ایمان بالغیب کی اصل حقیقت
معرفت حاصل کرنی ہے تو قرآن مجید کی ہدایت کو پڑھو۔ ان پر عمل کرو۔ پھر معرفت کے مقام حاصل ہوں گے۔ انسان غیب کے علم سے باہر آئے گا ’’اور وہ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ سے نکل کر مشاہدہ کی حالت تک ترقی کرے گا گویا خدا تعالیٰ کے وجود پر عین الیقین کا مقام ملے گا۔‘‘ عمل ہو گا تو تبھی عین الیقین کا مقام ملے گا۔
پس يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ سے نکلنے کے لیے قرآن کریم کے حکموں پر عمل ضروری ہے۔ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ غیب پر ایمان کیوں لائیں آج کل تو کیوں کا سوال نوجوانوں میں، بچوں میں بہت اٹھتا ہے۔ جس چیز کا ہمیں پتہ ہی نہیں اس پر ایمان کیوں لائیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:غیب پر ایمان تو ابتدائی شکل ہے۔ یہ کتاب جو دی گئی ہے اس پر عمل کرو۔ ایمان لانے کے بعد اس پر عمل ضروری ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی صحیح پہچان دلائے گا۔ تو غیب سے باہر نکل کر مشاہدے کی حالت پیدا ہو گی۔ صرف غیب سے نہیں ہوگا بلکہ خود آدمی مشاہدہ کرے گا کہ کون خدا ہے۔ یہ تو دنیا کا اصول بھی ہے جو سائنٹسٹ(scientist) ہیں، ریسرچر(researcher) ہیں وہ جانتے ہیں کہ تجربات میں بھی پہلے ایک hypothesis بنتا ہے، اس پر بنیاد کر کے ریسرچ ہوتی ہے اور پتہ نہیں کہ وہ سچ ثابت ہو یا نہ ہولیکن اس پہ تصور میں ایک بنیاد بنائی جاتی ہے اور اس پر ریسرچ کی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایمان بالغیب کی بنیاد بنا کر پھر قرآنی احکامات پر عمل کرو، محنت کرو، غور کرو، پھر دیکھو تم مشاہدہ بھی کر لو گے۔
سائنسدان تو صرف اپنی ریسرچ کے لیے، ایک تسلی کے لیے وہ ریسرچ کرتے ہیں اور ان کی تسلی ہوتی ہے تو پھر لوگوں کو بتاتے ہیں لیکن یہاں جو ایک تصورباندھا اور اس کے بعد ریسرچ کی اس سے ہر انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ ہے اسلام کی خوبی۔ یہ ہے ایمان بالغیب کی اصل حقیقت۔
(خطبہ جمعہ ۱۵؍ مارچ ۲۰۲۴ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۵؍ اپریل ۲۰۲۴ء)
مزید پڑھیں: معاشرے کے کمزور طبقہ پر خرچ کرنے کی تعلیم




