متفرق مضامین

چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۲۰)

(امۃ الباری ناصر)

۱۷۶۔ وفادار عاشق کا ہے یہ نشاں

کہ دلبر کا خط دیکھ کر ناگہاں

عاشِق aashiq: محبت کرنے والا، Fond of lover

دلبرdilbar: محبوب Beloved

یہ چولہ تو ایک مخلص عاشق کا نشان ہے۔ یہ تو اس کے محبوب کا خط ہے۔ جب اس پر نظر پڑتی ہے بے چین ہوجاتا ہے۔

۱۷۷۔ لگاتا ہے آنکھوں سے ہوکر فدا

یہی دیں ہے دلدادگاں کا سدا

دلداد گاں dildaadgaaN: (دلدادہ کی جمع) دل دینے والے, Devotees, lovers

فدا کرنا : To sacrifice, to offer life

محبوب کے اس خط کو وہ صدقے قربان ہوکر آنکھوں سے لگاتا ہے۔ سارے محبت کرنے والوں کا ہمیشہ سےیہی دستور ہے۔

۱۷۸۔ مگرجس کے دل میں محبت نہیں

اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں

رغبت raghbat: شدید میلان، خواہش، جھکاؤInclination, interest, Desire

مگر وہ جس کے دل میں محبت نہیں ہوتی۔ اس کا ان باتوں کی طرف جھکاؤ نہیں ہوتا وہ جانتے ہی نہیں کہ محبت کے رموز و آداب کیا ہوتے ہیں۔

۱۷۹۔ اٹھو جلد تر لاؤ فوٹوگراف

ذرا کھینچو تصویر چولے کی صاف!

مگر جس کا دل محبت سے آشنا ہوتا ہے وہ اس کی قدر جانتا ہے اس لیے جلدی سے کیمرہ لاؤ اور چولےکی اچھی سی تصویر کھینچ لو۔

۱۸۰۔ کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے بقا

فنا سب کا انجام ہے جز خدا

بقا baqaa: زندہ رہنا، باقی رہنا، فنا نہ ہوناImmortality permanence, survival, continuance

فنا fanaa: نیستی، موت، ہلاکت، بربادی Destruction, eternal death, mortality

دنیا ہرگز باقی رہنے والی جگہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ سب کا انجام فنا ہے۔

۱۸۱۔ سو لو عکس جلدی کہ اب ہے ہراس

مگر اس کی تصویر رہ جائے پاس

عکس ،aks: تصویر، شبیہ Picture

ہراس heraas: ۔ Apprehensions، خوف، خدشہ

ڈر ہے کہ یہ بھی ہاتھ سے نہ نکل جائے اس لیے اس کی تصویر لے لو تاکہ ہمارے پاس چولہ کا عکس تو رہ جائے۔

۱۸۲۔ یہ چولا کہ قدرت کی تحریر ہے

یہی رہنما اور یہی پیر ہے

قدرت qudrat: طاقت، قوت Might, power

یہ چولا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ یہ سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ راہنما ہے۔

۱۸۳۔ یہ انگد نے خود لکھدیا صاف صاف

کہ ہے وہ کلامِ خدا بےگزاف

بے گزاف be gezaaf, be guzaaf, be gizaaf: جس میں بیہودہ گوئی اور جھوٹ نہ ہو vain speech, Without falsity

انگد نے یہ تسلیم کیا ہے کہ چولہ پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کی تحریر ہے جو سچ ہے اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہے کوئی جھوٹی اور بے معنی بات نہیں ہے۔

۱۸۴۔ وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے

اسی حیّ و قیّوم و غفّار نے

کرتار kartaar: کرنیوالا، پیدا کرنیوالا، خالق The Creator, God

حی و قیوم و غفّار Hayy-o Qayyum-o-Ghaffaar: زندہ جاوید، قائم بالذات، بخشنےوالا

The Living, the Self Subsisting, Sustaining, Forgiving, Merciful (Attributes of God)

چولہ پر خود خدا تعالیٰ نے لکھا ہے جو زندہ جاوید ہے۔ قائم بالذات ہے اور بخشنے والا ہے ۔

۱۸۵۔خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا

وہی ہے خدا کا کلامِ صفا

خطا khataa: غلطی Mistake,error,fault

جو خدا تعالیٰ نے لکھا ہو وہ غلط نہیں ہو سکتا ۔ وہ تمام ترخدا کا سچا اور پاک کلام ہے

۱۸۶۔یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تم

اٹھو یارو اب مت کرو راہ گُم

تم لوگ سیدھے راستے کو بھول گئے تھے ۔ اب اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم دکھا دیا ہے اس کو نظر انداز کرکے پھر نہ بھٹک جانا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۹)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button