چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۹)
۱۶۵۔ یہ معیار ہے دیں کے تحقیق کا
کھلا فرق دجّال و صدیق کا
تحقیق tehqeeq: حق کی دریافت کرنا Research
صدیق siddeeq: سچا، سچ بولنے والاEver truthful, true, sincere
اسی سے سچے دین کے معیار کو پرکھا جاسکتا ہے۔ اسلام اور تثلیث پر ایمان لانے والوں میں امتیازکرتا ہے ۔ مسلمان خدائے واحد اور حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے والےہیں جبکہ دوسرے اس کے منکر ہیں ۔
۱۶۶۔ ذرہ سوچو یارو گر انصاف ہے
یہ سب کشمکش اس گھڑی صاف ہے
کشمکش kashmakash: کھینچا تانی، کشاکش، کشیدگی، ، لڑائی، جھگڑا، تکرار، مخمصہ، بکھیڑا، الجھاؤ، غم و اندوہ، اضطراب، مشکل، الجھن Conflict, struggle, wrestle
دوستو! اگر انصاف کرنا جانتے ہو تو ذرا غور کرو ۔ ساری الجھن اسی وقت حل ہو جائے گی۔
۱۶۷۔ یہ نانک سے کرنے لگے جب جدا
رہے زور کر کر کے بے مدّعا
نانک کے ارد گرد سب ہندو تھے ۔ انہیں ایسا لباس پسند نہیں تھا جس پر کھلے الفاظ میں اسلام کا پیغام لکھا ہو ۔ وہ چاہتے تھے کہ اسے نانک سے جدا کردیں ۔ انہوں نے بہت اصرار کیا اور زور لگایا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ ان کا مقصد حاصل نہ ہوا۔
۱۶۸۔ کہا دور ہو جاؤ تم ہار کے
یہ خلعت ہے ہاتھوں سے کرتار کے
خلعت khil‘at, khal‘at: لباس،جوڑا، شاہی لباس A robe of honour
کرتار kartar: پیدا کرنیوالا، خالق The Creator, God
نانک نے ان کو جواب دیا کہ تم لوگ شکست کھاؤگے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگے کیوں کہ یہ چولہ اللہ تعالیٰ سے ملنے والا شاہی لباس ہے ۔ انسان خدا کے کاموں میں دخل نہیں دے سکتا ۔
۱۶۹۔ بشر سے نہیں تا اُتارے بشر
خدا کا کلام اِس پہ ہے جلوہ گر
بشر bashar: آدمی، انسان Human being
جلوہ گر jalwa gar: ظاہر ہونا، نمو دار ہونا Manifest
یہ چولہ پہنانا انسان کا کام نہیں جسے انسان اُتار سکے یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس پر اس کا کلام لکھا ہوا نظر آتا ہے ۔
۱۷۰۔ دعا کی تھی اس نے کہ اے کردگار
بتا مجھ کو رہ اپنی خود کر کے پیار
کرد گار kird gaar: کارساز، کام بنانے والا مراد خدائے تعالیٰ The Creator, A name of God
نانک نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے میرے مالک میرے سب کام بنانے والے ! تو خود رحم کرکےمحبت سے مجھے اپنا راستہ دکھادے ۔یہ چولہ اسی دعا کی قبولیت کا نشان تھا۔
۱۷۱۔ یہ چولہ تھا اس کی دعا کا اثر
یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سربسر
قدرت qudrat: طاقت ، قوت Might, power
سربہ سر sar ba sar: مکمل Whole, entire
نانک کی دعا اللہ تعالیٰ نے سن لی اور یہ چولہ اسی دعا کے نتیجے میں نانک کو عطا فرمایا تھا ۔یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہؤا تھا۔
۱۷۲۔یہی چھوڑ کر وہ ولی مرگیا
نصیحت تھی مقصود ادا کر گیا
ولی Wali: دوست Friend, saint
جب وہ اللہ تعالیٰ کا پیارا نیک بندہ اس دنیا سے رخصت ہؤا تو یہ چولہ اپنی یادگار چھوڑ گیا۔ اس کے ذریعہ حق بات بتانا اور نیک نصیحت کرنامقصود تھا جو وہ پورا کرگیا ۔
۱۷۳۔اسے مردہ کہنا خطا ہے خطا
کہ زندوں میں وہ زندہ دل جا ملا
خطا khataa: قصور Mistake,error,fault
محض رضائے الہی کے لیے جینے والوں اور اسی کی خاطر مرنے والوں کو مردہ کہنا بڑی غلطی ہے ۔ اس نے تو بشاشت اور بہادری سے ایسا کام کیا تھا کہ ہمیشہ کی زندگی پانے والوں میں شامل ہوگیا۔
۱۷۴۔وہ تن گم ہوا یہ نشاں رہ گیا
ذرا دیکھ کر اس کو آنسو بہا
تن tan: جسم Body
اس کا جسم نظر کے سامنے نہیں رہا مگر اس کا یہ نشان باقی ہے۔ اس کو دیکھ کر اس کی یاد میں رو نا ہے۔
۱۷۵۔کہاں ہے محبت کہاں ہے وفا
پیاروں کا چولا ہوا کیوں بُرا
وفا اور محبت کہاں گئی؟ پیارے نانک کا پیارا چولہ خراب اور بے کار کیوں لگنے لگا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۸)



