مکتوب

مکتوب ایشیا (جون و جولائی ۲۰۲۶ء)

(ابو سدید)

براعظم ایشیا کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ

آبنائے ہرمزکی کشیدہ صورتحال

جون ،جولائی میں آبنائے ہرمز کی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر یقینی رہی۔ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی سمجھوتے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونا شروع ہوئی تھی، لیکن جولائی کے پہلے ہفتے میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور امریکہ و ایران کے درمیان دوبارہ فوجی کشیدگی نے اس بحالی کو شدید دھچکا پہنچایا۔ نتیجۃً تیل اور ایل این جی ٹینکروں کی آمدورفت کئی مرتبہ تقریباً رکنے کی سطح تک پہنچ گئی۔ جون کے وسط میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے عارضی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم جولائی کے آغاز تک بھی تجارتی سرگرمی معمول کی سطح پر نہیں پہنچی تھی۔ ۱۸؍جون سے ۵؍جولائی کے درمیان صرف ۵۱۳؍جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، یعنی اوسطاً تقریباً ۲۸؍جہاز روزانہ، جو جنگ سے پہلے کی معمول کی سرگرمی کے مقابلے میں بہت کم تھا۔ جولائی کے پہلے ہفتے میں صورتحال اچانک مزید خراب ہوگئی۔جب قطر کے ایک ایل این جی ٹینکر کو شدید خطرہ لاحق ہوا اور سعودی عرب کے ایک خام تیل بردار ٹینکر کو بھی نقصان پہنچا۔ ان واقعات کے بعد بحری حکام نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا خطرہ شدیدقرار دیا۔ ۸؍جولائی کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے نئے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ بیسیوں جہاز اور تقریباً چھ ہزار بحری کارکن خلیج فارس میں پھنسے ہوئے تھے۔ تنظیم نے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پھر آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔

۲۰؍جولائی کو صورتحال اُس وقت مزید خطرناک ہوگئی جب یونانی شپنگ کمپنی Dynacom کے زیر انتظام دو ٹینکروں کو عمان کے قریب نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائلز کا نشانہ بنایا گیا۔ جہاز Kavomaleas کے انجن روم میں آگ لگ گئی اور عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا، جبکہ جہاز Acheloosکو بھی نقصان پہنچا اور اسے محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں عالمی شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی بجائے انتظار، متبادل راستوں یا محدود نقل و حرکت کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے ۔

جولائی کے دوسرے نصف میں یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی بحری اور تیل کی نقل و حمل کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کیا، جس سے بحیرہ احمر اور باب المندب بھی خطرناک راستے بن گئے۔اس طرح خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک توانائی پہنچانے والے دونوں اہم راستوں (آبنائے ہرمز اور باب المندب) پر بیک وقت خطرات بڑھ گئے۔ Reuters کے مطابق جولائی کے آخر تک سعودی عرب اور کویت کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے بھی علاقائی توانائی سپلائی کو متاثر کیا۔

اس کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں نمایاں اضافہ ہوا اور عالمی مارکیٹ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو دوبارہ ایک بڑے سپلائی رسک کے طور پر لینا شروع کیا۔ جولائی کے دوران عمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کے لیے کسی قابلِ عمل انتظام کی کوشش کی۔ بعد میں ایران کی جانب سے ایسے راستے کی تجاویز بھی سامنے آئیں جن کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی یا اجازت کے بعض اختیارات ایران کے پاس رہتے۔ لیکن امریکہ اور ایران کے بنیادی اختلافات برقرار رہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات اور بدامنی

جولائی میں آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات شدید سیاسی کشیدگی، احتجاج، سیکیورٹی بحران اور پُرتشدد جھڑپوں کی وجہ سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے۔ انتخابات سے قبل ہی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت میں احتجاجی تحریک جاری تھی۔ تحریک کے اہم مطالبات میں سیاسی نمائندگی میں اصلاحات، مہاجرین کے لیے مختص ۱۲؍نشستوں کے خاتمے یا نظرثانی، مقامی معاملات میں وفاقی حکومت کی مداخلت میں کمی، معاشی مسائل کا حل اور عوامی حقوق کا تحفظ شامل تھا۔ حکومت نے جون میں JAAC پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

آزاد کشمیر کی ۵۳؍رکنی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اصل میں ۲۷؍جولائی کو ایک ہی مرحلے میں ہونے تھے، لیکن سیکیورٹی کی خراب صورتِ حال کے باعث انہیں مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے حلقوں میں پولنگ ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ابتدائی مرحلے میں ۱۳؍میں سے ۹؍نشستیں حاصل کیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ۴؍نشستیں جیتیں۔ تحریک انصاف نے انتخابی دھاندلی کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

جولائی کے دوسرے نصف میں راولاکوٹ اور پونچھ ڈویژن بدامنی کا مرکز بن گئے۔ ۱۴؍جولائی کو سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم ۹؍افراد ہلاک ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق ان واقعات میں ترارکھل میں ۶؍مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار جبکہ راولاکوٹ میں ایک مظاہر اور ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا۔ اس وقت مقامی ذرائع پہلے ہی جون سے جاری بحران میں تقریباً ۳۰؍ہلاکتوں کی اطلاع دے رہے تھے۔تاہم رائٹرز نے واضح کیا کہ مواصلاتی بندش، سیکیورٹی پابندیوں اور محدود آزادانہ رسائی کے باعث اس تعداد کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔

بدامنی کے دوران موبائل انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع کی طویل معطلی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ مواصلاتی بلیک آؤٹ کے باعث متاثرہ علاقوں سے آزادانہ معلومات حاصل کرنا اور ہلاکتوں و زخمیوں کی تعداد کی تصدیق مشکل ہوگئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مواصلاتی سہولیات بحال کرنے اور میڈیا و آزاد مبصرین کو متاثرہ علاقوں تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا۔اس تنازع نے انتخابات کی شفافیت اور سیاسی جواز پر بھی سوالات اٹھائے۔

سری لنکا کی جیل میں خونی جھڑپیں، ۲۵؍ہلاک

جولائی کے اوائل میں سری لنکا کے شہر نیگومبو (Negombo) کی ایک جیل میں قیدیوں کے دو حریف گروہوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں نے ملک کے جیل نظام کے مسائل کو نمایاں کر دیا۔ یہ واقعہ ۵؍جولائی کو شروع ہوا اور ۶؍جولائی کو انتہائی سنگین صورت اختیار کرگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم ۲۵؍افراد ہلاک اور تقریباً ۱۰۰؍زخمی ہوئے، جبکہ بعد میں حکام نے ہلاکتوں کی تعداد ۲۶؍بتائی، جن میں ۱۹؍قیدی اور ۷؍جیل اہلکار شامل تھے۔

تفصیلات کے مطابق جھڑپیں نیگومبو جیل میں قیدیوں کے درمیان شروع ہوئیں۔ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر دو حریف قیدی گروہوں کے درمیان تنازع پیدا ہوا، جس کے بعد حالات تیزی سے قابو سے باہر ہوتے چلے گئے ۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب قیدیوں نے مداخلت کرنے والے جیل اہلکاروں پر حملہ کیا اور جیل کے مرکزی دروازے سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ جیل کے حفاظتی نظام، بشمول بعض نگرانی کے کیمروں اور ممنوعہ اشیاء کی نشاندہی کرنے والے آلات، کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ متعدد افراد کو گولی لگنے، تشدد اور دیگر نوعیت کے زخموں کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا۔تشدد پر قابو پانے کے لیے پولیس کے خصوصی دستے، فسادات سے نمٹنے والی ٹیمیں اور دیگر سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ صورتحال کی سنگینی کے باعث فوج اور سری لنکا کی فضائیہ نے بھی سیکیورٹی اداروں کی مدد کی۔ زخمیوں کو نیگومبو اور دیگر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق بالآخر جیل کا کنٹرول دوبارہ سیکیورٹی فورسز نے سنبھال لیا۔ہنگامے کے بعد قیدیوں کے تقریباً ۷۳۴؍افراد کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا تاکہ مزید تصادم کے امکانات کو کم کیا جاسکے۔

ایران۔امریکہ کشیدگی: تازہ صورتحال

جولائی میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہوگئی۔ جون میں طے پانے والے عارضی معاہدے اور جنگ بندی کے باوجود جولائی میں آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور سمندری آمدورفت کے معاملات پر شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ براہِ راست جنگ کو دوبارہ وسیع ہونے سے روکنے کے لیے قطر، پاکستان اور عمان جیسے ممالک نے سفارتی کوششیں جاری رکھیں، لیکن اعتماد کی شدید کمی کے باعث مستقل امن معاہدہ نہ ہوسکا۔

۱۷؍جون کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک عبوری مفاہمت طے پائی تھی جس کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنا اور وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم جولائی میں دونوں ممالک نے اس معاہدے کی مختلف تشریحات پیش کیں جس نے جنگ بندی کو انتہائی کمزور کردیا۔ یکم جولائی کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ تکنیکی مذاکرات ہوئے۔ بات چیت کا مرکزی موضوع آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، ایرانی منجمد اثاثوں اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی تھا۔اگرچہ قطری حکام نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا ذکر کیا، لیکن ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی جامع سمجھوتا سامنے نہیں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ دونوں ممالک فوری طور پر جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے خواہاں تو ہیں، مگر بنیادی سیاسی اور سیکیورٹی اختلافات بدستور موجود ہیں۔

۷؍جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ قائم جنگ بندی یا مفاہمت عملاً ختم ہوچکی ہے اور ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ ایران نے اس کے برعکس امریکہ کو معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دیا۔۱۴؍جولائی کو امریکہ نے ایران کے ایک بڑے شپنگ اور تیل کے نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ نیٹ ورک ایرانی تیل کی برآمدات اور عالمی تجارت میں پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہورہا تھا۔نئی پابندیوں کے تحت ۲۰۰؍سے زیادہ افراد، اداروں اور جہازوں سے متعلق کارروائی کی گئی۔ امریکہ ایران سے اپنے جوہری پروگرام پر سخت ضمانتیں اور طویل مدتی پابندیاں قبول کرنے کا مطالبہ کررہا ہے، جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کے خلاف فوجی کارروائی اور اقتصادی پابندیاں ختم کیے بغیر جامع مذاکرات ممکن نہیں۔اس صورتحال کے نتیجے میں جولائی کے اختتام تک جوہری مسئلے پر کوئی قابلِ ذکر جامع معاہدہ سامنے نہ آسکا۔

جولائی ۲۰۲۶ء کے اختتام تک ایران–امریکہ تعلقات جنگ، محدود جنگ بندی اور سفارت کاری کے درمیان ایک غیر یقینی کیفیت میں رہے۔ امریکہ ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز اور علاقائی اثر و رسوخ کو اپنی مذاکراتی طاقت کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

افغانستان میں متعدد زلزلے

جولائی کے دوران افغانستان میں متعدد زلزلے ریکارڈ ہوئے، یکم جولائی کو بدخشان کے قریب آنے والا ۵.۵؍شدت کا زلزلہ نمایاں تھا۔ اس کے علاوہ جولائی کے نصف آخر میں بھی افغانستان اور اس کے شمال مشرقی علاقوں میں درمیانی شدت کے کئی زلزلے ریکارڈ ہوئے۔ دستیاب زلزلہ جاتی ریکارڈ کے مطابق جولائی میں زیادہ تر زلزلوں کے حوالے سے سرگرمی ہندوکش، بدخشان، جرْم، اشکاشم اور شمالی افغانستان کے علاقوں میں رہی۔

تفصیلات کے مطابق جولائی میں افغانستان میں صرف ایک زلزلہ نہیں آیا بلکہ متعدد درمیانی شدت کے جھٹکے ریکارڈ ہوئے۔ دستیاب USGS-based ریکارڈ کے مطابق:

۱۴؍جولائی: جرْم کے قریب M4.0

۱۷؍جولائی: جرْم کے جنوب مشرق میں M4.2

۱۹؍جولائی: پارون کے شمال مغرب میں M4.5

۲۱؍ جولائی: جُرم کے قریب M4.0 اور بازارک کے شمال مغرب میں M4.4

۲۵؍جولائی: فرخار کے جنوب میں M4.1

۲۶؍جولائی: اشکاشم کے جنوب مغرب میں M4.2

۲۷؍جولائی: اشکاشم کے قریب M4.5

۲۸؍جولائی: تاجکستان کے علاقے کے قریب M4.5

۳۱؍جولائی: بلخ کے جنوب میں M4.3

یاد رہے کہ افغانستان دنیا کے نسبتاً زیادہ زلزلہ خیز خطّوں میں شامل ہے۔ ملک کا شمال مشرقی علاقہ، خصوصاً ہندوکش اور بدخشان، ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے باہمی تصادم سے پیدا ہونے والی پیچیدہ ارضیاتی سرگرمی کے زیرِ اثر ہے۔ اسی وجہ سے یہاں گہرے اور درمیانی شدت کے زلزلے نسبتاً کثرت سے آتے ہیں۔ یکم جولائی کے زلزلے کے بارے میں بھی ماہرین نے اس خطے کو پلیٹوں کے تصادم کے قریب واقع فعال زلزلہ خیز علاقہ قرار دیا۔ جولائی کے ان نمایاں زلزلوں کے حوالے سے دستیاب ابتدائی اطلاعات میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں یا تباہی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ خاص طور پر یکم جولائی کے M۵.۵ زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔

اس کے علاوہ ۲۷؍جون کو افغانستان کے ہندوکش خطے میں تقریباً M6.0–6.1 کا زلزلہ آیا تھا، جس کے جھٹکے افغانستان کے علاوہ پاکستان کے کئی علاقوں میں بھی محسوس ہوئے۔ اس کے مقابلے میں جولائی کے بیشتر زلزلے کم شدت یا زیادہ گہرائی کے تھے۔

اگرچہ ان واقعات سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں یا تباہی کی اطلاعات نہیں ملیں، لیکن افغانستان کی کمزور تعمیرات، پہاڑی جغرافیہ، دور دراز آبادیوں اور محدود ہنگامی امدادی صلاحیت کے باعث مستقبل کے زیادہ طاقتور زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مکتوب شمالی امریکہ (جون و جولائی ۲۰۲۶ء)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button