تازہ ترین:انقلاب اُسی صورت ميں پيدا ہو سکتا ہے جب ہم اعتقادی، روحانی اور عملی لحاظ سے اپنے آپ کو بہتر کرنے کی کوشش کريں(خلاصہ اختتامی خطاب جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۶ء)

٭…شرائط بیعت میں شرک سے لے کر تمام بنيادی باتوں کی طرف توجہ ہے۔ اِس ميں اخلاقی بيماريوں کو دُور کرنے کی طرف بھی توجہ ہے، روحانی کمزوريوں کو دُور کرنے کی طرف بھی توجہ ہے، اطاعت کے معياروں کو اُونچا کرنے کی طرف بھی توجہ ہے
٭…اب ہميں اپنا جائزہ لينا چاہيےکہ کيا ہم اپنی نمازوں کا حق ادا کر رہے ہيں، کيا ہم شرک کے جو ظاہری اسباب ہيں، اِن سے بچنے والے ہيں؟ کيا ہم مال ميں سے ديانتداری سے الله تعالیٰ کی راہ ميں خرچ کرنے والے ہيں؟ اگر يہ باتيں ہيں تو پھر ٹھيک ہے، آنحضرت صلی الله عليہ وسلم نے ايسے لوگوں کو خوشخبری دی ہے کہ اُن کو جنّت ملے گی، اگر نہيں تو پھر يہ قابلِ فکر بات ہے
٭…ہر مرد اور عورت کو ديکھنا چاہيے۔ ہر خاوند اور بيوی کو ديکھنا چاہيے کہ وہ کس حدّ تک ايک دوسرے کے حقوق ادا کر رہے ہيں؟ اور خيانت کے بھی يہی معنی ہيں کہ جو ذمہ دارياں ہيں، اُن کو پُورے طور پر ادا نہ کرنا، خاوند کا فرض ہے کہ بيوی کے حقوق ادا کرے اور بيوی کا فرض ہے کہ وہ گھر کی ذمہ دارياں ادا کرے
(اسلام آباد، ٹلفورڈ، ۶؍ستمبر ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) آج جلسہ سالانہ جرمنی کا تیسرا اور آخری روز ہے۔ امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس جلسے کے اختتامی اجلاس سے خطاب فرمایا۔ عشّاقِ خلافت خطاب سے پہلے اپنے پیارے امام کی اقتدا میں نمازیں ادا کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔ چنانچہ دو بج کر دس منٹ پر حضور انور مسجد مبارک میں تشریف لائے اور نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کے بعد ایوان مسرور میں منظّم طریق پر احباب جماعت کو بٹھایا گیا۔
تشریف آوری حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ
تین بج کر ۳۵؍ منٹ پر جرمنی سے لگائے جانے والے ولولہ انگیز نعروں کی گونج میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایوان مسرور میں رونق افروز ہوئے۔ حضور انور کرسیٔ صدارت پر تشریف فرما ہوئے اور تمام حاضرین کو ’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘ کا تحفہ عنایت فرمایا اور احباب کو بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔ کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ حافظ اویس قمر صاحب نے سورۃ المومنون کا پہلا رکوع (آیات ۱ تا ۱۲) کی تلاوت کی۔ متلوّ آیات کا اردو ترجمہ صفوان احمد ملک صاحب نے تفسیر صغیر سے جبکہ جرمن ترجمہ ڈینی زاوڈر صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں احمد کمال صاحب (مربی سلسلہ) نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے پُر معارف منظوم کلام بعنوان’’ مُناجات اور تبلیغِ حق‘‘ میں سے بعض اشعار پیش کیے۔ ان اشعار کا آغاز درج ذیل شعر سے ہوا:
اَے خدا اَے کارساز و عیب پوش و کردگار
اَے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار
اس کے بعد مکرم سیکرٹری صاحب تعلیم جماعت احمدیہ جرمنی نے تعلیمی اعزاز پانے والے طلبہ کے اسماء پڑھ کر سنائے۔
چار بج کر دو منٹ پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ منبر پر رونق افروز ہوئے اور اختتامی خطاب کا آغاز فرمایا۔
خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ
تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ برطانيہ کے جلسہ سالانہ کی اختتامی تقریر ميں مَيں نے شرائطِ بيعت کے حوالے سے کچھ باتيں بيان کی تھيں، آج بھی اسی کے تسلسل ميں کچھ کہوں گا۔
يہ شرائط تو دس ہيں، ليکن جن اُمور کی طرف اِن ميں توجہ دلائی گئی ہے ، اُن کی اگر تفصيل ديکھی جائے تو يہ تينتيس چونتيس اہم باتيں ہيں، جن کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس ميں
شرک سے لے کر تمام بنيادی باتوں کی طرف توجہ ہے۔ اِس ميں اخلاقی بيماريوں کو دُور کرنے کی طرف بھی توجہ ہے، روحانی کمزوريوں کو دُور کرنے کی طرف بھی توجہ ہے، اطاعت کے معياروں کو اُونچا کرنے کی طرف بھی توجہ ہے۔
اور اِس ميں حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام نے بڑے واضح طور پر فرمايا ہے کہ اگر بيعت کی ہے، تو پھر ايک احمدی کو اِن باتوں کا پابند بھی ہونا چاہيے۔جب يہ ہو گا تو تبھی ہم ايک پاک احمدی معاشرہ قائم کر سکيں گے۔ جو اسلام کی حقيقی تعليم پر عمل کرنے والا معاشرہ ہو گا۔ ورنہ ہمارا احمدی ہونے کا دعویٰ صرف ايک دعوی ہی ہے۔

اِس نام نہاد ترقی يافتہ دنيا ميں جہاں خدا تعالیٰ کی ہستی کو ايک ثانوی حيثيت دی جاتی ہے، بلکہ بُھلا ہی ديا گيا ہے، اور دنيا کی ظاہری چکا چوند اور ترقی کو زيادہ اہميت دی جاتی ہے، وہاں ہميں اپنا خدا تعالیٰ سے خاص تعلق جوڑنے اور دينی اور روحانی حالت کو بہتر کرنے کے ليے اِن شرائط پر بہت زيادہ غور کرنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
پس
ہر احمدی کو اِن باتوں پر غور کرنا چاہيے۔ چاہے وہ برطانيہ ميں رہتا ہے، جرمنی ميں رہتا ہے۔ وہاں جرمنی ميں آپ اِس وقت ہزاروں کی تعداد ميں اکھٹے ہيں، يا دنيا کے کسی بھی ملک ميں کہ ہم نے اِن باتوں پر خاص طور پر توجہ دينی ہے۔
شرک کے بارے ميں مَيں نے برطانيہ کے جلسے ميں بيان کيا تھا اور بڑا تفصيل سے بيان کيا تھا۔ مختصراً يہاں بھی پہلے اِسی بارے ميں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ کيونکہ کامل ايمان کے بغير ايک مسلمان حقيقی مسلمان نہيں کہلا سکتا۔ ايک موحد، اللہ تعالیٰ کو ماننے والا جو ہے، اللہ تعالیٰ کو ايک ماننے والا نہيں کہلا سکتا۔ پس اِس بات کی طرف ہميں بہت زيادہ توجہ دينے کی ضرورت ہے۔
الله تعالیٰ قرآنِ کريم ميں فرماتا ہے کہ اللہ (اِس بات کو) ہرگز معاف نہيں کرے گا کہ (کسی کو) اِس کا شريک قرار ديا جائے اور جو (گناہ) اِس سے ادنیٰ ہو اُسے جس کے حق ميں چاہے گا معاف کر دے گا اور جس نے اللہ کے ساتھ (کسی کو) شريک قرار ديا ہو تو (سمجھو کہ) اُس نے (بہت) بڑی بدی (کی بات) بنائی۔
اِس کی وضاحت ميں حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہيں کہ يہاں شرک سے يہی مراد نہيں کہ پتھروں وغيرہ کی پرستش کی جاوے، بلکہ يہ ايک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبوداتِ دنيا پر زور ديا جاوے، اِسی کا نام شرک ہے۔ يعنی دنيا کی جو باتيں ہيں، جو اسباب ہيں، اُن پر زور ديا جائے، يہ بھی شرک ہے۔
حضورِ انور نے فرمايا کہ اب اگر ہم اپنا جائزہ ليں تو پتا لگتا ہے کہ اِس معاشرے ميں جب ہم معاشرے سے خوفزدہ ہو کر اسلامی تعليم پر عمل کرنے سے شرمانا شروع ہو جاتے ہيں، تو پھر اِس شرماہٹ کا جو آخری نتيجہ نکلتا ہے ، وہ يہی ہوتا ہے کہ ہم الله تعالیٰ سے دُور ہوتے چلے جاتے ہيں۔ اور اُس کی جو تعليم ہے اُس پر عمل نہيں کرتے۔
اِسی طرح دنياوی کاموں کے ہرج کے خوف سے ، ہم جو اپنے دينی فرائض ہيں، جو عبادت کے فرائض ہيں، اُن کو بھول جاتے ہيں۔نمازوں کو ہم وقت پر ادا نہيں کرتے۔ حديث ميں آيا ہے کہ نمازيں سنوار کر ادا کرنی چاہئيں۔
حضرت ابو ہريرہ رضی الله عنہ سے روايت ہے کہ ايک بدوی رسول اللہ صلی الله عليہ وسلم کے پاس آيا اور کہا کہ مجھے ايسےکام کا پتا بتايئے کہ جب مَيں وہ کر لوں تو جنّت ميں چلا جاؤں۔ تو آپؐ نے فرمايا کہ الله کی عبادت کرو، اُس ميں کسی کو شريک نہ کرو ، اَور نماز سنوار کر پڑھو اور مقررہ زکوٰة ادا کرو اَور رمضان کے روزے رکھو۔ يہ اسلام کی بنيادی باتيں ہيں۔اُس نے کہا کہ اُس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ ميں ميری جان ہے ، مَيں اِس سے زيادہ نہيں کروں گا۔جب وہ پيٹھ موڑ کر چلا گيا ، تو نبی صلی الله عليہ وسلم نے فرمايا کہ جس کی خواہش ہو کہ جنّتيوں ميں سے کسی آدمی کو ديکھے ، تو اِسے ديکھ لے۔ جس طرح اِس نے عہد کيا ہے کہ مَيں يہ باتيں کروں گا، تو يہ جنّت ميں جانے والا ہے، اگر اِن کو پُورا کرنے والا ہو۔
حضورِ انور نےتوجہ دلائی کہ
اب ہميں اپنا جائزہ لينا چاہيےکہ کيا ہم اپنی نمازوں کا حق ادا کر رہے ہيں، کيا ہم شرک کے جو ظاہری اسباب ہيں، اِن سے بچنے والے ہيں؟ کيا ہم مال ميں سے ديانتداری سے الله تعالیٰ کی راہ ميں خرچ کرنے والے ہيں؟ اگر يہ باتيں ہيں تو پھر ٹھيک ہے، آنحضرت صلی الله عليہ وسلم نے ايسے لوگوں کو خوشخبری دی ہے کہ اُن کو جنّت ملے گی، اگر نہيں تو پھر يہ قابلِ فکر بات ہے۔

ايک دوسری روايت ميں آتا ہے کہ حضرت ابو زر غفّاری رضی الله عنہ يہ بيان کرتے ہيں کہ مَيں نبی صلی الله عليہ وسلم کے پاس آيا اور آپؐ نے سفيد کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اُس وقت آپؐ سو رہے تھے۔ پھر مَيں آپؐ کے پاس آيا اور آپؐ بيدار ہو گئے۔آپؐ نے فرمايا کہ کوئی بھی ايسا بندہ نہيں ، جو لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کا اقرار کرے، اور پھر اِسی اقرار پر مَر جائے تو وہ جنّت ميں داخل ہو گا۔ مَيں نے کہا کہ گو اِس نے زنا کيا ہو، گو اُس نے چوری کی ہو؟آنحضرتؐ نے فرمايا کہ گو اُس نے زنا کيا ہو، گو اُس نے چوری کی ہو۔ پھر آپؓ نے دو مرتبہ اِسی بات کو دُہرايا اور آنحضرتؐ نے يہی جواب ارشاد فرمايا۔ اور ابوزرؓ کے بُرا منانے کے باوجود آنحضرتؐ نے بار بار يہی دُہرايا۔
حضورِ انور نےتصريح فرمائی کہ بہرحال اِس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہہ ديا اور اِس کے بعد زنا اور چوری کرتے جاؤ تو جنّت ميں چلے جاؤ گے۔ اِس کا مطلب تو يہ ہے کہ جو لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کی حقيقت کو جانتا ہے، وہ ايسا گناہ کر ہی نہيں سکتا۔
لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ کی تو تعليم ہی يہی ہے کہ اپنے روحانی معياروں کو اُونچا کرو، اخلاقی معياروں کو بُلند کرو، اَور ہر قسم کی بديوں سے اپنے آپ کو پاک کرو۔
بعض دفعہ لوگ بعض حديثيں ظاہری طور پرپڑھ ليتے ہيں اور سمجھتے ہيں کہ ہمارےليے اتنا ہی کافی ہے اور ہم نے لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ پڑھ ليا ہے، اب ہم چاہے ڈاکے ڈاليں، چورياں کريں، زنا کريں، بُرائياں کريں، گناہ کريں، مار دھاڑ کريں، دنيا ميں فساد پيدا کريں، ہميں کچھ نہيں ہوگا۔ ليکن اِس کا مطلب يہ نہيں۔
لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کا مطلب ہی يہی ہے کہ الله تعالیٰ پر ايسا يقينِ کامل ہو اَور اُس کی واحدانيت پر، اُس کی عبادت پر ايسا يقينِ کامل ہو ، اور الله تعالیٰ کا ايسا خوف ہو کہ وہ کبھی اِن گناہوں کے قريب بھی نہ جائے۔
حضرت ولی اللہ شاہ صاحب رضی الله عنہ نے لکھا ہے کہ ايسے شخص کے گناہ چاہے زنا اور چوری سے تعلق رکھتے ہوں، وہ يقيناً بے اثر ہوں گے، يعنی توحيد پر قائم ہونے کے ساتھ انسان کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہيں اور اُس کے اور جنّت کے درميان حائل نہيں ہوتے، کيونکہ وہ اُس کی روح کو سمجھنے کے ساتھ ہی بُرائياں چھوڑ ديتا ہے۔
حضرت مسيح موعود عليہ السلام فرماتے ہيں کہ جيسا تم ديکھتے ہوکہ نُور کے آنے سے ظلمت قائم نہيں رہ سکتی ، ايسا ہی جب لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کا نورانی پرتَو دل پر پڑتا ہے تو نفسانی ظلمت کے جذبات کالمعدوم ہو جاتے ہيں۔ گناہ کی حقيقت بجز اس کے اَور کچھ نہيں کہ سرکشی کی ملونی سے نفسانی جذبات کا شور و غوغا ہو ، جس کی متابعت کی حالت ميں ايک شخص کا نام گناہگار رکھا جاتا ہے، جو غلط کام کرتا ہے تبھی اُسے گناہگار کہتے ہيں، اور لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے معنی جو لغتِ عرب کے مَوارِد استعمال سے معلوم ہوتے ہيں کہ لَا مَطْلُوْبَ لِيْ وَ لَا مَحْبُوبَ لِيْ وَ لَا مَعْبُوْدَ لِيْ وَ لَا مُطَاعَ لِيْ اِلَّا اللّٰہُ۔ يعنی بجز اللہ کے اَور کوئی ميرا مطلوب نہيں ہے اور محبوب نہيں ہے اور معبود نہيں ہےاور مطاع نہيں ہے۔اب ظاہر ہے کہ يہ معنی گناہ کی حقيقت اور گناہ کے اصل منبع سے بالکل مخالف پڑے ہيں۔ پس جو شخص ان معنوں کو خلوصِ دل کے ساتھ اپنی جان ميں جگہ دے گا تو وہ بالضرورت مفہومِ مخالف اُس کے دل سے نکل جائے گا۔ کيونکہ ضدّين ايک جگہ جمع نہيں ہو سکتے۔
پس جب نفسانی جذبات نکل گئے، تو يہی وہ حالت ہے، جس کو سچی پاکيزگی اور حقيقی راستبازی کہتے ہيں۔ اور خدا کے بھيجے ہوئے پر ايمان لانا جو دوسرے جزو کلمہ کا مفہوم ہے، اِس کی ضرورت يہ ہے کہ تا خدا کے کلام پر بھی ايمان حاصل ہو جائے، کيونکہ جو شخص يہ اقرار کرتا ہے کہ مَيں خدا کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں، اُس کے ليے ضروری ہے کہ اُس کے فرمانوں پر ايمان بھی لاوے اور فرمان پر ايمان لانا بجز اِس کے ممکن نہيں کہ اُس پر ايمان لاوے جس کے ذريعے سے دنيا ميں فرمان آيا۔
پس يہ حقيقت کلمے کی ہے۔ يعنی کلمہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ سے انسان حقيقت ميں مسلمان بنتا ہے اور جب حقيقی مسلمان بن جائے تو گناہ سے دُوری پيدا ہو جاتی ہے۔ اور گناہ اُس کے قريب بھی نہيں پھٹکتا۔ ليکن لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ کا حقيقی مفہوم سمجھنا ضروری ہے۔ اِس کی گہرائی ميں جانے کی ضرورت ہے۔
پھر آپؑ نے يہ بھی تلقين فرمائی کہ
بد نظری سے بچو۔
ايک حقيقی مومن اور ايک حقيقی احمدی مسلمان ميں بدّ نظری بالکل نہيں ہونی چاہيے۔ آجکل بدّ نظری کے اتنے مواقع پيدا ہو گئے ہيں اور خاص طور پر اِن مغربی ممالک ميں، جو ترقی يافتہ ممالک کہلاتے ہيں، اِن ميں بدّ نظری کی انتہا ہے۔ قدم قدم پر، بازاروں ميں ، سڑکوں پر،ٹيلی ويژن پر پروگراموں ميں ، انٹرنيٹ پر اور سوشل ميڈيا پر ، ہر جگہ ايسی باتيں ہيں، جہاں آدمی ايسی غلط قسم کی باتيں ديکھتا ہے جس سے برائی ميں پھر مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور يہ بيماری اب دنيا ميں ہر جگہ پھيل رہی ہے۔ غريب ملکوں ميں بھی پھيل رہی ہے۔

حضرت ابنِ عبّاس رضی الله عنہما نے حضرت ابو ہُريرہ رضی الله عنہ کے قول کو بيان کيا ، کہتے ہيں کہ مَيں نے حضرت ابو ہُريرہ ؓ کے اِس قول سے بڑھ کر کسی بات کويا اُن کے مفہوم کے قريب ترين نہيں پايا کہ نبی صلی الله عليہ وسلم نے بيان فرمايا کہ الله نے ابنِ آدم کے متعلق زنا ميں سے حصّہ لکھ ديا ہے، جس کو وہ ضرور پا لے گا، آنکھ کا زنا غلط قسم کی چيزيں ديکھناہے، زبان کا زنا غلط باتيں کرنا ہے، اور نفس آرزو کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے اور عضو اِس سب کی تصديق کرتا ہے يا اِس کو جھٹلاتا ہے۔
حضورِ انور نے فرمايا کہ يعنی انسان کی اگر يہ چيزيں ہيں تو آنکھ سے بھی زنا ہوتا ہے اور زبان سے بھی، اور آجکل معاشرے ميں يہی باتيں ہيں، جو گناہوں کی طرف لے کر جاتی ہيں۔ ليکن جب اِس پر عمل شروع ہو جاتا ہے تو تصديق ہو جاتی ہے اور اگر اِس کو جھٹلاؤ گے تو اُس کی ترديد ہوتی ہے۔
پس اِن چيزوں سے بچنے والا ہی پاک ہوسکتا ہے ورنہ نہيں۔ اور يہی بُرائياں پھر اِس طرف لے جائيں گی کہ عملاً انسان گناہوں ميں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس ہر احمدی کو اِن سے بچنے کی ضروت ہے۔ بڑا غور کرنے کی ضرورت ہے۔
حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام بدّ نظری سے بچنے کے بارے ميں ايک جگہ فرماتے ہيں کہ جو شخص پُورے طور پر ہر ايک بدی سے اور ہر ايک بد عملی سے يعنی شراب سے، قُمار بازی سے، بدّ نظری سے اور خيانت سے ، رشوت سے اور ہر ايک ناجائز تصرّف سے توبہ نہيں کرتا، وہ ميری جماعت ميں سے نہيں۔آپؑ نے بڑی کڑی شرطيں لگائی ہيں۔ ہر ايک مرد جو بيوی سے، يا بيوی خاوند سے، خيانت سے پيش آتی ہے، وہ ميری جماعت ميں سے نہيں۔
حضورِ انور نے فرمايا کہ اب اِس بارے ميں بھی ہميں غور کرنا چاہيے اور ديکھنا چاہيے۔
ہر مرد اور عورت کو ديکھنا چاہيے۔ ہر خاوند اور بيوی کو ديکھنا چاہيے کہ وہ کس حدّ تک ايک دوسرے کے حقوق ادا کر رہے ہيں؟ اور خيانت کے بھی يہی معنی ہيں کہ جو ذمہ دارياں ہيں، اُن کو پُورے طور پر ادا نہ کرنا، خاوند کا فرض ہے کہ بيوی کے حقوق ادا کرے اور بيوی کا فرض ہے کہ وہ گھر کی ذمہ دارياں ادا کرے۔
آنحضرت صلی الله عليہ وسلم نے تو يہ فرمايا ہے کہ جو عورت اپنے گھر کی ذمہ دارياں ادا کرتی ہے اور اپنے بچوں کی ديکھ بھال کرتی ہے اور اپنے خاوند کے گھر کو سنبھال کر رکھتی ہے، گويا وہ اُسی طرح ثواب کی مستحق ہے جس طرح کہ ايک جہاد کرنے والا جہاد کر کے ثواب کا مستحق بنتا ہے۔
پھر
نفسانی جوشوں سے بچنے
کے ليے آپؑ نے بڑی تلقين فرمائی ہے کہ نفسانی جوشوں سے بچو۔ اور ايک احمدی کے ليے يہ بہت ضروری ہے۔
ايک حديث ميں آتا ہے کہ نبی کريم صلی الله عليہ وسلم کے پاس دو افراد بيٹھے ہوئےتھے، تو اُن کی آپس ميں گالی گلوچ شروع ہو گئی، اور اُن میں سے ايک اپنے ساتھی کو گالی دے رہا تھا اور اُس کا چہرہ سرخ ہو گيا تھا۔ تو نبیؐ نے فرمايا کہ مَيں ايک ايسی بات جانتا ہوں کہ اگر وہ اُسے کہے تو وہ ضرور اُس سے جاتا رہے گا، جو وہ محسوس کر رہا ہے، اگر وہ کہے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ کہ مَيں الله کی شيطانِ رجيم سے پناہ ليتا ہوں۔
حضورِ انور نے تاکيد فرمائی کہ يہ نسخہ بھی آزمانے والا ہے۔ ہر احمدی کو آزمانا چاہيے کہ ہم کس طرح شيطان سے نجات پا سکتے ہيں؟ ذرا ذرا سی باتوں پر شيطان ہم پر قبضہ کر ليتا ہے۔
حضورِ انور نے فرمايا کہ اِسی طرح
فسق و فجور سے بچنا بھی ايک بہت ضروری بات ہے۔
الله تعالیٰ قرآنِ کريم ميں فرماتا ہے کہ اِسی طرح تيرے ربّ کا فرمان ان لوگوں پر صادق آتا ہے جنہوں نے فسق کيا کہ وہ ہرگز ايمان نہيں لائيں گے۔ يعنی فسق و فجور کرنے والا تو ايمان نہيں لاسکتا۔ اِن کا کامل ايمان ہو ہی نہيں سکتا۔
ايک حديث ميں آتا ہے کہ حضرت ابو زر غفّاریؓ نے حضرت نبی کريمؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فسق کی تہمت نہ لگائے اور نہ اُس پر کُفر کی تہمت لگائے، وہ اُسی پر لَوٹے گا، اگر اُس کا ساتھی جسے متّہم کيا گيا ہے، وہ ايسا نہيں ہے۔
کاش! کہ يہ بات آج کے نام نہاد مسلمان علماء بھی سمجھيں، جو جماعتِ احمديہ پر کُفر کے فتوے لگاتے پھرتے ہيں۔
فسق وفجور سے بچنے کی بابت حضرت اقدس مسيح موعودؑ کے ايک ارشاد کی روشنی ميں حضورِ انور نےتوجہ دلائی کہ کيا ہم اِن لغويات سے بچنے کی کوشش کرتے ہيں، اگر نہيں تو يہ چيزيں ہميں فسق و فجور کی طرف لے جائيں گی، اب ديکھيں کہ جب اِس گہرائی ميں جا کر ہم اپنے آپ کو گناہوں سے بچائيں گے تو پھر ہی الله تعالیٰ ہماری دعائيں بھی سنے گا۔ بعض لوگوں کا شکوہ ہوتا ہے کہ دعائيں نہيں سنی جاتيں۔ جرمنی سے بھی مجھے بہت سے خطوط آتے ہيں۔ تو پہلے ہميں يہ ديکھنا ہو گا کہ ہم نے الله کو اپنے کتنا قريب کر ليا ہے؟ ہم الله تعالیٰ کے کتنے قريب ہو گئے ہيں؟ اور جب ہم اتنے پاک ہو جائيں گے، تو پھر الله تعالیٰ بھی اِس سے بڑھ کر اپنی رحمت ہم پر فرمائے گا۔ يہ نہيں ہو سکتا کہ ہمارے اندر بُغض بھی ہو، کينہ بھی ہو، لوگوں سے دشمنياں بھی ہوں اور دوسری قسم کی بيمارياں بھی ہوں اور ايسی حالت ميں الله تعالیٰ ہم سے وہ سلوک کرے جو ايک نيک مسلمان سے کرتا ہے۔
الله تعالیٰ تو عالم الغيب ہے، انسان تو دھوکا کھا سکتا ہے، مگر الله تعالیٰ کبھی دھوکہ نہيں کھا سکتا، پس ہميشہ يہ بات ياد رکھنی چاہيے کہ اگر الله تعالیٰ کو راضی کرنا ہے تو ہميں اپنے ايمانوں کو کامل کرنا پڑے گا اور اپنے اندر پاک تبديلياں پيدا کرنا پڑيں گی۔ اور جب يہ ہو گا تبھی ہم الله تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔ تبھی ہم اپنی دعاؤں کی قبوليت کے نظارے ديکھنے والے ہوں گے۔
پس الله تعالیٰ تو اُس وقت ہماری باتيں سنے گا جب ہم اپنے وعدے پُورے کريں گے، جب ہم حقيقی راستباز بن جائيں گے، جب ہم گناہوں کو چھوڑ ديں گے، جب ہم فسق و فجور سے قطع تعلق کر ليں گے۔ بُغض اور کينے سے اپنے سينوں کو پاک کر ليں گے۔ اور الله تعالیٰ کے فرمانبردار ہو جائيں گے۔ تبھی ہم سچے مسلمان بن سکتے ہيں۔ اور تبھی ہم الله تعالیٰ کے وعدوں کے وارث بن سکتے ہيں۔پس يہ باتيں بڑی غور طلب ہيں، اِنہيں ہميشہ اپنے سامنے رکھنا چاہيے۔
پھر ايک يہ بات بھی ہے کہ ايک حقيقی مسلمان کے بارے ميں آپؑ نے فرمايا کہ اگر تم نے ميری بيعت کی ہے تو پھر يہ بھی عہد کرو کہ
کبھی خيانت نہيں کرو گے۔
الله تعالیٰ نے آنحضرتؐ کی بيعت ميں آنے والوں سے جو عہد ليا، وہی الفاظ آگے حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام نے اپنے ماننے والوں کے ليے استعمال فرمائےہيں۔ وہی باتيں ہيں، جو آنحضرتؐ نے فرمائی تھيں، ايک حقيقی مسلمان ہونے کے ليے آپؑ نے فرمايا کہ اِس زمانے ميں بھی اگر محمد مصطفیٰؐ کے غلام کی بيعت کرنی ہے ، تو پھر يہ باتيں ماننی پڑيں گی۔ اور ہم نے الله تعالیٰ کے ساتھ يہ عہد کيا ہے کہ مَيں نمازوں کا پابند رہوں گا۔ مَيں شرک نہيں کروں گا۔ مَيں نوافل کی ادائيگی کروں گا۔ مَيں سچ بولوں گا۔ مَيں گناہوں سے اپنے آپ کو پاک رکھوں گا۔ مَيں بدّ نظری نہيں کروں گا۔ مَيں فسق و فجور نہيں کروں گا۔ تو يہ سارے وہ عہد اور امانتيں ہيں جن کو ہميں ادا کرنا ہو گا۔ اگر ہم يہ نہيں کريں گےتو پھر ہم اپنے عہد اور اپنی امانتوں کی پابندی نہ کرنے والے کہلائيں گے۔
اور اِسی طرح لوگوں کی امانتوں کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ ورنہ آپس ميں خيانتيں کرنے والے بن جائيں گے۔ يہی الله تعالیٰ نے فرمايا ہے کہ اگر تم يہ نہيں کرو گے تو آپس ميں بھی تم لوگ خيانتيں کرنے والے ہو گے۔ اور جب الله تعالیٰ کی خيانتيں کرو گے تو پھر بندوں کی خيانت تو معمولی بات سمجھی جائے گی۔
پس امانتوں کا خيال رکھنا بھی ايک ضروری اَمر ہے۔ اِس بارے ميں بھی تقویٰ سے کام لينے کی ضرورت ہے۔ اور جب تقویٰ سے کام ليں گے تبھی ہم حقيقی احمدی کہلائيں گے۔
آجکل کی بُرائيوں ميں جيسا کہ مَيں نے کہا ، مختلف قسم کے سوشل ميڈيا اور مختلف دوسرے ميڈيا ہيں اور اِن کی باتيں ہيں، جس کی وجہ سے زنا عام ہو چکا ہے۔ نظر کا بھی زنا ہے اور جيسے مَيں نے حديث بيان کی ہے مختلف قسم کے زنا ہيں، اِن سے بچنے کی کوشش کرنی چاہيے۔
بديوں اور بُرائيوں سے محفوظ رہنے کے حوالے سے قرآنی تعليم کی روشنی ميں
نماز کی پابندی
کی بابت تاکيدی نصائح کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمايا کہ
اب حقيقت ميں جو نماز کا حق ادا کرنے والے ہيں، اُن کو نماز بےحيايوں سے روکے گی اور آجکل کے معاشرے ميں اتنی بےحياياں ہيں کہ جن کی کوئی انتہا نہيں۔ اِن سے رُکنے کے ليے ايک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ انسان الله تعالیٰ کی عبادت کرے۔ اُس کا حق ادا کرے۔ دنياوی چيزوں کو پسِ پُشت ڈالے۔ اور پہلے نماز کا حق ادا کرے تو پھر اُس کے کاموں ميں برکت ہو گی، اُس کے کاروبار ميں بھی برکت ہو گی، اور اُس کے ہر عمل ميں برکت ہو گی۔
حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ سے روايت ہے کہ مَيں نے رسول اللهؐ سے پوچھا کہ ميرا کون سا عمل سب سے زيادہ افضل ہے؟ آپؐ نے فرمايا کہ نماز کو اُس کے وقت پر پڑھنا۔
حضورِ انور نے فرمايا کہ اب يہ ديکھيں کہ سب سے افضل عمل يہ ہے کہ وقت پر نماز پڑھی جائے۔ ہم کاروباروں کی خاطر، دنياوی چيزوں کی خاطر، نمازوں کے اوقات ميں نماز ادا نہيں کرتے، مسجد ميں نماز پڑھنے نہيں جاتے، سينٹر ميں نہيں جاتے، اگر مسجد جانے کا وقت نہيں بھی ہے، دُور ہے، تو اپنے گھر پر يا جہاں بھی کاروبار ہے وہاں نماز وقت پر پڑھی جا سکتی ہے۔ يہاں اِن حالات ميں اور اِن ملکوں ميں ہرجگہ ، ہر محلّے ميں تو مسجد نہيں ہے، تو جہاں جہاں انسان کام کر رہا ہے، وہيں وقت پر نماز پڑھنے کی کوشش کرے۔ کيونکہ وقت پر نماز پڑھنا ضروری ہے۔
حضرت مسيح موعودؑ فرماتے ہيں کہ نماز نعمتوں کی جان ہے اور الله تعالیٰ کے فيض اِسی نماز کے ذريعے سے آتے ہيں، سو اِس کو سنوار کر ادا کرو تاکہ تم الله تعالیٰ کی نعمت کے وارث بنو۔
حضورِ انور نے فرمايا کہ پس نمازوں کی يہ اہميت ہے ، جسے ہميں ہميشہ ياد رکھنا چاہيے، اِس کے ليے کوشش کرنی چاہيے۔ وقتاً فوقتاً مَيں اِس کے بارے ميں خُطبے بھی ديتا رہتا ہوں۔ اِنہيں بھی غور سے سنا کريں۔
پھر الله تعالیٰ کا حکم ہے کہ
تہجّد پڑھو،
صحابہؓ کو اِس کی کتنی فکر ہوتی تھی، اِس بارے ميں ايک حديث ميں آتا ہے کہ حضرت ابنِ عمر رضی الله عنہما نے بيان کيا کہ نبي کريمؐ کی زندگی ميں کوئی شخص جب خواب ديکھتا تھا تو نبیؐ کے سامنے اُسے بيان کرتا تھا، تو مجھے بھی خواہش پيدا ہوئی کہ مَيں خواب ديکھوں، جسے نبیؐ کے سامنے پيش کروں۔ تو کہتے ہيں کہ مَيں نے خواب ميں ديکھا کہ دو فرشتے ہيں اور دونوں نے مجھے پکڑا ہے اور مجھے آگ کی طرف لے گئے ہيں۔ تو کيا ديکھتا ہوں کہ يہ گہری آگ ہے، کنويں کی گہرائی کی مانند گہری جگہ ہے، اور اِس کی دو منڈيريں ہيں۔ اور کيا ديکھتا ہوں کہ اِس ميں کچھ لوگ ايسے ہيں، مَيں نے اِن کو پہچان ليا، مَيں کہنے لگا کہ مَيں آگ سے الله کی پناہ مانگتا ہوں۔ دو دفعہ مَيں نے اِسے کہا۔ ايک اَور فرشتہ اِن دونوں سے ملا اور مجھے کہنے لگا کہ بالکل ڈرو نہيں۔ مَيں نے يہ خواب حضرت حفصہ رضی الله عنہا سے بيان کی ، انہوں نے نبیؐ سے اِسے بيان کيا، تو آپؐ نے فرمايا کہ عبدالله کيا ہی اچھا آدمی ہے اگر وہ رات کو تہجّد پڑھے۔ راوی کہتے ہيں کہ پھر حضرت عبدالله ؓ رات کو بہت کم سوتے تھے بلکہ تہجّد بہت اہتمام سے پڑھا کرتے تھے۔ پس ہر احمدی کو بھی اِس طرف توجہ دينی چاہيے کہ وہ تہجّد پڑھنے کی کوشش کرے۔
تسبيح و تحميد
کی طرف بھی توجہ دلاتے ہوئے آپؑ نے فرمايا کہ ايک احمدی مسلمان ہونے کی حيثيت سے يہ بھی بہت ضروری ہے۔ قرآنِ شريف ميں الله تعالیٰ فرماتا ہے: فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ کہ پس اپنے ربّ عظيم کے نام کے ساتھ تسبيح کر۔ حضرت مُعاذ بن جبلؓ سے روايت ہے کہ رسول الله ؐ نے اُن کا ہاتھ پکڑا اَور فرمايا! اے مُعاذ! بخُدا مَيں يقيناً تم سے محبّت کرتا ہوں۔ پھر فرمايا! اے مُعاذ! مَيں تمہيں تاکيد کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد ہرگز نہ چھوڑنا کہ تم کہو کہ اے الله! ميری مدد فرما، اپنے ذکر کے ليے اور اپنے شکر کے ليے اور اپنی عبادت کی خوبصورتی کے ليے۔
حضرت ابو ہريرہؓ سے روايت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمايا کہ جس نے ہر نماز کے بعد تينتيس مرتبہ سبحان الله کہا، اور تينتيس بار الحمدلله کہا، اور تينتيس بار الله اکبر کہا اور يہ مل کر اُنناوے ہوئے اور سو کا عدد پُورا کرنے کے ليے کہا: لَآاِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ کہ الله کے سوا کوئی معبود نہيں، وہ اکيلا ہے اور اُس کا کوئی شريک نہيں۔ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کہ بادشاہت اُسی کی ہے، تمام تعريف اُسی کے ليے ہے اور وہ ہر ايک چيز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔جو ايسا کرے گا، اُس کی تمام خطائيں معاف کر دی جائيں گی، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کيوں نہ ہوں۔ پس تسبيح و تحميد کرنا بھی بڑا ضروری ہے۔
اِسی طرح
درود شريف پڑھنے کے بارے ميں بھی ہر احمدی کو خيال رکھنا چاہيے۔
آنحضرتؐ نے ايک جگہ فرمايا کہ تين باتيں ہيں، جس ميں يہ پائی جائيں، الله اُس سے آسان حساب لے گا اور اپنی رحمت سے اُسے جنّت ميں داخل کرے گا۔ لوگوں نے عرض کيا کہ يا رسول اللهؐ! وہ کيا ہيں؟ تو آپؐ نے فرمايا کہ جو تجھے محروم رکھے تُو اُسے عطا کر، اور جو تجھ پر ظلم کرے، اُس سے درگزر کرو، اور جو تجھ سے قطع تعلق کرے، اُس سے صلہ رحمی کرو۔ کہنے والے نے کہا کہ اگر مَيں نے ايسا ہی کيا ، تو ميرے ليے کيا ہو گا۔ آپؐ نے فرمايا کہ تجھ سے آسان حساب ليا جائے گا۔ اور الله تعالیٰ تجھے اپنی رحمت سے جنّت ميں داخل کرے گا۔
حضورِ انور نے فرمايا کہ اب ديکھيں! وہاں تو وہ مرنے کے بعد جنّت ميں داخل ہو گيا اور يہاں اگر انسان ميں يہ باتيں پيدا ہو جائيں تو ايک حسين معاشرہ قائم ہو جائے گا جو تمام قسم کی رنجشوں، لڑائيوں اور فتنوں اور فسادوں سے پاک ہو گا۔ پس ہميں ہميشہ اِس کو اختيار کرنے کی کوشش کرنی چاہيے۔
حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہيں کہ مَيں ديکھتا ہوں کہ جماعت ميں باہم نزاعيں بھی ہو جاتی ہيں اور معمولی نزاع سے پھر ايک دوسرے کی عزّت پر حملہ کرنے لگتا ہے اور اپنے بھائی سے لڑتا ہے۔ يہ بہت ہی نامناسب حرکت ہے۔ يہ نہيں ہونا چاہيے ۔ بلکہ ايک اگر غلطی کا اعتراف کر لے تو کيا ہرج ہے؟ بعض آدمی ذرا ذرا سی بات پر دوسرے کی ذلّت کا اقرار کيے بغير پيچھا نہيں چھوڑتے۔ ان باتوں سے پرہيز کرنا لازم ہے۔ خدا تعالیٰ کا نام ستّار ہے۔ پھر يہ کيوں اپنے بھائی پر رحم نہيں کرتا اور عفو اور پردہ پوشی سے کام نہيں ليتا۔ چاہيے کہ اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے اور اس کی عزّت و آبرو پر حملہ نہ کرے۔
اس تناظر ميں حضورِ انور نے فرمايا کہ معمولی باتوں پر بعض دفعہ لڑائياں ہو جاتی ہيں اور پھر صلح بھی نہيں ہوتی حالانکہ کوئی ايسی بات نہيں ہوتی کہ جس کو اتنا لمبا لٹکايا جائے۔ احمدی ہونے کا دعویٰ کر کے، ايک احمدی مسلمان ہونے کا دعویٰ کر کے، حضرت مسيح موعوؑ کی شرائطِ بيعت کو ماننے کا دعویٰ کر کے، ايسے لوگ اِس کے خلاف کرتے ہيں ۔ يہ فساد اُسی وقت پيدا ہوتے ہيں جب انسان اپنی انانيت کو فوقيت دے رہا ہوتا ہے۔
خطاب کے آخر ميں حضورِ انور نےتوجہ دلائی کہ پس
ہميں اپنے معافی کے معياروں کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور جب يہ ہو گا، تو تب ہی ايک حسين معاشرہ قائم ہو گا جو جماعتِ احمديہ قائم کرنا چاہتی ہے اور وہ معاشرہ قائم ہو گا جس کے ليے حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام آئے تھے۔ اور وہ معاشرہ قائم ہو گا جس پر آپؑ نے ہم سے بيعت لی ہے کہ يہ معاشرہ ہم نے قائم کرنا ہے، اگر يہ نہيں تو پھر ہمارے دعوے غلط دعوے ہيں کہ ہم نے دنيا ميں ايک انقلاب پيدا کرنا ہے۔ انقلاب تو اُسی صورت ميں پيدا ہو سکتا ہے کہ جب ہم اپنی حالتوں کو درست کريں گے۔ اپنے آپ کو اعتقادی لحاظ سے بھی ، روحانی لحاظ سے بھی اور عملی لحاظ سے بھی بہتر کرنے کی کوشش کريں اور وہ پاک معاشرہ قائم کريں کہ جو دنيا ميں فسادوں کو ختم کرنے والا معاشرہ ہو، جو دنيا ميں محبّت اور پيار پيدا کرنے والا معاشرہ ہو، جو دنيا ميں آنحضرت صلی الله عليہ وسلم کی حکومت کو قائم کرنے والا معاشرہ ہو، جو دنيا ميں الله تعالیٰ کی واحدانيت کو قائم کرنے والا معاشرہ ہو۔
الله کرے کہ ہم اِس پر عمل کرنے والے ہوں اور حقيقت ميں آپؑ کی بيعت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔
اختتامی دعا سے قبل حضورِ انور نے فرمايا کہ بہرحال يہ چند شرائط مَيں نے آپ کے سامنے بيان کی ہيں، ساری تو بيان ہو بھی نہيں سکتيں، ليکن اگر ہم صرف اِن پر بھی عمل کر ليں تو ايک پاک انقلاب اپنی زندگيوں ميں پيدا کر سکتے ہيں، اپنی نسلوں ميں بھی پيدا کر سکتے ہيں اور دنيا ميں بھی پيدا کر سکتے ہيں اور جلسے پر آنے کا اور تين دن اِس ماحول ميں رہنے کے مقصد کو بھی پُورا کر سکتے ہيں۔ الله تعالیٰ ہميں اِس کی توفيق عطا فرمائے۔
حضور انور کا خطاب پانچ بج کر آٹھ منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد جرمنی جلسہ گاہ سے گروپس کی صورت میں مختلف زبانوں میں ترانے پیش کیے گئے۔ بعد ازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حاضری کا اعلان فرمایا کہ جلسہ سالانہ جرمنی پر امسال ۴۸؍ہزار ۳۳۰؍ افراد شامل ہوئے ہیں جبکہ اسلام آباد میں جلسے میں شاملین کی تعداد دو ہزار ہے۔ یہ کُل ملا کر پچاس ہزار بنتی ہے۔
ساڑھے پانچ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایوان مسرور سے تشریف لے گئے۔
٭…٭…٭