پریس ریلیز: جماعت احمدیہ کے مرکزربوہ میں احمدی عبادتگاہ بیت اقصیٰ کے باہر سیکیورٹی رضا کاروں کی گاڑی پر فائرنگ
٭…۳؍احمدی نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔۲؍کی حالت نازک ہے۔ نامعلوم موٹر سائیکل سوار دہشت گرد فرار ہو گیا
٭…ربوہ میں احمدیوں پر بڑھتے ہوئے حملے انتہائی تشویش ناک ہیں ۔ریاستی ادارے تحفظ فراہم کر تے ہوئے نفرت پر مبنی اشتعال انگیز مہم کو فوری رکوائیں: ترجمان جماعت احمدیہ
چناب نگر :( پریس ریلیز ) ۵؍جون کو رات ۹ بجے کے قریب ایک نامعلوم موٹر سائیکل سوار دہشت گرد نے جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ میں احمدی عبادت گاہ بیت اقصیٰ کے باہر سیکیورٹی رضا کاروں کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ۳؍احمدی نوجوان شدید زخمی ہوگئے جن میں سے ۲؍ کی حالت نازک ہے۔ تفصیلات کے مطابق رضا کاروں کی گاڑی معمول کی حفاظتی ڈیوٹی پر بیت اقصیٰ کے باہر چوک میں موجود تھی کہ ایک نامعلوم موٹر سائیکل سوار دہشت گردجس نے اپنا سر اور چہرہ کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا،نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔جس کے نتیجے میں۳؍افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں وقاص احمد عمر ۲۳؍سال،بلال احمد عمر۳۰؍سال اور عبد الجبار عمر۳۹؍سال شامل ہیں۔زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے فوری آپریشن کیا۔شہریوں کی بڑی تعداد خون کے عطیات دینے ہسپتال پہنچی۔عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکل سوار دہشت گرد کالج روڈ کی جانب فرار ہو گیا۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان عامر محمود نے ربوہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ چند ماہ میں ربوہ کے اندر یہ دوسرا دہشت گرد حملہ ہے جس کے نتیجے میں احمدی خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ ۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۵ءکو جمعۃ المبارک کے روز احمدی عبادت گاہ بیت المہدی کے باہر فائرنگ کے نتیجہ میں ۶؍احمدی زخمی ہو ئے تھے۔ترجمان نے کہا کہ چند یوم قبل عید الاضحی کے موقع پر سیکیورٹی اداروں نے تھریٹ الرٹ جاری کیا تھا کہ ربوہ میں دہشت گردی کی کارروائی کا خطرہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے طول و عرض میں معصوم اور پرامن احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر وتحریر مسلسل جاری ہے۔ جس میں عامۃالناس کو اشتعال دلایا جاتا ہے کہ وہ احمدیوں کو نشانہ بنائیں۔احمدیوں کے معاشی و سماجی بائیکاٹ کی مہم چلاتے ہوئے یکطرفہ منفی زہریلاپراپیگنڈا کیا جاتا ہے اور جماعت احمدیہ کے عقائد کے متعلق من گھڑت باتیں کر کے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ایسے فتوے موجود ہیں جن میں عوام کو ترغیب دی جاتی ہے کہ احمدیوں کو جہاں دیکھیں وہاں قتل کردیں ۔ احمدی ربوہ سمیت پاکستان میں کہیں بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کر تے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال سرگودھا میں تین احمدیوںکو قتل اور ایک کو زخمی کرنے والا مجرم تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ نفرت پر مبنی مہم کو فوری طور پر رکوا کر ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور پاکستان میں احمدیوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
٭…٭…٭




