متفرق شعراء
میرے دن رات گزرتے ہیں تری یادوں میں

سوچتا ہوں کہ محبت کے فسانے لکھوں
بس اسی سوچ میں ہوں کس کے بہانے لکھوں
اس سے ملنا تو گھڑی بھر کی سعادت ہوگی
دل یہ کہتا ہے کہ اس کو بھی زمانے لکھوں
جو تبرک میں ملے ان کی مہک کے لمحے
میں تو ان کو بھی محبت کے خزانے لکھوں
میرے دن رات گزرتے ہیں تری یادوں میں
تری چوکھٹ کو ہی میں اپنے ٹھکانے لکھوں
گر مرے نطق کو اظہار کی توفیق ملے
میں ترے حسن کے ہر روز ترانے لکھوں
آسمانوں کے ستاروں سے رہا عشق مجھے
میں جو لکھوں بھی تو بس عشق پرانے لکھوں
میں بھی رہتا ہوں اسی سوچ پہ مائل افضل
جب بھی لکھوں تو فقط قصے سہانے لکھوں
(افضل مرزا۔ امریکہ)
مزید پڑھیں: عجب اک ماجرا گزرا عرب کے ریگزاروں میں




