پریس ریلیز: منڈی بہاؤ الدین میں جماعت احمدیہ کے مقامی عہدے دار مرزا صفدر محمود کو ہدف بنا کر سر عام شہید کر دیا گیا
٭…مذہب کے مقدس نام پر منعقدہ اجتماعات اورملک کے طول وعرض میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم جاری ہے
٭…احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور تشدد کی تلقین کرنے والوں کو فوری طور پر قانون کی گرفت میں لایا جائے
پریس ریلیز: چناب نگر : گذشتہ روز۲؍ستمبر ۲۰۲۶ءکو سر شام تھانہ سٹی منڈی بہاؤ الدین کی حدود میں عید گاہ کے دروازے کے قریب جماعت احمدیہ کے مقامی عہدیدار مرزا صفدر محمود صاحب بعمر ۶۵؍ سال کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔زخموں کی تاب نہ لا کر وہ موقع پر جاں بحق ہوگئے۔وہ گاڑیوں کی مرمت کی ورکشاپ چلاتے تھے ۔وہ ورکشاپ سے احمدیہ بیت الذکر کی طرف جا رہے تھے جب نامعلوم حملہ آور نے ان پر فائرنگ کر دی۔وہ ایک شریف النفس انسان تھے اور ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ ان کی تدفین ربوہ میں کی جارہی ہے۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔

ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان عامر محمود نے اس بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ احمدیوں کو قتل کرنے اور نفرت و تشدد کا بیانیہ فروغ دینے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے قرار واقعی سزا دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح منڈی بہاؤالدین میں بھی احمدیوں کے خلاف مہم چلتی رہی ہے اور احمدیوں کے خلاف اشتعال پھیلایا جا رہا ہے۔یہاں تک کے منڈی بہاؤالدین میں بعض نام نہاد مولویوں نے حاملہ احمدی عورتوں کے حمل گرانے جیسی بھیانک دھمکیاں علی الاعلان دیں اورایک احمدی پولیس آفیسر کی منڈی بہاؤالدین میں تعیناتی کے خلاف مہم چلاتے ہوئے اس احمدی پولیس آفیسر کو قتل کرنے کی دھمکی دی ۔ منڈی بہاؤالدین کے علاقے سعداللہ پور میں ۸؍جون۲۰۲۴ء کو ایک ہی دن میں ۲؍احمدیوں کو دن دیہاڑے سرعام قتل کر دیا گیا تھا۔ ۱۶؍مئی ۲۰۲۵ء کو سرگودھا میں قتل ہونے والے احمدی ڈاکٹر شیخ محمد محمود صاحب کا قاتل بھی تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آیا۔ترجمان جماعت احمدیہ نے پاکستان میں احمدیوں کے خلاف متعصبانہ نفرت انگیز مہم کو روکنے اور قتل کے سفاکانہ جرم میں ملوث اورذہن سازی اور سہولت کاری کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانےاور انہیں قانون کے مطابق کڑی سزا دے کر کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔




