سالانہ تقریب تقسیم اسناد جامعہ احمدیہ نائیجیریااور مختصر سالانہ رپورٹ ۲۰۲۵ء۔ ۲۰۲۶ء
جامعہ احمدیہ ایک دینی درسگاہ ہے جس کے قیام کی غرض حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ’’دین کے خادم پیدا ہوں‘‘۔ اسی طرح فرمایا کہ ’’یہاں سے واعظ اور علماء پیدا ہوں جو دنیا کی ہدایت کا ذریعہ بنیں‘‘۔ اسی مقصد کے پیش نظر نائیجیریا میں بھی جامعہ احمدیہ قائم ہے،الحمدللہ۔ خلافت احمدیہ کی براہِ راست نگرانی میں اس ادارہ کو خداتعالیٰ کے فضل سے ہر سال معلّمین کرام (مبشر کورس) تیار کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اس وقت جامعہ احمدیہ نائیجیریا میں مکرم حافظ سید شاہد احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ کے ساتھ ۱۰؍اساتذہ کرام تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

مجلس ارشاد:طلبہ کی دینی اور دنیوی علم کی پیاس بجھانے نیز اس کی مزید جستجو پیدا کرنے کے لیے مجلس ارشاد کے تحت علمی و معلوماتی لیکچرز اور جلسہ جات منعقد کیے جاتے ہیں۔ مجلس ارشاد کے تحت منعقد ہونے والے جلسہ جات میں جلسہ سیرة النبیﷺ، جلسہ یوم مسیح موعودؑ، جلسہ یوم مصلح موعودؓ، جلسہ یوم خلافت اور دو روزہ علمی کانفرنس (الندوہ) شامل ہیں نیز امسال یوم مسیح موعودؑ دو روزہ علمی کانفرنس کے ساتھ ملا کر منعقد ہوا۔ اسی طرح ہر سال ایک علمی سمپوزیم منعقد کیا جاتا ہے۔ امسال اس کا عنوان ’’جماعت احمدیہ کا مالی نظام‘‘ تھا۔ سالِ رواں میں جامعہ احمدیہ نائیجیریا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ اس نے مجلس انصار سلطان القلم، نائیجیریا کے زیرِ اہتمام پہلی بالمشافہ تحریری ورکشاپ کی میزبانی کی۔ اس ورکشاپ میں مختلف تعلیمی اداروں اور مقامات سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے شرکت کی۔
مجلس علمی: فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ کے تحت طلبہ میں علمی مسابقت کی روح پیدا کرنے کے لیے مجلس علمی کے تحت گروپس کے مابین مقابلہ جات منعقد کیے جاتے ہیں، تاہم طالب علم انفرادی طور پر بھی حصہ لے سکتا ہے۔ امسال مجلس علمی کے تحت ۲۹ مختلف علمی مقابلہ جات منعقد ہوئے۔ ان میں مقابلہ تلاوت قرآن کریم،قصیدہ بزبان اردو اور عربی، تقریر بزبان اردو، انگریزی اور عربی شامل تھے۔ انہی زبانوں میں تقریر فی البدیہہ کے مقابلہ جات بھی منعقد کروائے گئے۔ اسی طرح مقابلہ اذان، نظم، حفظ ادعیہ اور پیغام رسانی کے علاوہ مقابلہ ’’خطبات امام‘‘ کوئز بھی کروایا گیا۔

مجلس العاب: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے طلبہ جامعہ احمدیہ کے لیے ارشاد فرمایا کہ طلبہ جامعہ احمدیہ کم ازکم ڈیڑھ گھنٹہ کوئی نہ کوئی گیم کھیلیں اور Exerciseکریں۔ حضورانور کے اس ارشاد کو مدِّنظر رکھتے ہوئے طلبہ جامعہ احمدیہ روزانہ کسی نہ کسی کھیل میں شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح دوران سال طلبہ کے آپس میں گروپس کی بنیاد پر یا کلاس وائز مختلف ورزشی مقابلہ جات منعقد کیے جاتے ہیں۔ دوران سال منعقد ہونے والے ۲۱ ورزشی مقابلہ جات میں فٹ بال، ٹیبل ٹینس اور والی بال شامل ہیں۔ اسی طرح کراس کنٹری ریس ۶؍نومبر ۲۰۲۵ء کو کروائی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض کھیلوں کے کوالیفائینگ میچز بھی کروائے گئے۔سال کے اختتام پر تین دن کے لیے سالانہ کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ امسال یہ سالانہ کھیلیں مورخہ ۱۹ تا ۲۲؍جون ۲۰۲۶ء منعقد ہوئیں۔ ان دنوں میں انفرادی اور اجتماعی یعنی گروپس کے مابین مقابلہ جات ہوئے۔اس کے علاوہ جامعہ میں ہر سال کلاسز کے درمیان ایک ’’فضل عمرفٹ بال ٹورنامنٹ‘‘ بھی کھیلا جاتا ہے۔
اسی طرح نصابی سرگرمیوں کے علاوہ جامعہ احمدیہ نائیجیریا کے طلبہ رمضان المبارک میں مختلف جماعتوں میں ’’رمضان پریکٹیکل‘‘ کے تحت بھجوائے جاتے ہیں جہاں وہ عید کی نماز تک معلمین والے تمام فرائض ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تبلیغ کی غرض سے مختلف علاقوں میں ’’پیس واک‘‘ کے پروگرامز منعقد کیے گئے۔ مجلس خدام الاحمدیہ نائیجیریا کی قومی درجہ بندی میں امسال جامعہ مقام کی تیسری پوزیشن آئی اور مجلس خدام الاحمدیہ نائیجیریا کے قومی امتحانات میں جامعہ کے دو طلبہ نے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔

سالانہ تقریب تقسیم اسناد
اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے امسال جامعہ احمدیہ نائیجیریا کی سالانہ تقریب تقسیم اسنادمورخہ ۲۷؍جون ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ مسجد بیت الناصر میں کامیابی سے منعقد ہوئی۔ امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۶ نئے معلّمین کو سنداتِ کامیابی عطا کی گئیں۔
یہ تقریب تعلیمی سال ۲۰۲۵ء۔۲۰۲۶ء کے اختتام پر منعقد ہوئی، جس کی صدارت امیر جماعت احمدیہ نائیجیریا الحاج عبدالعزیز فلورنشو الاتوئے صاحب نے کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم، عربی قصیدہ اور اردو نظم سے ہوا۔ مکرم پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے جامعہ کی تعلیمی، تربیتی اور تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے مئی ۲۰۲۶ء میں جامعہ احمدیہ برطانیہ کے کانووکیشن کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ وقفِ زندگی چوبیس گھنٹے اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت، قرآن کریم کے مسلسل مطالعہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے وابستگی کا تقاضا کرتا ہے۔
مکرم امیر صاحب نے اپنی تقریر میں فارغ التحصیل ہونے والے معلّمین کو نصیحت کی کہ وہ نظامِ جماعت کی مکمل پابندی کریں اور خلیفۂ وقت کے وفادار نمائندے بن کر خدمتِ دین انجام دیں۔ مزید برآں آپ نے معلّمین کو مادہ پرستی سے بچنے، باجماعت نمازوں کی بروقت ادائیگی، سادگی، قناعت اور اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی تلقین کی۔ اس کے بعد فارغ التحصیل طلبہ کو اسناد پیش کی گئیں اور تعلیمی، ادبی اور کھیلوں کے مختلف مقابلہ جات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ اس کے بعد مکرم عدنان طاہر صاحب مبلغ انچارج نائیجیریا نے اپنی تقریر میں طلبہ کو عاجزی اختیار کرنے اور ہر لحاظ سے مثالی کردار اپنانے کی نصیحت کی۔ اس کے بعد جماعت کی ذیلی تنظیموں، مجلس خدام الاحمدیہ، مجلس انصاراللہ اور لجنہ اماء اللہ کے صدور نے بھی خیرسگالی کے پیغامات پیش کیے اور فارغ التحصیل معلمین کو امن، محبت اور ہمدردی کے سفیر بن کر خدمتِ انسانیت انجام دینے کی تلقین کی۔
تقریب میں جماعت کی ذیلی تنظیموں کے اراکین نیشنل عاملہ، احمدیہ سائنس کالج ایلارو، حفظ کلاس اور مسرور انٹرنیشنل ٹیکنیکل کالج کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ طلبہ اور مہمانوں کی تعداد ۱۶۰ تھی۔ پروگرام کے اختتام پر امیر صاحب نے اختتامی کلمات کہے، جس کے بعد دعا کے ساتھ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ اس کے بعد تمام مہمانان کرام کی خدمت میں ظہرانہ پیش کیا گیا۔ جس کے ساتھ یہ تقریب بخیر و خوبی اپنے اختتام کو پہنچی، الحمد للہ علیٰ ذالک
(رپورٹ: سید اطہر محمود۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ اردن کے دوسرے جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کاکامیاب و بابرکت انعقاد



