یادِ رفتگاں

خدا نے ثابت کیا کہ میں ہوں!

(م الف قاہرؔ)

’’مبدء اور معاد کی نسبت کوئی قطعی فیصلہ تو عقل کر نہیں سکتی اور اس راہ میں اس قدر عقل حیران اور حواس باختہ ہے کہ آج تک محض عقل کے ذریعہ سے خدا کی شناخت بھی نہ ہو سکی اور ہزاروں انسان جو بڑے بڑے عقلمند کہلاتے تھے اور بڑے بڑے علوم عقلیہ کے موجد تھے آخر کا روہ دہر یہ ہو کر مر گئے اور اُن کو یہ بھی پتہ نہ لگا کہ خدا موجود ہے تو پھر مبدء اور معاد کی نسبت کیونکر صرف عقل کوئی صحیح اور قطعی فیصلہ کر سکتی ہے پس بلا شبہ مبدء اور معاد کی خبریں خواہ وہ زید دے اور خواہ بکر بیان کرے کسی دوسرے کامل ذریعہ سے تصدیق کی محتاج ہیں‘‘ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)

۲۱ویںصدی کی مشہور و معروف شخصیت Richard Dawkinsنے ۲۰۰۶ء میں شہرہ ٔآفاق کتاب لکھی جو خاص کرمغربی معاشرے اور بالخصوص مذہبی تعصب رکھنے والے حلقوں میں جنگل میں آگ کی طرح پھیلی جو The God Delusion کے نام سے مشہور ہے، جس کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ خدا محض ایک وہم ہے اس سے زیادہ خدا کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔ گو دہریت تب سے قائم ہے جب سے مذہب کا آغاز ہوا۔ مگر اس کا پرچار کرنے والے کبھی کھل کر سامنے نہیں آئے۔ اگر کسی نے دہریت کو فروغ دیا بھی تو اس کو اپنی ذات سے منسوب ہونے نہیں دیا مگر New Atheism کی اس جدید لہر نے مادہ پرستی کو اپنی آڑ میں لے کر اس کا فائدہ اس رنگ میں اٹھایا کہ آج سے قبل دہریت کا اتنا پھیلاؤ اور مذہب سے دوری لوگوں میں نہیں دیکھی گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سروے کے مطابق آج کرۂ ارض پر مذاہب میں اوّل مذہب عیسائیت، پھر اسلام اور اس کے بعد تیسرا بڑا گروہ دہریت بن چکا ہے۔ اس کے پھیلاؤ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہندو ازم تیسرے نمبر پر ہوا کرتا تھا۔

بہرحال اس فتنہ کا پھیلاؤ چاہے جتنا ہو جائے مگر ان میں سے اکثریت بطور فیشن مذہب سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور مادیت پرستی ان کو خدا کے وجود سے انکار کرنے میں ممد ثابت ہورہی ہے۔ جبکہ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ دہریت کی بنیادیں ایسی کھوکھلی اور عقلِ ناقص کے مزعومہ خیالات پر کھڑی ہیں جو ریت کی دیوار سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، کیونکہ خدا جو واجب الوجود ہے، الصمد ہے، اس کے وجود پر اطلاع پانا محض عقل کا کام نہیں جو دو چار سوالات اور اپنی کم فہمی کی بنا پر خدا کا وجود ہی کھو بیٹھتی ہو کیونکہ عقل کا کام تو محض اندازے اور تخمینے لگانا ہے، مگر پوشیدہ اموراور مابعد الطبیعات حقیقتوں تک رسائی تبھی ممکن ہے جب خارجی طور پریعنی حواس خمسہ کی حدود سے بڑھ کر ایسے اسباب پیدا ہوجائیں کہ عند العقل بجز کسی بالا ہستی کے موجود ہونے کے کوئی دوسری صورت ممکن ہی نہ رہے۔

چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ عقلِ ناقص کی حدود کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’مبدء اور معاد کی نسبت کوئی قطعی فیصلہ تو عقل کر نہیں سکتی اور اس راہ میں اس قدر عقل حیران اور حواس باختہ ہے کہ آج تک محض عقل کے ذریعہ سے خدا کی شناخت بھی نہ ہو سکی اور ہزاروں انسان جو بڑے بڑے عقلمند کہلاتے تھے اور بڑے بڑے علوم عقلیہ کے موجد تھے آخر کاروہ دہریہ ہو کر مر گئے اور اُن کو یہ بھی پتہ نہ لگا کہ خدا موجود ہے تو پھر مبدء اور معاد کی نسبت کیونکر صرف عقل کوئی صحیح اور قطعی فیصلہ کر سکتی ہے پس بلا شبہ مبدء اور معاد کی خبریں خواہ وہ زید دے اور خواہ بکر بیان کرے کسی دوسرے کامل ذریعہ سے تصدیق کی محتاج ہیں۔ ‘‘ (چشمہ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۱۹)

چنانچہ انبیاء کا وجود ہی خدا کی ہستی کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے، جو دنیا میں آتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایک خدا ہے جو ہم سے کلام کرتاہے۔ تب ساری دنیا ان کو مجنون اور دیوانہ خیال کرتےہیں اور بڑے بڑے ابوالحکم، اپنی عقل کو ہی ہردلیل پر محکم بناتےہیں،اورتاریخ کے اوراق میں ابوجہل کے لقب سے امر ہوکر اسی خدا کی ہستی کی دلیل بن جاتے ہیں۔

چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ آنحضرت ﷺ کی بابت فرماتے ہیں کہ’’یہی توحید حقیقی ہے کہ بجز متابعت ہمارے سیّدو مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ کیوں حاصل نہیں ہو سکتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اِس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کر کے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اَور شے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ در حقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے۔ اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور نا تمام اور مشتبہ ہے اس لئے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کو شناخت نہیں کر سکتا بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخر کار دہر یہ بن جاتے ہیں اور مصنوعات زمین و آسمان پر غور کرنا کچھ بھی اُن کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۱۲۰)

چنانچہ تاریخ بھی شاہد ہے کہ خدا کا انکار کرنے والوں کو کبھی دریا ڈوبا دیتا ہے، تو کبھی ایک مچھر ان کو عبرت کا نشان بنا دیتاہے، تو کبھی آسمانی تیغ ان کا کام تمام کر دیتی ہے اور کبھی تو پوری قوم کو ہی مغلوب ہونا پڑتا ہے، لہٰذا یہی وہ دلائل عقلیہ ہیں جن سے ایک ایسی ہستی کا تصور ذہنوں میں پنجے گاڑ لیتاہے جو تمام طاقتوں کا سرچشمہ اور تمام اسباب کا مسبب ہے۔

ذیل میں ۱۰؍ایسے مواقع کا ذکر ہے جو خدا کی ہستی کو یوں ثابت کردیتےہیں کہ کسی دہریہ کو اس جگہ کلام کرنا ممکن ہی نہیں کہ خدا محض دھوکہ ہے اور حقیقت میں اس کا کچھ بھی وجود نہیں اور اس کے برعکس خدا تعالیٰ خود اپنے بندوں تک رسائی کرتا ہے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے: لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ۔ (الانعام:۱۰۴) ترجمہ: نظرىں اس تک نہىں پہنچ سکتىں، لىکن وہ نظروں تک پہنچتا ہے اور وہ مہربانى کرنے والا (اور) حقىقت پر آگاہ ہے۔

چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتےہیں: ’’یادر ہے کہ پانچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا اگر آنجناب در حقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کیے جاتے۔‘‘ (چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۲۶۳ حاشیہ)

یوں تو کئی واقعات آپ ﷺ کی سیرتِ مطہرہ سے مل جاتے ہیں کہ بجز خدا کے کوئی اور آپ ﷺ کی جان نہیں بچاسکا مگر یہاں ان واقعات کا ذکر ہے جو آنحضورﷺ کے بروز اور ظل نے خود اپنے آقا و مولیٰ کے متعلق بیان فرمائے ہیں۔ لہٰذا یہ وہ اسلوبِ آسمانی ہے جو ہر طور سے اتمام حجت ہے مومنوں کےلئے بھی اور بالخصوص دہریوں کے لیے کہ خدا اپنے بندوں کو ان کے دشمنوں سے بچا کر اپنی ہستی کا ثبوت بھی دیتاہے اور اپنے بھیجے ہوئے کی حفاظت فرماکر اس کی سچائی کو بھی ثابت کردیتا ہے۔جیسا کہ اس کا وعدہ بھی تھا: وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ۔ (المائدة:۶۸) ترجمہ: اور اللہ تجھے لوگوں (کے حملوں) سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ کافر لوگوں کو ہرگز (کامىابى کى) راہ نہىں دکھائے گا۔

حضورؑ فرماتے ہیں: ’’آنحضرت ﷺکا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر زمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہوگا۔‘‘(ملفوظات جلدہفتم صفحہ۲۲۷)

اسی طرح فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا ہے : وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا۔ حالانکہ لوگوں نے طرح طرح کے دکھ دیئے، وطن سے نکالا، دانت شہید کیا، انگلی کو زخمی کیا اور کئی زخم تلوار کے پیشانی پر لگائے سو در حقیقت اس پیشگوئی میں بھی اعتراض کا محل نہیں کیونکہ کفار کے حملوں کی علت غائی اور اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی کرنا یا دانت کا شہید کرنا نہ تھا بلکہ قتل کرنا مقصود بالذات تھا سو کفار کے اصل ارادے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے محفوظ رکھا۔‘‘(ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۱ حاشیه )

حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی سے خدا کی ہستی کے پانچ ثبوت

سب سے پہلے ان پانچ واقعات کا مختصر سے ذکر ہے جو حضورؑ نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمدﷺ کے بارے میں تحریر فرمائے کہ کوئی صاحب عقل ان واقعات کے بعد خدا کی ہستی کو ماننے سے ہر گز انکار نہیں کرسکتا۔ چنانچہ حضورؑ اپنی کتاب چشمہ معرفت میں فرماتے ہیں: ’’ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے۔‘‘(چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۲۶۳ حاشیہ)

حضرت مصلح موعودؓ اس واقعہ کو مختصر یوں بیان فرماتے ہیں: ’’پھر واقعۂ ہجرت پر غور کرو اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کی کیسی معجزانہ رنگ میں حفاظت فرمائی۔ مکّہ کے صنادید آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کرتے ہیں کہ مختلف قبائل کے مسلّح نوجوان رات کو آپؐ کے مکان کے ارد گر دگھیرا ڈال لیں اور جب آپ باہر تشریف لائیں تو سب مل کر آپ کو قتل کریں تا کہ یہ خون قریش کے متفرق قبائل پر تقسیم ہو جائے اور بنو ہاشم انتقام لینے کی جرأت نہ کر سکیں۔ اِدھر انہوں نے یہ فیصلہ کیا اور اُدھر اُسی خدا نے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہوا تھا محمد رسول اللہ علیہ وسلم کو کفار کے اس بدارادہ کی اطلاع دے دی اور آپؐ کو مکہ سے ہجرت کا حکم دے دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے گھر سے ایسی حالت میں نکلتے ہیں جب قریش کے مسلح نوجوان آپ کے قتل کے ارادہ سے آپ کے مکان کے اردگردگھیرا ڈالے ہوئے ہیں مگر آپ کے دل میں کوئی گھبراہٹ پیدا نہیں، آپ کے بدن میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا، آپ کے جسم پر کپکپی طاری نہیں ہوتی، آپ کے حواس پراگندہ نہیں ہوتے، آپ بڑے اطمینان کے ساتھ اُن سفّاک اور خونخوار بھیڑیوں کے درمیان سے خراماں خراماں نکل جاتے ہیں اور کوئی آنکھ آپ کو بد ارادہ سے نہیں دیکھ سکتی، کوئی ہاتھ آپؐ پر وار کرنے کے لئے نہیں اُٹھ سکتا، کوئی تلوار اپنی میان سے باہر نہیں آسکتی، زمین و آسمان کے خدا نے اُن کی آنکھوں کو اندھا کر دیا، اُن کے ہاتھوں کو شل کر دیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا کیونکہ خدا نے یہ فرمایا تھا کہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ المائدہ:۶۸‘‘(سیر روحانی (۶)انوار العلوم جلد ۲۲ صفحہ ۵۶۸-۵۶۹)

’’(۲) دوسرا وہ موقعہ تھا جبکہ کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابوبکر کے چھپے ہوئے تھے۔‘‘ (چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۲۶۳ حاشیہ)

اس نازک صورت حال کا نقشہ کھنچتے ہوئے حضورؓ فرماتے ہیں: ’’جب دشمن نے دیکھا کہ اس کا یہ تیر بھی خالی چلا گیا تو اپنی ندامت اور شرمندگی مٹانے کے لئے اُس نے مکّہ کے ہوشیار اور فنکا رکھوجیوں کی مدد سے آپؐ کے پاؤں کے نشانات دیکھتے ہوئے غار ثور تک آپ کا تعاقب کیا اور دشمن اس قدر قریب پہنچ گیا کہ حضرت ابوبکرؓ جو اس ہجرت میں آپ کے ساتھ شامل تھے گھبرا اُٹھے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! دشمن اس قدر قریب پہنچ چکا ہے کہ اگر وہ ذرا آگے بڑھ کر غار کے اندر جھا نکے تو ہمیں پکڑنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اطمینان سے فرماتے ہیں کہ اے ابوبکر! گھبراتے کیوں ہو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ ہمیں پکڑنے میں کامیاب ہوسکیں۔ چنانچہ مکہ کے صنادید جس طرح رات کی تاریکی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے میں ناکام و نا مراد رہے ہیں اسی طرح وہ دن کی روشنی میں بھی آپ کی گرفتاری میں کامیاب نہ ہو سکے اور خدا نے بتا دیا کہ میں رات اور دن اس انسان کے ساتھ ہوں۔ ممکن ہے اُن مکہ کے نو جوانوں میں بعض یہ خیال کرتے ہوں کہ چونکہ رات تھی اس لئے محمد رسول اللہ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، خدا اُن کو دن کے وقت غار ثور کے منہ پر لایا اور پھر اُن کی آنکھوں میں نا بینائی پیدا کر کے بتا دیا کہ اس کا اصل باعث یہ نہیں کہ محمد رسول اللہ رات کی تاریکی میں نکل آئے تھے بلکہ اس کا اصل باعث یہ ہے کہ مَیں اس کا محافظ ہوں ورنہ دن کی روشنی میں اپنے کھوجیوں کی نشان دہی کے باوجود تم اسے پکڑنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکے۔ ‘‘ (سیرروحانی (۶)انوار العلوم جلد ۲۲ صفحہ ۵۶۹-۵۷۰)

’’ (۳) تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جب کہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی یہ ایک معجزہ تھا۔ ‘‘(چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۲۶۳ حاشیہ)

حضرت مصلح موعودؓ جنگ اُحد کے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہ جب جنگ کا رخ بدل گیا، فرماتے ہیں: ’’پھر جنگ اُحد میں ایک وقت ایسا آیا جب بعض صحابہؓ کی غلطی کی وجہ سے اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا اور آپ کے اردگرد صرف چند صحابہؓ رہ گئے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آپؐ اکیلے نرغۂ اعداء میں گِھر گئے۔ ایسے خطر ناک موقع پر اگر خدا کی حفاظت آپؐ کے شاملِ حال نہ ہوتی تو دشمن کے لئے آپؐ کو جانی نقصان پہنچانا کوئی بڑی بات نہ تھی۔ ہزاروں مسلّح سپاہیوں کے سامنے کسی ایک شخص کی کیا حیثیت ہوتی ہے مگر ان نازک گھڑیوں میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے سامنے میدانِ جنگ میں ڈٹے رہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی وہاں سے ہٹ جانے یا خود حفاظتی کے لئے کسی پتھر کے پیچھے چُھپ جانے کا خیال بھی آپ کے دل میں پیدا نہیں ہوا۔ دشمن آگے بڑھا اور اُس نے آپ پر شدید حملہ کر دیا یہاں تک کہ آپؐ کے دندانِ مبارک بھی شہید ہو گئے اور آپ بیہوش ہو کر گڑھے میں گر گئے۔ دشمن نے سمجھا کہ وہ آپ کو مارنے میں کامیاب ہو گیا ہے مگر جب جنگ کے بادل پھٹے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ میں سورج کی طرح دمکتے دیکھا اور یہ خبر اُن پر بجلی بن کر گری کہ آج بھی وہ ہزاروں کا لشکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، اور کیوں ایسا نہ ہوتا جبکہ اس گورنر جنرل کے متعلق در بار خاص میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ اے محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا۔‘‘ (سیرروحانی (۶)انوار العلوم جلد ۲۲ صفحہ ۵۷۰-۵۷۱)

’’ (۴) چوتھا وہ موقعہ تھا جب کہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا۔ ‘‘ (چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ۲۶۳ حاشیہ)

اسلامی تاریخ کا یہ واقعہ ہمیشہ آسمان کے افق پر کندہ رہنے والا ہے کہ خدا کی ہستی کیسے کیسے اپنا چہرہ دکھلاتی ہے مگر افسوس اس بات پر ہےکہ قرآنی پیشگوئی کے مطابق وَعَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ وہ دیکھ نہیں سکتے۔

چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتےہیں کہ ’’مدینہ منورہ میں اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہو د تھے جو مخالفت کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ایک دفعہ انہی کے ایک قبیلہ بنو نضیر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض امور پر گفتگو کرنے کے لئے بلوایا۔ لیکن در پردہ سازش کی کہ ایک شخص چپکے سے چھت پر چڑھ کر ایک بڑا وزنی پتھر آپ پر گرادے جس سے آپ ہلاک ہو جائیں اور بعد میں یہ مشہور کر دیا جائے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ ہو گیا ہے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اس کی خبر دیدی اور آپ وہاں سے اُٹھ کر واپس آگئے۔ اسی طرح غزوۂ خیبر میں ایک یہودی عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا لقمہ ہی اُٹھایا تھا کہ آپ کو اس کا علم ہو گیا کہ کھانے میں زہر ملایا گیا ہے اور آپ اسے چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔

غرض اس دربار میں خدائی گورنر جنرل کے متعلق جو کچھ کہا گیا تھا تاریخی واقعات اس بات پر گواہ ہیں کہ وہ وعدہ بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا۔ ‘‘ (سیر روحانی (۶)انوار العلوم جلد ۲۲ صفحہ۵۷۴-۵۷۵)

’’(۵) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جبکہ خسرو پرویز شاہِ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصممّ ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے۔ ‘‘

حضرت مصلح موعودؓ خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں اس حیرت انگیز واقعہ کو یوں بیان فرماتےہیں : ’’پھر کسریٰ شاہِ ایران جو آدھی دنیا کا مالک تھا اُس نے یہود کے اشتعال دلانے پر اپنے گورنرِ یمن کو لکھا کہ عرب کے اس مدعیٔ نبوت کو گرفتار کر کے میرے پاس بھجوا دیا جائے یہ شخص اپنے دعوؤں میں بہت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گورنرِ یمن نے اس حکم کے ملتے ہی ایک فوجی افسر کو اس ڈیوٹی پر مقرر کیا اور وہ ایک سپاہی کو اپنے ساتھ لیکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے مدینہ منورہ میں پہنچا اور اُس نے آپ سے کہا کہ کسریٰ نے گورنرِ یمن کو حکم بھجوایا ہے کہ آپ کو گرفتار کر کے اُس کی خدمت میں حاضر کیا جائے اور ہم اس غرض کے لئے یہاں آئے ہیں آپ ہمارے ساتھ چلیں ورنہ کسریٰ کو زیادہ غصہ آیا تو وہ آپ کو بھی ہلاک کر دیگا اور آپ کی قوم اور ملک کو بھی برباد کر دے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تم آج رات ٹھہرو کل میں تمہیں اس کا جواب دونگا۔ رات کو آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو بتایا گیا کہ کسریٰ کی اس گستاخی کی سزا میں آج رات ہم نے اس کے بیٹے کو اس پر مسلّط کر دیا ہے اور اُس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا ہے۔ جب صبح ہوئی اور گورنرِ یمن کے ایلچی دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اور اپنے گورنر سے جا کر کہہ دو کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار دیا ہے۔

جب گورنرِ یمن کو یہ اطلاع پہنچی تو اس نے کہا اگر یہ شخص واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ایسا ہی ہوا ہو گا لیکن اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو پھر کسریٰ اسے بھی تباہ کردیگا اور اس کے ملک کو بھی برباد کر دے گا بہر حال اُس نے حیرت اور استعجاب کے ساتھ اس خبر کو سُنا اور اُس نے ایران سے آنے والی اطلاعات کا انتظار کرنا شروع کیا۔ تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ یمن کی بندرگاہ پر ایران کا ایک جہازلنگر انداز ہوا اور اس میں ایک شاہی ایلچی نے گورنرِ یمن کو بادشاہ کا ایک خط دیا۔ اُس پر چونکہ ایک نئے بادشاہ کی مُہر تھی اس لئے خط کو دیکھتے ہی گورنرِ یمن کہہ اُٹھا کہ مدینہ کے نبی نے سچ کہا تھا۔ پھر اُس نے خط کھولا تو اُس میں کسریٰ کے بیٹے ( شیرویہ) نے لکھا ہوا تھا کہ میں نے اپنے باپ کو اس کے مظالم کی وجہ سے قتل کر دیا ہے اور اب میں اُس کی جگہ تختِ حکومت پر متمکن ہوں تم تمام افسروں سے میری اطاعت کا اقرار لو اور یہ بھی یاد رکھو کہ میرے باپ نے عرب کے ایک نبی کی گرفتاری کا جو حکم بھیجا تھا اُس کو میں منسوخ کرتا ہوں کیونکہ وہ نہایت ظالمانہ حکم تھا۔ گورنرِ یمن اس خط کو پڑھ کر اس قدر متاثر ہوا کہ وہ اور اُس کے کئی ساتھی اُسی وقت اسلام میں داخل ہو گئے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام میں داخل ہونے کی اطلاع بھجوا دی۔

اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید اور اس کی نصرت آپؐ کے شامل حال رہی۔ دشمن نے آپ کو قتل کرنے کے لئے کئی منصوبے کئے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر دفعہ اس کو اپنے منصوبوں میں نا کام رکھا۔‘‘ (سیر روحانی (۶)انوار العلوم جلد ۲۲ صفحہ ۵۷۳-۵۷۴)

’’پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تمام پُر خطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تمام دشمنوں پر آخرکار غالب ہو جانا ایک بڑی زبر دست دلیل اس بات پر ہے کہ در حقیقت آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا۔‘‘ (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۲۶۳-۲۶۴ حاشیہ)

ان تما م واقعات کی تفصیل کو بچشم غور دیکھا جائے اور دل کی آنکھ سے مشاہدہ کیا جائے تو جہاں آنحضرت ﷺ کے سچا ہونے کی گواہی ملتی ہے وہاں یہ بھی پتا چلتاہے کہ محض عقل خدا تک ہر گز نہیں پہنچا سکتی سوائے انبیاء کے وجود کے جن سے خدا کی شناخت قطعی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی سے خدا کی ہستی کے پانچ ثبوت

اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ کے امام اور نبی اللہ حضرت مسیح موعودؑ جو قرآنی پیشگوئی وَاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ کے مصداق ہیں۔آپؑ کی زندگی میں بھی ایسے کئی ایک واقعات پیش آئے جہاں خدا کے سوا کسی اور کی مداخلت ممکن اور متصور نہ تھی جہاں دنیاوی اسباب کا تصور بھی نہ تھا وہاں خدا نے آپؑ کو دشمن کے ہر وار سے بچایا۔ چنانچہ یہاں صرف حضورؑ کی تحریر پر ہی اکتفا کیا گیاہے جہاں آپؑ نے اپنے اوپر پانچ واقعات کا خود ذکر فرما یا ہےکہ اگر خدا نہ ہوتا تو قبل از وقت کون خبر دیتا کہ تم مقدمات وغیرہ میں بری ہو جاؤگے اور اگر خدا نہ ہوتا تو کون بچا سکتا تھا۔ ان واقعات کی تفصیل کچھ طول چاہتی ہے لہٰذا حضور کی عبارت کے ساتھ ایک واقعہ کی مختصر وضاحت حضورؑ کی تحریرات کی روشنی میں عرض کی جائے گی۔آپؑ آنحضور ﷺ کے اِن پانچ واقعات کے ساتھ اپنے پانچ واقعات کا ذکر یوں فرماتے ہیں: ’یہ عجیب بات ہے کہ میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی تھی ۔

۱۔ اول وہ موقع جب کہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک نے خون کا مقدمہ کیا تھا

۲۔ دوسرے وہ موقع جب کہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹرڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کچہری میں میرے پر چلایا تھا

۳۔ تیسرے وہ فوج داری مقدمہ جو ایک شخص کرم دین نام نے بمقام جہلم میرے پر کیا تھا

۴۔ چوتھے وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا

۵۔ پانچویں جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی کی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگایا تھا تا میں قاتل قرار دیا جاؤں۔ مگر وہ تمام مقدمات میں نا مرادر ہے۔ ‘‘ (چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۲۶۳ حاشیہ در حاشیہ )

ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کا مختصر بیان

حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان نشان ڈاکٹرہنری مارٹن کلارک کی طرف سے دائر کیے گئے مقدمے میں باعزت بریّت ہے۔ جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے قبل ازوقت آپؑ کو بتا دیا تھاکہ ایسا مقدمہ ہونے والا ہے اور پھر یہ اطلاع بھی دے دی تھی کہ“ آخر بریّت ہے‘‘۔ اس نشان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام حقیقۃ الوحی میں ۱۶۲ویں نشان کے طور پر لکھتے ہیں: ’’جب میرے پرڈاکٹر مارٹن کلارک کی طرف سے خون کا مقدمہ دائر ہوا اُس مقدمہ کے بارے میں ایک تویہ نشان تھا کہ خدا نے اس مخفی بلا سے پہلے مجھے اطلاع دی کہ ایسا مقدمہ ہونے والا ہے۔ اور پھر یہ بھی اطلاع دے دی کہ آخر بریّت ہے۔ اور جب اس پیشگوئی کے مطابق جب وہ بلا ظاہر ہوگئی اور ڈاکٹرمارٹن کلارک نے میرے پر خون کا مقدمہ دائر کردیا اور گواہوں نے ثبوت دے دیااور مقدمہ کی صورت خطرناک ہوگئی تو مجھے الہام ہوا۔ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا اتفاق ہوا کہ مخالفوں میں پھوٹ پڑگئی اور عبدالحمید جو خون کا مخبر تھا اور میری نسبت یہ الزام لگاتا تھا جو مجھے خون کرنے کے لئے بھیجا ہے اُس نے دوسرے مخالفوں سے الگ ہو کر سچ سچ حالات بیان کردیئے جس سے میں بری کیا گیا۔ اور مدعی کے ایک معززگواہ کو کچہری میں ذلت اور اہانت بھی دیکھنی پڑی۔ اور اس طرح پر یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ شکر کا مقام ہے کہ اس پیشگوئی اور بریّت کی پیشگوئی کے تین سو سے زیادہ گواہ ہیں ‘‘۔ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلدنمبر۲۲صفحہ۳۷۴۔۳۷۵)

پھر چاہے وہ تلاشی کا واقعہ ہو اور کسی بھی طرح کوئی جھوٹ پر مبنی کاغذ بنا لینا ہو جس سے آپؑ کو قید یا پھانسی کی سزا ملے یا پھر ڈاکخانہ کے مقدمہ میں کیسا ہی زور مخالفین کی طرف سے لگایا گیا ہو اور آپؑ کا بری ہوجانا ہو دشمن کا ذلت سے دوچار ہونا ہو یہ سب اسی خدائی وعدہ کے موافق تھا جو خدا نے آپؑ سے برسوں پہلے کیا تھا جس کی بابت آپؑ فرماتے ہیں:

اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا

قادیاں بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیرِ غار

پس چونکہ آپؑ کو بھی خدا کی طرف سے یہی الہام کیا گیاتھا کہ میں تجھے لوگوں کے حملوں سے بچاؤں گا سو وہ خدا ہی تھا جس نےآپؑ کی اپنے وعدہ کے موافق حفاظت بھی فرمائی چنانچہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضورؑ فرماتے ہیں: ’’منجملہ میرے نشانوں کے جو میری تائید میں خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ایک عظیم الشان نشان جو سلسلہ نبوت سے مشابہ ہے یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں ایک یہ پیشگوئی تھی يَعْصِمُكَ اللّٰهُ وَ إِن لَّمْ يَعْصِمُكَ النَّاسُ۔ وَ إِنْ لَّمْ يَعْصِمُكَ النَّاسُ يَعْصِمُكَ اللّٰهُ۔ اس پیشگوئی میں اُس زمانہ بلا اور فتنہ کی طرف اشارہ تھا جبکہ ہر ایک انسان مجھ سے منہ پھیر لے گا اور تباہ کرنے یا قتل کرنے کے منصوبے سوچیں گے۔ سو میرے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی موعود کے بعد ایسا ہی ظہور میں آیا۔ تمام لوگ یکدفعہ بر سر آزار ہو گئے اور انہوں نے اوّل یہ زور لگایا کہ کسی طرح نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے مجھے ملزم کر سکیں۔ پھر جبکہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ بر خلاف اس کے نصوص صریحہ اور قویہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ فی الواقعہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو پھر مولویوں نے قتل کے فتوے لکھے اور اپنے رسالوں اور کتابوں میں عام لوگوں کو اکسایا کہ اگر اس شخص کو قتل کر دیں تو بڑا ہی ثواب ہوگا… ان لوگوں نے جس قدر دشمنی کے جوش میں وہ سب تدبیریں سوچیں جو انسان اپنے مخالف کے تباہ کرنے کے لئے سوچ سکتا ہے۔ اور جس قدر شدت عداوت کے وقت میں دنیا دار لوگ اندر ہی اندر منصوبے بنایا کرتے ہیں وہ سب بنائے اور زور لگانے میں کچھ بھی فرق نہ کیا۔ اور میرے ذلیل اور ہلاک کرنے کے لئے ناخنوں تک زور لگایا اور مکہ کے بے دینوں کی طرح کوئی تدبیر اٹھا نہیں رکھی لیکن خدا تعالیٰ نے اس وقت سے بیس برس پہلے پیشگوئی مذکورہ بالا میں صاف لفظوں میں فرما دیا تھا کہ میں تجھے دشمنوں کے شر سے بچاؤں گا۔ لہٰذا اس نے اپنے اس سچے وعدہ کے موافق مجھ کو بچایا۔ سوچنے کے لائق ہے کہ کیونکر انواع اقسام کی تدبیروں سے میرے پر حملے کئے گئے تھے حتٰی کہ قتل کے جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ ان لوگوں نے میرے ہلاک کرنے کے لئے تدبیر یں تو ہر ایک قسم کی کیں مگر کچھ بھی پیش نہ گئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے اُس وعدہ کو پورا کیا جو براہین احمدیہ کے صفحہ پانسو دس ۵۱۰میں درج تھا یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ مجھے دشمنوں کی ہر ایک بداندیشی سے بچائے گا۔ اگر چہ لوگ تجھے ہلاک کرنا چاہیں۔ سو یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ جو منہاج نبوت پر واقع ہوئی کیونکہ مجھ سے پہلے جس قدر رسول اور نبی گذرے ہیں سب کو یہ بلا پیش آئی تھی کہ شریر لوگ کتوں کی طرح اُن کے گرد ہو گئے تھے اور صرف ہنسی اور ٹھٹھے پر ہی کفایت نہیں کی تھی بلکہ چاہا تھا کہ ان کو پھاڑ ڈالیں اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیں مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے ان کو بچا لیا۔ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا کہ ان مولویوں نے باہم ایسا اتفاق کر لیا کہ میری مخالفت کے جوش میں ان کو باہمی اختلافات بھی بھول گئے اور انہوں نے دوسری قوموں کے پنڈتوں اور پادریوں کو بھی حتّی الوسع اپنے ساتھ ملا لیا اور زمین میری دشمنی کے جوش سے یوں بھر گئی جیسا کہ کوئی برتن زہر سے بھرا جائے لیکن خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے حملوں سے میری عزت کو محفوظ رکھا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے پاک نبیوں کو محفوظ رکھتا رہا ہے۔ سو یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع کی گئی تھی اور اب بڑے زور شور سے پوری ہوئی۔ جس کی آنکھیں ہیں دیکھے کہ کیا یہ خدا کے کام ہیں یا انسان کے؟ ‘‘ (تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۵۱ تا ۴۶۴)

سو یہ وہ ایسے۱۰؍واقعات ہیں جو ہر صورت کسی ایسی ہستی کے متقاضی ہیں جو وراءالوراء ہو، قادر و توانا ہو، جو مظلوم کی سننے والا ہو،اپنے بندوں کی حفاظت خاص طور پر کرنے والا ہو۔ چونکہ بغیر اس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ ایسے وقتوں میں کوئی بچ سکے جب تک کہ کوئی بچانے والا نہ ہو۔لہٰذا یہ بات اظہر من الشمس ہےکہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی داد رسی کرتا ہے اور ظالم کو ڈھیل تو دیتاہے مگر اس کی پکڑ سے کسی ظالم کا بچ جانا، اس بات کی تاریخ بھی تصدیق نہیں کرتی۔ لہٰذا یہی بات ہے جو خدا کی ہستی کو ثابت کر دیتی ہے، سو خدا نے ثابت کیا کہ میں ہوں۔

مزید پڑھیں: نیشنلزم کا عروج اور انسانی اقدار کا زوال

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button