متفرق شعراء

نگاہِ یار نے مجھ کو جو سرفراز کیا

(۲۰۲۴ء کے جلسہ سالانہ یوکے سے واپسی پر دل کے جذبات)

نگاہِ یار نے مجھ کو جو سرفراز کیا
ہر ایک شے سے دل و جاں کو بے نیاز کیا

نگاہِ لطف کی لذت نہ بھول پاؤں گا
کہ جس نے خاک سے ذرے کو دلفراز کیا

وہ اس کے پیچھے نمازوں کا لطف کیا کہیے
اسی کی قوتِ قدسی نے دل گداز کیا

میں اس کی دید کو آیا تھا لرزاں و ترساں
میں زِشت رُو تھا مجھے اس نے دلنواز کیا

میں مالا مال ہوا اس کے دست رحمت سے
کہ مہربانئی محمود نے ایاز کیا

اسی کی شان مسیحائی کا یہ جلوہ تھا
کہ ایک دید نے جینے کا پھر جواز کیا

میں لوٹ آیا مگر دل وہیں ٹھہر سا گیا
جہاں کہ دل کو کسی نے اسیرِ ناز کیا

میں اس کی چاہتیں کیسے بھلا سکوں ناصرؔ
عطا و لطف و عنایت نے اعتزاز کیا

(تنویر احمد ناصر۔قادیان)

مزید پڑھیں: اے محمدؐ میری عبا تو ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button