یہ رسولؐ تمہاری تکلیف کو دیکھ نہیں سکتا
جذب اور عقدِ ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خداتعالیٰ کی چادر کے نیچے آ جاتا ہے اور ظل اللہ بنتا ہے۔ پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کُل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے۔ اس لئے آپؐ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ خداتعالیٰ فرماتا ہے۔ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ (التوبۃ:۱۲۹) یعنی یہ رسول تمہاری تکلیف کو دیکھ نہیں سکتا۔ وہ اس پر سخت گراں ہے اور اُسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں۔ ان ساری باتوں کو یکجائی طور پر دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اوّل خدا تعالیٰ مدد دیتا ہے پھر دوسرے درجہ پر مامور من اللہ ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں جوش ڈالا ہے اور وہ اِسی جوش اور تقاضائے فطرت کے ساتھ مخلوق کی بہتری میں ہر ایک قسم کی کوشش کرتے ہیں جیسے ماں اپنے بچے کو دودھ دیتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ اس لیے کہ والدہ کا نفس مز کی نہیں ہے اور یہ مز کی النفس لوگ ہوتے ہیں۔ انہیں کو صادقین اس آیت كُونُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبة : ۱۱۹) میں فرمایا گیا ہے۔
(ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۶۴، ۴۶۵ ایڈیشن ۲۰۲۲)
مزید پڑھیں: غیب پر ایمان لانا مومن کی ابتدائی حالت کا اظہار ہے




