حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

آنحضرت ﷺ کی بلند شان اور مقام ارفع کا ذکر

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۰؍دسمبر ۲۰۰۴ء)

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (آل عمران:32)

اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا(الاحزاب:57)

یہ پہلی آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے کہ تو کہدے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔

اور دوسری آیت کا ترجمہ ہے کہ یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔

یہ دو آیات ایک آل عمران کی ہے اور دوسری سورۃ احزاب کی۔ جیسے کہ ترجمے سے آپ نے سن لیا آل عمران کی اس آیت میںاللہ تعالیٰ نے ہمیں بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کو آنحضرتﷺ کے ذریعے سے یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ اب تمام گزشتہ اور آئندہ نمونے ختم ہو گئے اب اگر کوئی پیروی کے قابل نمونہ ہے تو آنحضرتﷺ کا نمونہ ہے اور یہ پیروی کے نمونے کس طرح قائم ہوں گے۔ اس طرح قائم ہوں گے جس طرح ایک سچا عاشق اپنے محبوب کی پسند اور ناپسند کو اپنی پسند اور ناپسند بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اس طرح تم آنحضرتﷺ کی پیروی کرو گے تو پھر ہی مَیں تمہارے گناہ بھی بخشوں گا اور تمہارے سے محبت کا سلوک بھی کروں گا۔ تمہاری دینی اور دنیاوی بھلائیوں کے سامان بھی پیدا کروں گا۔ تو گویا اب اللہ تعالیٰ تک پہنچے کے تمام راستے بند ہو گئے اور اگر کوئی راستہ کھلا ہے تو آنحضرتﷺ کی کامل اتباع کرکے آپ کے پیچھے چل کر ہی خداتعالیٰ تک پہنچا جا سکتا ہے، یہی ایک راستہ ہے جو کھلاہے۔ پھر اس اسوئہ حسنہ کی پیروی کرنے کے لئے اور آپﷺ کی محبت دل میں بڑھانے کا طریق جو اگلی آیت مَیں نے تلاوت کی ہے سورۃ احزاب کی اُس میں بتایاہے اور وہ یہ ہے کہ یہ نبی کوئی معمولی نبی نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا سب سے پیارا وجود ہے۔ زمین و آسمان اس کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اسی کام پر لگے ہوئے ہیں کہ اللہ کے اس پیارے نبی پر رحمت بھیجتے رہیں اور دعائیں کرتے رہیں۔ پس اے لوگو جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی محبت چاہتے ہو تو تمہارا بھی یہ کام ہے کہ اس نبی سے محبت پیدا کرو۔ اس پر درود بھیجو اور بہت زیادہ سلامتی بھیجو۔ جب تم اس طرح اس نبی پر درود و سلام بھیجو گے تو تم پر اس کی پیروی کے راستے بھی کھلتے چلے جائیں گے اور جیسے جیسے یہ راستے کھلیں گے جس طرح تم اس کی پیروی کرتے چلے جاؤ گے اتنی ہی زیادہ تم اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے والے بھی بنتے چلے جاؤ گے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ:’’ قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں۔ اوّل اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ (آل عمران:32)۔ دوم۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا (الاحزاب:57)۔ اور تیسرا موہبت الٰہی‘‘۔ (حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود پرایک خط صفحہ 23)۔ یعنی دعائیں قبول کروانا چاہتے ہو تو جو دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اس کی پیروی کرو، آپؐ سے محبت کرو اور اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرو۔ پھر رسول اللہﷺ پر درود بھیجو تاکہ اس محبت میں خود بھی بڑھو اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت بھی حاصل کرو۔ اور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکو، اس سے بخشش طلب کرو، اس کی عبادت کرو۔ ، سب غیراللہ کو چھوڑ دو۔ تو یہ تین چیزیں ہیں اگر پیدا ہو جائیں گی تو سمجھو کہ تم اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہو گے۔ اور دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔

پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ:’’ ان کو کہہ دو اس بارہ میں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الٰہی بن جاؤ اور تمہارے گناہ بخش دئیے جائیں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو‘‘۔

فرمایا کہ:’’…… میری پیروی ایک ایسی شئے ہے جو رحمت الٰہی سے ناامید ہونے نہیں دیتی۔ گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے‘‘۔ یعنی جو حقیقی پیروی کرنے والے ہوں وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے۔ ان میں ایک یقین کی کیفیت ہوتی ہے کہ اس پہلو سے ہم نے یقینا ًاللہ تعالیٰ کا قرب پا لینا ہے اور اس کی محبت حاصل کرلینی ہے تو فرمایا کہ میری پیروی گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے’’ اور تمہارا یہ دعویٰ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اسی صورت میں سچا اور صحیح ثابت ہو گا کہ تم میری پیروی کرو‘‘۔

… پھر آپ فرماتے ہیں کہ:’’ دنیا میں کروڑ ہا ایسے پاک فطرت گزرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے۔ لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا۔(الاحزاب:57)۔ اُن قوموں کے بزرگوں کا ذکر توجانے دو جن کا حال قرآن شریف میں تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا۔ صرف ہم ان نبیوں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور دوسرے انبیاء۔ سو ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہ آتے اور قرآن شریف نازل نہ ہوتا اور وہ برکات ہم بچشم خود نہ دیکھتے جو ہم نے دیکھ لئے تو ان تمام گزشتہ انبیاء کا صِدق ہم پر مشتبہ رہ جاتا‘‘۔ یعنی اگر قرآن شریف کی تعلیم سامنے نہ ہوتی اور جس طرح قرآن کریم نے ہمیں ان انبیاء کا بتا یا وہ ہم اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیتے۔ یہ آنکھوں سے دیکھنے والی ہی بات ہے جس طرح تفصیل سے قرآن کریم میں ذکر ہے تو تمام گزشتہ انبیاء کی جو سچائی ہے وہ اس طرح ہم پر ظاہر نہ ہوتی جس طرح قرآن کریم کے پڑھنے سے ہم پر ظاہر ہوئی ہے۔ فرمایاکہ’’کیونکہ صرف قصّوں سے کوئی حقیقت حاصل نہیں ہو سکتی اور ممکن ہے کہ وہ قصّے صحیح نہ ہوں۔ اور ممکن ہے کہ وہ تمام معجزات جو ان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ سب مبالغات ہوں۔ کیونکہ اب ان کا نام و نشان نہیں بلکہ ان گزشتہ کتابوں سے تو خدا کا پتہ بھی نہیں لگتا۔ اور یقیناً نہیں سمجھ سکتے کہ خدا بھی انسان سے ہمکلام ہوتا ہے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ سب قصّے حقیقت کے رنگ میں آ گئے۔ اب نہ ہم قال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر اس بات کو خوب سمجھتے ہیں ‘‘ کہ اب یہ سنی سنائی باتیں نہیں ہیں بلکہ تجربے سے یہ باتیں ہمارے سامنے ظاہر ہو گئیں۔ ’’ اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ مکالمہ الٰہیہ کیا چیزہوتا ہے۔ ‘‘ یہ صرف قصّے نہیں رہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی سے ہی پتہ لگ گیا کہ ’’ اللہ تعالیٰ کس طرح ہمکلام ہوتا ہے کس طرح بات کرتا ہے کس طرح سنتا ہے اور کس طرح سناتا ہے۔ ’’ اور خدا کے نشان کس طرح ظاہر ہوتے ہیں اور کس طرح دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور یہ سب کچھ ہم نے آنحضرتﷺ کی پیروی سے پایا اور جو کچھ قصّوں کے طور پر غیر قومیں بیان کرتی ہیں وہ سب کچھ ہم نے دیکھ لیا۔ پس ہم نے ایک ایسے نبی کا دامن پکڑا ہے جو خدا نما ہے۔ کسی نے یہ شعر بہت ہی اچھا کہا ہے

محمدؐ عربی بادشاہِ ہر دوسرا

کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی

اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں

کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی

ہم کس زبان سے خدا کا شکر کریں جس نے ایسے نبی کی پیروی ہمیں نصیب کی جو سعیدوں کی ارواح کے لئے آفتاب ہے جیسے اجسام کے لئے سورج‘‘۔ یعنی جو سعید فطرت لوگ ہیں ان کی روح کو تازگی دینے کے لئے، ان کو نور پہنچانے کے لئے ایک سورج ہے۔ جیسے ہمارے جسم کی صحت کے لئے ایک سورج ہے۔ ’’وہ اندھیرے کے وقت میں ظاہر ہوا اور دنیا کو اپنی روشنی سے روشن کر دیا۔ وہ نہ تھکا، نہ ماندہ ہوا جب تک کہ عرب کے تمام حصّہ کو شرک سے پاک نہ کر دیا۔ وہ اپنی سچائی کی آپ دلیل ہے کیونکہ اس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے۔ اور اس کی سچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفّاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو۔ کون صدق دل سے ہمارے پاس آیا جس نے اس نور کا مشاہدہ نہ کیا اور کس نے صحت نیّت سے اس دروازہ کو کھٹکھٹایا جو اس کے لئے کھولا نہ گیا۔ لیکن افسوس کہ اکثر انسانوں کی یہی عادت ہے کہ وہ سفلی زندگی کو پسند کر لیتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ نور ان کے اندر داخل ہو‘‘۔ (چشمہ ٔمعرفت۔ روحانی خزائن جلد 23صفحہ 303،302،301)

مزید پڑھیں: رسول کریمﷺ پر درود بھیجنے کی برکتیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button