متفرق شعراء
عجب اک ماجرا گزرا عرب کے ریگزاروں میں

عجب اک ماجرا گزرا عرب کے ریگزاروں میں
چراغِ حق جلایا آپؐ نے جب کوہساروں میں
جہاں میں آپؐ کی آمد بہارِ جاوِداں ٹھہری
خزاں کی تشنگی بھی آپؐ نے بدلی بہاروں میں
جو دل تقویٰ سے عاری تھے وہاں ایمان کے چشمے
نکالے آپؐ نے اور ڈھل گئے سب آبشاروں میں
حسیں اسوہ سے جیتے دل غلاموں کو رہائی دی
عدو بھی آپؐ کے شامل ہوئے پھر جاں نثاروں میں
ہدایت کے حسیں پیکر صداقت کے امیں ٹھہرے
وہ نورِ اوّلیں و آخریں تھے چاند تاروں میں
ہزاروں رحمتیں ہوں آپؐ پر اے شاہِ دو عالم!
خدا کو پا لیا تھا آپؐ نے تاریک غاروں میں
نبی کامل یہ دیں کامل شریعت ہوگئی کامل
اذانیں گونجتی ہیں ہر طرف حق کے مناروں میں
لبوں پر ہے درودِ پاک اور یہ آس ہے دل میں
کریں منؔ کو بھی شامل اے خدا وہ اپنے پیاروں میں
(منصورہ فضل منؔ۔ قادیان)
مزید پڑھیں: نگاہِ یار نے مجھ کو جو سرفراز کیا




