہنیں یا كار پر ایسا پیغام لكھیں جس سے لوگوں تك پُرامن اسلام كا پیغام پہنچے، یہ بھی تبلیغ كا ایك مؤثر ذریعہ ہے۔ ہمارے پاس تبلیغ كے بہت سے ذرائع موجود ہیں، مسئلہ صرف یہ ہے كہ ہم انہیں استعمال نہیں كر رہے۔

اس كے بعد مكرم مولانا اظہر حنیف صاحب، مبلغ انچارج امریکہ، نے امریکہ میں تبلیغ كے كیا ذرائع ہیں، کے موضوع پر خطاب كیا۔ سب سے پہلے آپ نے بتایا كہ خلیفۃ المسیح كی طرف سے جو بھی ہدایت آئے، اس كی سمجھ آئے یا نہ آئے، اس پر پورے اخلاص سے عمل كرنا ہی ہماری كامیابی كی ضمانت ہے۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ كے حوالے سے بتایا كہ حضورؒ نے فرمایا تھا کہ پہلے اپنے آپ كو اللہ كے قریب كریں، تب ہی آپ دوسروں كو خدا كی طرف بلا سكتے ہیں۔ انہوں نے ایك ٹیكسی ڈرائیور كی مثال دی جو بہت كامیاب مبلغ تھا، اور اس كی وجہ یہ تھی كہ اسے دیكھ كر اور اس سے بات كر كے لوگ متاثر ہوتے تھے۔ انہوں نے كہا كہ حضور نے فرمایا ہے كہ ہر احمدی یہ عہد كرے كہ سال بھر میں كم از كم ایك شخص كو احمدی بنائے گا، اور اگر حقیقی كوشش كی جائے تو ایك احمدی دَسوں بلكہ سینكڑوں لوگوں كو احمدیت میں داخل كر سكتا ہے۔ مقرر نے مثال دی كہ جس طرح ہم ہر سال معین چندہ ادا كرنے كا عہد كرتے ہیں، اسی طرح تبلیغ كا بھی عہد ہے۔ اگر ہم سال كے آخر میں وعدے كے باوجود چندہ بالكل ادا نہ كریں تو كیا ہم حقیقی احمدی ہونے كا دعویٰ كر سكتے ہیں؟ اسی طرح سوال یہ ہے كہ ہم تبلیغ میں سال بھر ایك بیعت بھی نہ كروا سكیں تو یہ بات كیسے قبول كر لیتے ہیں؟

اس كے بعد مكرم عامر سفیر صاحب، چیف ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز نے خطاب كیا جس میں آپ نے بتایا كہ كیسے ریویو آف ریلیجنز تبلیغ كا موثر ذریعہ بن سكتا ہے۔ انہوں نے دوسرا پہلو یہ بتایا كہ تبلیغ كے لیے لوگوں كے ذہنوں كو جاننا كتنا ضروری ہے اور یہ كام ہم كس طرح كر سكتے ہیں۔

بعد ازاں مكرم رضی اللہ نعمان صاحب نے ’’ٹرو اِسلام‘‘ (True Islam) كے ذریعہ موثر تبلیغ كے موضوع پر گفتگو كی اور بتایا كہ كس طرح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ كی ہدایات پرTrue Islam UKشروع كیا گیا اور لائیو گفتگو اور مناظرے كیے گئے اور اس كے نتیجے میں نہ صرف بہت سی بیعتیں ہوئیں بلكہ ہمارے احمدی بچوں اور جوانوں كو سكولوں میں پیش آنے والے سوالات كے جواب معلوم ہوئے اور كئی ایسے احمدی جو جماعت سے دور ہو گئے تھے وہ واپس جماعت كی طرف آگئے۔

بعد ازاں امیر صاحب كبابیر مكرم محمد شریف عودہ صاحب كو دعوت دی گئی تاكہ وہ عرب نقطہ نظر سے موثر تبلیغ پر گفتگو كریں۔ آپ نے سب سے پہلے بتایا كہ بغیر تقوی كے تبلیغ میں كامیابی نہیں ہو سكتی۔ پھر بتایا كہ ۷؍ اكتوبر کو فلسطین میں ہونے والے واقعات كے بعد جو اسلام كے خلاف ایك رَو چلی اور سوالات پیدا ہوئے اس كا جواب سوائے جماعت احمدیہ كے كسی كو دینے كی توفیق نہ ملی اور خاص طور پر عبرانی زبان میں صحیح اسلام كی نمائندگی صرف جماعت احمدیہ نے كی۔ كبابیر كے مركز میں ہر روز بہت سے غیر مسلم اور یہود آتے ہیں۔ ہم نےسوشل میڈیا پر مختصر ویڈیوز تیار كیںاور اس كا فرنچ ترجمہ كیا اور بہت تھوڑے وقت میں ملین سے زیادہ لوگوں تك یہ ویڈیوز پہنچائی گئیں جس میں بہت سے افریقی ممالك بھی شامل ہیں۔ صرف اختلافی مسائل ہی نہیں بلكہ اسلام كی خوبصورت تعلیمات جب لوگوں كو پہنچاتے ہیں تو وہ متاثر ہوتے ہیں چاہے وہ عیسائی ہوں یا یہود۔ خاص طور پر اسلام كی ہمدردیٔ خلق كی تعلیم اور اس كے عملی نمونے سے لوگ بہت متاثر ہوتے ہیں۔

اس كے بعد امیر صاحب کینیڈا نے كینیڈا میں تبلیغ كے موضوع پر گفتگو كی اور بتایا كہ ہم اسلام كے سفیر ہیں اور ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے كہ پاكستان میں ہمیں تبلیغ كی آزادی نہیں۔ ان مغربی ممالك میں ہم تبلیغ كر سكتے ہیں مگر جو كوشش ہمیں كرنی چاہیے وہ نہیں كر رہے۔

اس كے بعد امیر صاحب گھانا نے خطاب كیا اور بتایا كہ سب سے پہلی چیز approachہے كہ آپ كس طرح كسی كوapproachكرتے ہیں۔ گھانا میں جب آپ دور دراز علاقوں میں تبلیغ كے لیے جاتے ہیں اور وہاں كے لوگوں كو كشادہ دلی اور اپنائیت سے ملتے ہیں تو آپ ان كے دل جیت لیتے ہیں۔ دوسری بات آپ نے یہ بتائی كہ صرف اچھی باتیں لوگوں كے دل نہیں بدل سكتیں بلكہ جب تك ان خوبصورت تعلیمات كے عملی نمونے نہ پیش كیے جائیں تب تك تبلیغ میں كامیاب نہیں ہوسكتے۔

اس كے بعد مكرم رشید احمد صاحب نے سوشل میڈیا كے بارے میں گفتگو كی اور بتایا كہ اعدادوشمار كے مطابق آج ایك آدمی ایك دن میں چھ گھنٹے سے زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتا ہے۔ اس لیے اگر ہم لوگوں تك پہنچنا چاہتے ہیں تو سوشل میڈیابھی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر پیغام پہنچانا جہاں آسان ہے وہاں زیادہ ذمہ داری كا كام بھی ہے۔ آپ كوئی غلط بات كر دیں تو وہ ہمیشہ كے لیے محفوط ہو جاتی ہے۔ بعض لوگ جوش میں آكر سخت زبان استعمال كرتے ہیں جو تبلیغ كی بجائے جماعت كی بدنامی كا باعث بن جاتی ہے۔ ماضی میں ہماری سب سے بڑی طاقت اخلاق تھے لیكن آج سوشل میڈیا پر چند احمدی احباب كی بدزبانی كی وجہ سے جماعت كی بدنامی ہو رہی ہے اور مخالفین اس كو بطور شہادت ہمارے خلاف استعمال كر رہے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز كے سدِباب كے لیے انٹرنیشنل سوشل میڈیا كمیٹی بنائی ہے اور ہدایت فرمائی ہے کہ ہر ملك میں سوشل میڈیا كمیٹیز بنائی جائیں۔ اب ان كمیٹیز كی تشكیل كو ایك سال ہو گیا ہے تاہم ضرورت اس امر كی ہے کہ ان كمیٹیز كو فعال بنایا جائے اور ہر ملك میں یہ كمیٹیز اس بات كا جائزہ لیں كہ كون ایسے احباب ہیں جو اپنے غلط رویے كی وجہ سے ساری جماعت كی محنت كو رائیگاں كر رہے ہیں اور اس كی رپورٹ كریں تاكہ اس چیز کاتدارك كیا جا سكے۔

وركشاپ

اس كے بعد وركشاپ كا انعقاد كیا گیا جس كا موضوع یہ تھا كہ تبلیغ کو زیادہ موثر بنانے اور عالمی سطح پر بیعتوں کی تعداد بڑھانے کے لیے كیا حکمتِ عملی اپنائی جائے؟

اس ورکشاپ میں مختلف ممالک سے آنے والے نمائندگان کو گروپس میں تقسیم كر كےیہ موقع دیا گیا کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات کی روشنی میں ایسی عملی تجاویز تیار کركے پیش كریں جن پر جماعتیں اپنے اپنے ممالک میں عمل کر كے تبلیغ کو زیادہ مؤثر اور كامیاب بنا سكیں۔ باہمی مشاورت كے بعد ہر گروپ كے نمائندے نے سٹیج پر آكر تجاویز پیش كیں۔

آخر پر مکرم موسیٰ میوا صاحب امیر جماعت احمدیہ سیرالیون، نے اختتامی تقریر میں بتایا كہ جلسہ سے پہلے تبلیغ كے حوالے یہ پروگرام نہایت اہم ہے كیونكہ ہمارا بنیادی مقصد حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے پیغام كو تمام دنیا تك پہنچانا ہے۔ اور یہ ہر احمدی كی ذمہ داری ہے نہ كہ صرف مبلغین كی۔ حضور انور اكثر دفتری ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیتے ہیں۔ تبلیغ كے بہت سے پروگرام بنتے ہیں لیكن اگر ہم جائزہ لیں تو نتیجہ اس كے مطابق نہیں ہے اور بیعات اتنی نہیں ہو رہیں۔ امیر صاحب نے بتایا كہ اگر آپ كسی جگہ رہتے ہیں اور اپنے گردو پیش كے لوگوں كو اپنے كردار وگفتار سے متاثر نہیں كر پاتے تو ہمارے لیے یہ ایك سوالیہ نشان ہونا چاہیے۔ آپ نے سابقہ مبلغین كی كوششوں كا حوالہ دیتے ہوئے بتایا كہ ہمیں اسی جذبے اور اخلاص كے ساتھ كوشش كرنا ہوگی۔ پھر فرمایا كہ صرف مبلغین ہی نہیں ایك عام احمدی كو بھی اس قابل ہونا چاہیے كہ وہ تبلیغ كرسكے اور مخالفین كے اعتراضات كا جواب دے سكے۔

امیر صاحب سیرالیون، جن کوحضور انور نے اس خطاب كے لیے مقرر فرمایا تھا، كا خطاب تقریباً دوبجےختم ہوا۔ اس كے ساتھ ہی یہ سیمینار اپنے اختتام كو پہنچا، جس میں مختلف ممالك كے نیشنل سیكریٹریاں تبلیغ، صدران وامراء اور مبلغین نے شركت كی۔ اللہ تعالیٰ اس پروگرام كے نیك نتائج مرتب فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: میر انجم پرویز۔ ناظم رپورٹنگ جلسہ گاہ)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button