نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۵؍اگست ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم محمد ارشد صاحب ابن مکرم چودھری رشید احمد صاحب مرحوم(مورڈن،یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم محمد ارشد صاحب ابن مکرم چودھری رشید احمد صاحب مرحوم (مورڈن،یوکے)

۱۱؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۶۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم ۱۹۸۴ء میں پاکستان سے ہجرت کرکے جرمنی آئے اور ۲۰۰۹ء سے یوکے میں رہائش اختیار کی۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا چودھری غوث محمد صاحب مرحوم کے ذریعہ آئی جنہیں ۱۹۳۲ء میں بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے والے، مہمان نواز،بڑے مخلص اور باوفا انسان تھے۔ چندہ جات کی بروقت ادائیگی کا بھی ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔ خلافت سے گہرا عشق کا تعلق تھا اور ہمیشہ بچوں کو خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ مرحوم کو شعبہ ضیافت یو کے کے تحت بیت الفتوح، اسلام آباد اور جلسہ سالانہ میں خدمت کی توفیق ملتی رہی۔مرحوم موصی تھی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور ۲ بیٹے شامل ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم میر احمد فاروق صاحب (جَد چرلہ، تلنگانہ۔ انڈیا)

یکم جون ۲۰۲۶ء کو ۵۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، روزانہ باقاعدگی کے ساتھ تلاوت قرآن کریم کرنے والے، مہمان نواز، دین کی خدمت کا بے حد جذبہ رکھنے والےمخلص اور باوفا انسان تھے۔ آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا اور جماعتی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ آپ نے صدر جماعت جَدچرلہ اور نائب امیر ضلع محبوب نگر، تلنگانہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ آپ مکرم سجیل احمد غوری صاحب (مبلغ سلسلہ حیدر آباد۔انڈیا) کے خسر تھے۔

۲۔مکرم شیخ مبشر احمد صاحب ابن مکرم شیخ مشتاق احمد صاحب (آسٹریلیا)

یکم اگست ۲۰۲۶ ءکو ۸۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت شیخ محمد سلطان صاحب رضی اللہ عنہ (سوداگر چرم) صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔ مرحوم جماعت کے انتہائی مخلص کارکن تھے۔ آپ کو مجلس کے زعیم اور دیگر کئی عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، خلافت احمد یہ کے شیدائی اور جماعتی عہدے داران اور نظام جماعت کا از حد احترام کرنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ کی تمام اولاد کو کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔

۳۔مکرمہ مجیدہ نگہت صاحبہ اہلیہ مکرم محمود احمد صاحب مرحوم (دار النصر غربی اقبال ربوہ)

۲۱؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۷۱ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے صادق آباد میں بطور صدر لجنہ ۶ سال سے زائد عرصہ اور ربوہ میں ۴ سال خدمت کی توفیق پائی۔آپ دینی غیرت رکھنے والی، خلافت کا اور شعائر اللہ کا بھر پور احترام کرنے والی نیک مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ۳ بیٹے اور ۳ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بھائی عبدالقدیر قمر صاحب اور ایک بیٹے عطاءالبصیر صاحب بطور مربی سلسلہ خدمت بجالا رہے ہیں جبکہ ایک پوتا اور ایک نواسہ جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم ہیں۔

۴۔مکرمنیر احمد ننگلی صاحب ابن مکرم نذیر احمد ننگلی صاحب درویش (قادیان)

۹؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۶۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صدر انجمن احمدیہ قادیان سے درجہ چہارم کے کارکن کے طور پر خدمت بجا لانے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند، خلیفہ وقت کے مطیع، خاموش طبع، منکسرالمزاج او ر سادہ لوح انسان تھے۔ مالی تنگی میں بھی ہمیشہ شکر گزار رہتے۔ درویشان قادیان سے خاص محبت تھی اور ان کی خدمت کیا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۵۔مکرم رشید احمد سنوری صاحب ابن مکرم بشیر حسین سنوری صاحب (والتھم فارسٹ۔یوکے)

۹؍جون ۲۰۲۶ء کو ۸۶؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا تعلق حضرت محمد عبداللہ سنوری صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے تھا۔ مرحوم نے جماعت کے سا تھ ہمیشہ پختہ تعلق رکھا۔ والتھم فارسٹ جماعت میں سیکرٹری وقف نو اور سیکرٹری تعلیم و تربیت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ کچھ عرصہ ناروے میں بھی رہے جہاں نظام جماعت کے تحت تبلیغ میں حصہ لیتے رہے۔ مرحوم نماز اورروزہ کے پابند، جماعت کے فدائی اور خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والے مخلص بزرگ تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے تمام بچوں کو کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔

۶۔مکرمہ P.E.V. Sheikh Fatima صاحبہ اہلیہ مکرم K.O.M Abubakarصاحب (میانمار)

۲۶؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۱۰۲؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کے خاندان میں احمدیت ان کے نانا Peer Var Se Mohammad Ibrahim Sahib کے ذریعہ آئی، جنہوں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق پائی۔ آپ پہلے Buddhist تھیں لیکن احمدیت میں آنے کے بعد ساری عمر اسلام احمدیت سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق قائم رکھااور ہمیشہ اپنے بچوں کو بھی احمدیت کےساتھ پختگی سے جڑے رہنے کی تلقین کرتی رہیں۔ پسماندگان میں چار بیٹے، پانچ بیٹیاں اور کثیر تعداد میں پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button