احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
’’واضح ہو کہ یہ کتاب اس عاجز نے اس عظیم الشان غرض سے تالیف کرنی شروع کی تھی کہ وہ تمام اعتراضات جو اس زمانہ میں مخالفین اپنی اپنی طرز پر اسلام اور قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کر رہے ہیں۔ ان سب کا ایسی عمد گی اور خوبی سے جواب دیا جائے کہ صرف اعتراضات کا ہی قلع قمع نہ ہو۔ بلکہ ہر ایک امر کو جو عیب کی صورت میں مخالف بد اندیش نے دیکھا ہے۔ ایسے محققانہ طور سے کھول کر دکھلایا جائے کہ اس کی خوبیاں اور اس کا حسن و جمال دکھائی دے‘‘ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)
باب چہاردہم:طباعت میں التواء
مسودے کی بابت تفصیلی بحث اوپر کے صفحات میں بیان ہوچکی ہے کہ وہ کس قدر تھا اورکیونکر وہ شائع نہیں ہوسکا۔اس لیے نہیں کہ کتاب ہی تیار نہ تھی بلکہ بنیادی طورپر دووجوہات اس میں تاخیر کی سامنے آتی ہیں اورحضرت اقدس علیہ السلام عوام الناس اوراپنے خریداروں اورخیرخواہوں کو لمحہ بہ لمحہ اس ساری کارروائی سے آگاہ فرماتے رہے ہیں۔ کوئی چیزبھی اس میں خفیہ یا چھپی ہوئی نہ تھی اوراس ساری کارروائی میں دوباتیں نمایاں طور پر واضح ہوتی ہیں کہ یہ ساری کتاب شائع نہ ہونے کے دوبنیادی اسباب تھے:
اول: مہتمم مطبع کی طرف سے بعض مجبوریوں کی بناء پر تاخیر اور
دوم :خریداروں کی کمی اوربہت زیادہ کمی اوراعانت کرنے والے مخیر احباب کی بے توجہگی اوربہت ہی زیادہ عدم دلچسپی۔
اس کتاب کی اہمیت اورعظمت اوراس کے قیمتی مضامین کو جواہرات کا خزانہ قراردیتے ہوئے حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں: ’’واضح ہو کہ یہ کتاب اس عاجز نے اس عظیم الشان غرض سے تالیف کرنی شروع کی تھی کہ وہ تمام اعتراضات جو اس زمانہ میں مخالفین اپنی اپنی طرز پر اسلام اور قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کر رہے ہیں۔ ان سب کا ایسی عمد گی اور خوبی سے جواب دیا جائے کہ صرف اعتراضات کا ہی قلع قمع نہ ہو۔ بلکہ ہر ایک امر کو جو عیب کی صورت میں مخالف بد اندیش نے دیکھا ہے۔ ایسے محققانہ طور سے کھول کر دکھلایا جائے کہ اس کی خوبیاں اور اس کا حسن و جمال دکھائی دے۔
اور دوسری غرض یہ تھی کہ وہ تمام دلائل اور براہین اور حقایق اور معارف لکھے جائیں جن سے حقانیّت اسلام اور صداقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورحقیّت قرآن کریم روز روشن کی طرح ثابت ہو جائے۔اور تیسری غرض یہ تھی کہ مخالفین کے مذاہب باطلہ کی بھی کچھ حقیقت بیان کی جائے اور ابتدا میں یہی خیال تھا کہ اس کتاب کی تالیف کے لیے جس قدر معلومات اب ہمیں حاصل ہیں وہی اس کی تکمیل کے لیے کافی ہیں، لیکن جب چار حصّے اس کتاب کے شائع ہو چکے۔اور اس بات پر اطلاع ہوئی کہ کس قدر بد اندیش مخالف حقیقت سے دُور و مہجور ہیں اور کیسے صد ہا رنگا رنگ کے شکوک و شبہات نے اندر ہی اندر ان کو کھا لیا ہے۔وہ پہلا ارادہ بہت ہی ناکافی معلوم ہوا۔ اور یہ بات کھل گئی کہ اس کتاب کا تالیف کرنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک ایسے زمانہ کے زیر و زبرکرنے کے لیے یہ ہماری طرف سے ایک حملہ ہے۔جس زمانہ کے مفاسدان تمام فسادوں کے مجموعہ ہیں۔ جو پہلے اس سے متفرق طور پر وقتاً فوقتاً دنیا میں گزر چکے ہیں۔ بلکہ یقین ہو گیا کہ اُن تمام فسادوں کو جمع بھی کیا جائے۔ تو پھر بھی موجودہ زمانہ کے مفاسدان سے بڑھے ہوئے ہیں۔ اور عقلی اور نقلی ضلالتوں کا ایک ایسا طوفان چل رہا ہے جس کی نظیر صفحہٴ دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ اور جو ایسا دلوں کو ہلا رہا ہے کہ قریب ہے کہ بڑے بڑے عقلمند اس سے ٹھوکر کھاویں۔ تب ان آفات کو دیکھ کر یہ قرین مصلحت سمجھا گیا کہ اس کتاب کی تالیف میں جلدی نہ کی جائے۔ اور ان تمام مفاسد کی بیخ کنی کے لیے فکر اور عقل اور دُعا اور تضرّع سے پورا پورا کام لیا جائے اور نیز صبر سے اس بات کا انتظار کیا جائے کہ براہین کے چاروں حصّوں کے شائع ہونے کے بعد کیا کچھ مخالف لوگ لکھتے ہیں اور اگرچہ معلوم تھا کہ بعض جلدباز لوگ جو خریدار کتاب ہیں۔ وہ طرح طرح کے ظنّوں میں مبتلا ہوں گے اور اپنے چند درم کو یاد کر کے موٴلف کو بد دیانتی کی طرف منسوب کریں گے۔ چونکہ دل پر یہی غالب تھا کہ یہ کتاب رطب و یابس کا مجموعہ نہ ہو۔ بلکہ واقعی طور پر حق کی ایسی نُصرت ہو کہ اسلام کی روشنی دُنیا میں ظاہر ہوجائے۔اس لیے چند ایسے جلد بازوں کی کچھ بھی پروا نہیں کی گئی۔ اور اس بات کو خدا تعالیٰ بخوبی جا نتا ہے اور شاہد ہونے کے لیے وہی کافی ہے کہ اگر پوری تحقیق اور تدقیق کا ارادہ نہ ہوتا تو اس قدر عرصہ میں جو براہین کی تکمیل میں گزر گیا۔ ایسی بیس تیس کتابیں شائع ہو سکتی تھیں۔ مگر میری طبیعت اور میرے نُورِ فطرت نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ صرف ظاہری طور پر کتاب کو کامل کر کے دکھلا دیا جائے۔گو حقیقی اور واقعی کمال اس کو حاصل نہ ہو۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ اگر میں ایسا کرتا اور واقعی حقیقت کو مدّنظر نہ رکھتا تو لوگ بلا شُبہ خوش ہو جاتے لیکن حقیقی راست بازی کا ہمیشہ یہ تقاضا ہوتا ہے کہ مستعجل لوگوں کی لعنت ملامت کا اندیشہ نہ کر کے واقعی خیر خواہی اور غم خواری کو مدنظر رکھا جائے… کیا یہ سچ نہیں کہ براہین کا حصہ جس قدر طبع ہو چکا وہ بھی ایک ایسا جواہرات کا ذخیرہ ہے کہ جو شخص الله جلّ شانہٗ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہو بلاشبہ اس کو اپنے پانچ یا دس روپیہ سے زیادہ قیمتی اور قابلِ قدر سمجھے گا۔ مَیں یقیناً یہ بات کہتا ہوں اور میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ جس طرح میں نے محض الله جلّ شانہٗ کی توفیق اور فضل اور تائید سے براہین کے حصص موجودہ کی نثر اور نظم کو جو دونوں حقایق اور معارف سے بھری ہوئی ہیں تالیف کیا ہے۔ اگر حال کے بدظن خریدار اُن ملّاؤں کو جنہوں نے تکفیر کا شور مچا رکھا ہے۔ اس بات کے لیے فرمایش کریں کہ وہ اسی قدر نظم اور نثر جس میں زندگی کی رُوح ہو اور حقایق معارف بھرے ہوئے ہوں دس برس تک تیار کر کے ان کو دیں اور اسی قدر کی پچاس پچاس روپیہ قیمت لیں تو ہرگز اُن کے لیے ممکن نہ ہو گا۔ اور مجھے الله جلّ شانہٗ کی قسم ہے کہ جو نُور اور برکت اس کتاب کی نثر اور نظم میں مجھے معلوم ہوتی ہے۔ اگر اس کا مؤلف کوئی اور ہوتا اور میں اس کے اسی قدر کو ہزار روپیہ کی قیمت پر بھی خریدتا تو بھی مَیں اپنی قیمت کو اس کے ان معارف کے مقابل پر جو دلوں کی تاریکی کو دُور کرتی ہیں، ناچیز اور حقیر سمجھتا۔ اس بیان سے اس وقت صرف مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ بقیہ کتاب کے دینے میں معمول سے بہت زیادہ توقف ہوا لیکن بعض خریداروں کی طرف سے بھی یہ ظلم صریح ہے کہ انہوں نے اس عجیب کتاب کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا اور ذرا خیال نہیں کیا کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی تالیفات میں کیا کچھ مؤلفین کو خون جگر کھانا پڑتا ہے اور کس طرح موت کے بعد وہ زندگی حاصل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک لطیف اور آبدار شعر کے بنانے میں جو معرفت کے نُور سے بھرا ہوا ہو اور گرتے ہوئے دلوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اُوپر کو اُٹھا لیتا ہو۔ کس قدر فضلِ الٰہی درکار ہے اور کس قدر وقت خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اگر ایسے آبدار اور پُرمعارف اشعار کا ایک مجموعہ ہو تو ان کے لیے کس قدر زمانہ درکار ہو گا۔ ایسا ہی نثر کا بھی حال ہے۔ جاندار کتابیں بغیر جانفشانی کے تیار نہیں ہوتیں۔ اور متقدمین ایک ایک کتاب کی تالیف میں عمریں بسر کرتے رہے ہیں۔ امام بخاری نے سولہ برس میں اپنی صحیح کو جمع کیا۔ حالانکہ صرف کام اتنا تھا کہ احادیث صحیحہ جمع کی جائیں۔ پھر جس شخص کا یہ کام ہو کہ زمانہ موجودہ کے علم طبعی علم فلسفہ کے ان امور کو نیست و نابود کرے جو ثابت شدہ صداقتیں سمجھی جاتی ہیں اور ایک معبود کی طرح پوجی جا رہی ہیں۔ اور بجائے اُن کے قرآن کا سچا اور پاک فلسفہ دُنیا میں پھیلاوے اور مخالفوں کے تمام اعتراضات کا استیصال کر کے اسلام کا زندہ مذہب ہونا اور قرآن کریم کا منجانب الله ہونا اور تمام مذاہب سے بہتر اور افضل ہونا ثابت کر دیوے کیا یہ تھوڑا سا کام ہے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ جن لوگوں نے اس عاجز کی نسبت اعتراض کئے ہیں کہ ہمارا روپیہ لے کر کھا لیا اور ہم کو کتاب کا بقیہ اب تک نہیں دیا۔ انہوں نے کبھی توجہ اور انصاف سے کتاب براہین احمدیہ کو پڑھانہیں ہو گا۔ اگر وہ کتاب کو پڑھتے تو اقرار کرتے کہ ہم نے براہین کا زیادہ اس سے پھل کھایا ہے اور اس مال سے زیادہ مال لیا ہے جو ہم نے اپنے ہاتھ سے دیا۔ اور نیز یہ بھی سوچتے کہ اگر ایسی اعلیٰ درجہ کی تالیفوں کی تکمیل میں چند سال توقف ہو جائے تو بلاشبہ ایسا توقف ملامتوں کے لایق نہیں ہو گا۔ اور اگر ان میں انصاف ہوتا تووہ دغا باز اور بددیانت کہنے کے وقت کبھی یہ بھی سوچتے کہ اس عظیم الشان کام کا انجام دینا اور اس خوبی کے ساتھ اتمامِ حجت کرنا اور تمام موجودہ اعتراضات کو اُٹھانا اور تمام مذاہب پر فتحیاب ہو کر اسلام کی صداقتوں کو آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے دکھلا دینا کوئی ایسا امر نہیں ہے کہ بغیر ایک معقول مدت اور تائید الٰہی کے ہو سکے۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلداول صفحہ۴۲۳تا۴۲۶،اشتہار یکم مئی ۱۸۹۳ء)
وہ ایک الگ بات ہے کہ ایک تیسراسبب بھی تھا اوربعد میں یہ کھلا کہ وہی شاید اصل سبب ہواہوگا اوروہ سبب تھا مشیت ِایزدی۔ اس کی طرف حضرت اقدس علیہ السلام نے براہین احمدیہ کے حصہ سوم میں اشارۃً ذکر فرمادیا تھا اور پھر چوتھے حصہ کے آخری صفحہ پر اس کا باقاعدہ حتمی طورپر اعلان فرمادیا۔براہین احمدیہ حصہ سوم میں تو یہ فرمایا: ’’اس جگہ یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے کہ پہلے یہ کتاب صرف تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جز تک بڑھا دی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لیے اور پچیس روپے دوسری قوموں اور خواص کے لیے مقرر ہوئی۔ مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے لیے تین سو جز تک پہنچ گئی ہے جس کے مصارف پر نظر کرکے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سو روپیہ رکھی جائے۔ مگر بباعث پست ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ کہ گویا کچھ بھی نہیں ایک دوامی قیمت قرار پاوے۔ اور لوگوں کو ان کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دے کر پریشان خاطر نہ کیا جائے۔ لیکن خریداروں کو یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قدر اجزا کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزا زائد ازحق واجب ان کو پہنچیں گی وہ محض للہ فی اللہ ہوں گی اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا۔ کہ جو خالصاً للہ اس کام کے انجام کے لیے مدد کریں گے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۳۴ ،۱۳۵)
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعودؓ اور تربیت اولاد کے چند بنیادی اصول




