صنعت وتجارت
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں: ’’مجھے ایک شخص نے خط لکھا کہ میں ایم ایس سی ہوں اور ۸۰ روپے ماہوار پر فلاں جگہ نوکر ہوں، آپ میری کچھ مدد کر کے میرے علم اور ڈگری کے مطابق مجھے نوکری دلوادیں۔ وہ احمدی نہیں تھا۔ مجھے اس پر بڑا رحم آیا کہ ایم ایس سی کرنے کے بعد بھی نوکری کا کیڑا دماغ میں تھا۔ اس واسطے ۸۰ روپے پر جا کر نو کر ہو گیا۔ اگر وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کے کام میں برکت ڈال دیتا۔ پس ایم اے ، ایم ایس سی زیادہ عقل اور سمجھ کے ساتھ اپنا کام کریں، تجارت کریں، زمیندارہ کریں۔ اس طرح خود بھی کمائیں گے اور جماعت کے چندے بھی بڑھیں گے ۔اگر اللہ تعالیٰ ان کےاخلاص کو قائم رکھے ۔اور پھر اس میں ملک کا بھی فائدہ ہے، ملک کی دولت بڑھے گی ۔‘‘(رپورٹ مجلس مشاورت۱۹۷۱ء)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)




