مسرّت کوثر سلیم صاحبہ
(د۔ ظ۔طاہر)
بلانے والا ہے سب سے پیارا
اُسی پہ اے دل تُو جاں فدا کر
میری والدہ صاحبہ نے ماشاءاللہ نوّے سال عمر پائی اور بھرپور زندگی گزاری۔ آپ بظاہرمڈل پاس تھیں لیکن انتہائی ذہین، نفیس، کھلے ذہن، مثبت سوچ، حاضر دماغ، بہترین حافظہ، خوش گفتار، مہمان نواز، ہمدرد اور جماعت سے محبت رکھنے والی خاتون تھیں۔ تاریخ سے بہت لگائو تھا۔ جماعتی تاریخ ہو یا ملکی، سب اچھے سےیاد تھی اورحساب کتاب میں تو زبردست تھیں۔
آپ قادیان میں مکرم سردار مصباح الدین سامی صاحب (سابق مبلغ انگلستان) اور مکرمہ حاکم بی بی صاحبہ کے ہاں پیدا ہوئیں۔ آپ کے پانچ بھائی اور ایک بہن تھیں۔بڑی بہن بہت جلدی وفات پا گئی تھیں اس لیے آپ بھا ئیوں اور ماں باپ کی بہت لاڈلی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد آپ اپنے والدین کے ساتھ پہلے لاہور اور پھر مستقل طور پر چنیوٹ شفٹ ہو گئیں۔ میری والدہ شادی سے پہلے بھی اپنے محلےمیں سب کے کام آتیں، خواتین کو اردو پڑھنا لکھنا سکھایا کرتیں کیونکہ اس زمانے میں عورتیں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوتی تھیں اس لیے محلے کی عورتیں ان سے خط لکھواتیں اور پڑھواتی تھی۔ لڑکیوں کے جہیز تیار کروانے میں بہت مدد کرتیں۔ محلے کی عورتیں ہر معاملے میں ان کے مشورے کو اہمیت دیتی تھیں۔
میری والدہ کی شادی ۱۹۶۵ء میں چودھری غلام حیدر صاحب (واقف زندگی) کے منجھلےبیٹےچودھری مبارک احمد سلیم صاحب سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں سے نوازا۔ بڑا بیٹا ۸؍ماہ کی عمر میں ہی وفات پا گیا۔ میری والدہ نے زندگی میں بہت اتار چڑھائو دیکھے۔سخت قسم کے ابتلا بھی آئےلیکن مضبوط خاتون تھیں، آپ نےصبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ہمارے ابو جان کی جلد وفات کا صدمہ اور پھر بعد میں معاشی حالات میں بھی کچھ تنگی آ گئی تھی، اس وقت بھی والد ہ نے انتہائی صبر اور ہمت سے وقت گزارا۔ ہم ان کی پریشانی محسوس کرتے تھے لیکن انہوں نے ہمیں بالکل پریشان ہونے نہیں دیا۔ ہمیشہ ہمیں بھی یہی نصیحت کرتی تھیں کہ جب بھی کوئی مشکل وقت آئےتو اس کو اللہ کی رضا اور آزمائش سمجھ کر صبر سے کام لیں اور صرف اپنے اللہ سے مدد مانگیں۔ ان کا اپنے رب پر کامل ایمان تھا اور خود اپنے لیے دعائیں کرتیں اور درود شریف کا بہت ورد کرتیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں قبول فرمائیں اور زندگی کی ہر آسائش اور خوشی سے آپ کو نوازا۔ اُنہوں نےکامیاب گزاری۔
میری والدہ جماعت اور خلیفہ وقت سے بےحد محبت کا جذبہ رکھتی تھیں۔ جماعتی چندہ جات وقت پر ادا کرتیں۔ تحریک جدید اور وقف جدید کے اعلان کے ساتھ ہی اپنا چندہ ادا کر دیتیں۔ جب بھی اضافی چندہ جات کی تحریک ہوتی تو والدہ صاحبہ سب سے پہلےادا کرتیں۔ مسجد کے لیے جب چندے کی تحریک ہوتی تو اُس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں۔ اسی طرح کچھ پرانے ملازمین، خادم مسجد اور گاؤں کی کچھ غریب عورتوں کے لیے انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی پینشن سےرقم مقرر کی ہوتی تھی جو ہر ماہ باقاعدگی سے ادا کرتیں۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ضرورت مند گھر آتا تو اُسے خالی ہاتھ نہ بھیجتیں۔ میرے بڑے بھائی بتاتے ہیں کہ ایک بار محلّے کے سیکرٹری مال نے مجھ سے کہا کہ ’’مالی قربانی اپنی والدہ کی طرح کیا کریں۔‘‘
جب ایم ٹی اے پر براہِ راست خطبہ جمعہ کا آغاز ہوا تو جن دو گھروں میں پورے محلے کو خطبہ سنانے کا انتظام کیا گیا اُن میں ایک ہمارا گھراور دوسرا عبدالماجدطاہر صاحب کےوالدین کا گھر تھا جو کہ ہمارے ہمسائے تھے۔ محلّہ کے تمام مرد و زن شامل ہوتے۔ رمضان میں خطبہ کے دوران پاکستانی وقت کے مطابق افطاری ہوجاتی تو اس کا انتظام میرے والدین خود کیا کرتے تھے۔ اسی طرح جلسے کے ایام میں گھر میں جلسے کا ماحول بنا رہتا۔ لنگر والی دال اور آلو گوشت بنواتیں اور ربوہ کی اپنی فیملی کو گھر دعوت دیتیں کہ جلسہ مل کر دیکھا جائے اور واقعی ہی جلسے کا ماحول بن جاتا۔
گھریلو ملازمین کے ساتھ انتہائی شفقت کا رویّہ رکھتیں اور ان کی بھی عزت پر زور دیتیں۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہمارے گھر ایک مرد ملازم تھا جس کو ہم بچے ہمیشہ منظور چاچا کہہ کر پکارتے تھے۔ اسی طرح ایک اور ملازمہ بھی تھی جس کو ہمیشہ گھر کے فرد کی طرح ہی رکھا اور اکثر میرےچھوٹے بھائی اور بہن کی اس سے بہت لڑائی ہوتی، تو ان دونوں کو باقاعدہ اس بات پر ڈانٹ پڑتی ۔ والدہ نے اس ملازمہ کو بالکل اپنی بیٹی جیسا پیار دیا۔ اس کی شادی بھی خود کروائی اور پورا جہیز دے کر رخصت کیا۔ جب تک والدہ زندہ تھیںوہ اُن کو ملنے آتی رہتی تھی۔
امی نے ہمیشہ ہم بہن بھائیوں کویہی نصیحت کی کہ ایک دوسرے سے مل جل کر رہنا اور آپس میں کبھی دوری نہیں آنے دینا ۔ شادی کے بعد ہر میاں بیوی میں جھگڑا ہو جاتا ہے لیکن سمجھداری اسی میں ہے کہ بات صرف دونوں میاں بیوی کے درمیان ہی رہے۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھوایا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اس لیے کبھی اپنے شوہر اور سسرال کی برائی کسی کے سامنے نہ کریں۔
اگر کوئی والدہ کو کچھ کہہ بھی دیتا تو وہ درگزر کرنے کو ترجیح دیتیں۔ اُن کا ماننا تھا کہ معاف کرنے یا معافی مانگنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوجاتا۔ امی کو عورتوں کی یہ عادت سخت بری لگتی تھی کہ وہ اپنے گھروں کی باتیں دوسروں کو بتا ئیں۔ وہ کہتی تھیں کہ عورتیں اس طرح اپنے دل کو تو تسلی دے دیتی ہیں لیکن دوسروں کی نظر میں اپنی اور اپنی فیملی کی عزت کم کر دیتی ہیں۔ انہوں نے یہ نصیحت ہر بیٹی کو کی کہ کبھی ناراض ہو کر میکے نہیں آنا۔ اپنے تمام معاملات خود حل کرنے کی کوشش کرو اور میکے آکر ہمیشہ سسرال کی اچھی باتیں بتاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم سب بہن، بھائی ان کی کی ہوئی تربیت پر عمل کر رہے ہیں اور خدا کرے کہ ایسے ہی کرتے رہیں۔ (آمین)
بچوں کو اپنے دَورکی زندگی اور آج کے زمانے سے موازنہ کر کے دلچسپ انداز میں بتاتیں کہ کس طرح یہ زمانہ اتنی جلدی تبدیل ہو گیا۔ جب پہلی دفعہ ٹی وی دیکھا کہ اس میں تو سب لوگ چلتے پھرتے، باتیں کرتےنظر آتے ہیں تو اس وقت ہمیں کتنی حیرت ہوئی اور اس وقت ہر گھر میں ٹی وی ہوتا بھی نہیں تھا۔ لوگ ہمسایوں کے گھر جا کر ٹی وی دیکھتے، اسی طرح جب فون آیا تو عجیب لگا، پھر ٹیکنالوجی نے اتنی تیزی سے ترقی کی ہر روز نئی ایجاد کے ہم بھی عادی ہوگئے اور نئے زمانے میں ڈھل گئے۔ اب والدہ بھی انٹرنیٹ، یوٹیوب، وٹس ایپ کے بغیر نہیں رہ سکتی تھیں اور اس کے کھانےکی پسند بھی بچوں کے مطابق ہی تبدیل ہو گئی۔ بچے دیر تک آپ کی باتیں اور کہانیاں انتہائی دلچسپی اورغور سےسنتے اور بہت محظوظ ہوتے۔ اسی طرح تقسیم ملک کے وقت جو حالات کا آنکھوں دیکھا حال سناتیں تو اکثر آنکھوں میں آنسوآجاتے۔
میری والدہ کی ہمیشہ سے یہی دعا تھی کی اللہ تعالیٰ مجھے کبھی محتاجی نہ دے اور میں اپنا ہر کام خود کرتی رہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا بالکل ایسے ہی قبول فرمائی۔ ۲۳؍فروری ۲۰۲۵ء کی صبح والدہ خود غسل لے کر تیار ہو ئیں اور اپنے گھر میں بیٹے، بہو اور پوتے، پوتیوں کے ساتھ خوشگوار دن گزارا، یہاں کراچی مجھ سے بھی لمبی بات ہوئی، چھوٹے بھائی سے بھی جرمنی بات کی۔اچانک مغرب کے وقت خون کی اُلٹیاں شروع ہو ئیں اور چند لمحو ں میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ جس طرح انہیں اپنے ربّ پر یقین تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا۔ والدہ کی ایک خواہش یہ بھی تھی کہ ان کو والد کے پہلو میں دفنایا جائے اور ان کی اولاد ان کے جنازے میں شامل ہو تو پانچوں بیٹیاں، دونوں بیٹے اور داماد سب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی کی ہر خواہش قبول فرمائی۔ آپ کا غائبانہ نمازجنازہ اُن مقامات پر بھی ادا کیا گیا جہاں جہاں آپ کے بچے مقیم ہیں یعنی آسٹریلیا، جرمنی، انگلینڈ،امریکہ اور پاکستان۔ نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہ شفقت والدہ صاحبہ کا غائبانہ نمازجنازہ ۳۰؍مئی ۲۰۲۵ء کو اسلام آباد (یوکے) میں پڑھایا۔ جس کا اعلان الفضل انٹرنیشنل میں ۲۴؍جون ۲۰۲۵ءکو یوں شائع ہوا:
مکرمہ کوثر سلیم صاحبہ اہلیہ مکرم مبارک احمد سلیم صاحب (دارالعلوم غربی صادق): ۲۳؍فروری ۲۰۲۵ء کو ۹۰؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ آپ مکرم سردار مصباح الدین صاحب(سابق مبلغ انگلستان) کی بیٹی تھیں۔مرحومہ نے مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔صوم و صلوٰۃکی پابند، بہترین اخلاق کی مالک،ایک نیک مخلص اور با وفا خاتون تھیں۔چندہ جات کی ادائیگیا ں باقاعدہ تھیں۔خلافت کے ساتھ حد درجہ احترام و عقیدت کا رشتہ تعلق تھا۔پسماندگان میں پانچ بیٹیاں اور دو بیٹےشامل ہیں۔آپ مکرم عکاشہ بدر احمد (نائب صدر مجلس انصاراللہ یو کے )کی پھوپھی تھیں۔
اللہ تعالیٰ آپ سے مغفرت کا سلوک فرمائےاور اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خدا نے ثابت کیا کہ میں ہوں!



