جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مختلف ممالک کے وفود، مہمانان ، نَو مبائعین اور نمائندگان سے ملاقاتوں اور بصیرت افروز راہنمائی کا مختصر اجمالی خاکہ
ایک مہمان نے بیان کیا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا ایک نہایت جذباتی لمحہ تھا۔ دورانِ جلسہ ان پر ایک خاص کیفیت طاری ہوگئی اور بالخصوص حضورِ انور کے خطاب کے دوران انہوں نے گہرے جذبات محسوس کیے۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ ایسا تجربہ انہیں اس سے قبل کبھی حاصل نہیں ہوا تھا اور یہ ان کے لیے نہایت حیرت انگیز اور ہمیشہ یاد رہنے والا ہے
مورخہ ۲۴ تا ۲۶؍جولائی دنیا کے طول و عرض سے ہزاروں احمدی مسلمان جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حدیقۃ المہدی میں جمع ہوئے۔ ان تین بابرکت ایّام کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے روزانہ نمازوں کی امامت فرمائی، پانچ ایمان افروز خطابات ارشاد فرمائے اور جلسہ کے اجلاسات کی صدارت فرمائی۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطابات میں بارہا اس اَمر کی جانب توجہ مبذول کروائی کہ جلسہ سالانہ کا بنیادی مقصد روحانی و اخلاقی اصلاح، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اذنِ باری تعالیٰ کے تحت جاری فرمودہ اس عظیم الشّان اجتماع کی برکات سے کماحقہٗ فیض یاب ہونا ہے۔ نیز حضورِ انور نے احبابِ جماعت کو خصوصی تلقین فرمائی کہ وہ جلسہ سالانہ کے ان مبارک ایّام سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی عبادات، اخلاق اور باہمی اخوّت میں ترقی کی بھرپور کوشش کریں تاکہ مقاصدِ جلسہ حقیقی معنوں میں حاصل ہو سکیں۔
جلسہ سالانہ کے خطابات کے علاوہ حضورِ انور کی مصروفیات مسلسل جاری رہیں۔ جلسہ سالانہ کے دوران اور بعد ازاں حضورِ انور کی بعض دیگر مصروفیات بھی قابلِ ذکر رہیں، جن میں آپ کی شفقت و محبّت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں ۔
پہلے روز کی کارروائی کے اختتام پر حضورِ انور نے جلسہ گاہ کے مختلف حصّوں کا دَورہ فرمایا۔ اس موقع پر حضورِ انور سب سے پہلے جلسہ بُک شاپ پر تشریف لے گئے، جہاں حضورِ انور نے مہمانانِ جلسہ کے لیے دستیاب کُتب و مطبوعات کا معائنہ فرمایا۔

بعدازاں حضورِ انور وہاں سےعرب احمدیوں اور مہمانانِ جلسہ کی مارکی کی طرف تشریف لے گئے، جہاں دنیا بھر سے جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے آنے والے احمدیوں اورمہمانوں کو حضورِ انور کی شفقت و محبّت اور عنایات کے قیمتی لمحات میسر آئے۔
ہفتہ کی شام جلسہ کی کارروائی کے اختتام پر حضورِ انورنے ازراہِ شفقت مختلف وفود کو شرفِ ملاقات بخشا۔ ان وفود میں دنیا کے مختلف خطّوں سے تشریف لانے والے معززین، مہمانانِ جلسہ اور نَو مبائعین شامل تھے، جنہیں حضورِ انور کی صحبتِ قدسی سے فیض یاب ہونے اور حضورِ انور کی دعاؤں اور راہنمائی سے مستفیض ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
حضورِ انور سے شرفِ ملاقات پانے والے وفود میں اٹلی کے نمائندگان بھی شامل تھے۔
ان مہمانوں میں پروفیسر فیدریکا سونا (Federica Sona)بھی شامل تھیںجنہوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے عرض کیا کہ وہ قانون کی پروفیسر ہیں۔یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کسی یونیورسٹی میں پڑھارہی ہیں؟اس پر موصوفہ نے اثبات میں تصدیق کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ اس وقت اٹلی میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں، جبکہ اس سے قبل لندن میں بھی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ مَیں زیادہ تر ایسے مسلمانوں کے ساتھ کام کرتی ہوں جو کہ اقلیتی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔
حضورِ انور نے مزید استفسار فرمایا کہ یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کے مفاد کےلیے آپ کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟
جس پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ مختلف طبقات کے درمیان فاصلے کم کرنے اور لوگوں کے باہمی رابطوں کو بہتر بنانے میں مدد دینے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ معاشرے اور یورپی نظام میں مؤثر طور پر ضمّ ہونے کی کوشش کریں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی روایات اور دینی تعلیمات کی حفاظت کرتے ہوئے معاشرے کا فعّال حصّہ بن سکتے ہیں، جیسا کہ ہم کرتے ہیں۔
پروفیسر صاحبہ نے گفتگو کے آخر میں حضورِ انور کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ مَیں آپ کی کاوشوں کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔ آپ کا کام واقعی دنیا بھر میں پھیل رہا ہے اور علم کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
ایک شریکِ مجلس صحافی سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا وہ بحیثیت فری لانسر کام کر رہے ہیں یا کسی ادارے سے وابستہ ہیں؟انہوں نے عرض کیا کہ وہ بحیثیت فری لانسر کام کرتے ہیں اور اٹلی کے سب سےمعروف اخبار کوریئرے ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے تعاون سے صحافتی میدان میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
حضورِ انور نے مزید استفسار فرمایا کہ کیا وہ یہاں سے واپسی کے بعد کوئی مضمون بھی لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟اس پرانہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ جی ہاں ضرور! مَیں بہت لکھتا ہوں۔
اس موقع پر حضورِ انور نے جیوپولیٹکس میں پی ایچ ڈی کے طالب علم الیساندرو بونیفازی (Alessandro Bonifazi) سے بھی گفتگو فرمائی۔ حضورِ انور کے مضمون کی بابت دریافت کیے جانے پر انہوں نے عرض کیا کہ ان کا تحقیقی موضوع جغرافیائی اُمور، جیو اکنامکس اور لاجسٹکس کے ان پہلوؤں سے متعلق ہے کہ جو جیوپولیٹکس سے وابستہ ہیں۔
حضورِ انور نے موصوف سے مزید دریافت فرمایا کہ کیا ان کا موضوع یورپ تک محدود ہے یا بین الاقوامی نوعیت کا ہے؟جس پر انہوں نے عرض کیا کہ ان کی تحقیق بحیرۂ روم (Mediterranean) اور اس سے آگے کے خطّوں سے متعلق ہے۔
اس پر حضورِ انور نے تبصرہ فرمایا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ موضوع ہے، جس پر انہوں نے اثبات میں تصدیق کی، نیز آخر پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت فرمایا کہ آپ تو کافی بڑے سکالر ہیں۔ جس پر انہوں نے انتہائی ادب کے ساتھ حضورِ انور کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر ایک سماجی ماہرِ علومِ ادیان کو بھی حضورِ انور سے گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ مذاہب کے مطالعہ سے وابستہ ہیں اور حال ہی میں جماعتِ احمدیہ کی جانب سے تیار کردہ اطالوی زبان میں قرآنِ کریم کے ترجمہ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک مضمون تیار کر رہے تھے۔ انہوں نے اس ترجمہ کےلیے شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ حقیقتاً اس کی بہت قدر کرتے ہیں۔
ایک اَور شریکِ مجلس مہمان نے حضورِ انور سے پوچھا کہ کیا آپ اٹلی تشریف لائیں گے؟ حضورِ انور نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ مَیں جلد از جلد آؤں۔
اس پر مہمان نے مزید سوال کیا کہ کیا حضورِ انور اس سے قبل کبھی روم تشریف لے جا چکے ہیں؟ جس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ جی ہاں! اس منصب پر فائز ہونے سے قبل مَیں وہاں جا چکا ہوں۔
مہمان کی جانب سے اس توقع کے اظہار پر کہ ہم حضورِ انور کی آمد کے منتظر رہیں گے، حضورِ انور نے فرمایا کہ آپ کی دعوت کا بہت بہت شکریہ۔
حضورِ انور سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے والے دیگر وفود میں نائیجیریا سے تشریف لانے والا ایک وفد بھی شامل تھا، جس میں اِیلارو (Ilaro) کے بادشاہ اور ییوا لینڈ (Yewaland) کے اعلیٰ ترین حکمران بھی شامل تھے۔
ان کا تعارف کرواتے ہوئے مترجم نےعرض کیا کہ ان کے زیرِ اثر کئی دیگر بادشاہ بھی ہیں، اس لیے یہ اس علاقے کے نمایاں ترین بادشاہ شمار ہوتے ہیں اور جس علاقے میں جلسہ سالانہ منعقد ہوتا ہے وہ بھی ان کے دائرۂ اختیار میں شامل ہے۔ اسی طرح جامعہ، مسرو کالج اور سائنس کالج (جس کا ایک حصہ طلبہ اور ایک حصہ طالبات کے لیے ہے) بھی انہی کی قلمرو میں واقع ہیں۔
مترجم نے مزید عرض کیا کہ یہ پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں تشریف لائے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک عیسائی بادشاہ ہیں تاہم جماعت احمدیہ کے بہت اچھے دوست ہیں۔
اس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ یہ تقریباً نصف ریاست کے بادشاہ ہیں؟جس پر حضورِ انور کی خدمت میں اثبات میں جواب عرض کیا گیا۔
پھر مترجم نے الحاج موسیٰ ابراہیم صاحب کا تعارف کروایا۔اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ وہ انہیں پہلے سے جانتے ہیں۔
مترجم نے مزید عرض کیا کہ جب ہم نے جلسہ میں شمولیت کی بابت درخواست پیش کی تھی تو اس وقت یہ غیر احمدی کی حیثیت سے تھی، لیکن انہوں نے یہاں ہماری آمد سے قبل بیعت فارم پر دستخط کر دیے ہیں۔
حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ انہوں نے کب دستخط کیے؟
مترجم کی جانب سے دو ہفتے قبل دستخط کیے جانے کا ذکر کرنے پر موصوف نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ مجھ پر حقیقت آشکار ہو گئی اور مَیں نے بیعت فارم پر دستخط کر دیے۔
اس موقع پر حضورِ انور نے نائیجیریا کے بادشاہ سے دریافت فرمایا کہ آپ کے ملک میں زندگی کیسی گزر رہی ہے؟
بادشاہ نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ حضورِ انور سے ملاقات کے خواہش مند تھے اور دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔
حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کی مملکت میں امن و امان کی صورتحال کیسی ہے؟ مترجم نے عرض کیا کہ اب حالات بہتر ہیں۔ بادشاہ نے مزید عرض کیا کہ وہ اِکیرون(Ikirun)نائیجیریا میں قائم کردہ منارۃ یونیورسٹی کے لیے حضورِ انور کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اس ادارے کو سنبھال سکتے ہیں یا نہیں اور اسے کامیابی کے ساتھ چلا سکتے ہیں یا نہیں۔
اس پر ترجمان نے عرض کیا کہ حضورِ انور کی دعاؤں کی ضرورت ہے، ان شاء اللہ۔ مزید براں بادشاہ کے ہمراہ شریکِ مجلس ایک خاتون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشاءاللہ ہم اسے کامیابی سے چلائیں گے۔یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ میری دعائیں تبھی کام کریں گی کہ جب آپ محنت کریں گے۔
اس پر تمام شرکاء بشمول مترجم نے عرض کیا کہ انشاءاللہ! ہم بہت محنت کریں گے۔
بعدازاں حضورِ انور نے بادشاہ سے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں جلسہ کیسا پایا؟ بادشاہ نے عرض کیا کہ یہ بہت دلچسپ تجربہ ہے۔ مَیں نے چند سال قبل نائیجیریا میں ایک پروگرام میں شرکت کی تھی ، لیکن یہ اجتماع اس سے مختلف ہے۔ یہ اعلیٰ ترین معیار کا اور نہایت روح پر ورہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ اور کیا پسند ہو سکتا ہے کہ لوگ اس طرح ایک جگہ جمع ہو کر اس کا نام بلند کریں اور اس کی عبادت کریں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم نے تو یہاں عارضی انتظامات کے تحت ایک عارضی شہر بسایا ہے، تقریباً پچاس ہزار افراد یہاں آ رہے ہیں اور تقریباً بیس ہزار افراد تین دن تک یہیں قیام کرتے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس کی مداخلت کے بغیریہاں امن و امان ہے۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے والے وفود میں کوسووو سے آنے والا ایک وفد بھی شامل تھا۔
اس موقع پر حضورِ انور نے ایک مہمان سے دریافت فرمایا کہ آپ اس اجتماع کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ ایک شاندار تجربہ ہے۔ یہ ان کی پہلی مرتبہ شرکت ہے اور یہاں کا نظم و ضبط، لوگوں کے درمیان باہمی تعلق اور مجموعی ماحول دیکھنا ایک نہایت متاثر کن تجربہ ہے۔
ایک اَور مہمان سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کو جلسہ کیسا لگا؟ تو مترجم نے عرض کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی مسکراہٹ نے بہت متاثر کیا۔ہر کسی نے ہمارا بہت خیال رکھا اور ہمیں بے پناہ محبّت و شفقت دی گئی۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے والے وفود میں یونان سے تشریف لانے والا ایک وفد بھی شامل تھا۔
اس موقع پر حضورِ انور نے ایک خاتون مہمان سے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں کیا مشاہدہ کیا؟انہوں نے عرض کیا کہ وہ ہیومینٹی فرسٹ کے کام کو دیکھنے میں بہت دلچسپی رکھتی تھیں، کیونکہ وہ یونان میں بطورِ رضاکار خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ایک اَور شریکِ مجلس سے حضورِ انور مخاطب ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا نام بیورن(Bjorn) ہے، میرا تعلق ڈنمارک سے ہے، تاہم مَیں یونان میں رہتا ہوں۔
اسی دوران حضورِ انور نے ازراہِ شفقت ان کے ہمراہ موجود خاتون کے بارے میں دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟انہوں نے عرض کیا کہ یہ میری ہونے والی اہلیہ ہیں۔اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اچھا ماشاء الله! اور یہ آپ کو یہاں لے کر آئی ہیں؟ جس پر انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے عرض کیا کہ جی بالکل! یہ مجھے یہاں لے کر آئی ہیں۔
پھر حضورِ انور نے ان کی اہلیہ سے دریافت فرمایا کہ آپ اور آپ کے شوہر نے کیا محسوس کیا؟ نیز ہیومینٹی فرسٹ کے علاوہ آپ نے اور کیا کچھ دیکھا؟
اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ ہر شخص نہایت مہمان نواز ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہے اسے فراخ دلی سے پیش کر رہا ہے۔ بلاشبہ مَیں اس بات سے پہلے بھی واقف تھی کیونکہ مَیں ہیومینٹی فرسٹ کے لیے بطورِ رضاکار خدمت کی توفیق پا چکی ہوں اور عطا اور کترینہ [مربی سلسلہ یونان اور ان کی اہلیہ]سے بھی ملی تھی، لیکن اتنی بڑی تعداد میں بالکل اجنبی لوگوں سے اس قدر حسنِ سلوک کا مظاہرہ دیکھنا نہایت متاثر کن ہے۔
حضورِ انور نے موصوفہ سے مزید دریافت فرمایا کہ آپ مؤرخ ہیں، وہ تو بہت گہرا مشاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں، کیا آپ نے یہاں ہماری خواتین کو آزاد دیکھا یا مظلوم؟
انہوں نے عرض کیا کہ جماعت کی خواتین نہایت خوبصورت، دوستانہ اور خوش اخلاق ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہے۔
حضورِ انور کے اس استفسار پر کہ اس کا مطلب ہے کہ وہ مظلوم نہیں ہیں، موصوفہ نے عرض کیا کہ وہ اتنی زیادہ خوش نظر آتی ہیں کہ ممکن ہی نہیں کہ وہ مظلوم ہوں۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر وہ خوش ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ نہ مظلوم ہیں اور نہ ہی افسردہ۔
بعد ازاں انہوں نے عرض کیا کہ حضورِ انور اگر اجازت مرحمت فرمائیں تو وہ ایک سوال کرنا چاہیں گی۔ ازراہِ شفقت اجازت عطا ہونے پر انہوں نے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں دنیا میں عورت کا کیا مقام ہے؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ عورتیں مردوں کے برابر مقام رکھتی ہیں۔ وہ کام کر سکتی ہیں اور اپنی پسند کے کسی بھی پیشے کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ وہ یہاں بھی کام کر رہی ہیں، حتیٰ کہ یہاں ہماری خواتین میں بھی ایک کثیر تعداد میں صحافی، مؤرخ، ڈاکٹر، اساتذہ اور انجینئرز موجود ہیں۔ وہ آزاد ہیں اور یہی ان کا مقام ہے۔ ان کا درجہ مردوں کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ مردوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کا معاملہ کریں۔ یہ قرآنِ کریم کا حکم ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔ لہٰذایہ تصوّر درست نہیں کہ مرد برتر ہیں، بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں، جنہیں انہیں ادا کرنا چاہیے۔
ایک اَور مہمان نے جلسے کے حوالے سے اپنے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ یہ تجربہ نہایت متاثرکن ہے۔ نیز حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ آپ کی خدمات کا اثر صرف مقامی سطح تک ہی محدود نہیں، مَیں بین الاقوامی قانون پڑھاتا رہا ہوں اور مَیں محسوس کرتا ہوں کہ آپ کا اثر و رسوخ یورپ، ایشیا اور پاکستان سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ میرے مشاہدے کے مطابق آپ کا پیش کردہ اسلام امن اور انصاف پر مبنی ہے جو ایک نہایت قابلِ قدر اَمر ہے، جیسا کہ مَیں نے آپ کی تقریر سے بھی سمجھا۔ یہ ایک بہت اہم پیغام ہے۔
یہ قلبی جذبات سماعت فرما کر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت موصوف کا شکریہ ادا فرمایا۔
مہمان نے مزید عرض کیا کہ یہاں ہر چیز نہایت عمدگی سے منظّم ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں افراد بغیر کسی معاوضے کے محض بہترین خدمت انجام دینے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔
حضورِ انور نے موصوف سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کا قیام یہاں آرام دہ ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ جی ہاں! بالکل، برطانیہ کا یہ میرا پہلا دَورہ نہیں، لیکن جماعتِ احمدیہ کے ساتھ میرا یہ پہلا موقع ہے۔
ایک شریکِ مجلس خاتون نے سوال کیا کہ ایک شخص کے لیے احمدی ہونا کیوں ضروری ہے۔کیا یہ کافی نہیں کہ وہ محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل پیرا ایک مسلمان ہو؟
اس پرحضورِ انور نے فرمایا کہ مسلمانوں میں بھی متعدد فرقے ہیں، جس طرح عیسائیت میں مختلف فرقے پائے جاتے ہیں، آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جب مسلمانوں میں بھی بہت سے فرقے پیدا ہو جائیں گے اور ان کی تعداد تہتر (۷۳) تک پہنچ جائے گی۔ ان تہتر (۷۳) میں سے ایک ایسا فرقہ ہوگا کہ جو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چل رہا ہو گا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ چونکہ آخری ایّام میں بہت سے مسلمان اسلام کی تعلیمات کو نظر انداز کر کے ترک کر دیں گے، اس لیے ایک مصلح مبعوث ہوگا۔ اور قرآنِ کریم کی سورۃ الجمعہ کی پیشگوئی کے مطابق وہ مصلح آئے گا اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی از سرِ نَو تجدید کرے گا۔ پس جب وہ مصلح آ جائے تو آپ کو اسے قبول کرنا چاہیے، جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً چودہ سو سال بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تاکہ یہودیت کی حقیقی تعلیمات کا احیا کر سکیں، اسی طرح آخری ایّام میں مسلمانوں کے درمیان بھی ایک مصلح کا آنا مقدر تھا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ ہمارا ایمان ہے کہ قرآنِ کریم کی اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق وہ وجود مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی صورت میں آ چکا ہے اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی بنیادی فرق ہے۔ جبکہ دیگر مسلمان کہتے ہیں کہ نہیں، یہ وہ وجود نہیں ہیں، بلکہ وہ عیسائیوں کی طرح سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ جو انسان وفات پا جائے تو وہ دوبارہ دنیا میں واپس نہیں آ سکتا۔ پس یہی ایک معمولی سا فرق ہے۔
پھر حضورِ انور نے ملاقات میں شریک مبلغِ سلسلہ کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی تفصیلات ہمارے مبلغِ سلسلہ آپ کو بتا سکتے ہیں۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے والے وفود میں جاپان سے تشریف لانے والا ایک وفد بھی شامل تھا۔
دورانِ ملاقات اس وفد میں شامل ایک خاتون نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ان کا نام ہیروکو مِنِساکی (Hiroko Minesaki) ہے اور وہ Cultural Anthropologist ہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ وہ ۲۰۱۲ء سے جماعتِ احمدیہ کے بارے میں تحقیق کر رہی ہیں۔حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کی تحقیق اب کہاں تک پہنچی ہے اورکیا آپ نے کوئی کتاب لکھی ہے؟جس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ انہوں نے جاپانی زبان میں جماعتِ احمدیہ کے بارے میں ایک کتاب شائع کی ہے۔الحمدللہ!
مترجم نے موصوفہ کی جانب سے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ۲۰۱۵ء میں حضورِ انور نے فرمایا تھا کہ کوئی کتاب بھی لکھیں۔ چنانچہ اس کام میں مجھے دس سال لگ گئے لیکن بالآخر اب میری کتاب مکمل ہو گئی ہے۔ یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے ’’اچھا ماشاء الله!‘‘ کے دعائیہ کلمات سے موصوفہ کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
بعدازاں حضورِ انور نے ان کے ساتھ تشریف فرما مرد شریکِ مجلس سے دریافت فرمایا کہ آپ نے جلسہ سالانہ کو کیسا پایا؟
انہوں نےعرض کیا کہ یہ تجربہ نہایت شاندار اور متاثرکن تھا، کیونکہ مَیں پہلی مرتبہ جلسہ میں شامل ہوا، لیکن مجھے یہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ بالخصوص مَیں لوگوں کی مہمان نوازی سےبے حد متاثر ہوا۔ ہر شخص نہایت مہربان تھا اور مختلف سرگرمیوں میں انتہائی محبّت و شفقت سے مجھے معاونت فراہم کی گئی۔ مَیں نے آپ لوگوں کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا، مَیں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور مَیں تمام لوگوں کے حسنِ سلوک اورتعاون کا تہِ دل سے مشکور ہوں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ سب عارضی انتظامات تھے، اس لیے ممکن ہے کہ آپ کو کچھ مشکلات بھی پیش آئی ہوں، لیکن بہرحال ان حالات کے پیشِ نظر جو کچھ ممکن تھا ہم نے وہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
اس پر موصوف نے عرض کیا کہ بعض مشکلات ضرور پیش آئیں، مثلاً موسم کی شدت اور ٹریفک کے مسائل، لیکن ان حالات میں یہ ایسا کوئی بڑا یا پریشان کن معاملہ نہیں ہے۔
جس پر حضورِ انور نے اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ ان حالات کے پیشِ نظر یہاں ایسا ہو نا بالکل ایک فطری بات ہے۔
ایک اَور مہمان خاتون نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ آج وہ ایک پینٹنگ لے کر آئی ہیں کہ جو انہوں نے خود بنائی ہے۔
اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے موصوفہ سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ Sceneries بناتی ہیں؟جس پر مترجم نے عرض کیا کہ یہ پینٹنگ انہوں نے امن کے پیغام کے حوالے سے بنائی ہے، جس میں شیر، بکری اور ہرن سب ایک ہی مقام پر اکٹھے دکھائے گئے ہیں۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے جاری گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا، اور ایک ہی گھاٹ سے پانی پئیں گے، حدیث میں جو امام مہدی کے زمانے کے بارے میں آیا ہے۔
موصوفہ نے اپنی بنائی گئی تصویر کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ مل جل کر رہ سکیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ لیکن آج کی دنیا کا رویّہ اس تصویر کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔
بعدازاں ان کے ساتھ تشریف فرما ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ مَیں آپ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ انسانیت کے ایک خوشگوار مستقبل کے لیے چند اُمور نہایت ضروری ہیں۔ سب سے پہلے زمین کے لیے امن اور ایک بہتر قدرتی ماحول کا ہونا ضروری ہے۔ دوسرےانسانوں کے لیے محبّت اور اُمید ضروری ہے۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ ایک اَور نہایت اہم اَمر ایک عظیم راہنما کا وجود ہے۔ ایسا راہنما ٹرمپ یا پیوٹن نہیں بلکہ حضورِ انور جیسا ہونا چاہیے، اور مَیں اس بات پر کامل یقین رکھتا ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ!
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ صرف تبھی ممکن ہے کہ جب انسان کا اپنے خالق کے ساتھ گہرا اور مضبوط تعلق قائم ہو۔ پھر ہی انسان حقیقی باطنی و قلبی سکون حاصل کر سکتا ہے۔ جب انسان اپنے خالق کو پہچان لیتا ہے تو تبھی وہ حقیقی معنوں میں اپنی ذات کی اصلاح اور اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں کی بھلائی کے لیےکچھ کر سکتا ہے۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت مختلف ممالک کے نمائندگان پر مشتمل ایک وفد کو بھی شرفِ ملاقات عطا فرمایا۔
آسٹریا سے تشریف لائی ہوئی ایک مہمان خاتون سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ نے اس کنونشن کو کیسا پایا؟
اس پر انہوں نے عرض کیا کہ یہ نہایت ہی ایمان افروز اور پُرامن تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو باہمی تعاون کے ساتھ کام کرتے دیکھنا بہت اچھا لگا، بالخصوص رضاکارانہ خدمت کا جذبہ قابلِ حیرت تھا۔ اور یہ پُر امن ماحول بہت ہی شاندار ہے۔
ان کے ساتھ تشریف فرما ایک اور خاتون نے عرض کیا کہ آسٹریا میں اس طرح کا پُرامن ماحول عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتا۔جس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ جہاں ایک چھوٹی سی جگہ پر پچاس ہزار لوگ جمع ہوں۔اس پر موصوفہ نے اس حقیقت کی اثبات میں تصدیق کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ آسٹریا میں تو کبھی ممکن نہ ہو پاتا۔
پہلی خاتون نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزیدعرض کیا کہ یہاں جس قدر شفقت اور محبّت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا، وہ بے مثال ہے، ہر شخص نہایت محبّت کرنے والا اور انتہائی مہربان ہے۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے والے وفود میں کینیڈا سے تشریف لانے والے نمائندگان پر مشتمل ایک وفد بھی شامل تھا۔
دورانِ ملاقات حضورِ انور نے کینیڈا کے ایک عرب نژاد رکنِ پارلیمنٹ سے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں کے ماحول کو کیسا پایا؟
مہمان نے عرض کیا کہ یہ تجربہ نہایت متاثر کن اور انتہائی عمدہ تھا۔ بالخصوص ہزاروں رضاکاروں کو خدمت میں مصروف دیکھ کر مَیں بہت متاثر ہوا۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ جماعت کا نظم و نسق اور انتظامی صلاحیتیں نہایت اعلیٰ معیار کی ہیں۔
اس پر حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اسی طرح آپ کو بھی اپنے عرب ممالک میں نظم و ضبط اور تنظیم پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مہمان نے عرض کیا کہ جی بالکل، ہمیں اس سے ضرور سیکھنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امن اور محبّت کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں آغاز، محبّت اور امن سے کرنا چاہیے جبکہ اس وقت اکثریت ان اقدار سے محروم ہے۔
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے۔ جس پر مہمان نے ان شاء الله یا ربّ! کے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے اپنی اُمیدِ واثق کا اظہار کیا۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف پانے والے وفود میں سوئٹزرلینڈ سے آنے والا ایک وفد بھی شامل تھا، جس میں گھانا کی حکومت سے وابستہ ایک معزز مہمان بھی شریک تھے۔
دورانِ ملاقات حضورِ انور نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا اب مالیاتی نظام پرآپ کا مناسب کنٹرول قائم ہو چکا ہے یا لوگ اب بھی مالی بدعنوانی اور غبن میں ملوث ہیں؟
انہوں نے عرض کیا کہ اسے مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، تاہم میرے خیال میں اب ملک کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ صرف معاشی استحکام کافی نہیں بلکہ مسلسل ترقی اور بہتری کی جانب پیش رفت بھی ضروری ہے۔
انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں! بہتری آ رہی ہے، مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے اور لوگوں کے رہن سہن کے اخراجات کے حوالے سے بھی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔
بعد ازاں حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا ملکی معیشت کو ترقی دینے کے لیے مؤثر پالیسیاں بھی مرتب کی گئی ہیں؟
انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں! حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نہایت سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ چنانچہ اس وقت پورا ملک ایک بڑے تعمیری زون کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام جاری ہے، جبکہ اکرا، کیپ کوسٹ شاہراہ پر ٹریفک کے سنگین مسئلے کے حل کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، نیز اس شاہراہ کی تعمیر و مرمت کا سلسلہ آئیوری کوسٹ کی سرحد تک جاری ہے۔
اس کے بعد حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا ملک کے دستیاب وسائل عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہورہے ہیں؟ اس پر انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ حضورِ انور نے مزید استفسار فرمایا کہ کیا آپ اپنے بنیادی ڈھانچے، بالخصوص سڑکوں کے نظام کی بہتری کے لیے بھی کام کر رہے ہیں؟
انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں! ہم سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں تاکہ ملک بھر میں رابطے کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
آخر میں حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ازراہِ مزاح فرمایا کہ حکومتی افسران کے پاس ہیلی کاپٹر موجود ہیں، لیکن عوام کے پاس نہیں۔ اس لیے آپ کو عوام کی مدد اور سہولت کے لیے بھی کوشش کرنی ہوگی۔
جلسہ سالانہ کے آخری روز دنیا بھر کے احمدی مسلمانوں نے ایک مرتبہ پھر عالمی بیعت کی روحانی و بابرکت تقریب میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دستِ مبارک پرعہدِ بیعت کی تجدید کرتے ہوئے خلافتِ احمدیہ کے ساتھ اپنی وفا اور کامل وابستگی کا اظہار کیا۔
اسی شام حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بعدازاں اختتامی خطاب ارشاد فرمایا جس کے ساتھ جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء خدا تعالیٰ کے غیر معمولی افضال اور بے پایاں برکات سمیٹتے ہوئے باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوا۔اپنے اختتامی خطاب میں حضورِ انور نے احبابِ جماعت کو تلقین فرمائی کہ وہ جلسہ سالانہ کے پیغام کو اپنی عملی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور اپنے اپنے گھروں کو واپسی کے بعد بھی اپنی روحانی و اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف مسلسل توجہ رکھیں۔
جلسہ سالانہ کے اختتام کے بعد بھی حضورِ انور کی بابرکت مصروفیات کا سلسلہ جاری رہا۔
اختتامی اجلاس کے بعد حضورِ انور نے دنیا بھر سے تشریف لانے والے مختلف وفود اور مہمانوں کو شرفِ ملاقات بخشا۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے والے وفود میں سپین سے تشریف لانے والا ایک وفد بھی شامل تھا۔
حضورِ انور نے ایک ممبر پالیمنٹ سے دریافت کیا کہ کیا آپ کا یہاں آنا پہلی مرتبہ ہواہے اور آپ نے اس جگہ اور یہاں کے ماحول کو کیسا پایا؟
انہوں نے عرض کیا کہ بہت اچھا! اور ہم نے کچھ ملاقاتیں طے کی ہیں۔ شاید اکتوبر میں ہم میڈرڈ میں پارلیمنٹ کے اندر ایک فاؤنڈیشن کی قیادت کرنے جا رہے ہیںتاکہ آپ کے ملک میں لوگوں کے ساتھ جو سلوک رَوار رکھا جا رہا ہے، اس پر بات ہو سکے۔ اور جہاں عدم تشدد اور انصاف کے فروغ کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔
مترجم نے اس حوالے سے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ان شاء اللہ! یہ ہسپانوی پارلیمنٹ میں جماعت کے خلاف ہونے والی مخالفت کے حوالے سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایک اَور مہمان کے تاثرات پیش کرتے ہوئے مترجم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مَیں یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے ورطۂ حیرت میں مبتلا ہوںکیونکہ یہاں کی حاضری پیدروآباد کی آبادی سے تقریباً پانچ یا چھ گنا زیادہ ہے۔
اس پر حضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ اس وقت یہاں پیدروآباد سے کم از کم پچیس گنا زیادہ آبادی ہے، اور کوئی پولیس نہیں اور کوئی لاء اینڈ آڈر (law and order)کی پرابلم نہیں۔
مترجم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ پیدروآباد میں رہتے ہوئے ہمیں جماعتِ احمدیہ کی حقیقت کا کسی حد تک احساس ہوتا ہے، لیکن یہاں آ کر جماعت کے بارے میں جس گہرے اور ہمہ گیر فہم کی ضرورت ہے، اس کا حقیقی ادراک حاصل ہوتا ہے۔
اس پر حضورِ انور نے پیدروآباد کے حوالے سے دریافت فرمایا کہ دو ہزار کی آبادی ہے، مگر وہاں مَیں نے دیکھا ہے کہ بے شمار گھر اور ملٹی سٹوربلڈنگز ہیں، وہ کس کے لیے ہیں؟
اس پر مترجم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے کہ ہم نے مزید گھر بنانے ہیں، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ پیدروآباد میں مزید لوگ آئیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ وہاں تو مَیں نے دیکھا ہے کہ بہت High-rise فلیٹس اور بہت سی بلڈنگز بنی ہوئی ہیں۔جس پر مترجم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے کہ ہم تعداد میں کم ہیں، لیکن دل ہمارا بڑا ہے۔
حضورِ انور نے یہ سماعت فرما کر فرمایا کہ انسان کا دل بڑا ہونا چاہیے۔
مختلف ممالک سے تشریف لانے والے وفود میں بیلجیم سے آنے والا ایک وفدِ نمائندگان بھی شامل تھا۔
اس وفد میں شامل ایک صحافی نے عرض کیا کہ اس تقریب میں خواتین کے حوالے سے آپ کی تقریر نہایت متاثر کن تھی، جس میں آپ نے انہیں مزید تعلیم حاصل کرنے، ترقی کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی طرف توجہ دلائی تاکہ وہ مردوں سے بھی آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ حضورِ انور کی تمام تقاریر پر مضامین تیار کر رہے ہیں۔ چنانچہ آپ انہیں ویب سائٹgazetta.beپر پڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک چھ مضامین شائع ہو چکے ہیں اور ان کے تقریباً تیس لاکھ قارئین ہیں۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ چار سال قبل جب وہ پہلی مرتبہ یہاں آئے تھے، تو ان کے قارئین کی تعداد تقریباً ستّر ہزار تھی اور انہیں اُمید ہے کہ آئندہ بھی انہیں دعوت دی جاتی رہے گی تاکہ یہ تعداد مزید بڑھ سکے۔
اس پر حضورِ انور نے فرمایا، تو آپ کی ایک بہت بڑی تنظیم ہے۔
جس پر انہوں نے عرض کیا کہ دراصل یہ ان کا ذاتی شوق ہے کہ جسے وہ جذبے کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اس پر کوئی اشتہار نہیں ہے اور یہ سب کے لیے بالکل مفت دستیاب ہے۔
ایک عرب نژاد معزز مہمان نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ مَیں گذشتہ چالیس سال سے یورپ میں مقیم ہوں اور ہمیشہ اس بات کے بارے میں فکر مند رہتا تھا کہ یورپی لوگ اسلام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ مَیں یہاں آیا ہوں اور میں نے یورپ میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کا ایک بہترین نمونہ دیکھا ہے اور یورپ میں اسلام کو حقیقی حالت میں پیش ہوتے ہوئے دیکھا۔
انہوں نے مزیدعرض کیا کہ مَیں نے یہاں اعتدال پسندی، محبّت اور دیگر مذاہب کے لیے احترام کا عملی اظہار دیکھا ہے۔ مَیں اس شاندار تقریب کے انعقاد پر آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس کی مزید ترقی و کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔
مترجم نے موصوف کے تاثرات پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا ایک نہایت جذباتی لمحہ تھا۔ دورانِ جلسہ ان پر ایک خاص کیفیت طاری ہوگئی اور بالخصوص حضورِ انور کے خطاب کے دوران انہوں نے گہرے جذبات محسوس کیے۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ ایسا تجربہ انہیں اس سے قبل کبھی حاصل نہیں ہوا تھا اور یہ ان کے لیے نہایت حیرت انگیز اور ہمیشہ یاد رہنے والا ہے۔
موصوف نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں مزید عرض کیا کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ لبنان میں امن قائم ہو اور دشمنی کا خاتمہ ہو، جس کے لیے دعا کی درخواست ہے۔
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ فضل کرے، ہم تو پہلے ہی دعا کرتے ہیں اور مَیں announceبھی کرتا رہتا ہوں اور جماعت کو بھی کہتا رہتا ہوں کہ دعا کرو۔
موصوف نے اپنے مزید تاثرات بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ انہیں حال ہی میں جماعت کے بارے میں علم ہوا کہ یہ کس طرح ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ جب وہ یہاں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ پچاس ہزار سے زائد افراد نہایت امن و امان کے ساتھ ایک جگہ جمع ہیں، نہ کوئی بدنظمی ہے، نہ لڑائی جھگڑا اور نہ ہی کسی کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے۔اس پر حضورِ انور نے مزید اضافہ فرمایا کہ نہ ہی امن و امان کی کوئی صورتِ حال درپیش ہے۔
انہوں نے مزید عرض کیا کہ مَیں ڈیووس، دوحہ اور دنیا کے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی متعدد اعلیٰ سطحی کانفرنسوں میں شرکت کر چکا ہوں، تاہم مَیں نے اس اجتماع کو ان سب سے بڑھ کر منظّم پایا۔ بحیثیتِ مسلمان اس جماعت کی نمائندگی کرنا میرے لیے باعثِ فخر ہے۔
دورانِ ملاقات حضورِ انور نے ایک اورمہمان سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ یورپی یونین کے ساتھ کام کر رہے ہیں؟اس پر ان کے اثبات میں جواب عرض کرنے پر حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ آپ اپنے لوگوں سے بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ لبنان، غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ اور امن کے قیام کے لیے کوشش کریں۔اس پرمہمان نے عرض کیا کہ ہم اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، تاہم ہر کوئی تقسیم کا شکار ہے۔یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے تاکید فرمائی کہ لیکن آپ کو مزید اور زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
بعد ازاں حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مختلف ممالک کے نمائندگان پر مشتمل ایک وفد کو بھی شرفِ ملاقات بخشا۔
حضورِ انور نے ایک مہمان سے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں ہمارے جلسہ کو کیسا پایا؟
اس پر مترجم نے عرض کیا کہ یہ تیسری مرتبہ تشریف لائے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آپ کے احبابِ جماعت کے درمیان پائی جانے والی محبّت اور باہمی اخوّت ہمیشہ کی طرح نہایت متاثر کن ہے۔
ایک اَور مہمان سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
انہوں نے عرض کیا کہ بالکل اسی طرح جیسا کہ پہلے مہمان نے اظہار کیا ہے، پہلی بار یہاں آنا ان کے لیے ایک اعزاز ہے اور جماعت احمدیہ کے پیغام کو جاننا بہت ضروری ہے۔
حضورِانور نے موصوف سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو ہمارے نظام اور تنظیم میں کوئی بڑی خامی نظر آئی؟ ان کے نفی میں جواب عرض کرنے پر حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ منظّم رہیں، قانون کی پاسداری کریں اور عاجزی اختیار کریں۔
ایک اَور شریکِ مجلس مہمان سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ نے اس تقریب کو کیسا پایا؟
جس پر انہوں نے عرض کیا کہ یہ ایک شاندار تقریب تھی۔ واقعی مجھے اس پُرامن پیغام کا شاہد بننے کا موقع ملا کہ جو آپ نے تمام طبقات تک پہنچایا ہے۔ آپ کی شاندار مہمان نوازی پر مَیں تہِ دل سے مشکور و ممنون ہوں۔ یہ واقعی ایک نہایت عمدہ تجربہ تھا۔
مختلف ممالک سے آنے والے وفود میں لکسمبرگ سے آنے والا ایک وفد بھی شامل تھا کہ جسے حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔
ایک مہمان سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ نے ہمارے جلسہ میں کیا مشاہدہ کیا؟
اس پر مہمان نے عرض کیا کہ یہاں مدعو کیے جانے پر مجھے بے حد فخر محسوس ہوا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے یہاں آنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ مَیں نے یہاں حقیقی بھائی چارے کا مشاہدہ کیا ہے اور مَیں نے اور میرے بیٹے نے یہاں خود کو بالکل اپنے گھر جیسا محسوس کیا۔
ایک اَور مہمان سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
اس پرمہمان نے عرض کیا کہ آپ کے پاس ایک عظیم مذہب اور ایک شاندار جماعت ہے، اور جو کچھ آپ یہاں کر رہے ہیں، وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے والے وفود میں سینیگال سے تشریف لانے والا ایک وفد بھی شامل تھا۔
دورانِ ملاقات حضورِ انور نے فرمایا کہ ان کا بہت بہت شکریہ اور اسی طرح اگر مسلمانوں کو اکٹھا رکھیں، ایک رہیں، تو اس ملک میں بھی ان کی طاقت بڑھے گی اور علاقے میں بھی مسلمانوں کا ایک رعب قائم رہے گا۔
اس وفد میں شامل ایک مہمان نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ وہ سینیگال کی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ جس پر حضورِ انور نے ’’اچھا ماشاء الله!‘‘ کے دعائیہ کلمات ادا فرماتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا یہاں آپ کو پہلی مرتبہ آنے کا موقع ملا ہے؟
انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئےعرض کیا کہ جی ہاں! یہ میرا پہلا موقع ہے، تاہم میرے والد یہاں اکثر آتے رہے ہیں۔
بعد ازاں حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ نے اس تقریب کو کیسا پایا؟
انہوں نے عرض کیا کہ جماعت کے شعارمحبّت سب کے لیےنفرت کسی سے نہیں کا یہاں مَیں نے عملی مظاہرہ دیکھا ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اور پُر امن ماحول۔
جس پر انہوں نے عرض کیا کہ یہاں کا ماحول نہایت پُرامن ہے، لوگ بہت بااخلاق اور باادب ہیں، اور اس نوعیت کا عمدہ رویہ عام طور پر بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اسی طرح آپ کو اپنے ملک کے اندر، افریقہ اور پوری دنیا میں بھی امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مہمان نے عرض کیا کہ بالکل یہی کوشش ہم کر رہے ہیں اور یہ ہمارے لیے ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے والے وفود میں ترکی سے تشریف لانے والا ایک وفد بھی شامل تھا۔
مترجم نے ایک مہمان کی جانب سے عرض کیا کہ امن کے بارے میں جو آپ کی کاوشیں ہیں وہ قابلِ تحسین ہیں اور اس کے بارے میں آپ کی تقاریر شائع ہوئی ہیں۔
حضورِ انور نے ان مہمان کے بارےدریافت فرمایا کہ کیا یہ وہاں جماعتِ احمدیہ کے لیے کوئی مدد کر رہے ہیں؟
پھر حضورِ انور نے فرمایا کہ لوگوں کے دماغوں میں ڈالیں کہ ہم احمدی بھی مسلمان ہی ہیں۔
الحمد لله! جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے دوران حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بابرکت مصروفیات کا یہ ایک مختصر احاطہ ہے۔ تاہم جلسہ سالانہ کے اختتام کے بعد بھی حضورِ انور کی ملاقاتوں اور دیگر بابرکت مصروفیات کا سلسلہ جاری رہا، جن کی تفصیلات ان شاء الله آئندہ پیش کی جاتی رہیں گی۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اسلامی آداب ِجنگ، قیام امن کا دوسرا نام



