خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۷؍فروری ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: غزوہ خیبر کا ذکر ہو رہا تھا۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ خیبرکےلیےاسلامی لشکرکی روانگی اورحضرت ابوعبسؓ کودعادینےکی بابت کیابیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا:آنحضرتﷺ کی قیادت میں ۱۶۰۰ جاں نثاروں کا لشکر مدینہ سے روانہ ہوا۔ اس میں دو سو گھڑ سوار تھے لیکن روانگی سے قبل آنحضرتﷺ نے ایک خبر رساں دستہ آگے روانہ فرمایا جس کا کام تھا کہ لشکر کے آگے آگے راستوں کی دیکھ بھال کرے اور حالات کو بھی معلوم کرتا رہے۔ اس دستے کے قائد حضرت عَبَّاد بن بِشْر انصاریؓ تھے۔ خیبر کے راستوں سے آگاہی کے لیے دو رہبر یعنی گائیڈ بیس صاع کھجور کی اجرت پر لیے گئے۔ بیس صاع کا مطلب پچاس کلو۔ ان کے نام حَسِیل بن خَارِجَہ اشجعی اور عبداللہ بن نُعَیم بیان کیے جاتے ہیں اور یہ دونوں اشجع قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ مدینہ سے خیبر کی طرف جاتے ہوئے مختلف مقامات پر پڑاؤ کرتے ہوئےصَھْبَاءمقام پر قیام کیا۔ یہاں نماز کا وقت ہوا تو نماز یہاں ادا کی گئی۔چنانچہ بخاری کی روایت میں ہے کہ صَھْبَاءمیں آپؐ نے عصر کی نماز پڑھی۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے کھانے کے لیے کچھ منگوایا۔ لشکر والوں کے پاس صرف ستّو ہی تھے اور رسول اللہﷺ اور صحابہؓ نے وہی تناول فرمائے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر آپؐ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور آپؐ نے کلّی کی اور ہم نے بھی کلّی کی۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو تازہ نہیں کیا … ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک رات لشکر کے آگے آگے کوئی چمکتی ہوئی چیز چلتی ہوئی دکھائی دی۔ رسول اللہﷺ کو فکر ہوا اور پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اسلامی لشکر کا ایک سپاہی تھا جو لشکر چھوڑ کر سب سے آگے آگے چلا جا رہا تھا اور اس کے سر کا خَود چاندی کی وجہ سے چمک رہا تھا اور اس کا نام ابو عَبْسؓ تھا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس لاؤ۔ حضرت ابوعَبْسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اس پر خوفزدہ ہوا کہ کہیں میرے بارے میں کچھ نازل نہ ہو گیا ہو میں نے غلطی کی ہے۔ وہ ڈرتے ڈرتے خدمت اقدسؐ میں حاضر ہوئے۔ آپﷺ نے پوچھا کہ کیوں لشکر کو چھوڑ کر آگے آگے جا رہے تھے؟ بہرحال اس نے عذر پیش کیا۔ آپﷺ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ لشکر کے ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ اس کے بعد حضورﷺ ان سے باتیں کرنے لگے۔ یہ ان نادار صحابہؓ میں سے ایک تھے جن کے پاس اس جنگ میں آنے کے لیے کوئی زاد راہ نہ تھا اور یہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ یا رسول اللہؐ! میرے پاس کوئی زاد راہ نہیں ہے اور نہ ہی نان و نفقہ گھر میں موجود ہے۔ اس پر نبی اکرمﷺ نے اپنی ایک چادر انہیں عطا فرمائی۔ یہ دانا صحابی اس چادر کو لے کر بازار گئے۔ بتایا کہ آنحضرتﷺ نے دی ہے اور آٹھ درہم میں اس کو بیچ دیا۔ دو درہم سے گھر کا نان و نفقہ لیا۔ خرچہ وغیرہ لیا ۔دو درہم سے زادراہ لیا اور چار درہم کی اپنے لیے چادر خرید لی اور لشکر میں شامل ہو گیا۔ دوران گفتگو حضورﷺ نے اس سے پوچھا کہ وہ جو میں نے چادر دی تھی وہ کہاں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو میں نے فروخت کر دی تھی … ابوعَبْسؓ  کی یہ بات سن کر رسول اللہﷺ مسکرائے اور فرمایا :اے ابوعَبْس! تم لوگ اب بہت تنگ دست ہو۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم زندہ رہے اور لمبی عمر پائی تو تھوڑے ہی عرصہ بعد تم دیکھو گے کہ تمہارے زاد راہ میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔تمہارے اہل خانہ کے لیے نان و نفقہ بھی بہت زیادہ ہو جائے گا ۔تمہارے ہاں درہم و دینار کی بہت کثرت ہو جائے گی اور غلاموں کی بھی فراوانی ہو جائے گی لیکن یہ سب کچھ تمہارے لیے زیادہ اچھا نہیں ہو گا۔ حضرت ابوعَبْسؓ نے نبی اکرمﷺ کی یہ پیشگوئی اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی ہوئی دیکھی اور وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم! سب کچھ بالکل اسی طرح ہوا جیسے آپﷺ نے فرمایا تھا۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آنحضرتﷺکےبنوغطفان کوصلح کاپیغام دینےاوران کےطرزعمل کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: خیبر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے صَھْبَاءمقام پر آپﷺ نے پڑاؤ فرمایا اور نماز عصر اور مغرب اور عشاء وہیں ادا فرمائیں ۔ یہ جگہ خیبر سے بارہ میل کے فاصلے پر تھی۔ نمازوں سے فارغ ہو کر آپﷺ نے دونوں رہبروں کو بلایا اور اپنا جنگی منصوبہ ان کو بتاتے ہوئے فرمایا کہ میں خیبر پر اس طرح حملہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف تو اہل خیبر اور ملک شام کے درمیان حائل ہو جاؤں تاکہ وہ وہاں سے بھاگ کر شام کی طرف نہ نکل جائیں اور ساتھ ہی قبیلہ بنوغَطَفَان کے درمیان بھی حائل ہو جاؤں کہ وہ ان یہود کی مدد کو نہ پہنچ سکیں ۔ حَسِیل نامی رہبر لشکر کو لے کر چلنے لگا اور ایسی جگہ پہنچ کر رک گیا جہاں سے مختلف راستے خیبر کی اس وادی تک جاتے تھے۔ حضورﷺ نے اس سے ان سب راستوں کے نام پوچھے تو اس نے حَزَنْ، شَاشْ، حَاطِب وغیرہ نام بتائے جو اپنے معنوں کے اعتبار سے تنگی،سختی اور غم و اندوہ پر دلالت کرتے تھے۔ ایک نام مَرْحَبْ بتایا جو کشادگی اور فراخی کے معنی رکھتا ہے تو آپﷺ نے خدائی راہنمائی کے مطابق نیک فال لیتے ہوئے اسی مَرْحَبْ نامی راستے کا انتخاب فرمایا۔ آنحضرتﷺ کو یہ خبر ہو چکی تھی کہ بنو غَطَفَان نے اہل خیبر کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اب وہ مزید چار ہزار کا لشکر لے کر اس ارادے سے چل پڑے ہیں کہ وہ اسلامی لشکر کے خیبر تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اسلامی لشکر پر حملہ کر دیں ۔ بنو غَطَفَان نے اپنے نامور جنگجو سرداروں طُلَیحَہ بن خُوَیلَد اور عُیینَہ بن حِصْن کی قیادت میں کم و بیش ایک ہزار کا لشکر پہلے ہی خیبر کی طرف بھیج دیا تھا اور وہ خیبر کے قلعوں تک پہنچ چکا تھا اور اب چار ہزار کا یہ لشکر اسلامی لشکر کو روکنے اور اپنی دانست میں اس کا خاتمہ کرنے کے لیے راستے میں تھا۔ آنحضرتﷺ نے بنو غَطَفَان سے رابطہ فرمایا اور انہیں ایک خط بھیجا جس میں لکھا کہ وہ یعنی بنو غَطَفَان خیبر کے ساتھ ہونے والی جنگ سے غیر جانبدار رہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے۔ ان کو واضح فرمایا کہ وہ مجھے خیبر پر فتح دے گا۔ بعض مؤرخین کے مطابق آنحضرتﷺ نے یہ بھی پیغام دیا کہ وہ یہود کا ساتھ دینے سے ہٹ جائیں اور اسلام قبول کر لیں تو خیبر فتح کرنے کے بعد ان قبائل کو دے دیا جائے گا ۔بعض کے نزدیک آپﷺ نے اسلام قبول کرنے کی شرط نہیں رکھی تھی بلکہ یہ فرمایا تھا کہ وہ خیبر والوں کی مدد نہ کریں صرف غیر جانبدار ہوتے ہوئے ہٹ جائیں تو خیبر کی سالانہ پیداوار کا نصف انہیں دیا جائے گا لیکن سولہ سو مسلمانوں کے مقابل پر پندرہ ہزار جنگجو سپاہیوں کی فوج اور مضبوط قلعوں کا غرور ان کے سروں میں سمایا ہوا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے آنحضرتﷺ کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر آنحضرتﷺ نے خزرج قبیلے کے سردار اور مخلص صحابی حضرت سعد بن عُبَادہ ؓکو غَطَفان کے سپہ سالار عُیینَہ بن حِصن کی طرف بھیجا۔ یہ بنو غَطَفَان کے اس ایک ہزار فوج کی قیادت کرتا ہوا اس وقت خیبر میں یہودی سردار مَرْحَبْ کے قلعہ میں تھا۔ عُیینَہ کو جب معلوم ہوا کہ حضرت سعد ؓنبی اکرمﷺ کے نمائندے کی حیثیت سے آئے ہیں تو وہ انہیں قلعے کے اندر لانے کے ارادے سے جانے لگا تو مَرْحَبْ نے اعتراض کیا کہ مسلمانوں کے اس نمائندے کو قلعہ کے اندر نہیں لانا چاہیے ۔کہیں وہ قلعے کے اندر آنے کے راستوں وغیرہ کو نہ دیکھ لیں جبکہ عُیینَہ کا یہ کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے نمائندے کو اندر لاؤں تا کہ وہ ہماری طاقت اور تیاریوں کے بہترین فوجی سازو سامان دیکھ لیں لیکن مَرْحَبْ نہ مانا جس پر عُیینَہ حضرت سعد ؓکو قلعہ سے باہر ملا۔ حضرت سعدؓ نے عُیینَہ کو نبی اکرمﷺ کا پیغام دیا کہ اللہ نے ہمیں خیبر کے فتح کرنے کا وعدہ دیا ہے۔ لہٰذا تم یہاں سے واپس چلے جاؤ اور جنگ سے باز آ جاؤ۔ خیبر فتح کرنے کے بعد اس کی سال بھر کی کھجوریں بھی تم لوگوں کو دے دی جائیں گی۔ اس پر عُیینَہ نے حضرت سعدؓ سے کہا کہ ہم اپنے حلیف کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے اور ہم جانتے ہیں کہ تم لوگوں کی طاقت ہی کتنی ہے۔ یہ یہودی مضبوط قلعوں والے ہیں اور ان کے فوجی جوان بھی زیادہ ہیں اور اسلحہ بھی کہیں زیادہ ہے۔ اگر تم نے مقابلہ کیا تو تم سب لوگ ہلاک ہو جاؤ گے اور یہ قریش وغیرہ کی طرح کے لوگ نہیں ہیں کہ جن پر تم نے فتح پا لی تھی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میرا یہ پیغام محمدﷺ کو بھی دے دینا۔ حضرت سعدؓ نے اس کے اس متکبرانہ جواب پر عُیینَہ کو کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ ضرور تیرے پاس اس قلعہ میں آئیں گے اور اب اس وقت جو پیشکش ہم نے تجھے کی ہے اس وقت تم ہم سے اس کا مطالبہ کرو گے لیکن تب تجھے تلوار کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یعنی پھر جنگ ہی ہوگی۔ اور اے عُیینَہ! میں دیکھ چکا ہوں کہ ہم مدینہ کے یہودیوں کے صحن میں بھی اترے تھے اور وہ بری طرح تباہ ہو گئے تھے۔

یہ کہہ کر حضرت سعدؓ واپس چلے آئے اور آنحضرتﷺ کی خدمت میں ساری بات بتائی اور ساتھ ہی بڑے اخلاص سے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ !اللہ نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا اور اپنے دین کو غالب کرے گا۔ اس بدو یعنی عُیینَہ کو اس وقت ایک کھجور بھی نہ دیجئے۔ یا رسول اللہ !اگر تلواروں نے اسے آن لیا تو وہ ان یہود کو چھوڑ کر اپنے علاقے کی طرف اس طرح بھاگ جائیں گے جیسے اس سے قبل خندق کے روز وہ بھاگے تھے۔ جنگ خندق کے موقع پر بھی یہ قبیلہ چھ ہزار کا لشکر لے کر قریش کی مدد کے لیے آیا تھا اور پھر وہاں سے واپس بھاگ گیا تھا۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے اسلامی لشکرکےپڑاؤاورحضرت حباب بن منذرؓ کی تجویزکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: رسول اللہﷺ خیبر پہنچے تو آپ نے مَنْزِلَہ مقام پر رات گزاری اور وہیں صبح کی۔ حضرت حُبَاب بن مُنذِر ؓآپؐ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ!آپؐ کا اس جگہ یعنی مَنْزِلَہ میں ٹھکانہ بنانا اگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے تو ہم کچھ نہیں کہتے اور اگر آپؐ کی رائے ہے تو ہم مشورہ دینا چاہتے ہیں ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ رائے تومیری ہے۔ حضرت حُبَابؓ نے عرض کی یا رسول اللہ!آپؐ ان کے قلعوں کے قریب ہو گئے ہیں اور ان کے باغوں کے سامنے ہیں اور زمین شور والی ہے اور میں اہلِ نَطَاة کو جانتا ہوں۔ ان کے تیر بہت دور پہنچتے ہیں اور تیر اندازی میں ان کے برابر کوئی نہیں ہے اور وہ ہم سے اونچی جگہ پر بھی ہیں ۔ ان کے تیر ہماری طرف بہت آسانی سے پہنچ سکتے ہیں اور ان کے رات کے حملے سے بھی ہم محفوظ نہیں ہیں ۔ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں چھپ سکتے ہیں ۔ لہٰذا میری درخواست ہے کہ آپﷺ یہاں سے دوسری جگہ منتقل ہوجائیں ۔ آپﷺ نے فرمایا: تم نے اچھی رائے دی ہے لیکن ہم ان سے بہرحال آج جنگ کریں گے۔ لیکن ساتھ ہی رسول اللہﷺ نے محمد بن مَسْلَمَہ ؓکو بلایا جو آپﷺ کے حفاظتی دستے کے انچارج تھے اور فرمایا: ان کے قلعوں سے کچھ دور ہمارے لیے جگہ تلاش کرو۔ محمد بن مَسْلَمَہؓ چلتے چلتے رجیع کے مقام پر پہنچے جو خیبر اور غَطَفَانی قبائل کے درمیان واقع تھا اور پھر رسول اللہﷺ کے پاس واپس لَوٹ کر عرض کیا :یا رسول اللہﷺ! میں نے آپ کے لیے ایک جگہ دیکھ لی ہے۔ آپؐ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کی برکت کے ساتھ چلو ۔لیکن اس سے پہلے حضورﷺ فرما چکے تھے کہ آج تو جنگ اسی جگہ سے ہو گی ۔چنانچہ شام کو جنگ ختم ہونے کے بعد اس نئی جگہ پر سارا اسلامی لشکر منتقل ہو گیا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: معاشرے کے کمزور طبقہ پر خرچ کرنے کی تعلیم

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button