الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

………٭………٭………٭………

’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر ۲۰۱۲ء سے مضامین کا انتخاب گذشتہ کالم سے پیش کیا جارہا ہے۔ سیرت مطہرہ کی مزید چند جھلکیاں اسی خصوصی اشاعت سے ہدیۂ قارئین ہیں۔

حضرت شیخ سعدیؒ کے ایک مشہور قصیدے کے دو اشعار اور اُن کا ترجمہ درج ذیل ہے:

بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہٖ

کَشَفَ الدُّجیٰ بِجَمَالِہٖ

حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصَالِہٖ

صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ آلِہٖ

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے اپنے کمال سے انتہائی بلند مقام پایا۔ آپؐ نے اپنے خداداد حُسن و جمال سے تمام اندھیروں کو دُور کردیا۔ آپؐ کے تمام عادات و خصائل نہایت حسین و جمیل ہیں۔ پس آپؐ اور آپؐ کی آل پر درود بھیجو۔

………٭………٭………٭………

رسول اللہﷺ کی شعرگوئی

آنحضرت ﷺ نہ تو شاعر تھے اور نہ کبھی آپؐ نے شاعری کی لیکن کبھی کبھار آپؐ اپنے جذبات کو شعر کی صورت میں بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ سے ایک دفعہ استفسار کیا گیا کہ کیا نبی اکرمﷺ کبھی اشعار وغیرہ بھی گنگناتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں اپنے صحابی شاعر عبداللہ بن رواحہؓ کے شعر گنگناتے تھے اور اُن کا یہ شعر اکثر پڑھتے تھے کہ (ترجمہ)تیرے پاس ایسی خبریں آئیں گی جو قبل ازیں تمہیں حاصل نہیں۔

حضرت جندبؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریمﷺ کی انگلی پتھر کی ٹھوکر سے زخمی ہوگئی اور خون رسنے لگا تو آپؐ نے اپنی انگلی کو مخاطب کرکے یہ شعر کہا: (ترجمہ)تُو تو صرف ایک انگلی ہے جو خون آلودہ ہوگئی ہے اور تجھے جو تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کے راستے میں پہنچی ہے۔

غزوۂ حنین کے موقع پر جب بنوہوازن نے اچانک شدید حملہ کردیا کہ سوائے چند صحابہؓ کے باقی سب کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ ایسے میں آپؐ کے جاں نثار صحابہؓ آپؐ کو آگے بڑھنے سے روک رہے تھے مگر آپؐ مسلسل آگے بڑھتے جاتے تھے اور باآواز بلند یہ فرمارہے تھے:

اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ

اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ

یعنی اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ مَیں نبی ہوں اوریہ کہ مَیں عبدالمطّلب کا بیٹا ہوں۔ (مرسلہ:مکرم سیف الرحمٰن صاحب)

………٭………٭………٭………

آنحضورﷺ بطور مزکّی نفس

آج سے قریباً پانچ ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے دعا کی تھی کہ اے اللہ! یہاں کے باسیوں میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو اِن پر تیری آیات کی تلاوت کرے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے۔ (البقرۃ:۱۳۰)

یہ دعا بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی اور آنحضور ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی آپؐ کے متعلق ارشاد ہوا:وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو اِن پر خدا کی آیات تلاوت کرتا ہے اور اِن کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ (الجمعہ:۳) اس حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ میں مکرم رانا ارسال احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

تزکیہ کے معنوں میں ظاہری پاکیزگی اور طہارت کے ساتھ نفوس کا تزکیہ بھی شامل ہے یعنی اپنے متّبعین کو روحانی گندگی سے پاک کرکے باخدا انسان بنادینا۔ آنحضور ﷺ کی بعثت کے وقت بحروبرّ میں فساد برپا تھا یعنی اہل کتاب بھی بگڑ گئے تھے اور وہ بھی بگڑ گئے تھے جن کو الہام کا پانی نہیں ملا تھا۔ (ماخوذ از روحانی خزائن جلد دہم صفحہ۲۳۸)

پس تزکیہ کے ظاہری پاکیزگی کے معانی میں راستوں کو صاف رکھنا، عوامی مقامات پر گندگی نہ پھیلانا، نیز وضو، غسل، ناک، بالوں اور ناخنوں کی صفائی وغیرہ امور شامل ہیں۔ اسی طرح باطنی طہارت سے مراد متّبعین کے قلوب کو بھی محبت الٰہی سے بھر دینا کہ الٰہی صفات اُن میں نظر آنے لگیں اور وہ خدانما انسان بن جائیں۔ چنانچہ آنحضور ﷺ اس حوالے سے دیگر تمام انبیاء سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ آپؐ کی دعاؤں نے روحانی مُردوں کو جِلا بخشی اور ’’عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس اُمّی بےکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔‘‘ (برکات الدعا۔ روحانی خزائن جلد۶ صفحہ۱۰)

تزکیہ نفس کا ایک اہم ذریعہ نماز ہے جو آنحضورﷺ نے اپنے صحابہؓ کو سکھائی۔ ’’یقیناً نماز بےحیائی اور تمام ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔‘‘(العنکبوت:۴۶)

ایک بار آپؐ سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ فرمایا: نماز کو اوّل وقت میں ادا کرنا۔ نیز فرمایا کہ مومن اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہی ہے۔

ایک بار آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ جس طرح دن میں پانچ مرتبہ نہانے والے کے جسم پر کوئی مَیل باقی نہیں رہے گی اسی طرح پانچ نمازیں روحانی مَیل کچیل کو دُور کردیتی ہیں۔

آنحضورﷺ کی صحبت کا ہی اثر تھا کہ وہ لوگ جو اپنی بدیوں پر فخر کیا کرتے تھے اُن میں ایسی تبدیلی آگئی کہ اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا تو وہ اُس کی سزا سے خائف ہوکر آپؐ کے حضور حاضر ہوتا ہے اور دعا کی درخواست کرتا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کے ایک عربی شعر کا ترجمہ یوں ہے کہ اے اللہ کے رسولؐ!تُو نے انہیں گوبر کی مانند پایا اور پھر انہیں اپنی خداداد قوّت قدسی سے سونے کی خالص ڈلی کی مانند بنادیا۔ دوسری طرف آنحضور ﷺ اپنے تزکیۂ نفس کے جس مقام پر تھے اس کی گواہی خداتعالیٰ نے یوں دی کہ اے محمدؐ!تُو اخلاق فاضلہ کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہے۔ پھر بطور مُزکّی آپؐ کا انداز ہمیشہ دلنشیں نصیحت اور حُسن عمل پر مبنی رہا۔ یاددہانی کرواتے رہنا آپؐ کے کردار کا حصہ تھا۔ امربالمعروف و نہی عن المنکر کی مثال دیتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ گویا ایک کشتی کے مسافر اپنے کسی ساتھی کو کشتی میں سوراخ کرتے ہوئے دیکھیں لیکن اُسے نہ روکیں تو سب ہلاک ہوجائیں گے۔

آنحضورﷺ وعظ و نصیحت کو پُراثر بنانے کا گُر یہ بھی بیان فرماتے تھے کہ لوگوں کے لیے آسانی مہیا کرو، اُن کے لیے مشکلیں پیدا نہ کرو، خوشخبریاں دو اور اُن کو مایوس نہ کرو۔

آنحضورﷺ نے زندگی کے تمام شعبوں میں راہنمائی کرتے ہوئے اپنے صحابہؓ کا تزکیہ فرمایا یعنی حُسنِ معاشرت، نکاح شادی، والدین کی خدمت، صلہ رحمی، حبّ الوطنی، ہمسایوں سے حُسن سلوک۔ نیز سفر، طعام اور لباس کے آداب، صفائی، لباس، عبادت۔ الغرض زندگی کے ہر پہلو کے لیے آپؐ کی راہنمائی تزکیۂ نفس کا بہترین ذریعہ ہے جس کا اعتراف منصف مزاج غیرمسلموں نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ Meredith Townsend اپنی کتاب The Great Arabian(مطبوعہ۱۹۱۲ء)میں رقمطراز ہیں:علم کی تمام حدود میں جب ہم اُن تمام عظیم ہستیوں کی قطار پر نظر ڈالتے ہیں جن کے نام ہی انسانی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں تو ہمیں اس عظیم عربی (ﷺ)سے زیادہ کوئی اس بات کے قابل نظر نہیں آتا کہ اس کی ذات کو پہچانا جائے اور جانا جائے اور وہ فکر کا موضوع بننے کی بجائے انسانی سوچ کا ایک اٹوٹ حصہ بن جائے جیسا کہ شیکسپیئر کے بعض کردار بن گئے ہیں۔ کسی انسان کے تصوّرات اتنی وسعت سے پھیل جائیں اور ایک لمبے عرصے بعد تک جب اس کی ذات تاریخ کے اوراق میں محو ہوچکی ہو اور وہ پھر بھی انسانی افعال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ اور یہ ایسا واقعہ نہیں جو ہر کچھ عرصے بعد دوبارہ ہوجائے۔ یہ واقعہ کہ ایک ایسا انسان جو گمنامی کی حالت میں پیدا ہوا ہو ایک اَن پڑھ معاشرے میں پروان چڑھا ہو اور اس کی کوئی تعلیم نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس کوئی مادی وسائل ہوں وہ صرف اور صرف اپنی ذہانت کے بل بوتے پر ایک سو قبیلوں میں سے بت پرستی کو نابود کر ڈالے اور انہیں ایک بہت بڑی اور زوردار تحریک کی صورت میں یکجا کردے اور اس طرح فوت ہو کہ ایسے لوگوں کو جو اُس کی اولاد بھی نہیں تھے ساری مشرقی دنیا کی طاقتور بادشاہت مل جائے۔ بلکہ یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ اس طرح کا کوئی آدمی جو نہایت عاجزی سے اپنے ہم مرتبہ لوگوں میں رہتا ہو، وہ اپنے لوگوں کے ذہن میں اس بات کی گہری چھاپ چھوڑ جائے کہ اُسے جسے انہوں نے اپنی طرح کھاتے ہوئے، پیتے ہوئے، سوتے ہوئے اور بعض اوقات خطا کرتے ہوئے بھی دیکھا دراصل وہ خدائے ذوالجلال کا نائب ہے۔ اور یہ بھی کہ آپؐ کے بنائے ہوئے نظام نے آپ کو بارہ صدیوں تک ایک زندہ تبلیغی طاقت کے طور پر زندہ رکھا اور نہ صرف یہ کہ دنیا کے ایک بڑے حصے پر اثر انداز ہوئے بلکہ ایک چوتھائی نسلِ انسانی کو بالکل اپنے سانچے میں ڈھال لیا۔

ایک ہندو سکالر پروفیسر کے ایس رام کرشناراؤ (سابق ہیڈ آف شعبہ فلاسفی میسور یونیورسٹی بھارت) اپنی کتاب Muhammad the Prophet of Islam میں لکھتے ہیں:محمد(ﷺ)عرب کے صحرا میں ۲۰؍اپریل ۵۷۱ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے نام کا مطلب ہے:بہت زیادہ تعریف کیا گیا۔ میرے نزدیک آپ عرب کے بیٹوں میں سے سب سے زیادہ عظیم دماغی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ آپ کا مقام آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والے تمام شعراء اور بادشاہوں سے بہت بڑھ کر ہے جو اس سرخ ریت کے صحرا میں پیدا ہوئے۔ جب آپ مبعوث ہوئے تو عرب محض ایک صحرا تھا۔ ایک بےحیثیت جگہ۔ محمد(ﷺ) کی عظیم روح نے اس بےحیثیت مقام سے ایک نئی زندگی کو تراشا، ایک نئی تہذیب کو جنم دیا، ایک نئی سلطنت کی بنیاد ڈالی جو مراکش سے لے کر جزائر تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کا اثر تین براعظموں پر پھیلا ہوا تھا یعنی ایشیا افریقہ اور یورپ۔

………٭………٭………٭………

آنحضورﷺ کی عبادات

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آنحضورﷺ کی عبادت کے حوالے سے آپؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’یقیناً تیرا ربّ جانتا ہے کہ تُو دوتہائی رات کے قریب یا اس کا نصف یا اس کا تیسرا حصہ کھڑا رہتا ہے۔‘‘ (المزمّل:۲۱)

آنحضورﷺ کی عبادات کے حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ’’خالد‘‘ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ میں مکرم آصف محمود ڈار صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

ایک بار چند صحابہؓ اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہمیں آنحضرتﷺ کی کوئی غیرمعمولی بات بتائیے۔ اس پر حضرت عائشہؓ آپؐ کی یاد سے بےتاب ہوکر رو پڑیں اور کہنے لگی کہ آنحضورﷺ کی ہر ادا ہی نرالی ہوتی تھی۔ ایک رات آپؐ تشریف لائے تو کہا: اے عائشہ!کیا ا ٓج کی رات تُو مجھے اجازت دیتی ہے کہ مَیں اپنے ربّ کی عبادت کرلوں۔ مَیں نے کہا: خدا کی قسم! مجھے تو آپؐ کی خواہش کا احترام اور آپؐ کاقرب پسند ہے، میری طرف سے آپؐ کو اجازت ہے۔ تب آپؐ اٹھے اور مشکیزے سے وضو کیا۔ نماز کے لیے کھڑے ہوگئے اور نماز میں اس قدر روئے کہ آپؐ کے آنسو آپؐ کے کپڑوں پر گرنے لگے۔ نماز کے بعد آپؐ دائیں طرف ٹیک لگاکر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپؐ کا دایاں ہاتھ آپؐ کے دائیں رخسار کے نیچے تھا، اور پھر رونا شروع کردیا تو آپؐ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔ یہاں تک کہ فجر کی اذان دینے کے بعد بلالؓ آئے۔ جب انہوں نے آپؐ کو اس طرح گریہ و زاری کرتے دیکھا تو کہا کہ یارسول اللہ!آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گذشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے؟ اس پر رسول اللہ نے فرمایا:کیا مَیں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں!

یہی سوال ایک بار حضرت عائشہؓ نے بھی کیا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ رات کی لمبی نماز سے آپؐ کے پاؤں متورم ہوکر پھٹ جاتے ہیں۔ تب اُن کو بھی آنحضورﷺ نے یہی جواب دیا کہ کیا مَیں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں!

حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے اور سونے کے لیے لیٹے لیکن سوئے نہیں۔ پھر اُٹھ بیٹھے اور اپنی چادر اوڑھ لی تو میرے دل میں خیال آیا کہ حضورﷺ شاید میری کسی سوکن کی طرف تشریف لے جارہے ہیں۔ مَیں آپؐ کے تعاقب میں گئی تو آپؐ کو جنّت البقیع (قبرستان)میں پایا۔ آپ مومن مردوں، عورتوں اور شہداء کے لیے مغفرت طلب کررہے تھے۔ مَیں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان!آپ اپنے ربّ کی طلب میں لگے ہوئے ہیں اور مَیں دنیا کے خیالات میں ہوں۔ تب مَیں جلدی جلدی واپس آگئی۔ کچھ دیر بعد حضورؐ بھی تشریف لے آئے جبکہ تیز چلنے کی وجہ سے ابھی تک میرا سانس پھولا ہوا تھا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: اے عائشہ!تیرا سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟ تب مَیں نے ساری بات بتادی۔ حضورؐ نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ اتاری اور فرمایا: اے عائشہ! کیا تُو مجھے اجازت دیتی ہے کہ مَیں آج کی باقی رات بھی عبادت میں گزاروں؟ مَیں نے کہا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! ضرور۔ تب حضورﷺ نے نماز شروع کی اور اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے وہم ہوا کہ شاید آپؐ کا دم نکل گیا ہے۔ مَیں نے ٹٹول کر آپؐ کے پاؤں کو چھوا تو آپؐ کے پاؤں میں حرکت ہوئی۔ مَیں نے آپؐ کو سجدے میں دعائیں کرتے سنا۔ صبح حضورؐ نے فرمایا کہ جو دعائیں مَیں رات کو سجدے میں کررہا تھا وہ جبرائیلؑ نے مجھے سکھائی تھیں اور مجھے حکم دیا تھا کہ مَیں سجدوں میں ان کو بار بار دہراؤں۔

آنحضورﷺکی نماز کی طوالت کے حوالے سے حضرت عبداللہؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ مَیں نے نبیﷺ کی معیّت میں نماز تہجد پڑھی۔ آپؐ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ مَیں نے ایک بُری بات کا ارادہ کرلیا کہ مَیں بیٹھ جاؤں اور نبیﷺ کے ساتھ مسلسل کھڑا نہ رہوں۔

حضرت سودہؓ نے ایک بار آنحضورﷺ سے عرض کیا کہ کل رات مَیں نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپؐ نے اتنا لمبا رکوع کیا کہ مَیں نے اپنے ناک کو پکڑے رکھا کہ کہیں نکسیر نہ پھوٹ جائے۔ آپؐ یہ سُن کر بہت ہنسے۔

حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ جس روز آنحضورﷺ کی وفات ہوئی تو اس روز ہم نماز کے لیے صفوں میں کھڑے تھے۔ آنحضورﷺ کے مرض الموت میں حضرت ابوبکرؓ امامت کروایا کرتے تھے۔ اچانک نبی کریمﷺ نے حجرے کے پردے کو پیچھے کرکے ہمیں دیکھا تو مسکرادیے۔ حضرت ابوبکرؓ امامت کروانے کے لیے کھڑے تھے، انہوں نے خیال کیا کہ آپؐ تشریف لائیں گے اس لیے پچھلی صف میں ملنے کے لیے ہٹنے لگے۔ لیکن نبیﷺ نے اشارہ فرمایا کہ نماز مکمل کرو اور پھر پردے کو گرادیا۔ اُسی روز آپؐ وفات پاگئے۔

حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ جنگ احزاب کے روز کفار کے حملوں سے نماز عصر وقت پر پڑھنا ممکن نہ رہا اور سورج بھی غروب ہوگیا تو آنحضورﷺ کو اس قدر دکھ تھا کہ آپؐ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے جنہوں نے ہمیں نماز کے وقت مصروف رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرے میں داخل ہوتے تو اپنی کمرِ ہمت کس لیتے، اپنی راتوں کو زندہ رکھتے اور اپنے اہل کو بھی (تہجد کے لیے) بیدار فرماتے۔

مکّہ کے ایّام میں بھی آنحضورﷺ کی عبادات مثالی تھیں۔ ایک بار تو خانہ کعبہ کے پاس آپؐ کو نماز پڑھتے دیکھ کر کفّار نے ایک اونٹ کی بچہ دانی اُس وقت آپؐ پر رکھ دی جب آپؐ سجدے میں تھے۔ حضرت فاطمہؓ کو اطلاع ہوئی تو وہ بھاگتی ہوئی آئیں اور اس اذیّت سے آپؐ کو نجات دلائی۔

حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ گرمیوں کو بھی روحانی ترقی کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔ آنحضرتﷺ گرمیوں میں تنہا غار حرا میں جاکر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ کیسا عجیب زمانہ ہوگا۔ آپؐ ہی ایک پانی کا مشکیزہ اٹھاکر لے جاتے ہوں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور کراہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔ آپؐ کی بھی یہی حالت تھی۔ اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپؐ اس قدر فنا ہوچکے تھے کہ اُس تنہائی میں ہی پوری لذّت اور ذوق پاتے تھے۔ ایسی جگہ جہاں کوئی آرام کا اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو آپؐ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گزارتے تھے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد۴صفحہ۳۱۶)

آپؑ مزید فرماتے ہیں:خداتعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کے لیے تمام رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔(الفرقان:۶۵)آنحضورﷺ کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے آپؐ ساری ساری رات خداتعالیٰ کی عبادت میں گزارتے تھے۔ ایک رات آپؐ کی باری عائشہ صدیقہؓ کے پاس تھی جب انہوں نے آدھی رات کو آپؐ کو بستر پر نہ پایا۔ آخر دیکھا کہ قبرستان میں سجدہ میں رو رہے ہیں۔ تو کیا آپؐ کی بیویاں حظ نفس یا اتّباع شہوت کی بِنا پر ہوسکتی ہیں! (ماخوذ از ملفوظات جلد۴صفحہ۵۰)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’رسول اللہﷺ ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلیٰ رَبِّہٖ یعنی محمدؐ اپنے ربّ پر عاشق ہوگیا ہے۔ حقیقت میں انبیاء علیہم السلام کو جو شرف ملا اور جو نعمت حاصل ہوئی وہ اسی وجہ سے، اور اگر کوئی پاسکتا ہے تو اسی ایک راہ سے پاسکتا ہے۔‘‘(ملفوظات جلد۳صفحہ۵۲۴)

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: سدِّ  صوت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button