اداریہ: ہم کو نہ مل سکا تو فقط اِک سکونِ دل
پُرتلاطم دنیا میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے دو ذرائع: صبر اور شکر
انسان نے شائد کبھی اتنی نعمتیں نہیں دیکھی ہوں گی جتنی آج اس کی دسترس میں ہیں اور شاید کبھی سکون کی تلاش میں اتنا پریشان بھی نہیں رہا جتنا کہ آج ہے۔ سفر کی سرعتیں، رابطے میں تیزی، بہتر علاج معالجے کی سہولتیں، عمروں میں اضافہ، دنیا بھر کی معلومات انگلیوں کے پوروں پر میسر ہونا وغیرہ خواب سے حقیقت میں بدل چکا ہے۔ عجیب تضاد ہے کہ انسان سکون کے لیے سہولت کا سہارا لیتا ہے لیکن تن آسانی بڑھنے کے ساتھ بے چینی میں بھی اضافہ تجربے میں آیا ہے۔ گویا انسان ظاہری سہولتوں کی قیمت اپنے ذہنی سکون سے ادا کر رہا ہے۔
آج کی دنیا میں کچھ جنگیں جاری ہیں اور کچھ کا شدید اندیشہ موجود ہے، سیاسی کشیدگیاں معمول بن چکی ہیں، معاشی اور اقتصادی بدحالی اور بے یقینی جنگوں کا محرک ہوتی ہیں، سو وہ بھی ہیں۔ دنیا کی تجارت کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے وابستہ ہے اس لیے کسی اہم آبی گزرگاہ میں معمولی سا تعطل بھی دنیا کی منڈیوں کو پریشان کر دیتا ہے۔ تیل اور توانائی کی قیمتیں بڑھیں تو صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا، نقل و حمل، خوراک، صنعت اور روزمرہ ضرورت کی بے شمار چیزیں اس کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ ایک خطے کی جنگ دوسرے خطے کے روزگار، افراطِ زَر اور مستقبل کے منصوبوں کو متأثر کر سکتی ہے۔ یوں وہ شخص بھی عالمی اضطراب کی زَد سے محفوظ نہیں جو میدانِ جنگ سے ہزاروں میل دور اپنے گھر میں بیٹھا ہے۔مگر معاشرے میں پائی جانے والی بے یقینی اور بےسکونی کی کیفیات محض بیرونی عناصر کی وجہ سے نہیں۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ معاشرے کی اکائی یعنی انسان خود ہے۔
جدید دور کی سہولتوں کے جھرمٹ میں رشتہ داروں کی باہمی کشیدگیوں، میاں بیوی کے مسائل، اولاد اور والدین کے درمیان روز بروز بڑھتی ہوئی خلیج، رزقِ حلال کمانے کی پریشانیوں، محفوظ مستقبل کی فکروں، خاندانوں کے درمیان دنیاوی عیش و آسائش کے مقابلوں اور پھر سوشل میڈیا کے نہ سمجھ میں آنے والے وبال نے انسان کو جکڑ رکھا ہے۔ پہلے لوگ صبحِ صادق کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادات اور ذکر اذکار سے معطر کیا کرتے تھے اور آج انسان صبح آنکھ کھولتے ہی دنیا کے حالات جاننے کی فکر میں ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کا الگوردھم بعض لوگوں کی زندگی کی چکاچوند کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے طرزِ زندگی سے موازنہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہیں سے بے سکونی کا ایک نیا دروازہ کھلتا ہے۔
پہلے انسان کی زیادہ تر خواہشیں ضرورت کی مرہونِ منت تھیں، اب اشتہارات کی بھرمار کی وجہ سے بہت سی ضرورتیں چیزوں کو دیکھ کر پیدا ہونے لگتی ہیں۔ ہمیں ایسے لگتا ہے کہ فلاں چیز اگر ہمارے پاس نہ ہوئی تو ہماری زندگی نامکمل رہے گی حالانکہ اس کے اشتہار کو دیکھنے سے چند لمحے پہلے تک ہمیں اس کا احساس بھی نہ تھا۔
پھر آج کی دو پیڑھیوں کے درمیان ایک نمایاں فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔ ایک نسل ایسے دور میں پروان چڑھی جہاں صبر زندگی کا لازمی جزو تھا، ایک چٹھی کو پہنچتے پہنچتے کئی دن لگ جاتے تھے، ہمارے پیارے حضور نے بھی ایک بار فرمایا تھا کہ انہیں افریقہ میں خدمت کے دوران الفضل میں شائع ہونے والے اعلان سے اطلاع ملی کہ پاکستان میں ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے۔ جبکہ آج کی نسل ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں ہر چیز آناً فاناً میسر ہے۔ ایک نسل کے لیے دوستوں، رشتہ داروں سے تعلق نبھانا، خوشی غمی میں شامل ہونا ایک ذمہ داری تصور کی جاتی تھی، جبکہ نئی دنیا میں عید، شب برات، خوشی، غمی کے مواقع پر اظہارِ یک جہتی ایک بٹن سے شروع اور ایک بٹن پر ختم ہو جاتا ہے۔ نئی ایجادات سے سہولت تو پیدا ہو گئی لیکن ایسے مواقع پر اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے سے دل جو خوشی اور سکون پاتا تھا وہ شائد کہیں کھو گیا ہے۔
اے کاش کبھی تم جان سکو جو اس سکھ نے آزار دیا
تو سوال یہ ہے کہ سکون آخر ہے کیا؟سکون کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کوئی مسئلہ نہ رہے۔ ایسی زندگی دنیا میں کسی کو نہیں ملتی ؎
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
سکون کی ایک ممکنہ تعریف اس کیفیت سے لی جا سکتی ہے جس میں انسان حالات کے مشکل ہونے کے باوجود اپنے ہوش و حواس برقرار رکھے۔ مسائل میں بھلے گھرا ہوا ہو مگر ان میں ڈوب نہ جائے۔ غموں میں بے شک مبتلا ہو مگر اس کی ہستی قائم رہے۔ خوب سے خوب تر کی خواہش بے شک رکھے مگر اس کا غلام نہ ہو جائے۔ کسی چیز کے چھن جانے یا کسی پیارے کے جدا ہونے سے وقتی دکھ میں بھلے مبتلا ہو مگر اس قدر پُروقار ہو کہ مشکل وقت سے متانت سے گزر جائے اور اس کے معمولاتِ زندگی پھر سے چلنے لگیں۔
ماہرینِ نفسیات بعض تجربات کی روشنی میں Mindfulness کو جسے اردو میں ’لمحۂ موجود میں جینا‘ کہا جا سکتا ہے انسان کے ذہنی انتشار کو کم کرنے کا ایک مؤثر طریق قرار دیتے ہیں۔ یعنی انسان نہ تو ماضی کی ناکامیوں کو اپنے سر پر سوار کرے اور نہ ہی مستقبل کی بے جا فکروں کو۔ بس حال کی گھڑی میں صبر اور شکر کے ساتھ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے بھرپور زندگی گزارے۔
اسی طرح جذبہ تشکّر پر ہونے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ ایسا انسان جو اپنے پاس موجود نعمتوں کو یاد کرنے اور ان پر شکر کرنے کا عادی ہو ناشکرے انسان سے ذہنی طور پر زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید نفسیات ذہنی سکون کے لیے آج جو اصول وضع کر رہی ہے اسلام چودہ سو سال پہلے انہیں پیش کر چکا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا یہ زرّیں اصول لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیدٌکا نچوڑ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوب صورت ارشاد ہے:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ یعنی انسان کے اسلام کی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اس کا کوئی حقیقی تعلق اور سروکار نہیں۔ یہ سادہ سی حدیث دورِ جدید میں انسان کو کتنی ہی پریشانیوں سے بچارہی ہے۔ ہر خبر ہماری خبر نہیں۔ ہر بحث ہماری بحث نہیں۔ ہر شخص کی رائے کا جواب دینا ہماری ذمہ داری نہیں۔ ہر چیز کا جو مارکیٹ میں موجود ہے ہمارے گھر میں موجود ہونا ضروری نہیں۔ ہر چیز جسے ہم خرید سکتے ہیں اسے خریدنا بھی ضروری نہیں۔
اسی اصول کو ہم اپنی خواہشوں پر لاگو کر کے دیکھتے ہیں۔ کسی چیز کی خواہش پیدا ہو تو پہلا سوال یہ نہ ہو کہ یہ کیسے حاصل کی جائے بلکہ یہ ہو کہ یہ میرے لیے کتنی ضروری ہے؟ اگر انسان کسی چیز کو خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے مگر فی الحال اسے اس کی ضرورت نہیں تو اسے اس لیے چھوڑ دے کہ جب ضرورت ہوئی تو خرید لے گا۔ اور اگر استطاعت ہی نہیں تو اس لیے چھوڑ دے کہ محض دیکھا دیکھی اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلانا اس کی پریشانی میں اضافے کا باعث ہو گا۔ قرض سے خریدی ہوئی غیرضروری چیز انسان کا پیسہ ہی نہیں اس کا سکون بھی برباد کر دیتی ہے۔ حدیثِ حسن ہے مَا قَلَّ وَ کَفٰی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَاَلْھٰی یعنی جو چیز کم ہو لیکن کفایت کرے وہ اس سے بہتر ہے جو بہت زیادہ ہو لیکن غفلت میں مبتلا کر دے۔
شکر اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ صبر کا اعلیٰ نمونہ قائم نہ کیا جائے۔ انسان عموماً ایک محرومی کو اتنا دل پر لے لیتا ہے کہ اس کے غم میں سو نعمتیں دکھائی دینا بند ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صحت سے نوازا ہوا ہے لیکن کسی وقتی تکلیف پر انسان شکوے کرنے لگ جاتا ہے، اردگرد دس محبت کرنے والے موجود ہیں مگر ایک شخص کی ناراضگی کو ذہن پر سوار کر لیتا ہے، کاروبارِ زندگی ٹھیک چل رہا ہے، ہزار کامیابیاں ملیں، ہزار فائدے ہوئے مگر ایک نقصان سے انسان زندگی سے ہی مایوس دکھائی دینے لگ جاتا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حالیہ خطباتِ جمعہ میں صبر اور شکر کے مضمون کو نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا۔ حضور فرماتے ہیں:’’ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان دو حصوں پر مشتمل ہے۔ آدھا صبر میں اور آدھا شکر میںہے۔ (الجامع لشُعب الایمان …)اصل میں تو صبر بھی شکر گزاری کا پہلو ہی اجاگر کرتا ہے ۔اس لیے اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں مکمل ایمان اس شکر گزاری سے ہی ہوتا ہے۔ حضرت صہیبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا معاملہ سراسر خیر ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی کے لیے نہیں ۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہے۔اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔ (صحیح مسلم )
خیر اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔(البقرہ:154) اللہ تعالیٰ یقیناًصبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور پھر فرمایا کہ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ۔(البقرہ:156) اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔ پس جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اور اس کو خوشخبری دے رہا ہو اس کے لیے اس سے بڑی خیر اَور کیا ہو سکتی ہے۔ یہ حقیقی صبر بھی اسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان خدا تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا شکر گزار بندہ بنے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷؍ جولائی ۲۰۲۶ء)
آج کے ان پریشانیوں بھرے دور میں پائیدار سکون کا حصول محض اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے ممکن ہے۔ اور ہم وہ خوش نصیب جماعت ہیں جسے ہر ہفتے ہمارے امام کی جانب سے تازہ روحانی مائدہ براہِ راست میسر آتا ہے۔ اگر ہم خلیفۂ وقت کے خطباتِ جمعہ و خطابات کو توجہ سے سنیں اور ان پر عمل کریں تو یہ گارنٹی سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا دین تو سنور ہی جائے گا، دنیا میں بھی ہم ضرور سکون و اطمینان کے ساتھ وقت گزارنے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سعادت نصیب فرمائے۔آمین
(خاکسار یہ بھی عرض کرتا چلے کہ اسلام کی بیان فرمودہ تعلیمات کو جس زاویے سے دیکھا جائے وہ انسان کی پُرسکون زندگی اور کامیاب آخرت کی ضامن ہیں۔ اس مختصر تحریر میں اس وسیع مضمون کے صرف ایک زاویے کو بیان کرنے کی عاجزانہ سعی کی گئی ہے۔وباللہ التوفیق)
مزید پڑھیں: اداریہ: اللہ کے گھر کی طرف قدم بڑھاؤ




